جیسے ہی ان کے سیل فون کی گھنٹی بجنی شروع ہوتی ہے، ۲۰ سالہ کریٹ تیزی سے ڈیسک ٹاپ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اپنا ہیڈ فون درست کر کے قلم اٹھاتے ہیں، اور اپنی ڈائری کھولتے ہیں۔
’’نمسکار، شیوار ہیلپ لائن،‘‘ وہ پرسکون لیکن مستحکم آواز میں کہتے ہیں۔
دوسری جانب سے مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی ادھیڑ عمر کی خاتون کسان، پاروتی بول رہی ہیں۔
’’میں آپ کی کیسے مدد کر سکتا ہوں؟‘‘ کریٹ نے مراٹھی میں بات کرتے ہوئے پوچھا۔ وہ پونے کے ایک کالج میں بی اے سائیکولوجی (نفسیات) کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق اصلاً پربھنی کے ایک گاؤں سے ہے۔
پاروتی ہچکچاتی ہیں۔ ان کی آواز کانپ رہی ہے۔
’’بارش نے ہماری تمام فصلوں کو تباہ کر دیا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’سویا بین، تور ...بکریاں بھی ختم ہو گئیں، اب کوئی کام نہیں ہے۔‘‘ فیملی کی مستقل آمدنی کے ذرائع – یعنی کاشتکاری، مویشی، موسمی مزدوری سب پانی میں ڈوب گئے۔ قرض کی رقم ادا نہیں ہوئی۔ امید بھی ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔ وہ دریافت کرتی ہیں کہ کیا وہ آئندہ ربیع کی فصل کے لیے مونگ کے بیج فراہم کر سکتے ہیں۔
’’اگر ہمیں بیج مل جاتے ہیں، تو ہم کم از کم موسم گرما میں اپنی کفالت کر سکیں گے،‘‘ وہ وجہ بتاتی ہیں۔

























