ایک ایکڑ کے اپنے انگور کے باغ میں پہنچتے ہی مالوجی چوہان کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اپنے دوست سنتوش ہِنگمیرے سے الگ جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی آنکھوں کے بجائے اپنے تجربہ اور علم کی بنیاد پر اپنا راستہ طے کرتے ہیں۔ تقریباً ۳۱ سال کے مالوجی بینائی سے معذور ہیں، لیکن اپنی زمین کے سائز اور اس کے ہر حصہ سے بخوبی واقف ہیں۔
وہ انگور کی بیل کو پکڑ کر لوہے کے ایک ستون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھتے ہیں، ’’کیا آپ اس ٹہنی کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘
ہم تھوڑی دیر کے لیے پس و پیش میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ’’کون سی؟‘‘
اس المیہ پر مسکراتے ہوئے مالوجی آگے کی طرف جھکتے ہیں اور ایک تازہ اُگے ہوئے پودے کی ٹہنی کو آہستہ سے اٹھاتے ہیں، جس کی نوک پر پانچ تازہ پتیاں مُڑی ہوئی ہیں۔ انگلیوں سے اسے سہلاتے ہوئے وہ دھیرے سے کہتے ہیں، ’’یہ ٹھیک سے نہیں بڑھی ہے۔ اس میں پھل نہیں آئیں گے۔ جڑیں سڑ گئی تھیں۔ مہینوں تک انہیں ٹھیک سے دھوپ نہیں ملی ہے۔‘‘
وہ ایک بیل ہی ان کے ایک ایکڑ کے پورے انگور کے باغ کی کہانی بیان کر دیتی ہے، جو ان کے والدین دھنا جی اور پشپا بائی کے پانچ ایکڑ آبپاشی والے کھیت کا حصہ ہے۔ اس سال انگور کی فصل نہیں ہوگی۔ کھیت میں گنّے کی نئی پود اور دیگر پھل دار درخت بھی سڑ رہے ہیں۔ فیملی نے مجموعی طور پر تقریباً ۱۰ لاکھ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا ہے۔ اس سے ان کی مالی حالت کم از کم ایک دہائی پیچھے چلی جائے گی۔
یہ تباہ کن نقصان ۲۰۲۵ کے مانسون کے دوران ہوئی حد سے زیادہ بارش کا نتیجہ ہے، جب بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ نہ جام گاؤں میں، نہ پورے سولاپور ضلع میں، اور نہ ہی مراٹھواڑہ کے بیڈ اور دھارا شیو ضلعوں میں۔ نومبر ۲۰۲۵ کی شروعات تک سویابین کے کھیت اور انگور کے باغ پوری طرح تباہ ہو چکے تھے۔ جو نہریں سال کے زیادہ تر وقت سوکھی رہتی تھیں، وہ اس خشکی والے علاقہ میں طغیانی پر تھیں۔
مئی ۲۰۲۵ کے وسط سے لے کر اکتوبر کے آخر تک مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ نے لگاتار اور طویل مدت تک ہونے والی بارش کا سامنا کیا۔ پھر ۱۹ سے ۲۵ ستمبر کے دوران حالات مزید سنگین ہو گئے، جب بادل پھٹنے اور اچانک آئے سیلاب نے کھڑی فصلوں، باغات، مٹی، مویشیوں اور کچھ معاملوں میں انسانی زندگی تک کو تباہ کر دیا۔ پورے سولاپور ضلع میں اہکاروں نے ۴۷ ہزار ہیکٹیئر سے زیادہ میں لگی فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان کے طور پر درج کیا۔













