کئی معنوں میں یہ غیبی مجلس ہے۔
نارائن پور میں ہر سال منعقد ہونے والے ماولی میلہ میں بستر خطہ کے کئی دیوی دیوتاؤں کی جھانکی لگتی ہے۔ یہ سالانہ مڑائی (دیوتاؤں کا اجتماع) نارائن پور ضلع کے نارائن پور شہر میں فصل کٹائی کے بعد منعقد کی جاتی ہے، جس اس علاقہ کی ۷۰۰ سال پرانی روایت ہے۔
چھتیس گڑھ کے بستر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں سے کئی آدیواسی خاندان اور برادیاں اپنے اپنے دیوتاؤں کو لے کر آتی ہیں۔ ان کا یہ خوش نما سفر ناچتے اور گاتے مکمل ہوتا ہے، جن میں ابوجھماڑ سے لے کر کانکیر جیسے دور افتادہ علاقوں سے بھی کئی خاندان آتے ہیں۔
لوگ اپنے خاندانی دیوتاؤں کو اس مڑائی میں لاتے ہیں۔ یہاں کے آدیواسی اپنے آباء و اجداد کو بھی دیوتا مانتے ہیں، اور ماولی میلہ میں ایک خاندان کے دیوتا کی دوسرے خاندان کے دیوتا سے ملاقات ہوتی ہے۔ آدیواسی دیوتا بھی انسانوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، اور ان کے بھی رشتہ دار ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے ہیں، گلے لگتے ہیں اور آپس میں مل کر جشن مناتے ہیں۔
نارائن پور میں رہنے والے ایک بزرگ وشوناتھ دیوانگن بتاتے ہیں، ’’یہ ہفتہ بھر چلنے والا میلہ ہے۔‘‘ وشوناتھ دیوانگن آدیواسی نہیں ہیں، لیکن ان کے جیسے بہت سارے غیر آدیواسی بھی اس میلہ کو دیکھنے آتے ہیں۔
یہ جشن ماولی ماتا کے میلہ سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد آس پاس کے دیگر دیوتاؤں کی آمد ہوتی ہے۔ اسے بھی پڑھیں: گنگریل میں بے گھر کر دی گئی دیوی کا رقص
میں یہاں فروری کی ایک صبح پہنچا تھا۔ دن کافی گرم تھا۔ نارائن پور میں بازار کے پاس بنے عوامی میدانوں میں لوگوں کا مجمع تیزی سے اکٹھا ہو رہا تھا۔ ہزاروں لوگ بسوں، ٹیکسیوں سے آ رہے تھے۔ کئی لوگ وہاں کل سے لگاتار پیدل چلتے ہوئے پہنچے تھے۔ کئی لوگوں کے پیروں میں تو چپل بھی نہیں تھی۔
























