’’میں چاہتی ہوں کہ او وی کے ترجموں پر کام کرتی رہوں۔‘‘
آشا تائی نے جب یہ بات کہی تھی، تب ان کی عمر ۸۰ سے کافی اوپر تھی۔ وہ گرنے کی وجہ سے لگی چوٹ سے جوجھ رہی تھیں اور لیپ ٹاپ استعمال کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔ اس لیے ہم نے ہاتھ سے تحریر کردہ ترجموں کی جانب رخ کیا۔ وہ ۸۰ سے ۱۰۰ اشعار والے پرنٹ آؤٹ پر ترجمہ لکھا کرتی تھیں۔ ایک بَیچ پورا ہونے کے بعد وہ اگلے ترجمے میں مصروف ہو جاتی تھیں۔
جتیندر میڈ ان کے ساتھ مل کر ان ترجموں پر کام کرتے اور انہیں ڈیٹابیس میں اپ ڈیٹ کرتے تھے۔
جتیندر میڈ بتاتے ہیں، ’’لائبریرین ایک سنجیدہ آدمی ہوتا ہے، جو کتابوں کی دیکھ ریکھ کرتا ہے، کالج کے دنوں تک میری یہی سمجھ تھی۔ مگر ۱۹۹۶ میں جب میں ہیما تائی رائیرکر کے گھر آشا تائی اوگلے سے ملا، تو یہ [محدود] سمجھ ختم ہو گئی۔‘‘ انہوں نے آشا تائی کے ساتھ تقریباً تین دہائیوں تک، ۱۹۹۶ سے لے کر ان کے آخری دنوں تک، چکّی کے گانوں کے ترجمہ پر کام کیا۔






