سال ۱۹۸۴ میں جب ’فرنٹ لائن‘ (انگریزی رسالہ) کی شروعات ہوئی تھی، میں تب سے کسانوں کے گھر جا رہا ہوں۔ ہر گھر میں تازہ دودھ کے ساتھ استقبال کیا جاتا تھا۔ مغربی مہاراشٹر کے کچھ حصوں میں، گھر سے واپسی کے وقت مزید ایک گلاس دودھ دیا جاتا تھا۔ آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں میں اکثر چاندی کے گلاس میں دودھ دیا جاتا تھا، جو مہمان کی عزت نوازی کا اظہار کرنے کا طریقہ تھا، ساتھ ہی کسان کی بہتر حالت کو بھی بیان کرتا تھا۔
تمل ناڈو کے کسان خاندانوں میں آپ کو پیتل کے صاف گلاسوں میں دودھ دیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی، پتیل کے اس گلاس میں شاندار فلٹر کافی دی جاتی تھی۔ سال ۱۹۹۰ کی دہائی آتے آتے، کئی ریاستوں میں چاندی کے گلاس کی جگہ اسٹین لیس اسٹیل کے گلاس آ گئے۔ سال ۱۹۹۱ کے بعد بھی کسان تازہ دودھ پینے کو دیتے تھے، لیکن اب چینی مٹی کے ٹوٹے برتن میں نظر آنے لگے تھے، تو کبھی کنارے سے ٹوٹے اکھڑے پیالے ہوتے تھے۔ نوے کی دہائی کے وسط تک، میں نے خود کو شیشے کے گلاس میں دودھ پیتا ہوا پایا۔
سال ۲۰۰۰ تک، دودھ کی جگہ چائے نے لے لی۔ مہاراشٹر کے ودربھ میں، ۲۰۳-۰۴ میں دودھ کی جگہ کالی چائے آ گئی۔ چائے میں چینی کی مقدار – جو عام طور پر عزت و محبت کی نشانی ہوا کرتی تھی – گھٹتی گئی۔ دہائی کے وسط تک آتے آتے شیشے کا گلاس غائب ہو گیا تھا۔ کالے چائے اب کم مقدار میں پلاسٹک کے اُن پیالوں میں آنے لگی تھی جنہیں آپ ٹرینوں اور بس ڈپو میں دیکھتے ہیں۔
میں سال ۲۰۱۸ میں، مجاہد آزادی بال یادو سے مہاراشٹر کے سانگلی میں واقع ان کے گھر پر ملا۔ کئی گھنٹوں تک چلے انٹرویو کے بعد، انہوں نے مجھے تازہ دودھ پلا کر وداع کیا، جو المونیم کے گلاس میں دیا گیا تھا۔

















