دشرتھ موسہر کے گھر سے محض ۱۰۰ میٹر کے فاصلہ پر ایک ہینڈ پمپ ہے۔ دن بھر کوئی نہ کوئی ہینڈ پمپ چلاتا رہتا ہے۔ گاؤں کی عورتیں وہاں غسل کرتی ہیں اور وہیں کپڑے بھی دھوتی ہیں۔
لیکن حکومت کے ذریعہ لگائے جانے کے باوجود اس ہینڈ پمپ سے دشرتھ موسہر کی فیملی پانی نہیں لے سکتی۔ پلامو کے وُرنار گاؤں کے رہنے والے دشرتھ موسہر کا تعلق دلت برادری سے ہے، اس لیے سرکاری نل ان کی پہنچ سے دور ہے۔
دشرتھ موسہر نے بتایا، ’’ہمن کے گاری دیوے لے، کہے لے نا کہ کہیں اور سے پنیو بھرے [وہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور ہمیں کہیں اور سے پانی بھرنے کو کہتے ہیں]۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پانی کے برتن کو پھینک دیا جاتا ہے۔
ہینڈ پمپ کے پاس ہی رام اوتار چودھری کا گھر ہے۔ جب اس رپورٹر نے ان سے موسہروں کے ساتھ کھلے عام ہو رہے بھید بھاؤ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا، ’’انہیں منع اس لیے کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ صفائی نہیں رکھتے۔ کوئی ایسا پانی پئے گا کیا؟‘‘ وُرنار کی کل ۲۷۴۹ لوگوں کی آبادی میں سے تقریباً ایک تہائی موسہر ہیں (مردم شماری ۲۰۱۱ کے اعداد و شمار کے مطابق)۔








