کھدائی کا کام تب شروع ہوا، جب ان کا کنواں چند سال قبل خشک ہو گیا۔ بارش ہوئی نہیں تھی۔ زیر زمین پانی کی سطح نیچے جا چکی تھی۔ لہٰذا، وشومبھر جگتاپ نے ایک ٹیوب ویل کھودنے کا فیصلہ کیا۔

یہ سستا ہے۔ یہ کام گھنٹوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ گندی سچائی پر بھی پردہ ڈال دیتا ہے ۔ آپ بالکل نیچے گہرائی میں جا سکتے ہیں اور بغیر کسی پریشانی کے پانی باہر نکال سکتے ہیں۔

پہلے سے تھوڑا پانی ملا، تقریباً ۴۰۰ فٹ کی گہرائی میں جاکر۔ لیکن، یہ کچھ دنوں میں ہی خشک ہو گیا۔ لہٰذا، انھوں نے دوسرے ٹیوب ویل کی کھدائی کی۔ اس میں سے پانی نکلا ہی نہیں۔ اس کے بعد تیسرا، چوتھا ۔۔۔۔ ہر بار وہ پانی کی تلاش میں مزید گہری کھدائی کرتے، لیکن ناکامی ہاتھ لگتی۔

سال کے اس وقت یہاں پر کچھ عجیب سا ہو رہا ہے۔ لیڈر اسے قحط بتا رہے ہیں، یعنی قدرتی آفت؛ پانی کی اسٹوری پر نظر رکھنے والے ماہرین اسے انسانوں کے ذریعے پیدا کی گئی تباہی بتا رہے ہیں۔

یہ دونوں کا مجموعہ ہو سکتا ہے۔ مہاراشٹر کے تقریباً ایک تہائی علاقے میں پانی کی جو شدید قلت ہے اس کی کوئی بھی مثال پہلے یہاں کی ریکارڈ کی گئی تاریخ میں نہیں ملتی، حالانکہ قحط اس ریاست کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔

دو برسوں میں، اس ۴۲ سالہ سائنس گریجویٹ اور باغباں نے اپنی ۱۸ ایکڑ زمین، جس کے ایک بڑے حصے پر انار کے باغ ہیں، میں پانی کے لیے اس سے کہیں زیادہ سوراخ کیے، جتنے کی تکلسم گاؤں کے باقی تمام کسانوں نے مل کر کیے تھے۔

جگتاپ بتاتے ہیں کہ پچھلے ماہ جب زمین کھودنے کی ۳۶ویں کوشش بھی ناکام ہو گئی، ہماری ان سے ملاقات کے چند روز قبل ہی، تو انھوں نے ایک اور کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس بار، انھوں نے ٹیوب ویل کھودنے والوں سے کہا کہ وہ اس وقت تک نہ رکیں، جب تک کہ ان کی کوشش کامیاب نہ ہو جائے۔


وسطی مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے اشٹی بلاک میں، جہاں ان کا گاؤں ہے، جگتاپ کو ٹیوب ویل کے ساتھ ان کے جنون کی وجہ سے کافی شہرت ملی ہے۔ پانی کی تلاش میں اتنے کنووں کی کھدائی کے معاملے میں کوئی دوسرا کسان ان کی برابری بھی نہیں کر سکتا، حالانکہ یہاں کی زیادہ تر زمینوں پر اس قسم کی کھدائی آپ کو ہر جگہ مل جائے گی۔

مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ علاقے کے کچھ حصوں میں، جو کہ اس ریاست کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے اور جہاں ۲ کروڑ لوگ رہتے ہیں، لوگ اسی مسئلہ کا سامنا کر رہے ہیں، جو راجستھان کے ریگستان یا خلیجی ممالک کے باشندے کر رہے ہیں۔ لگاتار دوسری بار، اور بعض علاقوں میں تیسری بار، بارش نہ ہونے کی وجہ سے پانی کے تمام ذخائر اور ندیاں خشک ہو چکی ہیں۔

زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی ہوتی جا رہی ہے، کچھ جگہوں پر تو یہ ۵۰۰ فٹ سے بھی نیچے پہنچ چکی ہے، جب کہ بیڈ جیسے ضلعوں میں تو یہ سطح ۱۲۰۰ فٹ نیچے جا چکی ہے۔

’’جگہ کا انتخاب کرنے میں مجھے کچھ وقت لگا،‘‘ نرم گو جگتاپ نے بتایا۔ رِگ لدا ہوا ایک ٹرک، ان کی زمین کی مغربی ڈھلان پر نیم کے ایک درخت کے قریب لایا گیا۔ دو دنوں تک، اس رِگ نے زمین کی کھدائی کی، پلاسٹک ٹیوب کو ایک ایک کرکے دھکا دیتا رہا، اس امید میں کہ اسے وہ چیز مل جائے گی، جسے یہاں کے لوگ اب ایک خزانہ سمجھنے لگے ہیں۔ آخرکار، ۱۰۱۰ فٹ کی گہرائی میں جاکر اسے پانی مل ہی گیا۔ حالانکہ، قانونی طور پر اسے ۲۵۰ فٹ سے نیچے نہیں جانا چاہیے تھا۔

دراصل، جگتاپ کی بے چینی اپنے باغ کو بچانے کی ہے۔ اس خوشحالی کے لیے انھوں نے سات برسوں تک کڑی محنت کی ہے۔ سال ۲۰۰۵ میں، انھوں نے پانی کے مؤثر اور پوری طرح استعمال کے لیے اپنی باغبانی میں ڈرِپ سسٹم سے سنچائی کرنی شروع کر دی، کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے سے کھیتی کرکے انھیں کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

انار کی کھیتی سے انھیں فائدہ ملا، جس کی وجہ سے وہ اوپر اٹھ کر امیر کسانوں کی قطار میں شامل ہو گئے۔ وہ اور ان کی بیوی اپنے باغ پر خود ہی کام کرتے ہیں۔ انھوں نے مزدوروں پر خرچ ہونے والی رقم کو کم کرنے کے لیے کھیتی کے اپنے طریقے کو زیادہ تر میکنائز کر لیا ہے۔

ایسی بنجر زمین جس پر چاروں طرف کنویں کھودے گئے ہیں، اب انار کے تقریباً ۵۰۰۰ پیڑ سبزہ زار بنائے ہوئے ہیں۔ انھیں اس ترتیب میں لگایا گیا ہے، گویا بڑی تعداد میں فوجی پورے ادب کے ساتھ قطار میں کھڑے ہوں۔

اِس وقت ان پر سرخ پھول لگ چکے ہیں۔ ’’میرے پھل ایک ہی رنگ کے اور بڑے ہوں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ہر پھل کا وزن ۴۰۰ سے ۶۰۰ گرام ہوگا۔


وہ دھیرے دھیرے اپنی پوری زمین کو باغ میں تبدیل کر رہے ہیں، اس کا نصف کام پورا ہو چکا ہے۔ کچھ درخت پوری طرح تیار ہو چکے ہیں؛ کچھ کو ابھی ابھی لگایا گیا ہے۔ جگتاپ پوری صفائی کے ساتھ ان پھلوں کو، ان کے سائز اور شکل کے حساب سے پلاسٹک کی الگ الگ ٹوکریوں میں رکھتے ہیں۔ تاجر ان کے اناروں کو کھیت پر ہی خرید لیتے ہیں۔

یہ مہاراشٹر کے بازاروں میں پہنچیں گے، اور پھر وہاں سے چنئی، بنگلور اور کلکتہ تک جائیں گے۔

باغ سے ان کی سالانہ آمدنی ہے: ۴۵ لاکھ روپے۔ تمام اخراجات کو گھٹانے کے بعد ان کا مجموعی منافع ہے: تقریباً ۲۴ لاکھ روپے۔ ’’گزشتہ تین برسوں تک، میری پیداواری لاگت کا بڑا حصہ پانی پر لگا،‘‘ جگتاپ کہتے ہیں۔

وہ پانی یا تو پرائیویٹ ٹینکروں سے خریدتے رہے ہیں یا پھر ٹیوب ویل یا کھیت پر کنووں کی کھدائی کرتے رہے ہیں، جس میں انھیں ہمیشہ ناکامی ہاتھ لگی۔ گزشتہ دو برسوں سے یہاں بارش بالکل بھی نہیں ہوئی ہے۔

’’مجھے جس چیز کی ضرورت ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں ’’ وہ ہے ایک اچھا آب خیز جو کچھ مہینے تک اور چلے۔‘‘ انھیں معلوم ہے کہ وہ پانی کے لیے اتنی گہرائی میں جاکر سرکاری ضابطے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ’’لیکن میں اپنے درختوں کو برباد اور مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔‘‘

اس علاقے میں پانی کے لیے گڑھا کھودنے والے جگتاپ اکیلے نہیں ہیں۔

وسط ۔ مغربی مہاراشٹر کے لاکھوں کسان اپنی کھڑی فصلوں اور باغوں کو بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں: چاہے وہ میٹھا لیموں ہو یا انار، چیکو ہو یا پھر پپیتا۔

ابھی تو یہ فروری کا ہی مہینہ ہے اور ان میں سے بہت سے کسان امید چھوڑ چکے ہیں۔ کھیتوں یا باغات کو تو بھول جائیے، اس وقت ان کی توجہ پینے کے پانی کا انتظام کرنے پر لگی ہوئی ہے۔

مہاراشٹر میں سب سے شدید قحط ۱۹۷۲ میں آیا تھا، جس نے لوگوں کی اقتصادی بنیاد کو توڑ کر رکھ دیا تھا، جس کے بعد انھوں نے ہر شعبہ میں ایک خوشحال کوآپریٹو اقتصادیات کی بحالی کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں شروع کیں۔

اس ریاست کے کسی نہ کسی علاقے میں ہر سال قحط پڑتا ہے یا بارش نہیں ہوتی۔ لیکن، جو لوگ برسوں سے اس پوری صورتحال کو دیکھ رہے ہیں ان کے مطابق، موجودہ حالت ان سب میں سب سے سخت ہے۔

’’ہمارے پاس کھانا ہے، ہمارے پاس پیسہ ہے، دوسرے لوگوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس کام بھی ہے، لیکن ہمارے پاس پانی نہیں ہے،‘‘ مرکزی وزیر زراعت شرد پوار نے حال ہی میں ناگپور کے میرے دورہ کے دوران اس رپورٹر کو بتایا تھا۔ ۱۹۷۲ کے قحط میں، لوگوں کے پاس نہ تو کھانا تھا اور نہ ہی کام، لیکن ان کے پاس پانی ضرور تھا۔

بحران کا یہ کالا سایہ پچھلے سال اکتوبر میں ہی پیدا ہو گیا تھا، جب زیادہ تر علاقوں میں بارش بہت کم ہوئی تھی۔ وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان اکتوبر کے اخیر میں جب مانسون ختم ہونے لگا، تو تقریباً ۱۲۳ ضلعوں میں قحط جیسی صورتحال کا اعلان کرنے پر مجبور ہوئے۔

گزشتہ ۹ مہینوں میں مہاراشٹر مالی مدد حاصل کرنے کے لیے مرکز کے پاس تین بار گیا، اایسا کسی بھی ریاست نے نہیں کیا ہے۔ لگاتار تین برسوں تک متاثرہ علاقوں میں بارش طویل مدتی اوسط سے ۵۰ فیصد کم، خراب اور فوارے جیسی رہی ہے۔

مہاراشٹر کا ایک تہائی حصہ ’رین شیڈو ژون‘ میں پڑتھا، جہاں بارش پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے اور جہاں اوسط بارش ۵۰۰ ملی لیٹر یا اس سے کم ہوتی ہے۔ اس پورے علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح کئی میٹر نیچے جا چکی ہے، کیوں کہ لوگ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے گہری سے گہرائی کھدائی میں مصروف ہیں۔

اثرات طویل مدتی، کثیر جہتی ہیں، اور نقصان ہزاروں کروڑ روپے کا ہو رہا ہے، اس سال کی ابتدائی حالت کے اثرات کی گونج کئی نسلوں تک سنائی پڑے گی، احمد نگر کے سابق لوک سبھا رکن وٹھل گڈکھ نے حال ہی میں مراٹھی لوک مت میں لکھا۔ گڈکھ اپنے ضلع کے ضلع پریشد کے رکن کے طور پر ۱۹۷۲ کے قحط کے گواہ رہے ہیں؛ تب لوگوں اور مویشیوں کو مہینوں بھوکا رہنا پڑا تھا۔

تخمینہ بتاتا ہے کہ مہاراشٹر میں تقریباً ۵ لاکھ ہیکٹیئر زمین پر پھیلے باغات تباہ ہو جائیں گے، انفرادی کسانوں کے لیے یہ متوازی نقصان ہوگا۔ انار یا میٹھے لیموں کے باغات کو پھل دینے میں تقریباً چار سے نو سال لگ جاتے ہیں۔ بہت سے حصوں میں انگور کے باغ پانی نہ ہونے کی وجہ سے جل چکے ہیں۔

خشک زمین اور ذریعہ معاش کی وجہ سے کسانوں کو برے وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خریف اور ربیع کی فصیلیں برباد ہو چکی ہیں۔ غذائی اجناس کی پیداوار رک گئی ہے۔ چارے کی کمی نے مویشیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔


جگتاپ کا کہنا ہے کہ بحران کی شدت کا اندازہ لگانے میں انھیں کچھ وقت لگا، لیکن اب وہ بھی ان حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں، جو مہاراشٹر کے بہت سے علاقوں میں ہزاروں لوگ دھیرے دھیرے محسوس کر رہے ہیں: یعنی پانی کی شدید قلت۔ زمین سے اوپر کا پانی ختم ہو چکا ہے۔ ندیاں سوکھ چکی ہیں۔ اور زمین کا پانی ہی واحد امید ہے۔

لوگ اور سرکاری اہلکار اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ اگر آج حالت اتنی خراب ہے، تو پھر گرمی کا موسم آتے آتے کیا حالت ہوگی۔ مثال کے طور پر جالنا یا بیڈ میں ٹیوب ویل کی گہرائی نیچے سرک کر ۱۰۰۰ فٹ تک جا چکی ہے اور اتنی گہرائی میں بھی ریت ہی مل رہی ہے۔ جو لوگ زمین کی کھدائی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے، وہ اب بڑے شہروں کا رخ کرنے کی سوچنے لگے ہیں۔

سرکاری اور پرائیویٹ پانی ٹینکرس پچھلے سال تمام علاقوں میں سال بھر پانی کی سپلائی کرتے رہے۔ ان کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے: تقریباً ۲۰۰۰ سرکاری ٹینکرس گاؤوں میں پانی سپلائی کر رہے ہیں اور اس سے کئی گنا زیادہ پرائیویٹ طریقے سے پانی کی سپلائی کر رہے ہیں۔ کئی لوگوں کے لیے، پانی اب ایک قیمتی شے ہے، جب کہ کچھ کے لیے یہ ایک پھلتا پھولتا کاروبار ہے۔

تقریباً ۱۰ ہزار پانی کے چھوٹے اور اوسط درجے کے ذخائر پانی سے خالی ہو چکے ہیں۔ گوداوری، جو کہ جنوب کی گنگا ہے، جو ناسک سے نکلتی ہے اور مراٹھواڑہ سے ہوکر بہتی ہے، ناقابل یقین طور پر خشک ہو چکی ہے۔

صرف اس کی بالائی دھاراؤں پر بنے چند باندھ ۔ ناسک اور شمالی احمد نگر ضلعوں میں ۔ میں کچھ پانی بچا ہے، اب اسے صرف پینے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

جیک واڑی، جو کہ اورنگ آباد ضلع میں گوداوری ندی پر بنا ہوا ریاست کا دوسرا سب سے بڑا باندھ ہے، یہ بھی اب خشک ہونے والا ہے، اس میں پانی اس سطح پر پہنچ جائے گا، جہاں سے آپ پانی نہیں نکال سکتے۔

تقریباً پانچ لاکھ مویشی سرکار کے ذریعے چلائے جا رہے شیلٹر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ گرمی کا موسم قریب آتے ہی، یہ تعداد دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچنے کی امید ہے۔

بیچ میں اسکول چھوڑنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ دیہی علاقوں کے کالج جانے والے طلبہ اس سال اپنی تعلیم کو جاری رکھنے میں پریشانی محسوس کر رہے ہیں۔

جالنہ اور عثمان آباد شہروں میں، باشندے پہلے سے ہی اپنے ٹھکانے بدل رہے ہیں، کیوں کہ وہاں پر پانی نہیں ہے۔ ایسا شاید پہلی بار ہے، جب پانی کی قلت سے ان علاقوں کی ایک بڑی آبادی دوسری جگہ جانے پر مجبور ہوگی۔

مہاراشٹر کے قحط سے متاثرہ علاقے پان۔انڈیا ٹرینڈ دکھاتے ہیں: پینے، کھیتی اور اب تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیر زمین پانی پر انحصار کو۔ نتیجہ پوری طرح ظاہر ہے: پورے ملک میں پانی کی سطح میں تیزی سے ہو رہی گراوٹ اور زیر زمین پانی کے استعمال اور اس کے دوبارہ بھرنے کے درمیان وسیع فاصلہ۔

صرف گزشتہ چند مہینوں میں ہی، تکلسم گاؤں میں، جگتاپ نے ٹیوب ویلوں کی کھدائی میں اپنی جیب سے ۱۲ لاکھ روپے خرچ کر دیے ہیں۔ ’’میں اپنی سب سے بڑی بیٹی کے لیے لیپ ٹاپ خریدنے کو بار بار ٹال رہا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’جب بھی میں اسے خریدنے کی سوچتا ہوں، پیسہ پانی میں لگ جاتا ہے۔‘‘ اس علاقہ کے ہر گھر کی یہی کہانی ہے۔


گاؤوں والوں کو لگا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں۔ گاؤں کے زیادہ تر کسانوں کو جب ۵۰۰ فٹ کی گہرائی پر اچھا پانی نہیں ملا، تو انھوں نے اپنے کھیتوں پر چند کوششوں کے بعد کنویں کھودنے کے سلسلہ کو منقطع کر دیا۔ لیکن جگتاپ کی تلاش نہیں رکی۔ اگر ان کا نیا کنواں خشک ہو جائے، تو وہ ایک اور کنواں کھود سکتے ہیں۔ ان کے انار کے درختوں پر پھل لگنے ہی والے ہیں۔

’’پیسے گیلے تار چلتل، بگیچہ وچلا پہیجے (اگر کنووں کی کھدائی میں اگر میرا پیسہ جاتا ہے تو کوئی بات نہیں، میرے باغ ہر قیمت پر بچے رہنے چاہئیں)‘‘، جگتاپ کہتے ہیں۔ ’’میں جانتا ہوں، انھوں نے سوچا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں؛ انھوں نے مجھے نام سے پکارے۔‘‘

اب، وہ کہتے ہیں، سب سے مشکل گھڑی ہے: پانی کو کیسے باہر نکالا جائے اور درختوں کو پانی دیا جائے۔ مقامی بازار میں دستیاب پمپ اتنی گہرائی سے پانی باہر نہیں نکال سکتے، اس لیے انھیں اس کو بہتر بنانا ہوگا۔ ’’اچھی حالت میں، میں ایک منٹ میں ۵۰ لیٹر پانی حاصل کر سکتا ہوں۔‘‘ اس کے بدلے میں، وہ بتاتے ہیں، اگلے چند مہینوں میں ان کے پانی کا بل کئی گنا بڑھ جائے گا۔

وہ اس ٹیوب ویل سے پانی نکال کر اسے زمین پر بنے بڑے واٹر ٹینک میں ڈالیں گے، اور پھر یہاں سے اسے پمپ کرکے وہ ڈرِپ سسٹم کے ذریعے اپنے درختوں کی سنچائی کریں گے۔ ’’ہمارے پاس پانچ مہینے بچے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’پانچ،‘‘ وہ دوہراتے ہیں۔ ’’ہم بھوکے ہی نہیں مریں گے بلکہ پانی کی قلت اگر اور بڑھی تو ہم پوری طرح برباد ہو جائیں گے۔‘‘

ضرورت ہر سبق کی ماں ہوتی ہے۔ جگتاپ اگلے مانسون سے پہلے اپنے کھیت پر ہونے والی بارش کے ہر ایک قطرے کو محفوظ کرنے اور زیر زمین پانی کی سطح کو دوبارہ بھرنے کے لیے ایک تالاب کھودنے، باندھ بنانے اور اسی طرح کی ہر چیز کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ’’ہم زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرنا چھوڑ کر اسے حد سے زیادہ استعمال کرنا جاری نہیں رکھ سکتے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس سال اچھی بارش ہوگی۔‘‘

ملک کے اس حصے میں جو بھی رہتا ہے، ان سب کی یہی امید ہے۔

 

یہ اسٹوری سب سے پہلے دی ٹیلی گراف میں ۲۰ فروری، ۲۰۱۳ کو شائع ہوئی تھی

http://www.telegraphindia.com/1130220/jsp/nation/story_16583227.jsp#.VJPSWsADE

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar