
South 24 Paraganas, West Bengal
|SAT, NOV 27, 2021
سندربن سے اسٹوریز
مغربی بنگال کا سندربن ایک وسیع علاقہ ہے جہاں کی زمین، زندگی اور ذریعہ معاش وہاں کے دریاؤں، جنگلات اور دلدل سے پوری طرح مربوط ہے۔ یہ خطہ اپنی آب و ہوا، ثقافت اور روز مرہ کے چیلنجز کے لحاظ سے دوسرے خطوں سے بالکل الگ ہے۔ اسی لیے یہاں کی اسٹوریز بھی الگ ہیں۔ پاری پر آپ یہ تمام اسٹوریز یہاں پڑھ سکتے ہیں – ان میں شہد اکٹھا کرنے والوں اور جھینگوں کے کسانوں کی اسٹوریز سے لے کر، شیروں کی وجہ سے بیوہ ہونے والی خواتین، سمندری طوفانوں اور سیلاب سے بہہ جانے والے گاؤوں کی کہانیاں، ایسے علاقے جہاں نہ تو کوئی اسپتال ہے اور نہ ہی اسکول، مہاجرت اور اساطیر، پوجا اور تفکرات، رنجم و غم اور رقص و موسیقی پر مبنی اسٹوریز سے لے کر جدوجہد اور انسانی جذبے اور مزاحمت تک کی اسٹوریز شامل ہیں
Author
Translator
23. ’اسقاط حمل کے بارے میں دوسروں کو بتانا نہیں چاہتی تھی‘
ندی کا پانی بہت زیادہ کھارا ہو چکا ہے، گرمیوں میں درجۂ حرات کافی بڑھ جاتا ہے، اور صحت عامہ کے مراکز تک رسائی حاصل کرنا اُن کے لیے آج بھی ایک ادھورا خواب بنا ہوا ہے۔ ان تمام چیزوں کی وجہ سے سندربن کی عورتیں مختلف قسم کے طبی مسائل میں مبتلا ہیں
22. گھوڑا مارا جزیرہ پر اب بھی باقی ہیں تباہی کے نشان
سندربن میں، گھوڑا مارا جزیرے کے لوگ آج بھی ’یاس‘ طوفان سے ہونے والی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ تو اپنے گھر کو دوبارہ بنانے اور ذریعہ معاش کو بحال کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں وہاں سے کہیں اور جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے
21. سندر بن میں سانپوں کی دیوی پر مبنی منظوم ڈرامہ کی پیشکش
مغربی بنگال کے رجت جوبلی گاؤں کے کسان اور مزدور سانپوں کی دیوی کو وقف منظوم روایتی ڈرامہ، ’منسا پالا گان‘ پیش کرنے – اور دیہی تھیٹر کو زندہ رکھنے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں
20. ’جان بچانے کے لیے ہم درختوں پر چڑھ گئے تھے‘
سمندری طوفان ’امفان‘ کے سندربن سے ٹکرانے کے ایک سال بعد، ۲۶ مئی کو ’یاس‘ نامی ایک اور طوفان نے مَوسونی جزیرے کو غرقاب کر دیا۔ پاری نے اس جزیرے کا دورہ کیا اور دیکھا کہ لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے مکانوں اور معاش کو بچانے کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں
19. سندر بن سے دھیرے دھیرے غائب ہوتے طلبہ
یہاں کے گاؤوں میں اسکولی تعلیم کے سامنے رکاوٹوں کا انبار لگا ہوا ہے۔ بار بار آتے طوفان، بڑھتا کھاراپن، جو کھیتی اور مچھلی پکڑنے کو نقصان پہنچاتا ہے، اور لاک ڈاؤن – سبھی نے طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح، کم عمر میں شادیاں اور طلبہ کے درمیان روزگار کی تلاش کو بڑھا دیا ہے
18. سندربن میں طوفان سے تباہی
سندربن میں حالیہ برسوں میں سیلاب اور سمندری طوفان نے لوگوں کی زمین، گھر اور معاش کو چھین لیا، جس کے بعد ان میں سے کئی لوگوں نے اپنے گاؤں چھوڑ دیے ہیں – لاک ڈاؤن کے دوران امفن، دو دہائیوں میں چوتھا سمندری طوفان تھا
17. جب پانی نے پاگل سانڈھ کی طرح لوگوں کا پیچھا کیا
امفن طوفان، مغربی بنگال کے سندر بن میں کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران آیا۔ پاری نے اس علاقے کا دورہ کیا اور پایا کہ درختوں، گھروں اور دیگر اشیاء کا کافی نقصان ہوا ہے – جس میں لوگوں کا پہلے سے ہی کمزور ہو چکا معاش بھی شامل ہے
16. سندر بن: موسونی میں لاک ڈاؤن سے کھانے کی کوئی کمی نہیں
مغربی بنگال کے سندربن کا ایک چھوٹا، دور دراز کا جزیرہ، جس نے کئی آفات کا مقابلہ کیا ہے، اب کووِڈ- ۱۹ کے بحران اور لاک ڈاؤن کا سامنا خود کے اپنے وسائل سے کر رہا ہے
15. بحران زدہ جھگیوں کے اوپر پل
شمالی کولکاتا کی دسیوں سال پرانی تلاّہ بستی کو ایک مہینہ پہلے توڑ دیا گیا تھا، تاکہ پل کی مرمت کے لیے راہ ہموار کی جا سکے، لیکن جن کنبوں کو عبوری کیمپ میں رکھا گیا تھا وہ ابھی بھی کسی بہتر باز آبادکاری کا انتظار کر رہے ہیں
14. سُندربن: ’گھاس کا ایک پتہ بھی نہیں اُگا...‘
مغربی بنگال کے سندربن میں لوگ طویل عرصے سے غریبی کی مار تو جھیل ہی رہے تھے، اب انھیں ماحولیاتی تبدیلی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے – جس میں شامل ہے سمندر طوفان کا مسلسل آنا، بے ترتیب بارش، نمکینیت میں اضافہ، بڑھتی گرمی، گھٹتے جنگل اور بھی بہت کچھ
13. خلیجِ بنگال میں ماہی گیروں کا خطرہ
ماہی گیر، جو موسمی مچھلی پکڑنے کے لیے خلیج بنگال کے غیر آباد جزیروں پر اقامت اختیار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ مچھلی کی کمی، پانی کے ناکارہ ہونے اور بڑے ٹرالروں کے آنے کی وجہ سے انھیں یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے
12. دھیمی ٹرین، کڑی محنت، کم مزدوری، لمبے دن
گھروں میں کام کرنے والی بہت سی عورتیں ہر روز سندربن کے دور دراز کے اسٹیشنوں سے جنوبی کولکاتا جاتی ہیں۔ ٹرین کا لمبا سفر ان کے روزانہ کے کام کی مدت کو مزید بڑھا دیتا ہے
11. ’ہم جو کچھ بھی اُگاتے ہیں، اس میں ہمیں نقصان ہی ہوتا ہے‘
دہلی میں ۲۹-۳۰ نومبر کو مارچ کے لیے آئے سندربن کے کسان، اپنے مسائل اور امیدوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں
10. شہد کی مکھیوں کا پیچھا، بنگال سے چھتیس گڑھ تک
سندربن کے شہد جمع کرنے والوں کو کبھی کبھی عمارتوں سے شہد کی مکھیوں کے بڑے چھتّوں کو ہٹانے کے لیے مختلف ریاستوں میں بلایا جاتا ہے۔ اجرت کے طور پر انھیں شہد دیا جاتا ہے، جسے وہ بعد میں بیچ دیتے ہیں – جیسا کہ یہ گروپ دھمتری ضلع میں کر رہا ہے
9. ’ہمارے گھر غائب ہو رہے ہیں۔ کسی کو پرواہ نہیں ہے‘
سندر بن کے گھوڑا مارا جزیرہ کے باشندے کئی دہائیوں سے ساگر جزیرہ کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں، کیوں کہ ندی اور بارش کا پانی ان کے گھروں کو بہا لے جاتا ہے۔ ریاست سے انھیں بہت کم مدد ملی ہے
8. شیر نے بیوہ کر دیا، ریاست نے چھوڑ دیا
ایک اندازہ کے مطابق، سندربن میں ہر سال تقریباً ۱۰۰ مرد شیر کے ذریعہ مار دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد نوکر شاہی کی بھول بھلیاں ان کی بیواؤں کو معاوضہ پانے سے روکتی ہیں، جس کے سبب انھیں تکلیف و غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے
7. ’ماچ اور چاش ہمیں سُندر بن لے کر آیا‘
سیلاب اور قحط، تقسیم، فسادات، اور زمین اور نوکریوں کا وعدہ ابتدائی مہاجرین کو سندر بن لے کر آیا۔ یہ اس زمین پر رہنے والوں کی کہانی ہے جہاں کا ۶۰ فیصد حصہ پانی اور ۴۰ فیصد حصہ جنگل ہے، یہاں پر بھی انھیں بیماری، بھوک اور چیتے کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آخرکار انھیں گھر مل ہی گیا
6. ندی سے پلیٹ تک: سندر بن کے ٹائیگر جھینگوں کا سفر
سندر بن کے گاؤں کی عورتوں کے لیے، ٹائیگر جھینگے کے بچوں کو پکڑنا مفت کا کام ہے جس سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ملتا، حالانکہ یہ جب دوسروں کے پلیٹوں تک سپلائی ہوتا ہے، تو اس کی اونچی قیمت ملتی ہے
5. سندر بن کے گانے
سندربن میں سنتال، مُنڈا، اوراؤں اور ہو گروپ کے گانے اور ڈانس انھیں اپنی زبان کو بچائے رکھنے اور آمدنی کمانے میں مدد کرتے ہیں
4. شہد کی مکھیوں کا ڈنک اور چیتوں کا خوف
سُندربن کے ’مَولی‘ یا شہد جمع کرنے والے گھنے اور خطرناک جنگلوں میں بغیر کسی بچاؤ کے کام کرتے ہیں اور مگرمچھوں، چیتوں کا سامنے کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کے فرمان کو بھی جھیلتے ہیں
3. ’ایمرجنسی میں ہم واقعی پھنس جاتے ہیں‘
سُندر بن میں بیمار پڑنا ایک طرح سے جُوا ہے، یہ دشوار گزار علاقہ ہے، یہاں گنے چُنے طبی مراکز ہیں اور کچھ ہی ڈاکٹر ہیں جو یہاں کام کرنا چاہتے ہیں۔ مجبوراً لوگوں کو موبائل میڈیکل یونٹ یا اس طرح کے دوسرے طریقوں کا سہارا لینا پڑتا ہے یا پھر بھاری خطرہ اٹھا کر لمبی دوری طے کرنی پڑتی ہے
2. کشتیاں، مچھلی، چیتے اور سیاحت
مغربی بنگال کے جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کے سُندربن کے بالی جزیرہ پر ہونے والے ایک دن کے تمام کام
1. سندر بن کے گاؤں میں ووٹنگ
گرمی اور لمبی دوری کے باوجود، رجت جوبلی اور گوسابا بلاک کے دیگر گاؤوں میں رہنے والے لوگ ۳۰ اپریل کو پولنگ بوتھ تک پہنچے۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی آج، یعنی ۱۹ مئی کو شروع ہو رہی ہے
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/سندربن-سے-اسٹوریز






















