کووڈ۔۱۹ وبائی مرض کی وجہ سے وکاس کمار کو ہندوستانی فوج میں شامل ہونے کے لیے جسمانی فٹنس کی ٹریننگ روکنی پڑی تھی۔ سال ۲۰۲۲ کے آغاز میں انہوں نے اپنی یومیہ ورزش کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ اس میں ۶ء۱ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے آرہ ہوائی اڈے کے ۴۰۰ میٹر کے رننگ ٹریک پر ۴-۵ چکر لگانا شامل تھا۔ ’’میں یہ فاصلہ تقریباً ۵ منٹ ۲۰ سیکنڈ سے ۵ منٹ اور ۲۵ سیکنڈ میں طے کر لیتا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
اس کے بعد اس عمل کو وہ دن میں ۵-۶ بار دہراتے تھے۔ اس دوران ان کی نظر ہمیشہ اپنی گھڑی پر رہتی تھی۔ اس کے علاوہ ۸-۱۰ پل اپ، متعدد اٹھک بیٹھک، پش اپ اور دیگر ورزشوں کا ایک سلسلہ ہوتا تھا۔ ’’اگر میں نے جسمانی فٹنس ٹیسٹ [فوج کی بھرتی] میں حصہ لیا ہوتا تو میرے جسم پر ’بہترین‘ کا نشان لگا ہوتا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار وقت سے پہلے مطلوبہ فاصلہ طے کر لیتا، تو فوجی اہلکار اس لفظ کو اس کے سینے پر چسپاں کر دیتے تھے۔
وکاس بھرتی کے جسمانی ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے تیار تھے۔
لیکن جون ۲۰۲۲ کی واقعات کی وجہ سے ان کے خواب ٹوٹتے ہوئے نظر آئے۔ یہ ایسے واقعات تھے جو بہت سے نوجوانوں کے لیے کووڈ۔۱۹سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوئے۔ یہ کوئی وبائی بیماری نہیں تھی بلکہ پالیسی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری تھی۔
اسے اگنی پتھ اسکیم کا نام دیا گیا۔ اور، اگر وہ اس ٹیسٹ میں بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کے سینے پر ’بہترین‘ کی مہر نہیں لگے گی- بلکہ ان کے یونیفارم اور دیگر چیزوں پر صرف ’اگنی ویر‘ کی مہر لگے گی۔
















