جے ساکھلے اُن لوگوں کے بارے میں گیت گا رہی ہیں جو روزگار کی تلاش میں گاؤں سے ممبئی جاتے ہیں، اور اُن ماؤں کے دل کا حال بیان کر رہی ہیں جو اپنے بیٹوں کی محنت بھری زندگی کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوتی رہتی ہیں


Pune, Maharashtra
|FRI, NOV 06, 2020
’پسینے کا ایک قطرہ لاکھ ٹکے کا‘
Author
Translator
ممبئی شہر میں، پیسے درختوں پر نہیں اُگتے
میرا بیٹا کڑی محنت کرتا ہے، اس کی ہڈیاں تک تھکن سے چور ہو جاتی ہیں
’’گاؤں کی بہت سی عورتوں نے اپنے بیٹوں کو کپڑا ملوں میں کام کرنے کے لیے ممبئی جاتے ہوئے دیکھا۔ جب وہ مشینوں پر کام کرتے، تو بازو پھیلا کر کلائیوں کو بار بار مروڑتے،‘‘ اس سال (۲۰۲۴) جون میں فون پر بات کرتے ہوئے کُسُم تائی سوناونے نے ان اووی (دیہی لوک گیتوں) کے بارے میں بتایا۔ ’’کچھ مرد تعمیراتی مقامات پر مزدوری کرتے، سروں پر بجری یا سیمنٹ کی بوریاں ڈھوتے۔ شام ڈھلتے ڈھلتے وہ اتنا تھک چکے ہوتے کہ ایسا محسوس ہوتا گویا اُن کی ہڈیاں بھی نچوڑ لی گئی ہوں۔ اور ماں کے دل میں یہی خیال آتا کہ اُس کے بیٹے کے پسینے کا ایک قطرہ بھی لاکھ روپے کے برابر ہے۔‘‘
پھر تھوڑی دیر رُک کر، اُنہوں نے دھیمے لہجہ میں کہا، ’’کچھ تو ایسے بھی تھے جو شہر کی نالیاں صاف کر رہے تھے۔‘‘
پونے ضلع کے مُلشی تعلقہ کے نندگاؤں کی رہنے والی کُسُم تائی اُس وقت موجود تھیں، جب گرائنڈ مِل سانگز پروجیکٹ کی ابتدائی ٹیم نے جے ساکھلے کے گائے ہوئے یہ گیت دو دہائی قبل ریکارڈ کیے تھے۔ یہ گانے اکتوبر ۱۹۹۹ میں آڈیو ٹیپ پر محفوظ کیے گئے تھے اور بعد میں ڈیجیٹل شکل میں منتقل کر دیے گئے۔ جے ساکھلے، مُلشی کے لوہارڈے گاؤں کی رہنے والی تھیں۔ سال ۲۰۲۱ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے کچھ دیگر گیت پاری پر شائع ہو چکے ہیں (ملاحظہ کریں: کسان اور بارش کا گیت)
اس قسط میں شامل نو اووی ہمیں اُس دور میں لے جاتے ہیں جب مہاراشٹر کے دیہی علاقوں سے لوگ روزگار کی تلاش میں بمبئی (اب ممبئی) ہجرت کیا کرتے تھے۔ تاریخی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اٹھارہویں صدی کے وسط میں جب بمبئی ایک اہم تجارتی شہر کے طور پر اُبھرنے لگا، اور انیسویں صدی میں جب بندرگاہ ٹرسٹ اور کپڑے کی ملیں قائم ہوئیں، تو ملک کے مختلف حصّوں سے لوگ روزگار کی تلاش میں یہاں آنا شروع ہوئے۔ مہاراشٹر کے اندرون علاقوں، خاص طور پر کونکن، پونے، ناسک، ستارا اور مغربی گھاٹ کے دیہاتوں سے ہزاروں لوگ بہتر زندگی کی امید میں بمبئی کا رُخ کرنے لگے۔

Samyukta Shastri

Samyukta Shastri
ممبئی کی زندگی کے قصّے اور دیہی طرزِ زندگی سے اُن کا موازنہ، ان اشعار کی بنیاد بنتے ہیں۔ ایک گیت ان مجبوریوں کو آشکار کرتا ہے جو ایک نئے طرزِ حیات کے ساتھ آئیں، اور جس نے انسانی رشتوں میں – حتیٰ کہ بہن بھائیوں کے درمیان بھی تبدیلیاں پیدا کر دیں۔ شہر میں بسنے والے افراد کے درمیان ہر لین دین میں ایک تجارتی پہلو شامل ہو گیا تھا۔ زندگی کی یہ تلخ حقیقت، گاؤں کے روایتی، خاندانی اور جذبۂ خلوص پر مبنی ماحول کے بالکل برعکس نظر آتی ہے، جو وہاں کی معمول کی روش ہوا کرتی تھی۔
یہ اووی (لوک گیت) غالباً آزادی سے پہلے کے دور میں کہے گئے تھے اور گاؤں کی عورتوں میں نسل در نسل زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوتے رہے۔ پہلے شعر میں ماں کو اس بات پر فخر ہے کہ اُس کا بیٹا انگریزی بولنے لگا ہے – وہی زبان جو کبھی ’’صاحبان‘‘ کی پہچان تھی – اور اب اُسے عزت سے کرسی پر بیٹھنے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ دوسرے اووی میں گانے والی ممبئی جیسے گنجان شہر کا موازنہ ایک ایسی جگہ سے کرتی ہے، جہاں ہر گلی شیشے کے گلاسوں سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ اتنے زیادہ لوگ ہیں کہ سب ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں؛ ماں کے لیے اپنے بیٹے کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ تمام گلاس ایک جیسے لگتے ہیں، مگر پیاس صرف وہی گلاس بجھا سکتا ہے جو اُس کا بیٹا ہے۔ وہ گویا یوں پوچھتی ہے: ’وہ کون سا گلاس ہے جو میرا بیٹا ہے؟‘
تیسرے شعر میں نغمہ سرا (راویہ) ایک ایسی چیز کو دیکھتی ہیں جو اُنہیں انوکھی لگتی ہے، اور ایک ایسے رواج کو محسوس کرتی ہیں جو اُن کی روایات کے برخلاف ہے۔ ممبئی کی گلیوں میں نظر آنے والے نلکوں (ٹونٹیوں) کی طرف اُن کی توجہ جاتی ہے۔ اُنہیں احساس ہوتا ہے کہ یہاں عورتوں کو نہ تو کنویں سے پانی نکالنا پڑتا ہے، اور نہ ہی دریا سے پانی لانے کے لیے لمبی دوری طے کرنی پڑتی ہے – جیسا کہ گاؤں میں اُنہیں کرنا پڑتا۔ دوسرے مصرع میں وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت جو کھانا کھلانے کا ڈھابہ (کھانول) چلاتی ہے، وہ اپنے سگے بھائی سے بھی کھانے کے دام وصول کرتی ہے – جو گاؤں میں ہرگز معمول نہ تھا۔ اس شعر میں ممبئی کی زندگی میں تجارت زدہ تعلقات اور ہر رشتے میں معاشی پہلو کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔


چوتھے شعر میں راویہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی تلاش میں پورے ممبئی کی خاک چھانی، یہاں تک کہ وہ ’’بائیں جانب‘‘ کولابیاچی ڈانڈی (’کولابا کی پٹی‘) تک جا پہنچیں۔ یہ دراصل ممبئی کے قدیم برطانوی علاقہ ’کولابا‘ کا حوالہ ہے، جو شہر کے جنوبی سرے پر واقع ہے۔
درج ذیل تین اشعار میں جے ساکھلے ایک عورت کی ممبئی ہجرت کی داستان بیان کرتی ہیں۔ گاؤں میں وہ اپنے بالوں میں تیل لگانے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی، مگر شہر آنے کے بعد اُس کی زندگی بدل چکی ہے۔ اب وہ زمین پر نہیں بیٹھتی، جیسا کہ گاؤں میں بیٹھا کرتی تھی۔ مگر اُسے اپنا گاؤں یاد آتا ہے۔ ممبئی میں جہاں بہت سے لوگ مچھلی کھاتے ہیں، وہ جب واپس اپنے گاؤں آتی ہے تو کھیتوں میں کُردو (ایک ساگ) تلاش کرتی ہے۔ جب وہ ممبئی جانے کے لیے گاؤں سے روانہ ہوتی ہے تو خوشی سے سنورتی ہے، اچھے کپڑے پہنتی ہے۔ مگر ابھی راستے ہی میں، جب وہ خوبصورت کھنڈالہ گھاٹ سے گزرتی ہے تو اُس کے دل و دماغ میں خیالوں کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ اُسے آنے والے مشکل دنوں کا احساس ہونے لگتا ہے، اور وہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتی ہے – جو شہر کی تنہا زندگی میں اُس کے ساتھ نہیں ہوں گے۔
آخری دو اووی میں جے ساکھلے ایک ماں کے جذبات کو آواز دیتی ہیں، جو اپنے نوجوان بیٹے کے لیے دل گرفتہ ہے – جو ممکنہ طور پر ممبئی کی کسی کپڑے کی مل میں کام کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پیسہ درختوں پر نہیں اُگتا، اور ان کا بیٹا روزانہ اس قدر سخت محنت کرتا ہے کہ اُس کے جسم کی ہڈیاں تک توانائی سے خالی ہو جاتی ہیں۔ کتنے ہی دن مسلسل کام کرنے کے بعد بھی اُسے بہت تھوڑی مزدوری ملتی ہے۔ مگر ماں کی نظر میں اس کے بیٹے کی محنت، اُس کا پسینہ، لاکھ روپے کے برابر ہے۔
अशी साहेबाची बोली बाळायानाला आली
माझ्याई बाळान् ला अन् खुडची बसायाला दिली
मुंबई ग शहरामधी गलोगलीनी गलास
माझ्याई बाळाचा कुठ करु मी तलाश
मुंबई शहरामधी गलोगलीनी नळ
सख्या भावापाशी बहिण घेती खानावळ
मुंबई मुंबई बाई सर्वी हिंडूनी पाहिली
कुलाब्याची दांडी डाव्या बाजूला राहीली
नार गेली मुंबईला नार बसना भोईला
आपल्या देशाला ग बाई त्याल मिळना डोईला
नार निघाली मुंबईला नार खाई ना म्हावर
आपल्या देशाला हिंड कुर्डची वावर
नार निघाली मुंबईला नार लई नटयली
खंडाळ्याच्या घाटामधी आई बाप आठवली
मुंबई ग शहरामधी नाही पैसा झाडाला
माझ्याई बाळाच्या पिळ पडला हाडाला
मुंबई शहरामधी नाही पैसा फुकाचा
माझ्याई बाळाच्या बाई घाम गळतो लाखाचा
بول سکتا ہے زبانِ صاحبان بیٹا مرا
اس لیے لوگوں نے اسے صاحبِ کرسی کیا
ممبئی کی ہر گلی میں کانچ ہے پھیلا ہوا
بھیڑ میں ڈھونڈوں کہاں لختِ جگر کھویا ہوا
ممبئی میں گو میسّر ٹونٹیاں ہیں کوہ بہ کوہ
بھائی کو بہنوں سے لیکن مفت کھانا نا ملا
جا چکی ہوں ممبئی اور جان بھی اس کو گئی
بائیں جانب ہے کولابا ڈانڈی یہ مجھ پر کھلا
بیٹھتی کب ہیں زمیں پر عورتیں اس شہر کی
گاؤں میں تو ان کو سر کا تیل بھی نا مل سکا
ایک عورت جو کہ کھاتی بھی نہیں مچھلی وہاں
گاؤں میں پوچھے ہے بس کُردو کہاں کھیتوں میں جا
بن سنور کے جا رہی تھی ممبئی جب ایک زن
پہنچی جب کھنڈالہ تو یاد آ گئے ماتا پتا
ممبئی میں پیڑ پر پیسہ کبھی اُگتا نہیں
کرتا ہے محنت بہت تن توڑ پر بیٹا مِرا
ممبئی میں مفت کا روپیہ بھی ملتا ہے کہاں؟
میرے بیٹے کے پسینے کا ہے قطرہ لاکھ کا

گلوکارہ / پیشکار: جے ساکھلے
گاؤں: لوہارڈے
تعلقہ: مُلشی
ضلع: پونے
ذات: نو بدھ
عمر: ۲۰۱۲ میں انتقال
تعلیم: نہیں
اولاد: ایک بیٹی (لیلا بائی شندے – گرائنڈ مل سانگز پروجیکٹ میں معاون)
تاریخ: ان کے گیت ۵ اکتوبر، ۱۹۹۹ کو ریکارڈ کیے گئے
خاکہ نگار: انترا رمن، سرشٹی انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی، بنگلور سے وژوئل کمیونیکیشن میں حالیہ گریجویٹ ہیں۔ اُن کے کام پر تصوراتی فن اور قصہ گوئی کے مختلف اندازوں کا گہرا اثر ہے۔
پوسٹر: سنچتا ماجی
اصل گرائنڈ مل سانگز پروجیکٹ کے بارے میں پڑھیں، جسے ہیما رائیرکر اور گی پائیٹواں نے قائم کیا تھا۔
ترجمہ نگار: ثقلین احمد جعفری
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/a-drop-of-sweat-is-worth-a-lakh-of-rupees-ur

