یہاں پر مفت میں کھانا نہیں ملتا۔

ہاں، اگر کھانے کی تلاش میں یہاں کوئی گائے آ جائے تو الگ بات ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں اُس ڈھابہ کی جو آسام کی برہم پتر ندی کے کنارے واقع مجولی کے کملا باڑی گھاٹ پر بنا ہوا ہے، یہاں کشتیوں سے سواری کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

مُکتا ہزاریکا بھی ان تمام باتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم ان سے بات چیت کر ہی رہے تھے کہ تبھی ایک گائے ان کے کاؤنٹر پر رکھے کھانے کے کچھ سامان کو دیکھ کر اس کی طرف لپکنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے وہاں تھوڑی کھڑکھڑاہٹ کی آواز ہوتی ہے، جسے سن کر ہزاریکا اُدھر کو بھاگتے ہیں۔

وہ گائے کو وہاں سے بھگاتے ہیں، اور پیچھے مڑ کر ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ’’میں اپنا یہ ہوٹل [کھانے کا ڈھابہ] ایک منٹ کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ آس پاس چرنے والی گائیں یہاں کھانے کے لیے پہنچ جاتی ہیں اور سارا سامان تتر بتر کر دیتی ہیں۔‘‘

اس ہوٹل میں ۱۰ لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، جہاں مُکتا ’تھری اِن وَن‘ – یعنی باورچی، خانساماں اور مالک کا رول ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے، انہوں نے اس کا نام ’ہوٹل ہزاریکا‘ رکھا ہے۔

لیکن، ۲۷ سالہ مُکتا کی زندگی صرف اسی ’ہوٹل ہزاریکا‘ تک محدود نہیں ہے، جسے وہ کامیابی سے پچھلے چھ سالوں سے چلا رہے ہیں۔ وہ تفریح کی دنیا میں اداکاری، رقص اور گلوکاری کرنے کے ساتھ ساتھ کمال کے میک اپ آرٹسٹ بھی ہیں، جو موقع و محل کے حساب سے مجولی کے لوگوں کو خوبصورت نظر آنے میں ان کی پوری مدد کرتے ہیں۔

ہمارے لیے یہ سب دیکھنا ابھی باقی تھا۔ لیکن اس سے پہلے، ہوٹل میں کچھ لوگ کھانے کے لیے آ چکے تھے، جنہیں کھانا پیش کیا جانا تھا۔

Mukta Hazarika is owner, cook and server at his popular eatery by the Brahmaputra.
PHOTO • Vishaka George
Lunch at Hotel Hazarika is a wholesome, delicious spread comprising dal, roti, chutneys, an egg, and a few slices of onion
PHOTO • Riya Behl

بائیں: مُکتا ہزاریکا، برہم پتر ندی کے کنارے واقع اپنے اس مشہور ہوٹل کے مالک، باورچی اور خانساماں ہیں۔ ہوٹل ہزاریکا کا بھرپور لنچ، جسے دال، روٹی، چٹنی، ایک انڈا، اور کٹی ہوئی پیاز کے ساتھ ایک پلیٹ میں سجا کر رکھا گیا ہے

Mukta, a Sociology graduate, set up his riverside eatery six years ago after the much-desired government job continued to elude him
PHOTO • Riya Behl

سماجیات (سوشیولوجی) میں گریجویٹ، مُکتا سرکاری نوکری پانے کے بڑے خواہش مند تھے، لیکن جب کوئی نوکری نہیں ملی، تو چھ سال پہلے انہوں نے ندی کے کنارے یہ ہوٹل کھول لیا

تبھی کوکر کی سیٹی بجنے لگتی ہے۔ مُکتا اس کا ڈھکن کھول کر برتن کے اندر چمچ گھماتے ہیں، جس کی وجہ سے اس میں پک رہی سفید چنا دال کری کی خوشبو چاروں طرف ہوا میں پھیل جاتی ہے۔ وہ چمچ گھمانے کے ساتھ ساتھ روٹیاں بھی بنا رہے ہیں – ہمیں بتایا گیا کہ وہ گھاٹ پر آنے والے بھوکے مسافروں اور دیگر لوگوں کے لیے روزانہ ۱۵۰ سے زیادہ روٹیاں بناتے ہیں۔

کچھ ہی منٹوں میں، ہمارے سامنے دو پلیٹیں لا کر رکھ دی جاتی ہیں۔ اس کے اندر روٹی، پھولا ہوا آملیٹ، کٹی ہوئی پیاز کا ایک ٹکڑا اور دو قسم کی چٹنی ہے – جو پودینہ اور ناریل سے بنائی گئی ہے۔ یہ ذائقہ دار کھانا دو لوگوں کے لیے ہے، جس کی قیمت ۹۰ روپے ہے۔

تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد، شرمیلے مزاج کے مُکتا ہمیں اپنے گھر آنے کے لیے راضی کر لیتے ہیں۔ ’’کل شام کو چھ بجے ہمارے گھر آئیے، جہاں میں آپ کو دکھاؤں گا کہ یہ سب کیسے ہوتا ہے۔‘‘

*****

اگلے دن جب ہم مجولی کے کھورہولا گاؤں میں واقع ان کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر اور بھی کئی لوگ موجود ہیں، جیسے کہ ان کے ’کزن‘ (چچیرے بھائی بہن وغیرہ)، دوست احباب اور پڑوسی، جو مُکتا کو رومی داس نام کی اپنی ۱۹ سالہ پڑوسن اور ایک اچھی دوست کا میک اپ کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے وہاں جمع تھے۔ مجولی میں مُکتا سمیت صرف دو یا تین ہی مرد میک اَپ آرٹسٹ ہیں۔

مُکتا ایک ڈفل بیگ سے میک اَپ کا سامان نکالنا شروع کرتے ہیں۔ کنسیلر، فاؤنڈیشن کی بوتلیں، برش، کریم، آئی شیڈو کے پیلیٹ وغیرہ کو بیڈ (بستر) کے اوپر رکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’میک اَپ کا یہ سارا سامان جورہاٹ [کشتی سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پر واقع] سے لایا گیا ہے۔‘‘

Mukta’s makeup kit has travelled all the way from Jorhat, a 1.5-hour boat ride from Majuli.
PHOTO • Riya Behl
Rumi's transformation begins with a coat of primer on her face
PHOTO • Vishaka George

بائیں: مُکتا نے میک اپ کا یہ سارا سامان جورہاٹ سے لایا ہے، جو کشتی سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پر واقع ہے۔ دائیں: رومی کے میک اپ کی شروعات ان کے چہرے پر پرائمر کا لیپ لگانے سے ہوتی ہے

آج ہمیں صرف میک اَپ ہی نہیں، بلکہ پورا پیکیج دیکھنے کو ملے گا۔ مُکتا نے رومی سے اپنا کپڑا بدلنے کے لیے کہا، اور کچھ ہی منٹوں میں وہ روایتی آسامی ساڑی، ’لیلاک میکھیلا چادور‘ پہنے وہاں موجود تھیں۔ اس کے بعد وہ نیچے بیٹھ جاتی ہیں، اور مُکتا اپنے جادو کا کمال دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔

رومی کے چہرے پر بڑی مہارت سے پرائمر (کوئی کریم یا جیل، جسے چہرے پر بہتر میک اَپ کے لیے ہموار سطح بنانے کی خاطر لگایا جاتا ہے) لگاتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’میں نے تقریباً ۹ سال کی عمر سے بھاؤنا (مذہبی پیغامات کے ساتھ تفریح کی ایک روایتی شکل جو پورے آسام میں رائج ہے) دیکھنا شروع کیا تھا۔ اس کے اداکاروں کا میک اَپ مجھے بہت پسند تھا اور میں اس کی بہت تعریف کیا کرتا تھا۔‘‘

میک اَپ کی دنیا سے ان کی دلچسپی کا آغاز یہیں سے ہوا، جس کا تجربہ وہ مجولی میں ہونے والے ہر تہوار اور ڈرامے میں کرنے لگے۔

وبائی مرض سے قبل، اپنے ہنر کو نکھارنے کے لیے مُکتا نے کچھ پیشہ ورانہ مدد بھی حاصل کی۔ وہ بتاتے ہیں، ’’کملا باڑی گھاٹ پر میری ملاقات میک اَپ آرٹسٹ پوجا دتہ سے ہوئی، جو گوہاٹی میں آسامی سیریل اور فلموں میں کام کرتی ہیں اور انہوں نے مجھ سے اسی طرح بات کرنی شروع کی جیسے آپ کر رہی ہیں۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ پوجا نے اُن کی اس کوشش میں دلچسپی دکھائی اور مدد کی پیشکش کی۔

Fluoroescent eyeshadow, some deft brushstrokes, and fake eyelashes give Rumi's eyes a whole new look
PHOTO • Vishaka George
Fluoroescent eyeshadow, some deft brushstrokes, and fake eyelashes give Rumi's eyes a whole new look
PHOTO • Vishaka George
Fluoroescent eyeshadow, some deft brushstrokes, and fake eyelashes give Rumi's eyes a whole new look
PHOTO • Vishaka George

فلوروسینٹ آئی شیڈو، برش کا کمال، اور نقلی آئی لیشز رومی کو بالکل نیا شکل و صورت عطا کرتے ہیں

وہ رومی کے چہرے پر فاؤنڈیشن کی ایک پتلی سی پرت لگاتے ہوئے ہم سے باتیں بھی کرتے جا رہے ہیں۔ ’’پوجا کو پتہ چل گیا تھا کہ میک اَپ میں میری دلچسپی ہے، لہٰذا انہوں نے مجھے گورامور کالج آ کر سیکھنے کے لیے کہا، جہاں وہ یہ کورس پڑھاتی ہیں۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں، ’’پورا کورس ۱۰ دنوں کا تھا، لیکن میں اس میں تین دن ہی شامل ہو سکا۔ اپنے ہوٹل کی وجہ سے میرے پاس اس سے زیادہ وقت نہیں تھا۔ لیکن ان سے، میں نے بالوں اور میک اپ کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔‘‘

مُکتا نے اب رومی کی آنکھوں کو پینٹ کرنا شروع کر دیا ہے – جو کہ اس کام کا سب سے پیچیدہ حصہ ہے۔

رومی کی آنکھوں پر فلوروسینٹ آئی شیڈو لگاتے ہوئے، وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ اکثر بھاؤنا جیسے تہواروں میں اداکاری، رقص اور گلوکاری بھی کرتے ہیں۔ رومی کا میک اَپ کرتے وقت وہ ان میں سے ایک چیز تو کر ہی سکتے ہیں؛ وہ گانا شروع کر دیتے ہیں۔ آسامی گیت ’رتی رتی‘، جسے وہ گا رہے ہیں، وہ دراصل اپنے عاشق کے لیے ترس رہے ایک شخص کے بارے میں ہے۔ ہم من ہی من سوچنے لگتے ہیں، یہاں پر اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ ہے ایک یو ٹیوب چینل جس کے ہزاروں فالوور ہوں۔

پچھلی دہائی میں یو ٹیوب، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک پر ایسے خود ساز میک اَپ آرٹسٹوں کی بھرمار تھی۔ ان پلیٹ فارموں نے جہاں ایسے ہزاروں لوگوں کو مشہور کر دیا تھا، وہیں دوسری طرف اسے دیکھنے والوں کو بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، جیسے کہ رنگ کیسے لگایا جاتا ہے، اسے کیسے چھپایا جاتا ہے، یا پھر اسے درست کیسے کیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیوز الگ الگ قسم کے ہیں، جن میں آرٹسٹ میک اپ کرتے وقت گانا گاتے، رَیپ کرتے یا فلموں کی اداکاری کا کوئی منظر دہراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Mukta developed an interest in makeup when he was around nine years old. Today, as one of just 2-3 male makeup artists in Majuli, he has a loyal customer base that includes Rumi
PHOTO • Vishaka George
Mukta developed an interest in makeup when he was around nine years old. Today, as one of just 2-3 male makeup artists in Majuli, he has a loyal customer base that includes Rumi
PHOTO • Riya Behl

مُکتا جب نو سال کے تھے تبھی سے میک اپ میں انہوں نے دلچسپی لینا شروع کر دیا تھا۔ آج، مجولی کے دو یا تین میک اپ آرٹسٹوں میں وہ بھی شامل ہیں، جن کے پاس رومی سمیت گاہکوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے

Mukta delicately twists Rumi's hair into a bun, adds a few curls and flowers, and secures it all with hairspray.
PHOTO • Riya Behl
Rumi's makeover gets some finishing touches
PHOTO • Riya Behl

بائیں: مُکتا بڑی نزاکت سے رومی کے بالوں کو گھما کر ایک جوڑا بناتے ہیں، اس میں کچھ پھول پتیاں لگاتے ہیں، اور پھر اسے ہیئر اسپرے سے محفوظ کر دیتے ہیں۔ بائیں: رومی کا میک اپ اب اپنے آخری مرحلے میں ہے

رومی کے میک اپ والے کمرے میں موجود مُکتا کی سب سے قریبی دوستوں میں سے ایک، ۱۹ سالہ بن مالی داس کہتی ہیں، ’’یہ بہت اچھے اداکار ہیں۔ ان کی اداکاری دیکھنا ہمیں اچھا لگتا ہے۔ یہ صلاحیت انہیں قدرتی طور پر ملی ہے۔ انہیں بہت زیادہ ریہرسل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ وہ سب کچھ آسانی سے کر لیتے ہیں۔‘‘

پردے کے پیچھے سے، تقریباً ۶۰ سال کی ایک بزرگ خاتون ہمیں دیکھ کر مسکراتی ہیں۔ مُکتا ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ان کی ماں ہیں۔ ’’میری ممی پریما ہزاریکا، اور میرے پاپا بھائی ہزاریکا میرے سب سے بڑے سپورٹ سسٹم ہیں۔ انہوں نے مجھے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں فلاں کام نہیں کر سکتا۔ ان لوگوں نے میری ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔‘‘

ہمارے یہ سوال کرنے پر کہ اس کام کو وہ کتنی بار کر لیتے ہیں اور اس سے ان کی کتنی کمائی ہو جاتی ہے، مُکتا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں، ’’دلہن کا میک اَپ عام طور سے ۱۰ ہزار روپے میں ہوتا ہے۔ میں اُن لوگوں سے ۱۰ ہزار روپے لیتا ہوں جن کی کوئی مستقل نوکری ہو۔ ایسا کوئی گاہک مجھے سال میں ایک بار ہی ملتا ہے۔ لیکن جن کے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں، ان سے میں یہی کہتا ہوں کہ وہ جتنا دے سکتے ہیں دے دیں۔‘‘ پتلا میک اَپ کرنے کے عوض، مُکتا ۲۰۰۰ روپے لیتے ہیں۔ ’’یہ عام طور سے پوجا، شادی اور پارٹیوں کے لیے ہوتا ہے۔‘‘

مُکتا نے رومی کے ’لُک‘ کو حتمی شکل دینے کے لیے کچھ جعلی پلکیں لگائیں، ان کے بالوں کو گھما کر ایک ڈھیلا جوڑا بنایا، اور چہرے کے دونوں طرف کچھ لڑیاں لٹکا دیں۔ یہ تمام چیزیں مکمل ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے گویا رومی ابھی آسمان سے اتری ہوں۔ وہ شرماتی ہوئی کہتی ہیں، ’’بہت اچھا لگتا ہے۔ بہت بار میک اپ کیا۔‘‘

واپسی کے وقت، ہم نے دیکھا کہ مُکتا کے والد، بھائی ہزاریکا (۵۶)، ہال میں اپنی پالتو بلی کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ رومی کے ’لُک‘ اور مُکتا کے ہنر کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے، تو وہ کہتے ہیں، ’’مجھے اپنے بیٹے اور وہ جو کچھ کرتا ہے اس پر بہت ناز ہے۔‘‘

Mukta's parents Bhai Hazarika (left) and Prema Hazarika (right) remain proud and supportive of his various pursuits
PHOTO • Vishaka George
PHOTO • Riya Behl

مُکتا کے والد بھائی ہزاریکا (بائیں) اور ماں پریما ہزاریکا (دائیں) کو اپنے بیٹے پر ناز ہے اور وہ ان کے ہر کام میں پوری مدد کرتے ہیں

The makeup maestro and the muse
PHOTO • Riya Behl

میک اپ کے استاد اور ان کے ہنر کا نمونہ

*****

کچھ دنوں کے بعد، کملا باڑی گھاٹ پر ان کے اسی ہوٹل میں دوسری بار کھانا کھاتے وقت، مُکتا اپنی اسی میٹھی آواز میں ہمیں اپنے روزانہ کے معمول کے بارے میں بتاتے ہیں، جس سے اب ہم پوری طرح واقف ہو چکے ہیں۔

برہم پتر ندی کے گھاٹ پر بنے اس ہوٹل ہزاریکا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اسے چلانے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ مجولی آنے جانے والے ہزاروں مسافروں سے یہ گھاٹ ہمیشہ بھرا رہتا ہے۔ مُکتا روزانہ صبح ساڑھے پانج بجے سو کر اٹھتے ہیں، اور گھاٹ سے ۱۰ منٹ کی دوری پر واقع اپنے گاؤں، کھورہولا سے اپنی موٹر سائیکل پر دو لیٹر پینے کا پانی، دال، آٹا، چینی، دودھ اور انڈے رکھ کر لاتے ہیں۔ پچھلے سات سالوں سے ان کا یہی معمول ہے۔ صبح میں جلدی جاگنا اور شام کے ساڑھے چار بجے تک ہوٹل کو سنبھالنا۔

ہوٹل ہزاریکا میں جو بھی کھانا بنتا ہے، اس میں استعمال ہونے والی سبھی چیزیں فیملی کے تین بیگھہ [تقریباً ایک ایکڑ] کھیت میں اُگائی جاتی ہیں۔ مُکتا بتاتے ہیں، ’’ہم چاول، ٹماٹر، آلو، پیاز، لہسن، سرسوں، لوکی، گوبھی اور مرچ کی کھیتی کرتے ہیں۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں، ’’لوگوں کو جب دودھ والی چائے پینے کی خواہش ہوتی ہے تو وہ یہاں آتے ہیں۔‘‘ دودھ کے لیے انہوں نے ۱۰ گائیں پال رکھی ہیں۔

کشتیاں جہاں آ کر رکتی ہیں، وہاں پر ٹکٹ بیچنے والے ۳۸ سالہ روہت پھوکن، جو ایک کسان، اور مُکتا کے ہوٹل میں کھانے والے ایک ریگولر کسٹمر بھی ہیں، ہوٹل ہزاریکا کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ ایک اچھی دکان ہے، بہت ہی صاف ستھری۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: ’میک اَپ کرتے وقت مجھے گانا پسند ہے‘

ہوٹل ہزاریکا کے مالک کا فخر سے کہنا ہے، ’’لوگ کہتے ہیں، ’مُکتا، تم کھانا بہت اچھا پکاتے ہو‘۔ یہ سن کر مجھے بہت اچھا لگتا ہے اور دکان چلانے میں بھی مزہ آتا ہے۔‘‘

لیکن یہ وہ زندگی نہیں ہے جس کا خواب مُکتا نے کبھی دیکھا تھا۔ ہمارے لیے چائے بناتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’مجولی کالج سے سماجیات (سوشیولوجی) میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، میں سرکاری نوکری کرنا چاہتا تھا۔ لیکن میرا وہ خواب کبھی پورا نہیں ہوا۔ اسی لیے، میں نے ہوٹل ہزاریکا چلانا شروع کیا۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں، ’’شروع میں جب میرے دوست دکان پر آتے تھے تو مجھے شرم آتی تھی۔ ان کے پاس سرکاری نوکریاں تھیں اور یہاں میں، بس ایک باورچی۔ لیکن میک اپ کرتے وقت مجھے کوئی شرم نہیں آتی۔ صرف کھانا پکاتے وقت مجھے شرم آتی تھی، میک اپ کرتے وقت نہیں۔‘‘

پھر آپ گوہاٹی جیسے کسی بڑے شہر جا کر صرف اسی ہنر میں کوئی موقع تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ ’’میں ایسا نہیں کر سکتا، یہاں مجولی میں میرے اوپر کئی ذمہ داریاں ہیں۔‘‘ یہ کہنے کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لیے رکتے ہیں، پھر آگے کہتے ہیں، ’’میں ایسا کیوں کروں؟ میں یہیں رہنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ مجولی کی لڑکیاں بھی خوبصورت نظر آئیں۔‘‘

انہیں بھلے ہی سرکاری نوکری نہ مل پائی ہو، لیکن وہ کہتے ہیں کہ آج وہ خوش ہیں۔ ’’میں دنیا میں گھوم کر یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس کے پاس کیا ہے۔ لیکن مجولی کبھی نہیں چھوڑنا چاہتا، یہ ایک خوبصورت جگہ ہے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Vishaka George

Vishaka George is a Bengaluru-based Senior Reporter at the People’s Archive of Rural India and PARI’s Social Media Editor. She is also a member of the PARI Education team which works with schools and colleges to bring rural issues into the classroom and curriculum.

Other stories by Vishaka George
Riya Behl

Riya Behl is a journalist and photographer with the People’s Archive of Rural India (PARI). As Content Editor at PARI Education, she works with students to document the lives of people from marginalised communities.

Other stories by Riya Behl
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez