آج یومِ مزدور ہے، ۱ مئی، لیکن بنگلورو میٹرو پروجیکٹ – جسے بدقسمتی سے نمّا میٹرو (ہماری میٹرو) کہا جاتا ہے – کے ان مزدوروں کو مارچ سے ہی ان کی مزدوری نہیں ملی ہے اور وہ ڈرے ہوئے ہیں۔ ثبوت/ ایویڈینس، ۱۳ منٹ کی ڈاکیومینٹری (آج جاری کی جا رہی ہے)، لاک ڈاؤن کے دوران شہر کے میٹرو مزدوروں کی زندگی پر مبنی ہے۔ موٹے طور پر، اس کے ذریعے مہاجر مزدوروں کی زندگی اور کام کرنے کے حالات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

’’مجھے ڈر لگتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھر پر مرے، تو کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر ہم یہاں پر مر گئے، تو کوئی ہمیں دیکھے گا بھی نہیں،‘‘ مزدوروں میں سے ایک کا کہنا ہے۔ اسے اپنا گھر چھوڑے ہوئے سات مہینے ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے بے قرار ہے، لیکن لاک ڈاؤن اس کے انتظار کی حد کو بڑھائے جا رہا ہے۔ اس کے باقی ساتھی مزدوروں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سبھی ٹن سے بنے گھروں میں رہتے ہیں – ۱۰-۱۵ دیگر لوگوں کے ساتھ، پھر بھی وہ سماجی دوری بنائے رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

ڈاکیومینٹری ’ثبوت/ ایویڈنس‘ دیکھیں

یہ صرف مہاماری ہی نہیں ہے جو اُن کی زندگی میں رینگ آئی ہے۔ اپنے آجرین کے ذریعے کوئی ریگولیٹری سپورٹ نہیں، ٹھیکہ داروں کے ذریعے استحصال، اور سرکاری اہلکاروں کی زبردست لاپروائی نے ان مزدوروں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔

کرناٹک میں ۲۴ مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے بعد (بنگلور میٹرو ریل کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعے) میٹرو ریل کی پیلی لائن کا تعمیراتی کام راتوں رات روک دیا گیا۔

ٹھیکہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو بغیر کسی سابقہ اطلاع کے تعمیراتی مقام سے چلے جانے کے لیے کہہ دیا گیا۔ لاک ڈاؤن کے سبب، ان کے پاس اپنے گاؤں لوٹنے کا کوئی وسیلہ نہیں تھا۔ ’’آج ۱۵ دن ہو گئے، ہمارا آجر خبر خیریت پوچھنے کے لیے ایک بار بھی ہمارے پاس نہیں آیا ہے،‘‘ ایک مزدور کہتا ہے۔

پھنسے ہوئے مہاجرین کو گھر جانے کی اجازت دینے کے وزارتِ داخلہ کے ۲۹ اپریل کے حکم نامہ کے بعد، حکومت کرناٹک نے ۳۰ اپریل کو اعلان کیا کہ وہ اس کا انتظام کرے گی۔ لیکن ابھی تک کسی نے بھی میٹرو کے ان مزدوروں سے رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس فلم میں مزدور اپنی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ وہ کورونا وائرس سے خود کو بچانے کے لیے اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ لیکن سماجی، اقتصادی اور انفرادی بحران کا کیا؟ دستاویزی فلم سوال کرتی ہے: بحران سے انہیں کون بچائے گا، اور کیسے؟

یشسوِنی اور ایکتا کے ذریعے تحریر اور ہدایت کردہ

فلم کے کردار: بنگلورو میٹرو کے مزدور

سنیماٹوگرافی اور ایڈیٹنگ: یشسونی

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Yashashwini & Ekta

یشسوِنی ۲۰۱۷ کی ایک پاری فیلو اور فلم ساز ہیں، جنہوں نے حال ہی میں ایمسٹرڈم کے رِجکس اکیڈمی وان بیلڈینڈے کُنسٹن سے آرٹسٹ-اِن-ہاؤس ٹرم پورا کیا ہے۔ ایکتا ایک فلم ساز اور بنگلورو کے ایک فلم اور آرٹس کلیکٹو، مارا کی شریک بانی ہیں۔

Other stories by Yashashwini & Ekta