لاہول اسپیتی میں ہیرا لال راسپا روز صبح کو اپنے کھیت جاتے ہوئے کافی بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’مجھے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ کہیں آج میرا کھیت تھوڑا اور تو نہیں دھنس گیا؟ معلوم نہیں کل کیا ہوگا؟‘‘
لاہول اسپیتی خطہ کے لنڈور گاؤں کے ۵۵ سالہ آدیواسی کسان ہیرا لال راسپا نے اپریل ۲۰۲۵ میں اپنی ڈھائی بیگھہ زمین پر آلو کی فصل لگائی تھی۔ لیکن مئی آتے آتے ان کے کھیت کی تقریباً آدھی زمین لگاتار چوڑی ہوتی دراڑ میں دھنس کر غائب ہو گئی۔
بچی ہوئی زمین پر ان کی فصل اب بھی کھڑی ہے اور فی الحال اس میں کوئی خرابی نہیں آئی ہے۔ لیکن راسپا کو کوئی خاص امید نہیں ہے۔
اپریل کے آخر سے لے کر اکتوبر تک کا وقت لاہول اسپتی کی وادی میں رہنے والوں کے لیے کافی اہم ہوتا ہے، کیوں کہ یہ علاقہ برفباری کی وجہ سے تقریباً چھ مہینے پوری طرح بند ہو جاتا ہے۔ اس لیے جب گرمی کا مہینہ آتا ہے تو یہاں کے لوگ اپنے کھیتوں میں اناج اور نقدی فصلیں لگاتے ہیں۔
عام طور پر جون کو کڑی محنت اور امید کا مہینہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس سال اس دوران یہاں خوف کا ماحول چھایا رہا۔ لوگ کھیتوں میں پسینہ بہاتے رہے، لیکن ان کا دل بے چین تھا۔
راسپا کہتے ہیں، ’’ہر دن، ہر ہفتے میرا کھیت تھوڑا تھوڑا غائب ہو رہا ہے۔ جب تک آلو تیار ہوں گے، شاید تب تک پورا کھیت غائب ہو چکا ہوگا۔‘‘
وہ گہری لمبی سانس چھوڑتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہمارے گھر، ہمارے کھیت، ہمارے باغ، سب ہمارے ہاتھ سے پھسلتے جا رہے ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ بھگوان ہمیں کیوں سزا دے رہے ہیں؟ ہم لِنڈور کے لوگ ایک طرح سے نرک (جنہم) کی سزا بھگت رہے ہیں۔‘‘
یہ مسئلہ زمین دھنسنے کا ہے۔ لاہول اسپیتی میں زمین ڈھلان کی طرف دھنستی جا رہی ہے، جو زمین کے نیچے موجود مٹی کے ڈھانچوں کی دوبارہ ترتیب یا ان کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔














