زیادہ تر لوگ پہلے مویشی خریدتے ہیں، اور اس کے بعد ہی چارے کے انتظامات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ مگر جسوِندر کور اور ان کے شوہر جگسیر سنگھ اس کے بالکل برعکس کر رہے ہیں۔
وہ بھینس کا چارہ رکھنے کے لیے کُپّ بنا رہے ہیں، جسے وہ ابھی خرید نہیں سکتے۔ ان کے ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سال توڑی (خشک چارہ کے طور پر استعمال ہونے والے کٹے ہوئے گیہوں کا بھوسا) کی قیمت تقریباً ۷۵ فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ سال ۲۰۲۴ میں ایک کوئنٹل توڑی ۸۰۰-۱۰۰۰ روپے میں فروخت ہوئی تھی۔ موجودہ موسم میں اس کی قیمت گھٹ کر ۲۰۰-۲۵۰ روپے فی کوئنٹل ہو گئی ہے۔
تو سنگرور ضلع کے چانگلی والا گاؤں میں ان میاں بیوی نے سوچا کہ مویشی کو گھر لانے سے پہلے چارہ خرید کر رکھ لینا ہی بہتر ہے۔
فیملی کو اضافی تغذئی غذا چاہیے۔ ان کا ۲۷ سال کا بیٹا ایک ابھرتا ہوا کبڈی چمپیئن ہے اور فیملی کی بھینس سے حاصل ہونے والے ایک گلاس دودھ سے اس میں مدد ملے گی۔ جسوِندر کور (۵۰ سالہ) کہتی ہیں، ’’بہتر غذا چاہیے، خاص کر بیٹے کے لیے جو گاؤں میں کبڈی کھیلتا ہے۔‘‘ ان کی دو بیٹیاں ہیں، ایک شادہ شدہ ہے اور دور رہتی ہے، دوسری ۲۵ سال کی گگن نے ماسٹرز کی تعلیم مکمل کر لی ہے اور کچھ سال پہلے اپنی ماں کے بیمار پڑنے کے بعد سے گھر سنبھال رہی ہے۔
اس فیملی نے جب کُپّ بنانے کا فیصلہ کیا، تو انہوں نے جگسیر کے ماموں گُرمیل سنگھ سے بات کی۔ تقریباً ۶۰ سال کے تجربہ کار کاریگر گُرمیل کے مطابق، انہوں نے گزشتہ ۴۰ برسوں میں ۲۰۰۰ سے زیادہ کُپّ بنائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’گندم کی کٹائی کے بعد کے مہینوں میں ہم روزانہ کم از کم دو کُپّ بناتے تھے۔‘‘
کُپّ دراصل چارہ رکھنے کے لیے گنبد نما اور کم لاگت والا ایک عارضی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ کبھی پنجاب کے گاؤوں میں اٹوٹ حصہ رہا یہ کُپّ اب مشکل سے ہی ملتا ہے۔ دہلی سے پنجاب کے چانگلی والا تک ٹرین سے جاتے ہوئے پاری کو یہ بہت کم دکھائی دیے۔



















