ناد سُوَرَم ایک نہایت ہی پیچیدہ اور پرانا موسیقی آلہ ہے، جو کہ ۱۳ویں صدی سے لے کر آج تک اپنی موجودہ شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ ناد سُوَرَم شمالی ہندوستان کے متعدد معاشروں کی ثقافت کا ایک نہایت اہم حصہ ہیں اور اس ساز کو شادیوں میں، مندروں میں اور تہواروں کے موقع پر اکثر و بیشتر بجایا جاتا ہے۔ نادسورم بنانا نہایت مہارت والا اور نازک کام ہے؛ اسے روایتی طور پر بنانے والے پورے ساز کو ہاتھ سے بناتے ہیں۔

اس ساز کو بنانے والے چند استاد کاریگر نرسنگھا پیٹئی میں رہتے ہیں، اور یہاں پر کئی گھرانے ایسے ہیں، جن کے یہاں یہ ہنر نسلوں سے چلا آ رہا ہے۔

مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں: نرسنگھا پیٹئی کے ناد سورم بنانے والے

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Aparna Karthikeyan
[email protected]

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔

Other stories by Aparna Karthikeyan