ناد سُوَرَم ایک نہایت ہی پیچیدہ اور پرانا موسیقی آلہ ہے، جو کہ ۱۳ویں صدی سے لے کر آج تک اپنی موجودہ شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ ناد سُوَرَم شمالی ہندوستان کے متعدد معاشروں کی ثقافت کا ایک نہایت اہم حصہ ہیں اور اس ساز کو شادیوں میں، مندروں میں اور تہواروں کے موقع پر اکثر و بیشتر بجایا جاتا ہے۔ نادسورم بنانا نہایت مہارت والا اور نازک کام ہے؛ اسے روایتی طور پر بنانے والے پورے ساز کو ہاتھ سے بناتے ہیں۔

اس ساز کو بنانے والے چند استاد کاریگر نرسنگھا پیٹئی میں رہتے ہیں، اور یہاں پر کئی گھرانے ایسے ہیں، جن کے یہاں یہ ہنر نسلوں سے چلا آ رہا ہے۔

مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں: نرسنگھا پیٹئی کے ناد سورم بنانے والے

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Aparna Karthikeyan

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔

Other stories by Aparna Karthikeyan