مینا اُس رات سو نہیں پائیں۔ بارش کا پانی ان کے گھر میں داخل ہو گیا تھا۔ کمزور ترپال موسلا دھار بارش میں ٹک نہیں سکا اور منٹوں میں ہی ٹوٹ گیا۔ مینا اور ان کی فیملی کو بھاگ کر ایک بند دکان کے سامنے پناہ لینی پڑی۔

’’ہم پوری رات [جولائی کی ابتدا میں] وہیں بیٹھے رہے، جب تک کہ بارش رک نہیں گئی،‘‘ وہ دوپہر میں مین روڈ کے کنارے ایک سفید پرنٹیڈ چادر پر آرام کرتے ہوئے گزارتی ہیں، ان کی دو سال کی بیٹی شمع ان کے بغل میں سو رہی ہے۔

اس موسلا دھار بارش کے بعد، مینا واپس آئیں اور اپنی رہائش گاہ کو دوبارہ ٹھیک کیا۔ تب تک ان کے کئی سامان – برتن، اناج، اسکول کی کتابیں – پانی میں بہہ چکے تھے۔

’’ہمارے پاس جو ماسک تھے، وہ بھی بہہ گئے،‘‘ مینا کہتی ہیں۔ ہرے کپڑے کے یہ ماسک انہیں لاک ڈاؤن کے ابتدائی دنوں میں رضاکاروں نے دیے تھے۔ ’’اگر ہم ماسک پہنیں، تو اس سے کیا فرق پڑنے والا ہے؟‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہم پہلے سے ہی مردہ انسانوں کی طرح ہیں، اس لیے کورونا سے اگر ہمیں کچھ ہوجائے تو کس کو ہماری پرواہ ہے؟‘‘

مینا (جو صرف اپنا پہلا نام استعمال کرتی ہیں) اور ان کی فیملی – شوہر اور چار بچے – اپنے سامان کو بہتا ہوا دیکھنے کے عادی ہیں۔ اس مانسون کی شروعات کے بعد سے ایسا ایک سے زیادہ بار ہو چکا ہے اور یہ ہر سال ہوتا ہے – موسلا دھار بارش شمالی ممبئی کے کاندیولی مشرق میں ایک فٹ پاتھ پر بنی ان کی جھونپڑی کو توڑ دیتی ہے۔

لیکن پچھلے سال تک، جب بھاری بارش ہوتی تھی، تو یہ فیملی بھاگ کر آس پاس کے تعمیراتی مقامات پر پناہ لے سکتی تھی۔ اب یہ بند ہو گیا ہے۔ مینا، جن کی عمر تقریباً ۳۰ سال ہے، کہتی ہیں، ’’ہمیں اس بارش کی عادت پڑ چکی ہے، لیکن اس بار، کورونا نے ہمارے لیے مشکل کھڑی کر دی ہے۔ ہم ان عمارتوں میں جاتے اور انتظار کرتے تھے۔ چوکیدار ہمیں جانتے تھے۔ دکاندار بھی ہمیں دوپہر کے وقت اپنی دکانوں کے باہر بیٹھنے دیتے تھے۔ لیکن اب وہ ہمیں اپنے آس پاس چلنے بھی نہیں دیتے۔‘‘

During the lockdown, Meena and her family – including her daughter Sangeeta and son Ashant – remained on the pavement, despite heavy rains
PHOTO • Aakanksha
During the lockdown, Meena and her family – including her daughter Sangeeta and son Ashant – remained on the pavement, despite heavy rains
PHOTO • Aakanksha

لاک ڈاؤن کے دوران، مینا اور ان کی فیملی – جس میں ان کی بیٹی سنگیتا اور بیٹا آشانت شامل ہے – بھاری بارش کے باوجود فٹ پاتھ پر ہی رہتے تھے

اس لیے وہ بارش کے وقت اکثر ’گھر‘ پر ہی بیٹھے رہتے ہیں، جسے ایک ڈھیلی سفید ترپال کو دو درختوں اور ایک دیوار کے بیچ پھیلا کر بنایا گیا ہے اور درمیان میں بانس کی ایک لاٹھی سے اسے سہارا دیا گیا ہے۔ کچھ پلاسٹک کے بورے اور کپڑے کی گٹھری اور کالے رنگ کا کینوَس کا ایک اسکول بیگ درختوں سے لٹکے ہوئے ہیں – جن میں کپڑے، کھلونے اور دیگر سامان رکھے ہوئے ہیں۔ بھیگے ہوئے کپڑے پاس میں ایک رسی پر ٹنگے ہوئے ہیں اور پانی سے پوری طرح بھیگا ہوا ہلکے رنگ کا گدّا زمین پر پڑا ہے۔

مینا کے شوہر، سدھارتھ نروَڑے مہاراشٹر کے جالنہ ضلع کے سرواڈی گاؤں سے ہیں۔ ’’میرے والد جب اپنی چھوٹی سی زمین فروخت کرکے کام کرنے ممبئی آئے تھے، تب میں بہت چھوٹا تھا،‘‘ ۴۸ سالہ سدھارتھ بتاتے ہیں۔ ’’اور بعد میں مینا کے ساتھ میں بھی آ گیا۔‘‘

وہ تعمیراتی مقامات پر کام کرتے، اور سیمنٹ سے پلاسٹر کرکے روزانہ ۲۰۰ روپے کماتے تھے۔ ’’لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد وہ بند ہو گیا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ٹھیکہ دار نے تب سے انہیں فون نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کی کال اٹھاتا ہے۔

مینا پاس کی ایک عمارت میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھیں، لیکن ان کے آجر نے اس سال جنوری میں اپنا گھر بدل لیا۔ تب سے، وہ کام کی تلاش میں ہیں۔ ’’یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ میں سڑک پر رہتی ہوں۔ کوئی بھی مجھے کام نہیں دے گا کیوں کہ اب وہ مجھے [کووڈ- ۱۹ کے سبب]، اپنے گھر کے اندر بلانے سے بھی ڈر رہے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

مارچ کے آخری ہفتہ میں جب لاک ڈاؤن شروع ہوا، تو آس پاس کی عمارتوں کے لوگ باقاعدگی سے فیملی کو کچھ کھانے کے لیے دیتے تھے۔ یہی ان کے معاش کا ذریعہ تھا۔ انہیں ریاست سے کوئی راشن یا حفاظتی کٹ نہیں ملا۔ مئی کے آخر اور جون کی ابتدا میں، کھانے کے یہ پیکٹ کم ہونے لگے، حالانکہ فیملی کو یہ ابھی بھی ملتا ہے – یا تو چاول، گیہوں اور تیل، یا پکا ہوا کھانا۔

'I cannot store milk, onions potatoes… anything [at my house],' says Meena, because rats always get to the food
PHOTO • Aakanksha
'I cannot store milk, onions potatoes… anything [at my house],' says Meena, because rats always get to the food
PHOTO • Aakanksha

’میں دودھ، پیاز، آلو... کچھ بھی [اپنے گھر پر] اسٹور نہیں کر سکتی‘، مینا کہتی ہیں، کیوں کہ کھانے کے پاس ہمیشہ چوہے پہنچ جاتے ہیں

’’چوہے بھی ہمارے ساتھ کھاتے ہیں،‘‘ مینا کہتی ہیں۔ ’’صبح میں ہم دیکھتے ہیں کہ اناج چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔ آس پاس جو بھی رکھا ہوتا ہے، وہ اسے پھاڑ دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہمیشہ رہتا ہے، بھلے ہی میں کھانے کو ڈبے کے نیچے چھپا دوں یا کپڑے میں لپیٹ دوں... میں دودھ، پیاز، ٹماٹر... کچھ بھی نہیں اسٹور کر سکتی۔‘‘

اگست کی ابتدا سے، مینا اور سدھارتھ نے کاندیولی کی گلیوں سے بیئر یا شراب کی شیشے کی بوتلوں اور ساتھ ہی پلاسٹک کی بوتلوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ رات میں باری باری ایسا کرتے ہیں، تاکہ ان میں سے ایک بچوں کے پاس رہے۔ وہ ان چیزوں کو پاس کی کباڑی کی دکان پر فروخت کرتے ہیں – بوتلیں ۱۲ روپے کلو، اور کاغذ اور کباڑ کے دیگر سامان ۸ روپے کلو میں۔ ہفتے میں دو یا تین بار، وہ ۱۵۰ روپے کماتے ہیں۔

یہ فیملی پودوں اور درختوں کو پانی دینے کے لیے آنے والے بی ایم سی کے ایک ٹینکر سے پانی جمع کرتی تھی – لیکن لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد یہ کچھ ہفتوں کے لیے بند ہو گیا تھا، اور مانسون کے دوران یہ چکّر نہیں لگاتا ہے۔ کبھی کبھی، وہ پاس کے ایک مندر سے یا کچھ دوری پر واقع ایک اسکول کے نل سے پانی لاتے ہیں، اور اسے ۲۰ لیٹر کے جار اور پلاسٹک کے ڈبے میں جمع کرتے ہیں۔

مینا اور سنگیتا رات میں فٹ پاتھ کی دیوار کے پیچھے جھاڑیوں کے پردے میں غسل کرتی ہیں۔ وہ پبلک ٹوائلٹ کا استعمال کرتی ہیں، جس کے لیے ہر بار ۵ روپے دینا پڑتا ہے – ان دونوں کے لیے ایک دن کے کم از کم ۲۰ روپے۔ سدھارتھ اور ان کے دو بیٹے، ۵ سالہ آشانت اور ساڑھے تین سال کا اکشے آس پاس کی کھلی جگہوں کا استعمال کرتے ہیں۔

لیکن مینا کی دیگر تشویشیں بھی ہیں۔ ’’میں کمزور محسوس کر رہی تھی اور ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہی تھی۔ مجھے لگا کہ یہ موسم میں تبدیلی کے سبب ہے، لیکن [کاندیولی کے] ڈاکٹر نے کہا کہ میں حاملہ ہوں۔‘‘ وہ مزید بچے نہیں چاہتیں، خاص کر اس طرح کے وقت میں، لیکن انہیں اسقاط نہ کرانے کی صلاح دی گئی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ڈاکٹر کے پاس جانے پر ۵۰۰ روپے دینے پڑتے ہیں، یہ پیسے انہوں نے اپنے پچھلے آجر کی فیملی سے لیے تھے۔

Siddharth – here, with his son Akshay – used to work at construction sites. 'That stopped when the lockdown began', he says
PHOTO • Aakanksha
Siddharth – here, with his son Akshay – used to work at construction sites. 'That stopped when the lockdown began', he says
PHOTO • Aakanksha

سدھارتھ – یہاں، اپنے بیٹے اکشے کے ساتھ – تعمیراتی مقامات پر کام کرتے تھے۔ ’لاک ڈاؤن شروع ہونے پر وہ رک گیا‘، وہ بتاتے ہیں

مینا کے بچے کاندیولی مشرق کے سمتا نگر میں واقع مراٹھی میڈیم کے میونسپل اسکول میں پڑھتے ہیں۔ سب سے بڑی سنگیتا کلاس ۳ میں ہے، آشانت کلاس ۲ میں ہے، اکشے بال واڑی میں ہے، اور شمع نے ابھی اسکول جانا شروع نہیں کیا ہے۔ ’’کم از کم وہاں مڈ ڈے میل سے ان کا کام چل رہا تھا،‘‘ مینا کہتی ہیں۔

اسکول نے ۲۰ مارچ سے کلاسیں روک دیں۔ بچے تبھی سے ادھر ادھر کھیلتے ہیں، سدھارتھ کے فون پر کارٹون دیکھتے ہیں جب اس میں بیلنس ہو اور فون کو (پاس کی دکان سے) چارج کر لیا جائے۔

’اسکول‘ لفظ سن کر، آشانت وہیں آ جاتا ہے جہاں ہم بات کر رہے ہیں اور ہوائی جہاز کی مانگ کرتا ہے۔ ’’میں اس پر بیٹھ کر اسکول جانا چاہتا ہوں،‘‘ وہ کہتا ہے۔ سنگیتا لاک ڈاؤن کے مہینوں میں، بارش سے بچی کتابوں سے، اسے اپنے سبق کو دوہرانے میں مدد کر رہی تھی۔ وہ اپنا وقت گھر کے کام کرنے میں گزارتی ہے – برتن دھوتی ہے، اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرتی ہے، پانی لاتی ہے، سبزیاں کاٹتی ہے۔

وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ ’’بیمار پڑنے پر ہم ڈاکٹروں کے پاس نہیں جا سکتے، لیکن جب میں ڈاکٹر بن جاؤں گی تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا،‘‘ وہ کہتی ہے۔ کاندیولی مغرب کے میونسپل اسپتال میں جانے پر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے، دوائیں خود ہی خریدنی پڑتی ہیں، اور سنگیتا نے طبی مدد ملنے میں دیری ہونے کے سبب اپنی ماں کو دو چھوٹے، جڑواں بچوں کو کھوتے ہوئے دیکھا ہے۔

مینا نے خود کاندیولی مشرق کے دامو نگر کے ایک میونسپل اسکول سے کلاس ۳ تک پڑھائی کی ہے۔ وہاں وہ اپنی ماں شانتا بائی کے ساتھ ایک جھگی بستی میں رہتی تھیں۔ جب مینا کی پیدائش ہوئی، تو ان کے والد انہیں چھوڑ کر چلے گئے؛ انہیں کوئی لڑکی نہیں چاہیے تھی، وہ بتاتی ہیں۔ ان کے والدین کرناٹک کے بیدر ضلع سے تھے۔ مینا کو نہیں معلوم کہ ان کے والد کیا کام کرتے تھے، لیکن ان کی ماں ایک دہاڑی مزدور تھیں، جو بنیادی طور پر مقامی ٹھیکہ داروں کے لیے نالیوں کی صفائی کرتی تھیں۔

'At least the midday meal kept them going [before the lockdown],' Meena says about her kids. Now the rains have further deleted their resources (right)
PHOTO • Aakanksha
'At least the midday meal kept them going [before the lockdown],' Meena says about her kids. Now the rains have further deleted their resources (right)
PHOTO • Aakanksha

’کم از کم مڈے ڈے میل سے [لاک ڈاؤن سے پہلے] ان کا کام چل رہا تھا،‘ مینا اپنے بچوں کے بارے میں کہتی ہیں۔ اب بارش نے ان کے وسائل (دائیں) کو اور کم کر دیا ہے

’’میری ماں عجیب طرح سے برتاؤ کرتی تھیں، لیکن میری دیکھ بھال بھی کرتی تھیں۔ وہ بہت فکرمند رہتی تھیں، میرے والد کو بد دعائیں دیتی تھیں کہ چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔ جب میں ۱۰ سال کی ہوئی، تو اس وقت حالت اور بھی بدتر ہو چکی تھی،‘‘ مینا یاد کرتی ہیں۔ ان کی ماں خود سے باتیں کرنے لگیں، چیختیں، انہوں نے کام کرنا بند کر دیا۔ ’’لوگ کہتے ’اس پاگل عورت کو دیکھو‘، اور وہ ان کوکسی پاگل خانے میں بھیجنے کا مشورہ دیتے۔‘‘ مینا کو اپنی ماں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اسکول چھوڑنا پڑا۔

جب وہ ۱۱ سال کی تھیں، تو انہیں کاندیولی میں بچے کی دیکھ بھال کرنے اور فیملی کے ساتھ رہنے کی نوکری مل گئی، جہاں سے انہیں ہر مہینے ۶۰۰ روپے ملتے تھے۔ ’’مجھے ماں کو چھوڑ کر جانا پڑتا تھا، ورنہ ہم دونوں اپنا پیٹ کیسے بھرتے؟ میں ان سے ہر ہفتے ملتی تھی۔‘‘

جب مینا ۱۲ سال کی ہوئیں، تو ان کی ماں جا چکی تھیں۔ ’’بھاری بارش کے سبب میں ایک ہفتے تک ان سے مل نہیں پائی تھی۔ جب میں گئی، تو وہ وہاں نہیں تھیں۔ میں نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھا، کچھ نے کہا کہ وہ انہیں لیکر چلے گئے، لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ انہیں لے جانے والے وہ لوگ کون تھے۔‘‘ مینا پولیس کے پاس نہیں گئیں، وہ ڈر گئی تھیں: ’’اگر وہ مجھے کسی یتیم خانہ میں بھیج دیتے، تب کیا ہوتا؟‘‘

وہ کہتی ہیں: ’’مجھے امید ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اب آرام سے رہ رہی ہیں...‘‘

مینا نے فیملی کے ساتھ رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کا کام ۸-۹ برسوں تک جاری رکھا۔ لیکن چھٹیوں کے دوران، جب وہ فیملی شہر چھوڑ کر کہیں اور چلی جاتی، تو وہ کچھ وقت کے لیے سڑکوں پر رہتی تھیں۔ اور نوکری چھوڑنے کے بعد، سڑک ہی ان کا مستقل گھر بن گیا۔

دامو نگر میں، انہیں اور ان کی ماں کو مسلسل زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ’’میں مردوں کی بری نظر سے ڈرتی تھی، وہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتے، خاص طور سے جو لوگ نشے میں ہوتے تھے۔ وہ کہتے کہ وہ ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں ان کے ارادے جانتی تھی۔‘‘

'I have never really slept [at night],' says Meena, who worries about her children's safety, especially her daughters Shama and Sangeeta (right)
PHOTO • Aakanksha

’میں درحقیت [رات میں] کبھی نہیں سوئی‘، مینا کہتی ہیں، جو اپنے بچوں، خاص کر اپنی بیٹیوں شمع اور سنگیتا (دائیں) کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں

مینا کہتی ہیں کہ وہ اب بھی لگاتار محتاط رہتی ہیں۔ کئی بار، سدھارتھ کے دوست آتے ہیں اور سبھی مرد ان کے ’گھر‘ میں ایک ساتھ شراب پیتے ہیں۔ ’’میں انہیں شراب پینے سے روک نہیں سکتی، لیکن مجھے محتاط رہنا پڑتا ہے۔ میں درحقیقت [رات میں] کبھی نہیں سوئی۔ یہ صرف میرے لیے ہی نہیں، بلکہ میرے بچوں، خاص کر سنگیتا اور شمع کے لیے بھی ہے...‘‘

مینا اوران کی فیملی ممبئی کے کئی بے گھر لوگوں میں سے ایک ہیں – کم از کم ۵۷۴۸۰ میں سے ایک، جیسا کہ مردم شماری ۲۰۱۱ میں بتایا گیا ہے۔ وقت کے ساتھ، سرکار نے ہندوستان کے بے گھر افراد کے لیے اسکیمیں تیار کی ہیں۔ ستمبر ۲۰۱۳ میں، مکانات اور شہری غریبی کے خاتمہ کی وزارت نے قومی شہری ذریعہ معاش مشن شروع کیا تھا، جس میں بجلی اور پانی جیسی بنیادی خدمات کے ساتھ ساتھ شہرمیں شیلٹر ہوم (پناہ گاہ) کی بھی ایک اسکیم شامل تھی۔

سال ۲۰۱۶ میں، سپریم کورٹ نے ایسی اسکیمیں شروع ہونے کے بعد بے گھر افراد کی صورتحال پر دو عرضیوں کا جواب دیتے ہوئے، جسٹس (ریٹائرڈ) کیلاش گمبھیر کی صدارت میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سال ۲۰۱۷ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کیسے ریاستی حکومتیں این ایل یو ایم کے تحت مختص پیسے کا استعمال نہیں کر رہی ہیں۔ مہاراشٹر کو تقریباً ۱۰۰ کروڑ روپے ملے تھے، جسے خرچ نہیں کیا گیا۔

منصوبہ بندی اور شہری غریبی کے خاتمہ کے شعبہ کی اسسٹنٹ میونسپل کمشنر، ڈاکٹر سنگیتا ہسنالے نے ۲۸ جولائی کو ہم سے بات کرتے وقت بتایا کہ ’’ہمارے پاس بے گھر افراد کے لیے ممبئی میں تقریباً ۲۲ شیلٹر ہوم ہیں اور ہمارا منصوبہ ایسے مزید ۹ شیلٹر ہوم بنانے کا ہے۔ کچھ زیر تعمیر ہیں۔ ہمارا ہدف اگلے سال تک ۴۰-۴۵ شیلٹر ہوم بنانے کا ہے۔‘‘ (ڈاکٹر ہسنانے نے مہاتما گاندھی پتھ کرانتی یوجنا کے بارے میں بھی بات کی، جسے ۲۰۰۵ میں جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں اور بے گھر لوگوں کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فیملی عام طور پر اس منصوبہ کے تحت مہیا کرائے گئے فلیٹوں کو فروخت کر دیتے ہیں  اور دوبارہ سڑکوں پر رہنے کے لیے واپس آ جاتے ہیں۔)

Meena and her family are used to seeing their sparse belongings float away every monsoon
PHOTO • Courtesy: Meena
Meena and her family are used to seeing their sparse belongings float away every monsoon
PHOTO • Aakanksha

مینا اور ان کی فیملی ہر مانسون میں اپنے سامانوں کو بہتے ہوئے دیکھنے کی عادی ہو چکی ہے

حالانکہ، ہوم لیس کلیکٹیو کے کنوینر برجیش آریہ کہتے ہیں، ’’اس وقت ممبئی میں صرف ۹ شیلٹر ہوم ہیں، جو کہ بے گھر لوگوں کی آبادی کے مقابلے بہت کم ہے، اور یہ تعداد کئی سالوں سے اتنی ہی ہے۔‘‘ آریہ ایک غیر سرکاری تنظیم، پہچان کے بانی بھی ہیں، جو بے گھر لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔

نو پناہ گاہوں میں سے کوئی بھی، مینا کے جیسے پورے کنبوں کو کبھی نہیں لے گی۔

۲۰۱۹ کی ابتدا میں، ممبئی کے بے گھر افراد کے این یو ایل ایم سروے سے پتا چلا کہ ان کی تعداد گھٹ کر محض ۱۱۹۱۵ رہ گئی ہے۔ ’’شیلٹر ہوم کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا ہے، بلکہ بے گھر لوگوں کی تعداد میں کمی آئی ہے؟ تو وہ کہاں چلے گئے؟‘‘ آریہ پوچھتے ہیں۔

مارچ ۲۰۰۴ میں، حکومت مہاراشٹر کے ایک سرکولر میں آئی ڈی یا پتہ کا ثبوت نہ ہونے پر بھی بے گھر افراد کو راشن کارڈ حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک آرڈر کا حوالہ دیا گیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ مینا کو ریاست کی ان میں سے کسی بھی سہولیات کے بارے میں علم نہیں ہے۔ ان کے پاس آدھار کارڈ، راشن کارڈ یا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ ’’وہ ہم سے آئی ڈی اور پتہ کا ثبوت مانگتے ہیں؛ ایک بار ایک آدمی نے شناختی کارڈ بنانے کے لیے مجھ سے پیسے مانگے تھے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ان کے شوہر کے پاس آدھار کارڈ ہے (ان کے گاؤں کے پتہ پر) لیکن بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔

مینا کی مانگ بہت ہی معمولی ہے: ’’اگر آپ سے ہو سکے، تو ہمارے لیے صرف دو تپڑا [ترپال] لا دیں، تاکہ ہم بارش کا سامنا کرنے کے لیے اپنے گھر کو مضبوط بنا سکیں۔‘‘

لیکن، مینا بتاتی ہیں کہ اس مہینے، بی ایم سی کے ملازم وہاں آئے اور فیملی سے کہا کہ وہ فٹ پاتھ کو خالی کر دیں۔ پہلے جب کبھی ایسا ہوتا تھا، تو وہ اپنا سامان پیک کرکے دوسرے فٹ پاتھ پر چلے جاتے تھے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Aakanksha

آکانشا (وہ صرف اپنا پہلا نام استعمال کرنا پسند کرتی ہیں) پاری کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔

Other stories by Aakanksha