01-100_5215-SS-Hoisa Shigmo.jpg

01-100_5215-SS-Hoisa Shigmo.jpg


شِگمو تہوار میں ماسک یا مصنوعی چہروں سے بھرے ہوئے اساطیری کردار بڑے ہوتے ہیں، جو سامعین کو کافی تعداد میں اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں


گووا نے میری طویل عرصے سے چلی آ رہی گھڑی نہ پہننے کی عادت کو صحیح ثابت کر دیا۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہر چیز صحیح وقت پر شروع ہو۔ بسیں ٹائم ٹیبل کے حساب سے نہیں چلتیں۔ اور جیسا کہ معمول ہے، آپ اس کی وجہ سے بہت زیادہ نہ تو کھوتے ہیں اور آپ سے کچھ چھوٹتا ہے۔ لہٰذا، پنجِم سے پونڈا کا ۳۰ کلومیٹر لمبا سفر، بھری ہوئی سرکاری بس میں کھڑے ہوکر اور طے کرنے میں اچھا لگا، جس کے دوران کھڑے کھڑے ڈیڑھ گھنٹے تک سوتی رہی۔ تازہ دَم ہونے کا فائدہ یہ ہوا کہ شاندار شِگمو تہوار کو اچھی طرح دیکھنے کا موقع ملا جو ابھی ابھی شروع ہوا تھا، پونڈا میں اپنے مقررہ وقت سے تھوڑی دیر بعد میں۔

شگموتسو ایک ہندو تہوار ہے، جو اس ریاست میں ۴۵۰ سال پرانی پرتگالی حکومت کے دور کی ثقافت اور اس کے کارنیوال کا متبادل ہے۔ یہ ایک روایتی مقامی تہوار ہے، جسے ’ہندو کارنیوال‘ بھی کہتے ہیں، جو شمالی ہند میں جس وقت ہولی منائی جاتی ہے، اسی وقت منعقد ہوتا ہے اور پندر دنوں تک چلتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تہوار سردی یا فصل کاٹنے کے موسم کے خاتمہ کا اعلان اور موسم بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ شگمو ویسے تو بنیادی طور پر ایک گاؤں کا تہوار ہے، لیکن گزشتہ ۳۰ برسوں سے، ریاستی حکومت نے مقابلہ وغیرہ کرانے جیسے کئی پروگراموں کو اسپانسر کیا ہے، تاکہ پنجِم اور واسکو جیسے شہروں میں سیاح بڑی تعداد میں آئیں، جہاں روایتی موسیقی کے ساتھ مقبول گانے گائے جاتے ہیں۔ لیکن، اسے اب بھی وہ پشت پناہی حاصل نہیں ہے، جتنی کہ ماضی میں کارنیوال کو حاصل تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، ایسا اس لیے ہے کیوں کہ کارنیوال میں مغربی عنصر زیاد ہونے کی وجہ سے گوا میں غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اس کا پرچار کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا: شِگمو ان کی زندگی کے ساتھ گہرائی کے ساتھ ایک جشن کے طور پر جڑا ہوا ہے، جو ہر سال منایا جاتا ہے۔ اسے ان کے ذریعہ معاش کے ثقافتی تناظر میں منایا جاتا ہے۔ اور اسی لیے اس کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ کارنیوال کے مقابلے شگمو پریڈ اور اس میں استعمال ہونے والی تمام چیزیں، جیسے لباس، زرعی اوزار، موسیقی کے آلات اور رقص وغیرہ بنیادی طور پر دیسی ہی رہے ہیں اور ان کا کوئی کمرشیل اسپانسر نہیں ہوتا۔ اسی لیے اس میں گاؤں کی شناخت پوری طرح موجود ہے۔ اس جشن میں کسی کی مداخلت نہیں ہوتی، نہ کوئی باہر سے کوئی فرمان جاری کرتا ہے۔ اسی طرح، کارنیوال کے برعکس، جہاں عورتیں بیئر برانڈس، فاس فوڈ اور پاپ ڈانس کا چہرہ بنتی ہیں، شگمو میں صرف مرد شرکت کرتے ہیں۔


02-100_5232-SS-Hoisa Shigmo.jpg

ہر عمر کے مرد اس میں حصہ لیتے ہیں۔ پرفارمنس کا فیصلہ یہ دیکھ کر کیا جاتا ہے کہ چھڑی کو کس طرح پکڑا گیا ہے اور دھن کے ساتھ کس نے صحیح مارچ کیا ہے


مزیدار بات یہ ہے کہ اس سال پونڈا شگمو میں ’جمال آرائی‘ کا واحد منظر کرینا کپور اے لا ٹشن کی شکل میں تھا، چھوٹے لال ڈریس اور وِگ کے ساتھ۔ یہ چہرہ ایک اوسط عمر کے آدمی نے بنایا تھا۔


03-100_5186-SS-Hoisa Shigmo.jpg

ایک ٹوکن کرینا کپور، ان کی فلم ’ٹشن‘ کی ایک شکل۔ بقیہ دو جنگلات میں آدیواسیوں کی زندگی کو پیش کر رہے ہیں


ڈھول پیٹنا

پونڈا، جو کہ گوا کا ایک گاؤں ہے اور درجنوں مندر اور مسالے کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، آج پوری طرح سے مصروف ہے۔ گلی میں آگے المیڈا اسکول تک شاندار چہل پہل ہے، گاؤں کے لوگ پریڈ ڈانس اور فینسی ڈریس مقابلہ کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ کڑکدار کرتے پائجامے اور سروں پر نارنجی رنگ کی پگڑیاں باندھی جا رہی ہیں، جسے پہننے والے بچے اور بوڑھے دونوں ہیں اور شام کی اس گھڑی میں چاروں طرف جھنڈوں کی بھی بھرمار ہے۔


04-100_5165-SS-Hoisa Shigmo.jpg

عورت کی طرح تیار ہوچکا ایک مرد ایک نوجوان لڑکے کے سر پر پگڑی باندھ رہا ہے۔ گوا کا ہندو کارنیوال شگمو، وہ تہوار ہے جس میں صرف مرد حصہ لیتے ہیں


تہوار کی شروعات مقامی دیوتا کی پوجا سے ہوتی ہے (یہاں پر شیو کی پوجا ہوتی ہے)، جو کہ گاؤں میں ایک مقدس چوراہے پر موجود ہے، جسے یہاں ’مانڈ‘ کہتے ہیں۔ اس کے بعد دیسی ساز بجائے جاتے ہیں، جیسے ڈھول، تاشے، گھومٹ (جو مٹی کے برتن پر بڑے چھپکلی کے چمڑے کو لگاکر بنایا جاتا ہے)۔ پولس سامنے کی قطار میں موجود لوگوں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنے کے لیے کہتی ہے۔ اسوال، کونکنی میں بیئر، کی شکل میں ملبوس ایک آدمی مجمع کے بیچ میں ڈانس کرتا ہے، اس کے پیچھے آدیواسی کی شکل میں دو آدمی پتیوں اور پینٹ کی ملبوسات میں چلتے ہیں۔ وہ سامعین سے بات چیت کرتے ہیں، جو اپنے اپنے موبائل فون پر ان کی تصویریں کھینچنے میں مصروف ہیں۔ رامائن اور مہابھارت کے مشترکہ اساطیری کرداروں کے علاوہ، ایک ٹوکن ڈونالڈ ڈک، سائیں بابا، میک اَپ زخموں، پٹیوں اور مصنوعی کے ساتھ ایک فقیر بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔


05-5166 & 5167 & 5222-SS-Hoisa Shigmo.jpg

مرد شگمو میں ہر قسم کی شکل و صورت کے ساتھ حصہ لیتے ہیں۔ یہاں، فورسز سے متاثر ہو کر ۔۔۔ (بائیں) ۔۔۔۔ یا ڈراؤنی فلم! (درمیان)، شگمو جو کہ زیادہ مقبول کارنیوال سے مختلف ہے، گوا میں مقامی باشندوں کی ثقافتی زندگی کا ایک تہوار (دائیں) ہے


تاریخ نویس پرجل سکھر ڈنڈے کہتے ہیں کہ شِگمو بنیادی طور پر علاقائی لوگوں کا ایک تہوار ہے، جس میں ’’اونچی ذات کے لوگ شرکت نہیں کرتے ہیں۔‘‘ شمسی ہندو کیلنڈر کے حساب سے اس تہوار کو گوا میں ہر سال فروری یا مارچ کے مہینہ میں منایا جاتا ہے۔

سورج ڈھلتے ہیں، گلی کے دوسرے کنارے سے ڈھول پیٹنے کی آواز سنائی دینے لگتی ہے۔ روم تامل نام کا مختلف برادریوں کا یادگاری رقص شروع ہو جاتا ہے۔ گڈریوں کی ڈھانگر کمیونٹی سفید و سیاہ اور سبز ملبوسات میں رقص کرتے ہوئے گزرتی ہے۔ ملبوسات کے علاوہ، رقص کرنے والے ہر گروپ کے بارے میں فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی چھڑی کو کیسے پکڑا ہے اور تال پر کس طرح مارچ نکالا ہے۔ چمکدار رنگوں میں یہاں موشل (پرانا گیہوں گوندھنے والا) گروپ، اور گھوڑے مودِنی (گھوڑے پر سوار سپاہیوں کا جنگ کی جیت کو بتاتا) گروپ ہے۔


06-5254 &5268-SS-Hoisa Shigmo.jpg

گھوڑے مودِنی گھوڑسوار سپاہیوں کا جیت کے جشن میں رقص کرتا گروپ ہے (بائیں)۔ مقامی لوگ کسانوں کی صورت بناکر گوا کی دیہی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں (دائیں)


ہر کسی کو کوئی بھی تال چھوڑے بغیر، یکے بعد دیگرے پرفارم کرنا ضروری ہے۔ ان کے پیچھے پیچھے وہ رضاکار چل رہے ہیں، جو انھیں ٹینگ یا پانی کی بوتلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہر گروپ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے، سفید پلاسٹک کی ایک ڈور سڑک پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ سڑک کے کنارے موجود ریستورانوں کی اچھی کمائی ہو جاتی ہے، کیوں کہ مارچ میں شامل لوگ ان سے بھاجی پاؤ کھانے اور گلاس میں گاڑھے دودھ کی چائے پینے کے لیے آتے رہتے ہیں۔ پورا پریڈ گاؤں کے ایک میدان کی طرف چلا جاتا ہے، جہاں بڑے بڑے بینر اور نمائش کی شکل میں زرعی زندگی، مقبول مناظر اور افسانوی کردار رکھے ہوئے ہیں۔


07-100_5206-SS-Hoisa Shigmo.jpg

ڈرامائی، چمکدار میک اَپ اور دیشی مونچھ سجنے سنورنے کا حصہ ہیں


جشن کا ماحول آدھی رات تک چلتا رہتا ہے، جہاں تختے پر لگائی گئی بہترین نمائش اور ملبوسات کے انعام تقسیم کیے جاتے ہیں۔ شگمو جہاں روایتی طور پر پریڈ ڈانس اور میوزک کی شکل میں منایا جانے والا تہوار تھا، جہاں ہر کسی کو انفرادی طور پر اہمیت دی جاتی تھی، وہیں کارنیوال کے کنارے تختوں پر لگائے جانے والے مناظر اور تصویریں وغیرہ ریاستی حکومت نے ’’سیاحوں کے لیے‘‘ لگانی شروع کیں، سکھر ڈنڈے کہتے ہیں۔ ’’یہ مطالبہ آیا کہ ہندو ثقافتی مناظر کی عکاسی شہروں میں کی جائے۔‘‘


08-100_5305-SS-Hoisa Shigmo.jpg

پینٹ کیے ہوئے دیشی مجسمے پرفارمنس اور تختوں کی نمائش کا حصہ ہوتے ہیں


کل یہ مارچ شمالی گوا کے بچولیم چلا جائے گا۔

موسم بہار کی آمد آمد ہے۔ اور ایسے موسم  میں اس ریاست کے کونے کونے میں شگمو کا رنگ برنگا تہوار پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔


09-100_5280-SS-Hoisa Shigmo.jpg

شگمو کا جشن سورج ڈھلنے کے بعد دیر تک چلتا رہتا ہے، جس میں دیوی دیوتاؤں کے مجسمے اور ان کی شکل و صورت میں دیگر نمائش گاؤں میں گھومتی رہتی ہے

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

شالی سنگھ دی ویک میگزین سے وابستہ صحافی ہیں اور دہلی میں رہتی ہیں۔ وہ عورت و مرد کے مسائل، ثقافت، سماجی تبدیلیوں اور حالاتِ حاضرہ پر لکھتی ہیں۔ وہ ’پاری‘ کی بانی ٹیم کا حصہ ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Shalininess You can contact the author here: