پاری میں اشاعت کے لیے رہنما ہدایات

کہانیوں کا انداز کچھ ایسا ہو کہ ان کے بارے میں جاننے کی دلچسپی بڑھے، یہی تو چنوتی ہے! اور پاری کئی طرح کے ذرائع میں کام کرنے والے اُن افراد کا پلیٹ فارم ہے جو آڈیو، ویڈیو، تحریر اور تصویروں کے ذریعے اپنی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے لیے کوئی مواد مہیا کرانا چاہتے ہیں تو ہماری گزارش ہے کہ اِس ویب سائٹ کو اچھی طرح دیکھیں، سمجھیں اور اس سے جُڑیں۔ اس میں کئی موضوعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے الگ الگ خانے بنائے گئے ہیں، اُن پر آپ نظر ڈالیں۔

guidelines-steel_rath-1.jpg


پاری کے لیے مواد مہیا کرانے کی کچھ عام شرائط:

1)    روزمرہ کی زندگی سے جڑی دیہی لوگوں کی آواز کو پُر زور اور مؤثر طریقے سے سامنے لائیں، نہ کہ بطور قلم کار یا فلم ساز اپنی آواز کو اہمیت دیں۔ اس کے بعد پڑھنے اور دیکھنے کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ مواد رکھیں۔ مگر آواز اور چہرے اُن دیہی لوگوں کے ہونے چاہئیں، جن کے بارے میں کہانی کہی جا رہی ہے۔ آخرکار، ایسا لگنا چاہیے کہ یہ کہانی انھیں کی ہے۔ اسٹوری میں آپ کا یہ نقطہ نظر کبھی غائب نہ ہو۔ پاری سے جڑنے والے صحافی اور قلم کار کہانی کہنے کے ہُنر کا استعمال کرتے ہیں، کہانی کہنے کا یہ فن صحافت سے بہت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا، آپ جو بھیجیں، وہ کہانی کی شکل میں ہو۔

2)    ہم عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں، ہماری سبھی کہانیاں اسی اصول سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر آپ معمولی باتوں میں بھی کچھ غیر معمولی دیکھ رہے ہیں تویہ بہت اچھی بات ہے، لیکن لوگوں کی روزمرہ زندگی کو ہی بنیادی نقطہ بنائے رکھیں۔

3)    آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس مختلف ذرائع سے کہی گئی کہانیاں دستیاب ہیں۔ ٹاکنگ البم، فوٹو سیریز، ویڈیو سیریز، وسائل اور سب سے اہم مواد ہے چہرے۔ ہر چہرے کے ساتھ میٹا ڈاٹا بھی دیکھیں۔ ہم ہر چہرے کے ساتھ اس کی بنیادی جانکاری ضرور ڈالتے ہیں۔ آپ جب بھی اپنے فوٹو یا چہروں کو بھیجیں تو اس کے ساتھ یہ جانکاری بھیجیں۔ اس شخص کا نام، پیشہ، گاؤں، بلاک، تحصیل، تعلقہ، ضلع، ریاست، فوٹو کھینچے کی تاریخ، فوٹوگرافر اور کیمرہ کا نام۔

4)    آپ مسافر۔ (ایک سفر کی کہانی) کے لیے بھی لکھ سکتے ہیں۔ جب آپ لباس یا دیہی کھیل کے لیے تصویر کھینچیں، یا اپنے حساب سے کسی بھی خانے کے لیے آپ کچھ تعاون کرنا چاہتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ بھیجے گئے فوٹو کا معیار اچھا ہونا چاہیے اور مواد ہمارے پیمانے کے مطابق ہو۔

guidelines-benedict-2.png

5)    پاری کا قلم کار ایک نادیدہ شخص کی طرح ہوتا ہے۔ کئی بار اس کے لیے ایسا کرنا پوری طرح سے ممکن بھی نہیں ہو پاتا، لیکن اس کی آپ کوشش کریں۔ جیسے ویڈیو فلم بناتے وقت کوئی فلم ساز سوال پوچھتا ہے اور ان کے جواب لیتا ہے، لیکن ویڈیو کو ایڈٹ کرتے وقت وہ سوال والے حصے کو کاٹ دیتا ہے اور جواب والے حصے کو ہی رکھتا ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ گاؤں کے لوگ اپنی بات خود سے ہی کہہ رہے ہیں۔ کہانی میں اتنی کاٹ چھانٹ بھی نہ کریں کہ اس کا رَو رک جائے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے جذبات کے بارے میں لکھتے چلے جائیں اور دیہی باشندوں کی آواز گم ہو جائے۔ آپ اُن کی کہانیوں کو جمع کریں اور خصوصی پس منظر میں ان کے بارے میں تفصیل بھی ضرور دیں، لیکن ہمیشہ یاد یہی رکھیں کہ یہ اسٹوری ان کی ہے۔ اگر آپ اسٹوری میں کسی جگہ کچھ کہنا چاہتے ہیں یا آپ کو لگتا ہے کہ یہاں کہا جانا ضروری ہے، تو اس کے لیے ’’بلیک بورڈ‘‘ طریقہ استعمال میں لائیں۔ اس طریقہ کو اپنانے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ یہ فلم دیکھیں: کالی: ڈانسر اور اس کے خواب

6)    اسٹوری کو کتنی لمبی بنائیں یا کتنے الفاظ میں باندھیں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کوئی اسٹوری کیسے زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنائی جا سکتی ہے۔ کوئی اسٹوری ۶۰۰ الفاظ میں کہی جا سکتی ہے تو اتنے میں کہیں، یہ ۳۰۰ الفاظ میں مناسب لگے تو اتنے میں کہہ دیں۔ اگر کہانی کی مانگ ۲۰۰۰ الفاظ کی ہے، آپ کو لگتا ہے کہ آپ اسے کافی اچھی طرح سے لکھ سکتے ہیں، اور کسی کو اپنی کہانی سننے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں، اس کے لیے آپ کے پاس اچھے مناظر بھی ہیں، تو آپ ۲۰۰۰ الفاظ میں اسے لکھ دیجیے۔ کہانی لکھنے کا ڈھانچہ بناتے وقت ان سب کی بجائے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے دماغ میں اسے لے کر ایک نظریہ ہو، کہ اسٹوری اس سمت میں جا رہی ہے، اس کے علاوہ کچھ اور نہ سوچیں ۔۔۔

7)    ہم نے اس خاکہ کو کہا ہے ۔ ٹاکنگ البم، جہاں فوٹوگرافر کے ذریعے ۱۰، ۱۲ فوٹو آڈیو کیپشن کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ یہاں فوٹوگرافر کسی فوٹو کا کیپشن تحریری کی بجائے آڈیو کے ذریعے دیتا ہے۔ اس سے وہ بہت سارے ذاتی تجربات کو شیئر کر پاتا ہے۔ ٹاکنگ البم کو یہاں دیکھیں: https://ruralindiaonline.org/albums/talking/

guidelines-godda_koilawallah_5005-1152x864-3.jpg

8)    ہمارے پاس فوٹو اسٹوریز بھی ہیں۔ جیسے کِنجا بھابھا، یہ میگھالیہ میں رہنے والی ایک چھوٹی بچی کی کہانی ہے، جس میں اس کے ذریعے آنگن باڑی میں گزارے گئے دن بھر کا بیورہ ہے۔ فوٹوگرافر نے ۸ سے ۱۰ پیارے فوٹو کو اس ڈھنگ سے رکھا ہے کہ پورا واقعہ بیاں ہو جاتا ہے کہ کیسے اپنا پورا دن اس نے آنگن باڑی میں گزارا۔ اس میں چھوٹے چھوٹے کیپشن کا استعمال ہوا ہے، کوئی بھی کیپشن دو یا تین لائنوں سے زیادہ نہیں ہے۔ اسے یوں لکھا گیا ہے کہ کوئی پانچویں یا ساتویں کلاس کا طالب علم بھی آسانی سے اسے پڑھ اور سمجھ سکے۔ اس لیے یہ بہت اثردار ہے۔

9)    اگر تحقیق جیسے کاموں میں آپ کی دلچسپی ہے تو ہمارے رِسورسیز سیکشن کو دیکھیں۔ آپ کسی رپورٹ کی تلخیص یا اس کے حقیقی نکات کو لکھ سکتے ہیں یا عام ہو چکی کسی رپورٹ کی پہچان کرکے اسے پاری کے رِسورسیز سیکشن میں جوڑ سکتے ہیں۔


آپ تعاون کیسے کریں:

اگر آپ پاری کے لیے تعاون کرنا چاہتے ہیں، تو برائے کرم ہمیں لکھ کر بتائیں کہ آپ کی دلچسپی اور فنکارانہ صلاحیت کس شعبہ میں ہے۔ اس کے لیے بھریں: پروفائل فارم


آپ اپنا مواد اور آئڈیا کہاں بھیجیں:

آپ اپنی تحریر، فوٹو، دستاویزوں کے ساتھ آئڈیا لکھ کر اَپلوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیں: کنٹینٹ اَپلوڈ فارم

آڈیو کلپ یا ویڈیو فلم کے لیے شیئرڈ ڈرائیو یا یو ٹیوب میں ڈالیں اور پھر ان کی لِنک ایک فائل میں لکھ کر ہمیں بھیج سکتے ہیں۔ اَپلوڈ کیے جا چکے مواد کو کنٹینٹ اَپلوڈ فارم کے ذریعے اوپر لِنک دیتے ہوئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

چہرے کیٹیگری میں فوٹو بھیجنے کے لیے آپ اپنی سبھی فوٹو کو اَپلوڈ کر سکتے ہیں یہاں چہرے فارم میں۔

ہر فوٹو کی پوری تفصیل جیسے کہ شخص، پیشہ، گاؤں، بلاک، تحصیل، تعلقہ، ضلع، ریاست، فوٹو، فوٹو کھینچنے کی تاریخ، فوٹوگرافر اور کیمرے کے نام بتاتے ہوئے آپ فارم میں اندراج کر سکتے ہیں۔ اس طرح سبھی فوٹو اَپلوڈ کی جاسکتی ہیں۔

 

آپ کا بھیجا گیا مواد ایک خودکار نظام کے ذریعہ ای میل پر موصول ہو جائے گا۔ اس کے بعد ہم عموماً ۶ سے ۸ ہفتوں کے اندر آپ کے ذریعے کیے گئے کام کو دیکھ پڑھ کر آپ کو اس کے بارے میں لکھ کر بتا سکیں۔

(اردو ترجمہ: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)