’’بارش کے بعد مُسکینی کے سبز اور نازک پتوں کا ذائقہ زیادہ میٹھا ہو جاتا ہے۔ دھوپ [گرمیوں] میں یہ پتے جھلس کر سخت ہو جاتے ہیں،‘‘ کوشلیہ کہتی ہیں۔ وہ اپنے باورچی خانہ میں ہیں۔ یہ باورچی خانہ ان کے دو کمروں کے پکے مکان کے برآمدے کا ایک کھلا حصہ ہے۔ بات چیت کے دوران وہ ایک پریشر کوکر میں پانی میں دھلی ارہر کی دال کے ساتھ مُسکینی، ایک دو ہری مرچیں، ہلدی پاؤڈر اور نمک ملاتی ہیں۔
’’ارہر اور چنے کی دال کے ساتھ مسکینی کی بھاجی بہت ذائقہ دار بنتی ہے،‘‘ کوشلیہ مزید کہتی ہیں۔ مُسکینی کے پتوں کے مختلف پکوانوں کی ترکیبیں ہمارے ساتھ شیئر کرنے میں انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ چھتیس گڑھ کے جنگلوں میں اگنے والا ایک جنگلی پودا ہے، جسے اکثر دال کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ کوکر کی تین یا چار سیٹیوں کے بجنے کا انتظار کرتے ہوئے کوشلیہ دال میں بگھاڑ لگانے کی غرض سے لہسن کی ایک پوری کلی چھلینے، ٹماٹر، پیاز اور چند سوکھی لال مرچیں کاٹنے کے لیے پانکی کا استعمال کرتی ہیں۔ پانکی روایتی گھروں میں سبزیاں کاٹنے کے لیے لکڑی کے چھوٹے تختہ سے منسلک لوہے کی ایک دھار دار بلیڈ ہوتی ہے، جسے پہنسل بھی کہا جاتا ہے۔













