تقریباً 20 جوان لڑکیاں اور عورتیں صبح کے 11 بجے، کِلاّبندر کے داخلی دروازہ کے ٹھیک باہر موجود کوئیں پر جمع ہو چکی ہیں۔ ’’اس کوئیں میں (گرمیوں میں) صرف تھوڑا سا پانی بچا ہے۔ ایک کَلشی (دھات کے گھڑے) کو بھرنے میں ہمیں آدھا گھنٹہ لگ گیا،‘‘ نیلم مان بھات بتاتی ہیں، جو اسی گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ کِلّا بندر، ممبئی شہر سے شمال کی جانب، وَسَئی قلعہ سے ملحق، ماہی گیروں کا ایک ساحلی گاؤں ہے۔

کوئیں پر جمع عورتوں اور لڑکیوں کے لیے، جن میں سے کچھ چار سال کی بھی ہیں، پانی اکٹھا کرنے کے لیے گھنٹوں صرف کرنا روز کی حقیقت ہے۔ عوامی زمین پر بنا یہ کواں اس گاؤں کے قریب واقع پینے کے پانی کا واحد ذریعہ ہے۔ یہاں کی عورتوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کی طرف سے پانی کی سپلائی کبھی کبھار اور کم ہوتی ہے۔ کلا بندر کے زیادہ تر گھرانے چونکہ اسی کوئیں پر منحصر ہیں، اس لیے یہ پانی بھی ناکافی ہوتا ہے، خاص کر گرمیوں میں۔ عورتوں اور لڑکیوں کو ایک طرح سے کوئیں کے فرش سے پانی سمیٹنا پڑتا ہے۔

پال گھر ضلع کا وسئی تعلقہ 600 مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے، اور اس شہر کی کل آبادی تقریباً 13 لاکھ (2011 کی مردم شماری کے مطابق) ہے۔ وسئی وِرار سٹی میونسپل کارپوریشن کو اصولی طور پر اس علاقے کے دو شہروں، اور سو کے قریب گاؤوں اور بستیوں کے لیے مناسب مقدار میں پانی کا انتظام کرنا چاہیے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر رہا ہے۔

کِلّا بندر کے رہائشی اس بات سے خفا ہیں کہ ایک طرف جہاں انھیں اب بھی کوؤں اور ٹینکروں پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے، پال گھر ضلع کا پانی ممبئی میٹروپولیٹن خطہ کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ ’’ان کو یہ نہیں کرنا پڑتا،‘‘ پریہ گھاٹیا میری طرف اشارہ کرکے ایک دوسری عورت سے کہتی ہیں۔ اس کے بعد وہ میری طرف گھوم کر کہتی ہیں، ’’آپ کے پاس ضرور (کپڑا دھونے والی) مشین ہوگی۔ آپ کو یہ نہیں کرنا پڑتا ہوگا۔ ہمیں پانی نہیں ملتا، تمہیں ملتا ہے۔‘‘

تقریباً 109 ایکڑ میں پھیلے وسئی قلعہ کے ارد گرد 75 سے زیادہ کوئیں ہیں۔ قلعہ میں تعینات آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے کنزرویشن اسسٹنٹ انچارج، کیلاش شندے نے بتایا، ’’ان میں سے زیادہ تر خالی ہیں۔ صرف 6-5 کوئیں ہی کام کر رہے ہیں۔‘‘

PHOTO • Samyukta Shastri

شِلپا علی باغ (بائیں) اور جوسفین مستان (دائیں) وِسئی قلعہ کے بالے کِلّا حصہ کے اندر بنے کوئیں پر کپڑے دھو رہی ہیں۔ یہ کپڑے کے ایک بڑے گٹھر، ڈِٹرجینٹ، اور پلاسٹک کے ڈبے کے ساتھ یہاں آئی ہیں۔ ان ڈبوں کا اوپری حصہ کٹا ہوا ہے اور اس میں رسی بندھی ہوئی ہے، تاکہ اس سے کوئیں سے پانی اوپر کھینچا جا سکے۔ ’’اپنے دوسرے کاموں کو پورا کرنے کے بعد ہم یہاں روزانہ آتے ہیں... ہاں، روزانہ۔ ہمیں کوئی چھٹی نہیں ملتی!‘‘ شلپا ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔

PHOTO • Samyukta Shastri

پاس کے ایک دوسرے کوئیں پر بھی، عورتیں اور جوان لڑکیاں ایسے ہی پلاسٹک کے ڈبوں کا استعمال کرکے کوئیں سے پانی نکالتی ہیں اور پھر انھیں اسٹین لیس اسٹیل یا پیتل کی کلشی (گھڑے) میں انڈیلتی ہیں۔ اس کوئیں کو 16ویں صدی کے اس قلعہ کی تعمیر کے وقت ہی بنایا گیا تھا۔

PHOTO • Samyukta Shastri

’’یہ کواں 400 سال پرانا ہے۔ جب اسے مرمت کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم اس کے لیے پیسے جمع کرتے ہیں،‘‘ ریجینا جنگلی بتاتی ہیں، جو اپنی مچھلی کی ٹوکری پر بیٹھی ہوئی کوئیں کے قریب واقع بس اسٹاپ پر انتظار کر رہی ہیں۔ ’’گاؤں میں متعدد جگہوں پر نل لگے ہوئے ہیں، لیکن بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ (میونسپل کا) پانی صرف ڈیڑھ گھنٹے کے لیے آتا ہے، وہ بھی ایک دن چھوڑ کر۔ اور انھیں اس بات کی بھی پروا نہیں ہے کہ وہ کم از کم جاکر یہ دیکھ لیں کہ گاؤں کی ٹنکی بھری ہے یا نہیں،‘‘ نیلم مان بھات اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

PHOTO • Samyukta Shastri

لہٰذا، فیملی کی ضروریات کے مطابق روزانہ پانی بھرنے میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں۔ کچھ عورتیں رات کے اندھیرے میں ہی کوئیں پر جمع ہو جاتی ہیں تاکہ انھیں ان کے حصہ کا پانی مل سکے – اور پھر اپنے سروں پر بھاری گھڑے رکھ کر گھروں کو واپس لوٹتی ہیں۔ ان گھڑوں اور مختلف سائز کے ہر ایک ڈبوں میں 5 سے 15 لیٹر تک پانی بھرا ہو سکتا ہے؛ بڑے ڈبے میں تو 50 لیٹر تک پانی بھرا جا سکتا ہے۔

PHOTO • Samyukta Shastri

’’ہم صبح میں دو بجے اٹھ کر پانی بھرتے ہیں۔ تب یہاں بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ آخر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں پانی کی ضرورت ہے،‘‘ سنیتا موجھیس ایٹور (بائیں) کہتی ہیں۔ ’’آپ کو پانی مل جائے گا؛ مجھے نہیں۔ کچھ کو ملے گا؛ کچھ کو نہیں۔ میونسپل کے پانی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہم نے کئی سالوں سے کنکشن لے رکھا ہے پھر بھی پانی آج تک نہیں آیا۔‘‘

آپس میں بھابھی اور نند اویتا اور پریسلا پکیا خوش قسمت ہیں کہ ان کے گھروں میں لگی پائپ میں پانی آتا ہے۔ ’’ہمیں صرف پینے کے لیے (کوئیں سے) پانی چاہیے،‘‘ پریسلا کہتی ہیں۔ ’’ہم میونسپل کا پانی نہیں پیتے۔‘‘ اتنا پانی جمع کرنے کے لیے بھی کوئیں پر کافی مشقت کرنی پڑتی ہے۔ ’’پانی اتنا کم ہے کہ دو ہانڈیوں (کو بھرنے) میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں اور اپنے ہاتھوں کے اشارے سے برتن کا سائز بتاتی ہیں۔

کوئیں سے پانی چونکہ چوبیسوں گھنٹے نکالا جاتا ہے، اس لیے زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کا بہت کم وقت ملتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ باہر نکالا گیا پانی کیچڑ سے بھرا ہوتا ہے، جس میں چھوٹے چھوٹے کنکر ہوتے ہیں۔ تب لڑکیاں اس پانی کو گھر لے جانے والی ہانڈیوں (دائیں) میں بھرتے وقت چھانتی ہیں۔

PHOTO • Samyukta Shastri

پاس کے ایک دوسرے کوئیں پر، کچھ عورتیں کپڑے دھو رہی ہیں۔ اس سال شدید گرمی کے دوران، کواں تیزی سے سوکھنے لگا۔ جوان لڑکیاں نہ صرف پانی بھرنے میں اپنی ماؤں کی مدد کرتی ہیں، بلکہ گھر کے دوسرے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتی ہیں۔ ’’وہ جب ڈھائی سال کی تھی تب سے کپڑے دھو رہی ہے،‘‘ پریہ گھاٹیا فخر سے اپنی بیٹی نیریسا کے بارے میں کہتی ہیں۔ ’’دیکھو وہ کیسے اپنے سارے کپڑے دھو رہی ہے۔ جولائی میں وہ چار سال کی ہو جائے گی۔‘‘

PHOTO • Samyukta Shastri

نیریسا اکیلی بچی نہیں ہے جو یہاں کام کر رہی ہے۔ پانی کی ضرورت کئی گھروں کے سب سے چھوٹے رکن – جو زیادہ تر لڑکیاں ہی ہوتی ہیں – روزانہ کی اس محنت کی طرف دھکیلتی ہے۔

PHOTO • Samyukta Shastri

چوتھی کلاس کی طالبہ، وَنیسا اور اس کی دوست ثانیہ کلا بندر کے کوئیں پر ہر صبح کو آتی ہیں۔ ’’میں صبح میں 7 بجے اُٹھ جاتی ہوں،‘‘ 11 سال کی ثانیہ بھیما واگھری بتاتی ہے۔ ’’میں صبح 10 سے 10.30 تک پانی بھرتی ہوں، اس کے بعد دوپہر کو اسکول جاتی ہوں۔‘‘ ثانیہ اپنے والدین، ایک بڑی بہن اور تین چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے والدین کام کرنے باہر چلے جاتے ہیں – اس کی ماں کپڑے بیچتی ہیں، والد مچھلی کا کام کرتے ہیں – اس کی بہن، جو کہ اس سے ایک سال بڑی ہے، فیملی کے لیے کھانا بناتی ہے، جب کہ ثانیہ پانی بھرتی ہے۔ اس کا گھر کِلّا بندر گاؤں کے کافی اندر ہے، جہاں سے کوئیں تک اسے کئی چکر لگانے پڑتے ہیں۔ لیکن وہ ایک بار میں دو ہی برتن پانی لا سکتی ہے۔ اوپر کی تصویر میں جو ٹھیلہ دکھائی دے رہا ہے، اسے کچھ گھرانوں نے پانی لانے کے لیے کرایے پر لیا ہے؛ لیکن یہ ثانیہ کی فیملی کا نہیں ہے۔

PHOTO • Samyukta Shastri

کچھ گھرانے ایسے بھی ہیں، جو روزانہ کی سپلائی سے زیادہ پانی جمع کر لیتے ہیں۔ اس پانی کو وہ ایک بڑے، نیلے رنگ کے پلاسٹک کے ڈبے میں جمع کرتے ہیں۔ جس فیملی کے یہ ڈبے ہیں، اس کا نام اس قسم کے ہر ایک ڈبے پر لکھا ہوا ہے۔ یہ ڈبے کوئیں پر تب تک پڑے رہتے ہیں، جب تک کہ انھیں کوئی آٹورکشہ میں نہ لے کر جائے۔

PHOTO • Samyukta Shastri

’’اب ہمیں بھوک لگ رہی ہے۔ اس لیے ہم کھانے کے لیے اپنے گھر جا رہے ہیں۔ ہم بعد میں واپس لوٹیں گے،‘‘ ونیسا مجھ سے کہتی ہے، اور تیزی سے اپنے گھر کی طرف جانے والی ایک پتلی گلی میں غائب ہوجاتی ہے۔ میں ثانیہ کے پیچھے پیچھے اس کے گھر تک جاتی ہوں۔ وہ پہلی منزل پر رہتی ہے اور جب وہ پانی سے بھرے ہوئے اسٹیل کے گھڑوں کے ساتھ دوڑتے ہوئے سیڑھیوں سے اوپر چڑھتی ہے، تو پانی ایک بوند بھی نہیں گرتا۔

تصویریں: سمیُکتا شاستری

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Samyukta Shastri

سَمیُکتا شاستری پیپلز آرکائیو آف رورول انڈیا کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔ ان کے پاس سمبایوسِس سنٹر فار میڈیا اینڈ کمیونی کیشن، پُنے سے میڈیا اسٹڈیز کی بیچلر ڈگری، اور ایس این ڈی ٹی ویمنس یونیورسٹی، ممبئی سے انگریزی ادب میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔

Other stories by Samyukta Shastri