’’ابّا جھوٹ بولتے تھے کہ، جے دریا ما رہتا ہوئے ایمنے موت نو ڈر نا ہوئے [جو دریا میں رہتا ہو، اسے موت کا ڈر نہیں ہوتا]۔ یہ بات وہ اُس وقت کہتے تھے جب میں نے ۱۷سال کی عمر میں بطور ملاح نوکری حاصل کی تھی،‘‘ ۴۳ سالہ نذیر جونَس بھایا اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ یہی وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے ایم ایس وی الفیض نورِ سلیمانی نامی جہاز کو ڈوبنے سے پہلے مسلسل چھ ماہ تک چلایا تھا۔ وہ اس ہولناک لمحے کو یاد کرتے ہیں جب آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے، کپتان کی ہدایت پر جہاز چلاتے وقت ایک میزائل ان کے جہاز سے آ ٹکرایا۔
’’ابّا جھوٹ بولتے تھے،‘‘ وہ پھر دہراتے ہیں۔ ’’میں تو لانچ (جہاز) میں پانی دیکھ کر ہیبت کھا گیا تھا۔ یہ ۸ مئی، ۲۰۲۶ کی رات ۱۲ بجے کے بعد کا وقت تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ میزائل ہمیں مارنے کے لیے ہی آئی تھی۔ ایران نے ہمیں آبنائے ہرمز سے گزرنے سے نہیں روکا تھا۔ اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ یہ حملہ ان کی طرف سے نہیں کیا گیا تھا۔ ہم نے زوردار دھماکہ کی آواز سنی، اور لمحوں میں جہاز آگ کے شعلوں میں گھِر گیا۔‘‘ نذیر ہر جملے کے درمیان طویل وقفہ لیتے ہیں۔ وہ اپنی آبائی زبان کچھّی سندھی کے بجائے ملی جلی ہندی اور گجراتی میں بات کر رہے ہیں۔ ہم گجرات کے دوارکا ضلع کے ساحلی شہر سلایا میں واقع ان کے ایک منزلہ گھر میں بیٹھے ہیں۔
























