امولو کہتی ہیں، ’’میں ایسی ماں بننا چاہتی ہوں جو صبح اپنے بچوں کو اسکول کے لیے جگائے، ان کے لیے اچھا کھانا پکائے، ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے۔ لیکن مجھے ان کے بیدار ہونے سے چار گھنٹے قبل ہی گھر سے نکلنا پڑتا ہے، اور جب میں رات کو تاخیر سے لوٹتی ہوں تب بھی وہ سو ہی رہے ہوتے ہیں۔ پورے ہفتہ میرے دماغ میں بس یہی چلتا رہتا ہے کہ اتوار کب آئے گا، جب مجھے ۸ گھنٹے کی نیند ملے گی، دن میں تین وقت کا کھانا ملے گا اور بچوں کے ساتھ گھر پر تھوڑا وقت گزار پاؤں گی۔‘‘ لیکن آج کام کا دن ہے، اور ہم باتیں کرتے ہوئے شمالی چنئی کے تیرو ووٹّری یور علاقہ کی ایک تنگ گلی سے گزر رہے ہیں۔ وہ سبزیوں سے لدے اپنے ٹھیلہ کو دھکہ دے رہی ہیں۔ میں کالج سے گھر لوٹ رہی ہوں۔
صبح گھر سے نکلتے وقت بھی میں نے امولو کو دیکھا تھا، اور اب دوپہر میں لوٹتے ہوئے بھی میں نے انہیں اسی سڑک پر پایا۔ ملائم پونم ساڑی پہنے ہوئے امولو تقریباً ۱۰۰ کلو وزن والے اپنے ٹھیلہ کو پوری طاقت سے دھکہ دیتے ہوئے وہاں سڑک پر کھڑی تھیں۔ یہ سال ۲۰۲۴ کی گرمیاں ہیں۔ تیرو وَلّور ضلع میں درجۂ حرارت ۴۰ ڈگری سیلسیس سے اوپر جا چکا ہے اور اس موسم کا سب سے گرم دن ۳ء۴۴ ڈگری سیلسیس درج کیا گیا ہے۔ ان حالات میں بھی ۴۱ سالہ اس سبزی فروش کے روزانہ کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہندوستان میں سڑکوں پر گھوم گھوم کر سامان بیچنے والی تقریباً ایک کروڑ خواتین ہیں، جن میں سے ۴۰ فیصد عورتیں کام کے دوران شدید گرمیوں کا سامنا کرتی ہیں۔ امولو بھی ان میں سے ایک ہیں۔ اور اس طرح کے کام کرنے والے دیگر ۶۸ فیصد لوگوں کی طرح امولو بھی لو میں بغیر آرام کیے لگاتار کام کرتی ہیں، جس کے دوران وہ اکثر دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھا پاتی ہیں۔






















