شام کے وقت اپنی جھونپڑی میں زمین پر بیٹھی نرمدا بائی سل بٹے پر ٹماٹر پیس رہی تھیں۔ ان کے شوہر، موہن لال نے انہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک کپڑے پر رکھ دیا تھا۔

’’ہم ان کی چٹنی بنا لیتے ہیں۔ ہمارے بغل والے گھر سے کبھی کبھی چاول مل جاتا ہے۔ اگر نہیں ملا، تو ہم اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے چٹنی ہی پی لیتے ہیں،‘‘ نرمدا بائی نے مجھے بتایا، جب میں ان سے اپریل میں ملا تھا۔ وہ اپنے آس پاس کی عمارتوں کے لوگوں کے بارے میں بتا رہی تھیں، جو جموں شہر کے مغرب میں بسے درگا نگر کی پیچھے والی گلی میں واقع تین جھگیوں میں رہنے والے مزدوروں کو کبھی کبھار راشن دے دیتے ہیں۔

جب ۲۵ مارچ کو لاک ڈاؤن شروع ہوا، تب نرمدا بائی چندرا اور موہن لال چندرا کے لیے کھانے کا انتظام کرنا بہت مشکل ہو گیا – کیوں کہ فروری تک ان لوگوں کی پوری سردی زیادہ تر بغیر کام کے ہی گزری تھی اور یہ لوگ اپنی جمع پونجی پر ہی گزارہ کر رہے تھے۔

۴۸ سالہ نرمدا بائی جموں میں تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والی ایک دہاڑی مزدور ہیں اور وہ ۴۰۰ روپے روزانہ کے حساب سے مہینہ میں ۲۰-۲۵ دن کام کرتی ہیں۔ ۵۲ سالہ موہن لال ایک راج مستری ہیں، جو دن کے ۶۰۰ روپے کماتے ہیں۔ ’’فروری میں جیسے ہی کام ملنا شروع ہوا، لاک ڈاؤن لگا دیا گیا،‘‘ موہن لال نے بتایا۔ ’’ہم پہلے سے ہی تنگی میں تھے، اب تو کچھ بھی نہیں بچا۔‘‘

بغل کے کمرے میں موہن لال کے چھوٹے بھائی، تقریباً ۴۵ سالہ اشونی کمار چندرا اور ان کی ۴۰ سالہ بیوی راج کماری رہتے ہیں۔ اشونی بھی راج مستری کا کام کرتے ہیں اور دن کے ۶۰۰ روپے کماتے ہیں، جب کہ راج کماری تعمیراتی مقامات پر اور آس پاس کے کھیتوں اور باغوں میں کام کرتی ہیں اور دن کے تقریباً ۴۰۰ روپے کماتی ہیں۔

دونوں ہی کنبے چھتیس گڑھ کے جانجگیر-چامپا ضلع کے نواگڑھ بلاک میں واقع باربھاٹا گاؤں سے جموں آئے تھے۔ نرمدا بائی اور موہن لال خشک سالی کی وجہ سے، ۲۰۰۲ میں آئے تھے۔ ’’خشک سالی نے سب کچھ برباد کر دیا تھا – مویشی، معاش اور ہر کسی کا بنیادی وجود۔ ہم نے اتنا کچھ کھو دیا کہ ہمیں سب کچھ چھوڑ کر آنا پڑا،‘‘ موہن لال نے مجھے بتایا۔

People in nearby buildings gave rations to the labourers living in the three rooms (left) in a back lane in Jammu city. Mohan Lal (right) resides in one of the rooms
PHOTO • Rounak Bhat
People in nearby buildings gave rations to the labourers living in the three rooms (left) in a back lane in Jammu city. Mohan Lal (right) resides in one of the rooms
PHOTO • Rounak Bhat

جموں شہر میں ایک چھوٹی سی گلی میں بنے تین کمروں (بائیں) میں رہ رہے مزدوروں کو ان کے آس پاس کی عمارتوں کے لوگوں نے راشن دیا۔ موہن لال (دائیں) انہی میں سے ایک کمرے میں رہتے ہیں

اشونی اور راج کماری (اوپر کور فوٹو میں، اپنے بیٹے پردیپ کے ساتھ) کھیتی کرکے، تعمیراتی مقامات پر مزدوری کرکے، سلائی اور کپڑے کی دکان چلاکر پیسہ کمانے کی کوشش کرنے کے بعد، یہاں تقریباً سات سال پہلے آئے تھے۔ انہوں نے اپنے تین بچوں کو باربھاٹا میں ان کی دادی کے پاس چھوڑ دیا ہے۔

گاؤں میں یہ دونوں بھائی تین ایکڑ زمین پر کھیتی کرتے تھے۔ ’’ہم بینگن، ٹماٹر اور دالیں اگاتے تھے۔ لیکن بارش نہیں ہوئی اور سوکھا پڑ گیا، کوئیں سوکھ گئے...‘‘ موہن لال نے بتایا۔ سالوں تک کھیتی کی زمین بنجر پڑی رہی، جب تک کہ فیملی نے گاؤں کے ہی ایک کسان کو ۱۰ ہزار روپے سالانہ کرایے پر زمین نہیں دے دی۔

ان کے گاؤں کے ہی کسی آدمی نے جموں جانے کی صلاح دی – انہوں نے سنا تھا کہ یہاں رہنا سستا ہے، اور بہت سارا کام بھی ملے گا۔ ’’ہاتھ یا دماغ میں زیادہ کچھ لیے بنا ہی ہم باربھاٹا سے نکل پڑے،‘‘ نرمدا بائی نے کہا۔ ’’ہمارے پاس تھوڑے سے روپے تھے اور تھوڑی سی امید، لیکن کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے اس کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ ہم بس ٹرین میں بیٹھے اور یہاں آ گئے۔‘‘

جلد ہی انہیں ایک مقامی ٹھیکہ دار کے توسط سے مزدوری کا کام مل گیا۔ ’’ہم نے بیس سالوں میں ان میں سے کئی [ٹھیکہ داروں] کے ساتھ کام کیا ہے،‘‘ موہن لال نے مجھے بتایا۔

لیکن لاک ڈاؤن نے ان کے کام اور آمدنی میں کٹوتی کر دی۔ ’’۲ ہزار روپے سے زیادہ نہیں تھے،‘‘ اپریل کے آخر میں اپنی بچت کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا۔ ’’ہم لوگوں کو روزانہ پیسے نہیں ملتے، لیکن ۲-۳ ہزار روپے کچھ ہفتہ بعد ملتے ہیں۔‘‘ مہینہ کے آخر میں ٹھیکہ دار ان روپیوں کو کل کمائی میں سے کاٹ لیتا ہے۔ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد، جب ان کی بچت کے پیسے ختم ہونے والے تھے، موہن لال نے ٹھیکہ دار سے ۵ فیصد ماہانہ شرح سود پر ۵ ہزار روپے قرض لیے تھے۔ ’’ہمارے پاس بس یہی متبادل بچا تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔

’’ہمارے پاس زیادہ پیسے نہیں بچے ہیں،‘‘ نرمدا بائی نے کہا۔ ’’گھر پر ہماری دو بیٹیاں ہیں [دونوں بی ایس سی کر رہی ہیں]۔ ہمیں ان دونوں میں سے ہر ایک کو مہینہ میں ۴ ہزار روپے بھیجنے پڑتے ہیں۔ اور باقی پیسہ راشن، صابن، تیل اور دوسری چیزوں کے خرچ میں استعمال ہوتا ہے۔‘‘

Ashwini and Rajkumari live in the room next door
PHOTO • Rounak Bhat

اشونی اور راج کماری بغل والے کمرے میں رہتے ہیں

’’جب بارش اور سردیوں کے موسم میں کام کم ملتا ہے، تب ہم تھوڑے اضافی پیسوں کے لیے ایک دو شرٹ سل لیتے ہیں،‘‘ اشونی نے بتایا؛ ان کے اور راج کماری کے پاس ایک پرانی سلائی مشین ہے۔ ’’دوسرے لوگوں کی طرح، ہم بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمیں قرض بھی چکانا ہے۔‘‘ ان کا منجھولا بیٹا، ۱۷ سالہ پردیپ چندرا بھی ایک مزدور ہے؛ پچھلے سال جب وہ ۱۰ویں کلاس کے امتحان میں پاس نہیں ہو پایا، تب وہ بھی جموں آ گیا تھا۔ اس کو بھی دن کے ۴۰۰ روپے مل جاتے ہیں۔

تیسری جھونپڑی میں ۳۵ سالہ دلیپ کمار اور ۳۰ سالہ تہارن بائی رہتے ہیں؛ وہ دونوں بھی تعمیراتی مقامات پر کام کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک ۴۰۰ روپے روز کماتا ہے۔ کم ادائیگی کرنے والے یا دیری سے ادائیگی کرنے والے ٹھیکہ داروں سے بچنے کے لیے یہ لوگ تالاب تلّو لیبر ناکہ پر کام ڈھونڈتے ہیں، جو وہاں سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور ہے۔

یہ فیملی تقریباً آٹھ سال پہلے جانجگیر-چامپا ضلع کے چامپا بلاک کے بہیرڈیہہ گاؤں سے جموں آئی تھی۔ ’’میں اپنے گاؤں میں زرعی مزدور تھا۔ وہاں بہت دنوں سے سوکھا پڑ رہا تھا اور وہاں سے نکلنے کا یہی وقت تھا،‘‘ دلیپ نے بتایا۔

انہوں نے اس سال اپنی ۱۵ سالہ بیٹی پورنیما کا جموں کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ۱۰ویں کلاس میں داخلہ کروایا ہے۔ (پورنیما نے ہی اس بات چیت کو بلاس پوری سے ترجمہ کرنے میں مدد کی، حالانکہ کچھ لوگوں نے ہندی میں بھی بات کی۔) اس کی پڑھائی کے لیے ان لوگوں نے بہیرڈیہہ کے ایک پرائیویٹ ساہوکار سے ۱۰ ہزار روپے کا قرض لیا ہے۔ ’’اس میں سے اب صرف ۳ ہزار روپے ہی دینے کو بچے ہیں،‘‘ دلیپ نے اپریل کے آخر میں مجھے بتایا تھا۔ ’’جو پیسہ ہم اس کی پڑھائی کے لیے استعمال کرتے، اب ہم اسی پیسے کے سہارے زندہ ہیں۔‘‘

ان تینوں کنبوں کا راشن کارڈ جموں کا نہیں ہے، اس لیے یہ لوگ تقریباً آدھا کلومیٹر دور واقع پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کی دکان سے اناج نہیں لے سکتے۔ ’’انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ باہر کے لوگوں کو راشن نہیں دیتے ہیں۔ ہمیں گالیاں پڑتی ہیں اور بھگا دیا جاتا ہے،‘‘ اشونی نے بتایا۔ ’’غذا اور باز ادائیگی – لاک ڈاؤن کے بعد ہماری زندگی بس اسی کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ گزشتہ سات سالوں میں اس سال ہماری سب سے خراب حالت ہوئی ہے۔ ہم بس اپنے پڑوسیوں کی رحم دلی کی وجہ سے گزارہ کر پا رہے ہیں۔‘‘

حالانکہ اس گلی کی بڑی اور بہتر عمارتوں اور گھروں میں رہنے والے لوگوں نے شروعات کے دنوں میں بھی مدد کی تھی، لیکن پچھلے کچھ ہفتوں سے ان لوگوں نے ہر کچھ دنوں میں جھگی میں رہنے والوں کو اور بھی زیادہ راشن اور سبزیاں مہیا کروائی ہیں۔ جب ۱۸ مئی کے آس پاس میں ان کنبوں سے ملا تھا، تب اس مدد کی وجہ سے ان لوگوں کی جدوجہد تھوڑی کم ہوئی تھی۔

’’ہم لوگوں کی حالت کافی بہتر ہوئی ہے،‘‘ موہن لال نے بتایا۔ ’’ہمارے پاس کے چار کنبوں نے ۱۵ کلو آٹا، ۱۰ کلو چاول اور ۵ کلو آلو دیے تھے۔ انہوں نے ہمیں یہیں رہنے کو کہا، اور گھر چھوڑ کر جانے سے منع کیا۔ انہوں نے ہمیں یقین دلایا کہ اگر یہ سب سامان ختم ہو جائے تو ہم ان سے دوبارہ مانگ سکتے ہیں۔ انہوں نے ہم سب کو ۵۰۰-۵۰۰ روپے دیے، جو ہم نے تیل، مصالحہ اور نمک خریدنے میں خرچ کیے۔‘‘

’’ان سب کی وجہ سے ہی ہمارا کام چل رہا ہے۔ سامان تقسیم کرنے کے لیے سیٹھ جی کی گاڑی دو بار آئی ہے،‘‘ اشونی نے بتایا۔ ’’لیکن ایک بار جب یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا، تب پتا نہیں ہم کیا کریں گے۔‘‘

Dileep Kumar and Tiharinbai Yadav work at construction sites; their 15-year-old daughter Poornima studies in a private school in Jammu
PHOTO • Rounak Bhat
Dileep Kumar and Tiharinbai Yadav work at construction sites; their 15-year-old daughter Poornima studies in a private school in Jammu
PHOTO • Rounak Bhat

دلیپ کمار اور تہارِن بائی یادو تعمیراتی مقامات پر کام کرتے ہیں؛ ان کی ۱۵ سالہ بیٹی پورنیما جموں کے ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھتی ہے

۱۰ مئی کے آس پاس موہن لال اور نرمدا بائی نے ایک بار پھر کام پر جانا شروع کیا۔ ہمیں ابھی تک مزدوری کے ۳ ہزار روپے ملے ہیں،‘‘ موہن لال نے بتایا۔ ’’ٹھیکہ دار کل ادائیگی میں سے ۶ ہزار روپے کاٹ لے گا، جو میں نے [لاک ڈاؤن شروع ہونے کے وقت] اس سے قرض لیے تھے۔ میں خوش ہوں کہ کام شروع ہو گیا ہے اور ہمارے آس پاس مدد کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘

بقیہ دونوں کنبوں کو بھی دکانوں اور گوداموں میں صاف صفائی کا کام ملنے لگا ہے، کیوں کہ وہ آہستہ آہستہ کھلنے لگے ہیں۔ ’’لاک ڈاؤن کے دوران بند ہونے کی وجہ سے کئی سارے مکانوں اور دکانوں کو کافی صاف صفائی کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ ہمیں بلاتے ہیں اور دن کے حساب سے پیسے دیتے ہیں۔ میں نے ابھی تک ۱۰۰۰ روپے کمائے ہیں،‘‘ مئی کی شروعات میں اشونی نے ہمیں فون پر بتایا تھا۔

انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی فیملی کو مرکزی حکومت کے ذریعے اعلان کردہ مدد (اپریل سے جون تک ۵۰۰ روپے ماہانہ) یا اضافی راشن نہیں ملا ہے۔ ’’اگر ہمیں ملتا بھی، تو کیا اتنے روپے گزارہ کرنے کے لیے کافی ہیں؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔ ’’ہمیں کسان سمردّھی یوجنا کے تحت ۲۰۰۰ روپے ملے تھے۔ بس۔‘‘

’’یہ شہر ہمارے خون، پسینے اور ہماری محنت سے بنا ہے،‘‘ موہن لال نے غصے سے کہا۔ ’’اور اب سرکار ہماری کسی بھی طرح مدد کرنے سے منع کر رہی ہے۔‘‘

جب کہ، حکومت جموں و کشمیر کے محنت اور روزگار محکمہ کے کمشنر، سوربھ بھگت نے مجھے فون پر بتایا، ’’ہم نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے۔‘‘ ان کا اندازہ ہے کہ جموں میں تقریباً ۳۰ ہزار مہاجر رہتے ہیں۔ ’’ہمارے یہاں زیادہ تر مزدور بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اوڈیشہ سے آتے ہیں۔ سرکار نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ وہ مزدوروں کو ڈائریکٹ بینک ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے مارچ سے ۱۰۰۰ روپے ماہانہ دے گی۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں یہ روپے نہیں ملے – یہ سب میڈیا کی توجہ مبذول کرنے کے لیے یا پھر گزارہ نہ کر پانے کی حالت میں اضافی مدد حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘‘

حالانکہ، دُرگا نگر کی چھوٹی سی گلی کے ان تین کمروں میں، حالات بربادی کے دہانے سے پیچھے آ گئے ہیں، لیکن ابھی بھی غیریقینت کا ماحول ہے۔ ’’ہم لوگ لگاتار محتاط اور ہوشیار ہیں، اس امید اور امکان میں کہ ہمیں مزید مدد ملے گی،‘‘ دلیپ کہتے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Rounak Bhat

رونق بھٹ پاری کے ۲۰۱۹ کے ایک انٹرن ہیں۔ وہ سمبایوسس انٹرنیشنل یونیورسٹی، پونہ سے صحافت میں گریجویشن کر رہے ہیں۔ وہ ایک شاعر اور خاکہ نگار ہیں، اور ترقیٔ اقتصادیات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Other stories by Rounak Bhat