علاج کے لیے جسم سے خون نکالنا، تقریباً ۳ ہزار سالوں تک طب کا ایک عام طریقہ تھا۔

اس کی ابتدا ہِپّوکریٹس کے اس خیال سے ہوئی تھی، اور جو بعد میں چل کر دورِ وسطیٰ کے یوروپ میں کافی مقبول ہوا: کہ جسم کے چار عناصر – خون، بلغم، کالا پِتّ، پیلا پت – کا عدم توازن مرض کا سبب بنتا ہے۔ ہپوکریٹس کے تقریباً ۵۰۰ سال بعد، گیلن نے خون کو سب سے اہم عنصر بتایا۔ ان خیالات اور جراحی کے تجربات اور، اکثر، توہم پرستی سے پیدا ہونے والے دیگر خیالات کے نتیجے میں جسم سے خون نکالا جانے لگا کہ اگر مریض کو بچانا ہے، تو اس کے جسم کو خراب خون سے آزاد کرنا ہوگا۔

خون نکالنے کے لیے جونک کا استعمال کیا جاتا تھا، جس میں ادویاتی جونک ہیروڈو میڈیسن لِس بھی شامل ہے۔ ہمیں کبھی پتا نہیں چل پائے گا کہ ان ۳ ہزار سالوں میں اس طریقہ علاج سے کتنے لوگوں کی جان گئی، کتنے انسان لاشوں میں تبدیل ہو گئے، جن کا خون بہاکر ڈاکٹروں نے اپنی طبی و نظریاتی خام خیالی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ انگلینڈ کے راجا چارلس دوئم نے مرنے سے پہلے اپنا ۲۴ اونس خون نکلوایا تھا۔ جارج واشنگٹن کے تین ڈاکٹروں نے ان کے گلے کے انفیکشن کا علاج کرنے کے لیے (خود ان کی درخواست پر) کافی مقدار میں خون نکالا تھا – ان کا جلد ہی انتقال ہو گیا۔

کووڈ- ۱۹ نے ہمیں نیو لبرل ازم کی ایک شاندار، مکمل آٹوپسی دی، جو درحقیقت سرمایہ داری کے بارے میں ہی ہے۔ لاش میز پر پڑی ہے، چکاچوند روشنی میں، ہر نس، شریان، عضو اور ہڈی ہمارے چہرے کو گھور رہی ہے۔ آپ سبھی جونکوں کو دیکھ سکتے ہیں – پرائیویٹائزیشن، کارپوریٹ گلوبل ازم، حد سے زیادہ دولت کا ذخیرہ، تازہ یادداشت میں کبھی نہ دیکھی گئی غیر برابری کی سطح۔ سماجی اور اقتصادی برائیوں کے لیے خون نکالنے کا نظریہ، جس نے معاشروں کو کام کرنے والے لوگوں سے ان کے مہذب اور باوقار انسانی وجود کو چھینتے ہوئے دیکھا ہے۔

تین ہزار سال پرانا یہ طریقہ علاج ۱۹ویں صدی میں یوروپ میں اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا۔ ۱۹ویں اور ۲۰ویں صدی کے آخر میں اس کا استعمال کم ہونے لگا – لیکن اصول اور برتاؤ ابھی بھی اقتصادیات، فلسفہ، تجارت اور سماج کے موضوعات پر حاوی ہیں۔

PHOTO • M. Palani Kumar

غیر برابری اب ہر اس بحث کا مرکز ہے، جو ہم انسانیت کے مستقبل پر کرتے ہیں

لاش کے آس پاس موجود سب سے طاقتور سماجی اور اقتصادی ڈاکٹروں میں سے کچھ ہمارے سامنے اس کی تشریح اسی طرح کرتے ہیں جیسے عہد وسطیٰ کے یوروپ کے ڈاکٹروں نے کیا تھا۔ جیسا کہ کاؤنٹر پنچ کے بانی ایڈیٹر، آنجہانی الیگزینڈر کاک برن نے ایک بار کہا تھا، جب عہد وسطیٰ کے ڈاکٹروں نے اپنا مریض کھو دیا، تو انہوں نے شاید افسوس کے ساتھ اپنا سر ہلایا اور کہا: ’’ہم نے اس کا خون زیادہ نہیں بہایا تھا۔‘‘ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کئی دہائیوں تک اس بات پر زور دیا کہ ان کے جھٹکے اور خوفناک علاج، کبھی کبھی تقریباً قتل عام جیسی ڈھانچہ جاتی ترتیب کا زبردست نقصان – اس وجہ سے نہیں تھا کہ ان کی ’اصلاح‘ کا دور تک اثر ہوا، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ ان کی اصلاح کا دور تک اثر نہیں ہوا۔ درحقیقت، اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ فسادی اور گندے لوگوں نے اسے نافذ نہیں ہونے دیا۔

غیر برابری ایسی خطرناک چیز نہیں تھی، خیالی طور پر جنونی نے دلیل دی۔ اس نے مقابلہ آرائی اور انفرادی پہل کو فروغ دیا۔ اور ہمیں ان کی زیادہ ضرورت تھی۔

غیر برابری اب ہر اس بحث کا مرکز ہے، جو ہم انسانیت کے مستقبل پر کرتے ہیں۔ حکمراں یہ جانتے ہیں۔

گزشتہ ۲۰ برسوں سے، وہ اس خیال کی زبردست تنقید کر رہے ہیں کہ غیر برابری کا انسانیت کے مسائل سے کوئی لینا دینا ہے۔ اس ملینیم کی ابتدا میں، بروکنگس انسٹی ٹیوٹ نے سبھی کو غیر برابری پر مہلک بحث کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ کووڈ- ۱۹ کے دنیا بھر میں پھیلنے سے ۹۰ دن پہلے، دی اکنامسٹ میگزین، جسے نیو لبرل ازم کا پیش گو کہا جا سکتا ہے، نے کچھ پیشن گوئیاں کیں اور ایک تلخ مضمون لکھا:

اِن ایکویلیٹی اِلوژنس: وہائی ویلتھ اینڈ اِنکم گیپس آر ناٹ وہاٹ دے اپیئر (غیر برابری کا وہم: دولت اور آمدنی کے درمیان کا فرق ویسا کیوں نہیں ہے جیسا یہ نظر آتا ہے)

ٹارجن کے بعد سے سب سے مشہور آخری الفاظ میں بدل سکتا تھا – ’’کس نے اس بیل کو اتنا پھسلن بھرا بنایا؟‘‘

پھر یہ آمدنی اور دولت سے متعلق اعداد و شمار کی تنقید کرتا ہے، اس اعداد و شمار کے ذرائع پر سوال اٹھانے کی کوشش کرتا ہے؛ کہتا ہے کہ ’’پولرائزیشن، جھوٹی خبروں اور سوشل میڈیا کی اس دنیا میں بھی‘‘ ایسے مضحکہ خیز خیالات موجود ہیں۔

کووڈ- ۱۹ ہمارے سامنے ایک مستند آٹوپسی ہے، یہ نیولبرل جادوگروں کے تمام دعووں کو پوری طرح خارج کرتی ہے – پھر بھی ان کا نظریہ حاوی ہے، اور کارپوریٹ میڈیا پچھلے تین مہینے کی تباہ کاری کو سرمایہ داری سے کسی بھی طرح نہ جوڑنے کے طریقوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہے۔

وبا اور انسانیت کے ممکنہ خاتمہ پر بحث کرنے میں ہم سب سے آگے ہیں۔ لیکن نیو لبرل ازم اور سرمایہ داری کے خاتمہ پر بحث کرنے سے ہم کترا رہے ہیں۔

تلاش اس بات کی چل رہی ہے کہ ہم کتنی جلد اس مسئلہ پر قابو پا سکتے ہیں اور ’’معمول پر لوٹ سکتے ہیں۔‘‘ لیکن مسئلہ نارمل ہونے کے بارے میں نہیں ہے۔

پہلے جو ’نارمل‘ ہوا کرتا تھا، وہی مسئلہ ہے۔ (برسراقتدار طبقہ نئے جملہ ’نیا نارمل‘ کی تشریح کرنے میں لگا ہوا ہے)۔

Two roads to the moon? One a superhighway for the super-rich, another a dirt track service lane for the migrants who will trudge there to serve them
PHOTO • Satyaprakash Pandey
Two roads to the moon? One a superhighway for the super-rich, another a dirt track service lane for the migrants who will trudge there to serve them
PHOTO • Sudarshan Sakharkar

چاند تک پہنچنے کے لیے دو سڑکیں؟ ایک، دولت مند لوگوں کے لیے سپر ہائی وے اور دوسری، مہاجرین کے لیے گندگی سے بھرا راستہ جس پر چلتے ہوئے وہ ان کی خدمت کرنے پہنچیں گے

کووڈ سے پہلے کے نارمل – جنوری ۲۰۲۰ میں، ہم نے آکس فیم کی رپورٹ سے جانا کہ دنیا کے ۲۲ سب سے امیر مردوں کے پاس مجموعی طور پر افریقہ کی تمام عورتوں سے بھی زیادہ اثاثہ تھا۔

اور یہ کہ دنیا کے ۲۱۵۳ ارب پتیوں کے پاس اس سیارہ کی ۶۰ فیصد آبادی کے مجموعی اثاثہ سے زیادہ اثاثہ ہے۔

نیا نارمل: واشنگٹن ڈی سی کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے مطابق، امریکی ارب پتیوں نے ۱۹۹۰ میں اپنے پاس موجود کل رقم (۲۴۰ ارب ڈالر) کے مقابلے کووڈ وبا کے صرف تین ہفتوں میں اس سے کہیں زیادہ – ۲۸۲ ارب ڈالر – کمائے۔

ایک ایسا نارمل جہاں غذائی اجناس کی بہتات کے باوجود اربوں لوگ بھوکے رہنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستان میں، ۲۲ جولائی تک، سرکار کے پاس ۹۱ ملین میٹرک ٹن سے زیادہ غذائی اجناس کا ’سرپلس‘ یا بفر اسٹاک موجود تھا – اور دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے لوگ بھی یہیں رہ رہے تھے۔ نیا نارمل؟ سرکار اُس اناج میں سے بہت کم مفت میں تقسیم کرتی ہے، لیکن چاول کے وسیع ذخیرہ کو ایتھینال میں بدلنے – ہینڈ سینیٹائزر بنانے – کے لیے منظوری دے دیتی ہے۔

پرانا نارمل، جب ہمارے پاس تقریباً ۵۰ ملین ٹن ’سرپلس‘ اناج گوداموں میں پڑا تھا، تب پروفیسر جین ڈریز نے ۲۰۰۱ میں بہت بہتر طریقے سے سمجھایا تھا: اگر ہمارے پورے غذائی اجناس کو بورے میں بھر کر ’’ایک لائن میں لگا دیا جائے، تو وہ ایک لاکھ کلومیٹر تک پہنچ جائیں گے – جو کہ زمین سے چاند کی دوری کا دو گنا ہے۔‘‘ نیا نارمل – یہ مقدار جون کی شروعات میں ۱۰۴ ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ چاند تک پہنچنے کے لیے دو سڑکیں؟ ایک، دولت مندوں کے لیے سپر ہائی وے اور دوسری، مہاجرین کے لیے گندگی سے بھرا راستہ جس پر چلتے ہوئے وہ ان کی خدمت کرنے پہنچیں گے۔

’نارمل‘ ایک ایسا ہندوستان تھا جہاں ۱۹۹۱ سے ۲۰۱۱ کے درمیان، ۲۰ برسوں میں، ہر ۲۴ گھنٹے میں ۲ ہزار کسان کل وقتی کسان ہونے کے درجہ سے باہر نکل گئے تھے۔ دوسرے الفاظ میں، ملک میں کل وقتی کسانوں کی تعداد اس مدت میں ۱۵ ملین کم ہوگئی تھی۔

اس کے علاوہ: ۱۹۹۵ سے ۲۰۱۸ کے درمیان ۳ لاکھ ۱۵ ہزار کسانوں نے خودکشی کر لی، جیسا کہ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار (بہت ہی کم کرکے) بتاتے ہیں۔ لاکھوں لوگ یا تو زرعی مزدور بن گئے یا نوکریوں کی تلاش میں اپنے گاؤوں سے ہجرت کرنے لگے – کیوں کہ کئی متعلقہ کاروبار بھی ختم ہو گئے تھے۔

The ‘normal’ was an India where full-time farmers fell out of that status at the rate of 2,000 every 24 hours, for 20 years between 1991 and 2011. Where at least 315,000 farmers took their own lives between 1995 and 2018
PHOTO • P. Sainath
The ‘normal’ was an India where full-time farmers fell out of that status at the rate of 2,000 every 24 hours, for 20 years between 1991 and 2011. Where at least 315,000 farmers took their own lives between 1995 and 2018
PHOTO • P. Sainath

’نارمل‘ ایک ایسا ہندوستان تھا جہاں ۱۹۹۱ سے ۲۰۱۱ کے درمیان، ۲۰ برسوں میں، ہر ۲۴ گھنٹے میں ۲ ہزار کسان کل وقتی کسان ہونے کے درجے سے باہر ہو گئے تھے۔ جہاں ۱۹۹۵ سے ۲۰۱۸ کے درمیان کم از کم ۳ لاکھ ۱۵ ہزار کسانوں نے خودکشی کر لی

نیا نارمل: وزیر اعظم کے ذریعے ۱۳۰ کروڑ کی آبادی والے ملک کو مکمل لاک ڈاؤن کے لیے صرف چار گھنٹے کا نوٹس دینے کے بعد، لاکھوں مہاجر شہروں اور قصبوں سے اپنے گاؤں کی جانب لوٹنے لگے۔ کچھ لوگ ہزار کلومیٹر سے زیادہ پیدل چل کر اپنے گاؤوں تک پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے زندہ رہنے کے بہترین امکانات کا صحیح اندازہ لگایا۔ انہوں نے اتنا لمبا سفر مئی کے مہینہ میں ۴۳-۴۷ ڈگری سیلیس درجہ حرارت میں پورا کیا۔

نیا نارمل یہ ہے کہ لاکھوں لوگ معاش کے ان ذرائع کی تلاش میں واپس لوٹ رہے ہیں، جنہیں ہم نے گزشتہ تین دہائیوں میں برباد کر دیا تھا۔

اکیلے مئی کے مہینہ میں تقریباً ۱۰ ملین لوگ ٹرین سے لوٹے – وہ بھی تب، جب حکومت نے بڑی بے دلی سے اور لاک ڈاؤن کے ایک ماہ پورا ہونے کے بعد یہ ٹرینیں چلائیں۔ پہلے سے ہی پریشان اور بھوکے، ان مہاجروں کو حکومت کی ملکیت والی ریلوے کو پورا کرایہ دینا پڑا۔

نارمل ایک انتہائی پرائیویٹ ہیلتھ سروس کا شعبہ تھا، جو اتنا مہنگا تھا کہ سالوں تک، امریکہ میں انفرادی طور پر دیوالیہ ہونے کی سب سے بڑی تعداد طبی اخراجات سے آئی تھی۔ ہندوستان میں، اس دہائی میں طبی اخراجات کے سبب ایک سال میں ۵۵ ملین انسان خط افلاس سے نیچے آ گئے۔

نیا نارمل: طبی نگہداشت پر کارپوریٹ کا مزید کنٹرول۔ اور ہندوستان جیسے ممالک میں پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعے منافع خوری۔ جس میں کئی دیگر چیزوں کے علاوہ، کووڈ کے ٹیسٹ سے پیسہ کمانا بھی شامل ہے۔ اس سے پرائیویٹ کنٹرول مزید بڑھتا جا رہا ہے – جب کہ اسپین اور آئرلینڈ جیسے کچھ سرمایہ دار ممالک نے تمام پرائیویٹ طبی سہولیات کو قومی بنا دیا ہے۔ جیسے ۹۰ کی دہائی کی شروعات میں سویڈن نے تمام بینکوں کو نیشنلائز کر دیا تھا، عوامی فنڈ سے ان کی حالت کو بہتر کیا اور دوبارہ انہیں پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپ دیا۔ اسپین اور آئرلینڈ بھی طبی شعبہ کے ساتھ ایسا ہی کرنے والے ہیں۔

نارمل وہ قرض کا بوجھ تھا، افراد اور ممالک کا، جو بڑھتا ہی گیا، بڑھتا ہی گیا۔ اندازہ لگائیں کہ نیا نارمل کیا ہوگا؟

Left: Domestic violence was always ‘normal’ in millions of Indian households. Such violence has risen but is even more severely under-reported in lockdown conditions. Right: The normal was a media industry that fr decades didn’t give a damn for the migrants whose movements they were mesmerised by after March 25
PHOTO • Jigyasa Mishra
Left: Domestic violence was always ‘normal’ in millions of Indian households. Such violence has risen but is even more severely under-reported in lockdown conditions. Right: The normal was a media industry that fr decades didn’t give a damn for the migrants whose movements they were mesmerised by after March 25
PHOTO • Sudarshan Sakharkar

بائیں: لاکھوں ہندوستانی گھروں میں گھریلو تشدد ہمیشہ ’نارمل‘ تھا۔ اس قسم کے تشدد میں تیزی آئی ہے، لیکن لاک ڈاؤن کی حالت میں اسے بہت ہی کم کرکے رپورٹ کیا گیا۔ دائیں: نارمل وہ میڈیا انڈسٹری تھی، جس نے دہائیوں سے مہاجروں پر کوئی دھیان نہیں دیا، لیکن ۲۵ مارچ کے بعد انہیں پیدل چلتا ہوا دیکھ کر مسحور ہو گئی

کئی معنوں میں، ہندوستان میں یہ نیا نارمل نہیں، بلکہ پرانا نارمل ہے۔ روزمرہ کے برتاؤ میں، ہماری سوچ آج بھی ویسی ہی ہے کہ غریب ہی وائرس کے ذریعہ اور اسے یہاں وہاں لے جانے والے ہیں، ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے نہیں، جنہوں نے دو دہائی قبل اس وبائی مرض کو پوری دنیا میں پھیلایا تھا۔

لاکھوں ہندوستانی گھروں میں گھریلو تشدد ہمیشہ ’نارمل‘ تھا۔

نیا نارمل؟ کچھ ریاستوں کے مرد پولس سربراہ بھی اس قسم کے تشدد میں اضافہ کی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن اسے پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ کم کرکے رپورٹ کیا جا رہا ہے، کیوں کہ لاک ڈاؤن کے سبب ’مجرم [طویل عرصے کے لیے] گھر پر ہے‘۔

نئی دہلی کے لیے نارمل یہ تھا کہ اس نے بہت پہلے بیجنگ کو دنیا کی سب سے آلودہ راجدھانی والا شہر ہونے کی دوڑ میں شکست دے دی تھی۔ ہمارے حالیہ بحران کا خوش کن نتیجہ یہ ہے کہ دہلی میں آسمان آج کل جتنا صاف ہے اتنا گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں رہا، جہاں سب سے زیادہ گندی اور خطرناک صنعتی سرگرمی رک گئی ہے۔

نیا نارمل: صاف ہوا کے شور میں کمی۔ وبا کے دوران ہماری سرکار کے سب سے اہم قدموں میں سے ایک، ملک میں کوئلہ بلاکوں کی نیلامی اور پرائیویٹائزیشن کرنا تھا، تاکہ پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو سکے۔

یہ ہمیشہ سے نارمل تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی لفظ عوامی، یا سیاسی مباحثہ سے غائب رہا۔ حالانکہ انسانی ایجنسی کی قیادت والی ماحولیاتی تبدیلی نے بہت پہلے ہی ہندوستانی زراعت کو تباہ کر دیا ہے۔

نیا نارمل اسٹیرائڈ پر اکثر پرانا نارمل ہی ہے۔

ہندوستان میں ایک ریاست کے بعد دوسری ریاست میں، لیبر قانون کو منسوخ کر دیا گیا ہے یا ان کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ لیبر قانون کا سنہرا پیمانہ – ۸ گھنٹے کا دن – ان ریاستوں میں ختم کر دیا گیا ہے، جنہوں نے اسے بڑھا کر اب ۱۲ گھنٹے کا دن کر دیا ہے۔ کچھ ریاستوں میں، اس اضافی چار گھنٹے کے لیے اوورٹائم کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔ اتر پردیش نے منظم یا انفرادی مخالفت کے کسی بھی امکان کا گلا گھونٹنے کے لیے ۳۸ موجودہ لیبر قوانین کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔

ہینری فورڈ ۱۹۱۴ میں ۸ گھنٹے کے دن کو اپنانے والے شروعاتی سرمایہ داروں میں سے ایک تھے۔ فورڈ موٹر کمپنی نے اگلے دو برسوں میں تقریباً دو گنا منافع کمایا۔ ان اسمارٹ لوگوں نے پتا لگایا تھا کہ آٹھ گھنٹے کے بعد پیداواریت میں تیزی سے کمی آتی ہے۔ نیا نارمل: ہندوستانی سرمایہ دار، جو لازمی طور پر چاہتے ہیں کہ آرڈیننس کے ذریعے بندھوا مزدوری کا اعلان کر دیا جائے۔ ان کے پیچھے بڑے میڈیا ایڈیٹر آواز لگا رہے ہیں اور ہم سے ’’اچھے بحران کو برباد نہ کرنے‘‘ کی گزارش کر رہے ہیں۔ آخرکار، ہم نے ان کمینے ملازمین کو گھٹنوں کے بل جو جھکا دیا ہے، وہ دلیل دیتے ہیں۔ لاؤ، اب جونک کو ان کے اوپر چھوڑ دو۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر آپ نے ’لیبر ریفارم‘ نہیں کیا، تو یہ پاگل پن ہوگا۔

Millions of marginal farmers across the Third World shifted from food crops like paddy (left) to cash crops like cotton (right) over the past 3-4 decades, coaxed and coerced by Bank-Fund formulations. The old normal: deadly fluctuations in prices crippled them. New normal: Who will buy their crops of the ongoing season?
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha
Millions of marginal farmers across the Third World shifted from food crops like paddy (left) to cash crops like cotton (right) over the past 3-4 decades, coaxed and coerced by Bank-Fund formulations. The old normal: deadly fluctuations in prices crippled them. New normal: Who will buy their crops of the ongoing season?
PHOTO • Sudarshan Sakharkar

عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ظالمانہ طریقوں کی وجہ سے، تیسری دنیا کے لاکھوں غریب کسان گزشتہ ۳-۴ دہائیوں میں دھان (بائیں) جیسی غذائی فصلوں کو چھوڑ کر کپاس (دائیں) جیسی نقدی فصلوں کی طرف چلے گئے۔ پرانا نارمل: قیمتوں میں مہلک اتار چڑھاؤ نے انہیں اپاہج بنا دیا۔ نیا نارمل: جاری سیزن کی ان کی فصلیں کون خریدے گا؟

زراعت میں، ایک خوفناک حالت پیدا ہو رہی ہے۔ یاد رکھیں کہ تیسری دنیا کے لاکھوں چھوٹے اور غریب کسان گزشتہ ۳-۴ دہائیوں میں نقدی فصلوں کی طرف چلے گئے۔ اور انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے گٹھ جوڑ نے، جس نے انہیں سمجھایا کہ نقدی فصلوں کا ایکسپورٹ ہوتا ہے، ان کی ادائیگی ہارڈ کرنسی میں کی جاتی ہے – آپ کے ملک میں ڈالر آئے گا اور آپ کو غریبی سے آزاد کر دے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ نقدی فصل اگانے والے چھوٹے کسان، خاص کر کپاس کی کھیتی کرنے والوں کی تعداد خودکشی کرنے والے کسانوں میں سب سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ قرض میں ڈوبے ہوئے بھی یہی نقدی فصلوں کے کسان ہیں۔

اب تو اور بھی برا حال ہے۔ عام طور پر مارچ – اپریل کے آس پاس کاٹی جانے والی ربیع کی فصل یا تو بغیر فروخت ہوئے پڑی ہوئی ہے یا، اگر خراب ہونے والی ہے، تو لاک ڈاؤن کے سبب کھیتوں میں ہی سڑ چکی ہے۔ ہزاروں کوئنٹل کپاس، گنّا، اور دیگر فصلوں سمیت لاکھوں کوئنٹل نقدی فصلوں کا انبار کسانوں کے گھروں کی چھت پر لگا ہوا ہے (کم از کم کپاس کا)۔

پرانا نارمل: قیمتوں میں مہلک اتار چڑھاؤ نے ہندوستان اور تیسری دنیا کے نقدی فصل اگانے والے چھوٹے کسانوں کو اپاہج بنا دیا۔ نیا نارمل: جاری سیزن میں ان کی فصلیں کون خریدے گا جب کہ انہیں کاٹے ہوئے مہینوں گزر چکے ہیں؟

اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گتریز کے الفاظ میں، ’’ہم دوسری عالمی جنگ کے بعد سے سب سے سنگین عالمی مندی، اور ۱۸۷۰ کے بعد سے آمدنی میں زبردست کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘ عالمی سطح پر آمدنی اور کھپت میں بھاری کمی سے ہندوستان اچھوتا نہیں ہے اور اس سے نقدی فصل کے کسانوں کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ پچھلے سال، کپاس کے ایکسپورٹ کے لیے ہمارا سب سے بڑا بازار چین تھا۔ آج، چین کے ساتھ ہمارے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں میں اتنے برے کبھی نہیں رہے اور دونوں ملک مشکل میں ہیں۔ ہندوستان سمیت آج کئی ملکوں میں کپاس، گنّا، ونیلا اور دیگر نقدی فصلوں کا جو انبار پڑا ہوا ہے، اسے کون خریدے گا؟ اور کس قیمت پر؟

اور اب، جب کہ اتنی ساری زمین کو نقدی فصل کے حوالے کر دیا گیا ہے، اوپر سے خطرناک بے روزگاری ہے – ایسے میں اگر کھانے کی کمی ہوئی، تب آپ کیا کریں گے؟ گتریز آگاہ کرتے ہیں: ’’...ہمیں تاریخ کا خطرناک قحط دیکھنا پڑ سکتا ہے۔‘‘

A normal where billions lived in hunger in a world bursting with food. In India, as of July 22, we had over 91 million metric tons of foodgrain ‘surplus’ or buffer stocks lying with the government – and the highest numbers of the world’s hungry
PHOTO • Purusottam Thakur
A normal where billions lived in hunger in a world bursting with food. In India, as of July 22, we had over 91 million metric tons of foodgrain ‘surplus’ or buffer stocks lying with the government – and the highest numbers of the world’s hungry
PHOTO • Yashashwini & Ekta

ایک ایسا نارمل جہاں غذائی اجناس کا ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود اربوں لوگ بھوکے رہنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستان میں، ۲۲ جولائی تک، سرکار کے پاس ۹۱ ملین میٹرک ٹن سے زیادہ غذائی اجناس کا ’سرپلس‘ یا بفر اسٹاک موجود تھا – اور دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے لوگ بھی یہیں رہ رہے تھے

ایک اور بات جو گتریز نے کووڈ- ۱۹ کے بارے میں کہی: ’’یہ ہر جگہ کی غلط فہمیوں اور جھوٹ کو اجاگر کر رہا ہے: یہ جھوٹ کہ آزاد بازار سبھی کو طبی خدمات فراہم کر سکتا ہے؛ یہ تصور کہ بلا اجرت نگہداشت کام نہیں ہے۔‘‘

نارمل: ہندوستان کا اعلیٰ طبقہ انٹرنیٹ پر اپنی پیش رفت، سوفٹ ویئر سپر پاور کے طور پر ہماری پرواز، کرناٹک کے بنگلورو میں دنیا کی دوسری سپر سلیکان ویلی بنانے میں اپنی ذہانت و صلاحیت کے بارے میں ڈینگیں مارنا بند نہیں کر سکتا۔ (اور ویسے بھی، پہلی سلیکان ویلی کی تعمیر میں ہندوستانیوں کا ہی ہاتھ تھا)۔ یہ گھمنڈ تقریباً ۳۰ برسوں سے نارمل ہے۔

بنگلورو سے باہر نکل کر دیہی کرناٹک میں قدم رکھیں اور نیشنل سیمپل سروے کے ذریعے درج کیے گئے حقائق کو دیکھیں: سال ۲۰۱۸ میں دیہی کرناٹک کے صرف ۲ فیصد گھروں میں کمپیوٹر تھے۔ (اترپردیش، جس کا سب سے زیادہ مذاق اڑایا جاتا ہے، وہاں پر یہ تعداد ۴ فیصد تھی۔) دیہی کرناٹک کے محض ۸ء۳ فیصد گھروں میں ہی انٹرنیٹ کی سہولت تھی۔ اور دیہی کرناٹک میں ۳۷ء۴ ملین انسان، یا ریاست کی ۶۱ فیصد آبادی رہتی ہے – جب کہ بنگلورو، یعنی دوسری سلیکان ویلی میں تقریباً ۱۴ فیصد۔

نیا نارمل یہ ہے کہ کارپوریٹ کمپنیاں ’آن لائن تعلیم‘ پر زور دے رہی ہیں تاکہ اربوں روپے کما سکیں۔ وہ پہلے سے ہی دولت مند تھے – لیکن اب بہت آسانی سے اپنے اثاثہ کو دوگنا کر لیں گے۔ سماج، ذات، طبقہ، صنف اور علاقہ کی بنیاد پر جو لوگ پہلے سے ہی محروم تھے، اب اس وبا نے اسے جائز کر دیا ہے (بچوں کو سیکھنے سے نہیں روک سکتے، ٹھیک ہے؟)۔ سب سے امیر ریاست، مہاراشٹر سمیت ہندوستان کے دیہی علاقوں میں کہیں بھی جاکر دیکھ لیجئے کہ کتنے بچوں کے پاس اسمارٹ فون ہے، جن پر وہ اپنا پی ڈی ایف ’سبق‘ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اصل میں کتنے لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے – اور اگر ہے، تو انہوں نے آخری بار اس کا استعمال کب کیا تھا؟

اس پر بھی غور کریں: کتنی لڑکیاں اسکول سے باہر ہو رہی ہیں کیوں کہ ان کے دیوالیہ، نو بے روزگار والدین ان کی فیس نہیں دے پا رہے ہیں؟ مالی تنگی کے دوران لڑکیوں کو اسکول سے باہر نکالنا بھی پرانا نارمل تھا، اب لاک ڈاؤن کے سبب اس میں کافی تیزی آئی ہے۔

Stop anywhere in the Indian countryside and see how many children own smartphones on which they can download their pdf ‘lessons’. How many actually have access to the net – and if they do, when did they last use it? Still, the new normal is that corporations are pushing for ‘online education'
PHOTO • Parth M.N.
Stop anywhere in the Indian countryside and see how many children own smartphones on which they can download their pdf ‘lessons’. How many actually have access to the net – and if they do, when did they last use it? Still, the new normal is that corporations are pushing for ‘online education'
PHOTO • Yogesh Pawar

ہندوستان کے دیہی علاقوں میں کہیں بھی جاکر دیکھ لیجئے کہ کتنے بچوں کے پاس اسمارٹ فون ہے، جن پر وہ اپنا پی ڈی ایف ’سبق‘ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اصل میں کتنے لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے – اور اگر ہے، تو انہوں نے آخری بار اس کا استعمال کب کیا تھا؟ پھر بھی، کارپوریٹ کمپنیاں ’آن لائن تعلیم‘ پر زور دے رہی ہیں

موجودہ وبا سے پہلے نارمل وہ ہندوستان تھا، جسے سماجی و اقتصادی سخت گیروں اور اقتصادی بازار کے سخت گیروں کے گٹھ جوڑ سے چلایا جا رہا تھا – شادی کے بعد خوشحال ساتھی کارپوریٹ میڈیا نامی بستر پر مزے لوٹ رہے تھے۔ کئی لیڈر نظریاتی طور پر دونوں خیموں میں خوشی محسوس کر رہے تھے۔

نارمل ۲ ٹریلین روپے کی میڈیا (اور تفریحی) صنعت تھی جس نے دہائیوں سے مہاجرین کے اوپر کوئی دھیان نہیں دیا، لیکن ۲۵ مارچ کے بعد انہیں پیدل چلتا ہوا دیکھ مسحور و حیران ہو گیا۔ کسی بھی ’قومی‘ اخبار یا چینل کے پاس کل وقتی لیبر نامہ نگار نہیں تھے، نہ ہی کل وقتی کاشت کاری کے نامہ نگار (مزاحیہ طور پر کہے جانے والے ’زرعی نامہ نگار‘ کے برعکس، جس کا کام وزارت زراعت اور، تیزی سے، زرعی کاروبار کو کور کرنا ہے)۔ ان دونوں کے لیے کل وقتی بیٹ موجود نہیں تھی۔ بالفاظِ دیگر، ۷۵ فیصد لوگ خبروں سے غائب تھے۔

۲۵ مارچ کے بعد کئی ہفتوں تک، اینکروں اور ایڈیٹروں نے اس موضوع کے جانکار ہونے کا ناٹک کیا، بھلے ہی کسی مہاجر مزدور سے کبھی ان کی ملاقات نہ ہوئی ہو۔ حالانکہ، کچھ لوگوں نے معذرت کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ہمیں میڈیا میں ان کی کہانیوں کو بہتر طریقے سے بتانے کی ضرورت تھی۔ ٹھیک اسی وقت، کارپوریٹ مالکوں نے ۱۰۰۰ سے زیادہ صحافیوں اور میڈیا کے ملازمین کو نوکری سے نکال دیا – تاکہ مہاجروں کے بارے میں کسی بھی گہرائی اور استحکام کے ساتھ کور کرنے کا ایک بھی موقع باقی نہ رہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کی چھٹنی کا منصوبہ کووڈ وبا سے کافی پہلے سے ہی بنایا جا رہا تھا۔ اور یہ سب ان میڈیا کمپنیوں کے ذریعے کیا گیا، جو سب سے زیادہ منافع کما رہی ہیں – جن کے پاس نقدی کا بڑا ذخیرہ ہے۔

اب چاہے اس نارمل کا جو بھی نام ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا، سبھی بدبودار ہیں۔

اب ایک آدمی ہے، جو شاذ و نادر ٹی وی ریالٹی شو پر ملک کو چلا رہا ہے۔ اور، باقی سارے چینل اپنی تعریف میں کہی گئی انہی باتوں کو اکثر اپنے پرائم ٹائم میں چلاتے ہیں۔ کابینہ، سرکار، پارلیمنٹ، عدالتیں، اسمبلی، اپوزیشن پارٹی، ان سب کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ ہماری تکنیکی مہارت ہمیں پارلیمنٹ کے ایک بھی اجلاس کا ایک بھی دن انعقاد کرنے کے قابل نہیں بنا پایا۔ نہیں۔ تقریباً ۱۴۰ دنوں کے لاک ڈاؤن میں – کوئی ورچوول، آن لائن، ٹیلی وائزڈ پارلیمنٹ نہیں۔ دیگر ممالک نے بڑی آسانی سے ایسا کیا ہے، جب کہ ان کے پاس ہمارے جیسی تیز طرار تکنیکی صلاحیت والا دماغ بھی نہیں ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ یوروپی ممالک میں، سرکاریں فلاحی ریاست کے ان عناصر کو بے دلی سے یا جزوی طور پر دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں، جنہیں تباہ کرنے میں انہوں نے چار دہائیاں لگا دیں۔ ہندوستان میں، ہمارے بازار کے ڈاکٹروں کا خون چوسنے والا عہد وسطیٰ کا نظریہ آج بھی حاوی ہے۔ لوٹنے اور جھپٹنے کے لیے جونک باہر آ چکی ہیں۔ ابھی انہوں نے غریبوں کا خون زیادہ نہیں چوسا ہے۔ ان کیڑوں کو وہی کام کرنا چاہیے جس کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے۔

ترقی پسند تحریکیں کیا کر رہی ہیں؟ انہوں نے پرانے نارمل کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ لیکن ان کے پاس واپس جانے کے لیے ایسا کچھ ضرور ہے، جو کہ پرانا ہے – انصاف، برابری، اور باوقار زندگی کے حق کے لیے جدوجہد کے ساتھ ساتھ اس سیارہ کا تحفظ۔

’شمولیتی ترقی،‘ ایک مردہ جونک ہے جسے آپ دوبارہ زندہ نہیں کرنا چاہتے۔ ڈھانچہ ہے انصاف، ہدف ہے غیر برابری کو ختم کرنا۔ اور طریقہ – مختلف قسم کے راستے ہیں، کچھ پہلے سے ہی موجود ہیں، کچھ کا پتا لگانا ابھی باقی ہے، کچھ کو چھوڑ دیا گیا ہے – لیکن ہم سبھی کو اسی طریقے پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

It was always normal that the words climate change were largely absent in public, or political, discourse. Though human agency-led climate change has long devastated Indian agriculture. The new normal: cut the clean air cacophony
PHOTO • Chitrangada Choudhury
It was always normal that the words climate change were largely absent in public, or political, discourse. Though human agency-led climate change has long devastated Indian agriculture. The new normal: cut the clean air cacophony
PHOTO • P. Sainath

یہ ہمیشہ سے نارمل تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی لفظ عوامی، یا سیاسی مباحثہ سے غائب رہا۔ حالانکہ انسانی ایجنسی کی قیادت والی ماحولیاتی تبدیلی نے بہت پہلے ہی ہندوستانی زراعت کو تباہ کر دیا ہے۔ نیا نارمل: صاف ہوا کے شور میں کمی

مثال کے طور پر، اگر کسانوں اور زرعی مزدوروں کی تحریکوں کو ماحولیاتی تبدیلی (جس نے ہندوستان میں زراعت کو پہلے ہی تباہ کر دیا ہے) سے پیدا شدہ مسائل کا احساس نہیں ہوتا ہے، یا اگر وہ زرعی-ایکولوجیکل نقطہ نظر کے ساتھ اپنی خود کی لڑائیوں کو نہیں جوڑتے ہیں، تو وہ ایک بڑے بحران کا شکار ہونے والے ہیں۔ لیبر تحریکوں کو کیک کے ایک بڑے ٹکڑے کے لیے نہ صرف لڑنے کی ضرورت ہے، بلکہ بیکری کا مالکانہ حق حاصل کرنے کے لیے اپنی پرانی غیر معمولی کوششوں کو بھی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

کچھ ہدف واضح ہیں: مثال کے طور پر، تیسری دنیا کے قرض کو ردّ کرنا۔ ہندوستان میں، ہماری اپنی چوتھی دنیا کے قرض سے چھٹکارہ پانا ہے۔

کارپوریٹ کی اجارہ داری کو ختم کریں۔ اس کی شروعات، انہیں صحت، غذا اور زراعت، اور تعلیم سے پوری طرح ہٹانے سے کریں۔

وسائل کی انقلابی طریقے سے باز تقسیم کے لیے ریاستوں پر دباؤ بنانے کے لیے تحریکیں: سرمایہ پر ٹیکس، بھلے ہی یہ سرفہرست ایک فیصد کے لیے ہو۔ ملٹی نیشنل کارپوریشنز پر ٹیکس، جو تقریباً کوئی ٹیکس نہیں ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس کے ان نظاموں کی بحالی اور اس میں اصلاح جنہیں بہت سے ملکوں نے کئی دہائیوں قبل بہت تیزی سے برباد کر دیا تھا۔

صرف عوامی تحریکیں ہی ملکوں کو صحت اور تعلیم میں قومی سطح پر ملک گیر نظام کی تعمیر کرنے کے لیے مجبور کر سکتی ہیں۔ ہمیں صحت کے لیے انصاف، غذا کے لیے انصاف وغیرہ کے لیے لوگوں کی تحریکوں کی ضرورت ہے – کچھ حوصلہ افزا پہلے سے موجود ہیں، لیکن کارپوریٹ میڈیا کے کوریج میں حاشیہ پر ہیں۔

ہمیں، یہاں اور دنیا بھر میں، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے ان حقوق پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جسے کارپوریٹ میڈیا نے عوامی مباحثہ سے غائب کر دیا ہے۔ جیسے کہ آرٹیکل ۲۳-۲۸، جس میں شامل ہے ’ٹریڈ یونین بنانے اور اس میں شامل ہونے کا حق‘، کام کرنے کا حق، یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ، اجرت پانے کا حق، جو باوقار زندگی اور صحت کو یقینی بناتا ہے – اور بھی بہت کچھ۔

ہمارے ملک میں، ہمیں ہندوستانی آئین کے ریاستی پالیسی کے رہنما اصول کی تشہیر کرنے کی ضرورت ہے – جس میں کام کا حق، تعلیم کا حق، غذا کا حق وغیرہ شامل ہیں – جو مبنی بر انصاف اور قابل نفاذ ہیں۔ یہ آئین کی روح ہیں جو ہندوستان کی جدوجہد آزادی سے آئی تھی۔ گزشتہ ۳۰-۴۰ برسوں میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک سے زیادہ فیصلوں میں کہا ہے کہ رہنما اصول اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ بنیادی حقوق۔

PHOTO • Labani Jangi

خاکہ نگاری (اوپر اور کور): لبنی جنگی بنیادی طور پر مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبہ کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں

لوگ کسی بھی انفرادی منشور کے مقابلے اپنے آئین اور جدوجہد آزادی کی وراثت کے ساتھ زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔

گزشتہ ۳۰ برسوں میں، ہندوستان کی ہر ایک حکومت نے ان اصولوں اور حقوق کی روزانہ خلاف ورزی کی ہے – کیوں کہ اخلاقی قدریں مٹا دی گئی ہیں اور بازار کو تھوپ دیا گیا ہے۔ ’ترقی‘ کا پورا راستہ لوگوں کے اخراج، ان کی وابستگی، حصہ داری اور کنٹرول کے اخراج پر مبنی تھا۔

لوگوں کی حصہ داری کے بغیر، مستقبل کی آفات کو چھوڑ دیجئے، آپ موجودہ وبا سے بھی نہیں لڑ سکتے۔ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں کیرالہ کی کامیابی مقامی کمیٹیوں میں مقامی لوگوں کے شامل ہونے، سستے کھانے کی سپلائی کرنے والے باورچی خانہ کے نیٹ ورک کی تعمیر میں شامل ہونے پر مبنی ہے؛ رابطہ کرنا، پتا لگانا، الگ تھلگ کرنا اور کنٹرول – یہ سب اس ریاست میں لوگوں کی حصہ داری کے سبب ممکن ہو پایا۔ اس وبا اور اس سے آگے کے خطرات سے کیسے نمٹا جائے، اس کے لیے یہاں ایک بڑا سبق ہے۔

ہر ترقی پسند تحریک کی بنیاد ہے انصاف اور برابری پر یقین۔ ہندوستانی آئین میں – ’انصاف، سماجی، اقتصادی اور سیاسی...‘، جس میں، ہمارے دور میں، جنسی انصاف اور ماحولیاتی انصاف کو بھی جوڑا جانا چاہیے۔ آئین نے تسلیم کیا ہے کہ کون اس انصاف اور برابری کو لا سکتا ہے۔ بازار نہیں، کارپوریٹ کمپنیاں نہیں، بلکہ ’ہم ہندوستان کے لوگ‘۔

لیکن سبھی ترقی پسند تحریکوں کے اندر ایک اور ہمہ گیر یقین ہے کہ دنیا ایک تیار مال نہیں، بلکہ کام جاری ہے – جس میں کئی ناکامیاں اور بہت سارے ادھورے ایجنڈے ہیں۔

جیسا کہ عظیم مجاہد آزادی کیپٹن بھاؤ – جو اس سال جون میں ۷۰ سال کے ہو گئے – نے ایک بار مجھ سے کہا تھا۔ ’’ہم مختاری اور آزادی کے لیے لڑے۔ ہمیں مختاری ملی۔‘‘

آج جب کہ ہم اس مختاری کا ۷۳واں سال پورا کرنے جار ہے ہیں، ہمارے لیے آزادی کے اس ادھورے ایجنڈے کے لیے لڑنا بامعنی ہوگا۔

یہ مضمون پہلی بار فرنٹ لائن میگزین میں شائع ہوا تھا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath