’’آپ نے تو تہوار منایا ہوگا۔ لیکن ہمارا کیا؟ یہاں کوئی کام نہیں ملتا۔ پیسے کہاں سے آئیں گے؟‘‘ اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھی ۶۰ سالہ سونی واگھ نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے دو ٹوک لفظوں میں پوچھا۔ آس پاس جمع لوگوں نے انہیں خاموش رہنے کے لیے اشارہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سونی کے الفاظ میں صرف انہی کا درد نہیں تھا – بلکہ اس میں اُس پوری بستی کی زندگی کی حقیقت پنہاں تھی۔ کوئی اسے چھپا نہیں سکتا تھا۔ نومبر کی ابتدا تھی، دیوالی ابھی ابھی ختم ہوئی تھی۔ لیکن پاڑہ کے کسی بھی گھر میں کوئی لالٹین نہیں تھا۔ کوئی سجاوٹی روشنی نہیں تھی۔ بوتیاچی واڑی کی کسی بھی رہائش گاہ میں پھولوں سے کوئی سجاوٹ نہیں کی گئی تھی، جیسا کہ دیوالی کے دوران شہروں میں کیا جاتا ہے۔

واڑی خاموش تھی۔ اگر کہیں سے کوئی آواز سنائی دے رہی تھی، تو وہ کھلے آنگن میں کھیل رہے بچوں کی تھی۔ ان کے پیر غبار سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کے کپڑے گھِسے ہوئے اور بوسیدہ تھے۔ ٹوٹے ہوئے بٹن والے لباس ان میں سے کچھ کو صرف جزوی طور پر ڈھکے ہوئے تھے۔ آنگن کے ایک کونے میں، ۵ یا ۶ لڑکیاں، جن کی عمر ۸ سے ۹ سال تھی، ’گھر-گھر‘ کھیل رہی تھیں۔ ان کے سامنے ان کے باورچی خانوں کے المونیم اور اسٹیل کے برتن ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ زمین میں گڑے چار ڈنڈوں سے بندھا پھٹے ہوئے کپڑے کا ایک ٹکڑا بچے کے لیے جھولے کا کام کر رہا تھا۔

پاس میں بیٹھی ہوئی ایک لڑکی، چند ماہ کے بچے کو اپنی گود میں لیے ہوئی تھی اور دوسروں کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ اس کے بغل میں ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی، تو وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ لڑکی کو جب یہ محسوس ہوا کہ میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں، تو وہ رک گئی۔ ’’کیا تم اسکول جاتی ہو؟‘‘ جواب تھا، نہیں۔ نو سالہ انیتا دِوے نے پہلی کلاس کے بعد اسکول چھوڑ دیا تھا۔ کیا کرتی؟ ’’مجھے بچے کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔ میں اسکول کیسے جا سکتی ہوں؟ میرے گھر والے اینٹ کے بھٹوں پر کام کرنے جاتے ہیں۔‘‘

PHOTO • Mamata Pared

بوتیاچی واڑی کے زیادہ تر بچے، جیسے کہ کالو وَلوی (اوپر دائیں)، سب سے پہلے مقامی آنگن واڑی (نیچے دائیں) میں کچھ وقت گزارنے کے بعد، پرائمری اسکول کو ایک یا دو سال بعد چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے غریبی اور مہاجرت

اس کے بغل میں بیٹھے ہوئے لڑکے، کالو ساورا، کی بھی یہی کہانی تھی۔ اس نے بھی پہلی کلاس کے بعد اسکول چھوڑ دیا تھا۔ ایک اور لڑکی، کالو ولوی، جو قریب آکر کھڑی ہو گئی تھی، بولی، ’’میں بارش کے موسم میں اسکول جاتی ہوں اور گرمیوں میں اپنی فیملی کے ساتھ اینٹ بھٹّے پر جاتی ہوں۔‘‘

کالو وَلوی کی فیملی کی طرح ہی، مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے موکھاڈا ٹاؤن سے ۳۰ کلومیٹر دور واقع، گوم گھر گاؤں میں کاتکری آدیواسیوں کے ۳۰-۳۵ مکانوں والی اس بستی کے بہت سے لوگ ہر سال کام کرنے کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔

اسکول کا نام لیتے ہی، پڑوس میں رہنے والے ۶۵ سال کے ایک بزرگ، بُدھا واگھ اُکھڑ گئے اور غصہ سے بولے: ’’آپ ہمیں کام دیں یا پیسے کا انتظام کریں۔ ہماری بھوک مٹانے کے لیے کچھ کریں۔‘‘

’’کھیتی باڑی نہیں ہو رہی ہے۔ کوئی دوسرا کام دستیاب نہیں ہے۔ ہمیں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ہجرت کرنی پڑتی ہے،‘‘ بُدھا کا غصہ دور کرنے کے لیے، ۵۵ سالہ کاشی ناتھ باراف بولے۔ ہر سال مانسون کے دوران، جولائی میں، وہ بھی پتھر توڑنے کا کام کرنے شرڈی چلے جاتے ہیں۔ پھر اکتوبر کے آخر میں پڑنے والی دیوالی کے بعد، مئی کے مہینہ تک، وہ اینٹ کی بھٹی میں کام کرنے کے لیے تھانے ضلع کے بھیونڈی تعلقہ کے کھارباؤں شہر ہجرت کر جاتے ہیں۔

مہاجرت کرتے وقت، اس بستی کا تقریباً ہر آدمی اپنے اوپر قرض کا بوجھ لادے ہوتا ہے۔ اور اپنے قرضوں کو واپس کرنے کے لیے، انہیں ہر سال کام کی تلاش میں اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ ہر سال کتنا کماتے ہیں۔ ’’تین سال سے ہم نے اپنے حساب کتاب پورے نہیں کیے ہیں،‘‘ ۵۰ سالہ لیلا ولوی نے بتایا۔ ’’ہم وہاں [اُلہاس نگر] کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے [اینٹ کی بھٹی کے مالک سے] بطور پیشگی رقم ۳۰ ہزار روپے لیے تھے۔ اسے ابھی تک چکایا نہیں جا سکا ہے۔ کئی بار تو ہمیں بھیک میں ملنے والے کھانے سے اپنے پیٹ کی بھوک مٹانی پڑتی ہے۔ اگر ہم اپنا حساب مانگنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہماری پٹائی کی جاتی ہے۔‘‘

PHOTO • Mamata Pared

اوپر بائیں: ’ اگر ہم اپنا حساب مانگنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہماری پٹائی کی جاتی ہے،‘ لیلا ولوی نے بتایا۔ اوپر دائیں: ریاست کی رہائشی اسکیم کے تحت بنائے گئے چند پختہ گھروں کو چھوڑ، بوتیاچی واڑی کے دیگر تمام گھر محض جھونپڑیاں ہیں۔ نیچے بائیں: اپنی جھونپڑی کے پاس کھڑے بھیکا دِوے نے اپنی دکھ بھری کہانی سنائی۔ نیچے دائیں: گورکھ ولوی کی کہانی نے مجھے حیران کر دیا۔

لیلا مجھے اپنا گھر دکھا رہی تھیں – سیمنٹ اور اینٹ سے بنا، ایک کمرہ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے دو کمرے بنائے گئے تھے (جسے پردھان منتری گرامین آواس یوجنا کے تحت تعمیر کیا گیا تھا)۔ بوتیاچی واڑی میں حکومت کی اس رہائشی اسکیم کے تحت بنائے گئے چند پختہ گھروں کو چھوڑ، باقی تمام گھر محض جھونپڑیاں ہیں۔ ’’ہمارے پاس بھی جھونپڑی ہی ہوا کرتی تھی،‘‘ لیلا نے گھاس پھوس، مٹی اور مقامی لکڑی سے بنی پڑوس کی ایک چھوٹی سی جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ بغیر کھڑکی والے ان کے اس چھوٹے سے گھر میں دوپہر کے وقت بھی بالکل اندھیرا تھا۔ سامان چولہے کے چاروں طرف بکھرے ہوئے تھے۔ ’’میرے گھر میں کچھ بھی نہیں ہے۔ صرف اتنا سا چاول بچا ہے،‘‘ انہوں نے مجھے ایک کونے میں پڑے ڈبّہ کو کھول کر دکھاتے ہوئے کہا۔ ڈبہ کے اندر یہ اناج کم ہو کر بالکل نیچے پہنچ گیا تھا۔

یہاں کے دیگر لوگوں کی طرح ہی، ۶۰ سالہ بھیکا راجا دِوے کے سر پر بھی ۱۳ ہزار روپے کا قرض ہے۔ ’’میں نے اپنے بیٹے کی منگنی کے لیے بطور پیشگی رقم پیسے لیے تھے،‘‘ انہوں نے کہا۔ دشہرہ کے قریب، اکتوبر کی ابتدا میں، سیٹھ ان سے بھٹی پر کام کرانے کے لیے اس فیملی کو اُلہاس نگر لے گیا۔ لیکن، چونکہ بارش لگاتار ہو رہی تھی اس لیے کام کو روکنا پڑا۔ لہٰذا سیٹھ نے انہیں قریب ہی واقع اپنے ایک شناسا زمین مالک کے دھان کے کھیتوں پر کام کرنے کے لیے بھیج دیا۔ اس کام سے انہیں ۴۰۰ روپے کی جو یومیہ مزدوری ملتی تھی، ان میں سے کچھ وہ اپنے پاس رکھ لیتا تھا۔ دیوالی چونکہ قریب آ رہی تھی، اس لیے بھیکا کی فیملی کو بوتیاچی واڑی لوٹنے کے لیے کرایے کے پیسوں کی ضرورت تھی۔ سیٹھ نے انہیں اتنا پیسہ بھی نہیں دیا۔ انہوں نے دوسرے جو کچھ بھی کام مل سکتے تھے، اس سے کچھ پیسے بچائے۔ اور پھر، دیوالی جیسے ہی ختم ہوئی، سیٹھ دوبارہ بستی میں پہنچ گیا [تاکہ انہیں کام پر دوبارہ لے کر جا سکے]۔

تب تک، اس فیملی کو ریاستی اسکیم کے تحت ایک گھر دیا جا چکا تھا، اس لیے انہیں اس کی تعمیر کے لیے وہیں ٹھہرنا پڑا۔ لیکن وہ قرض کے سامنے بے بس تھے۔ ’’سیٹھ نے مجھ سے اپنے قرض کی رقم واپس مانگی۔ لیکن میں گھر بنانے کے لیے وہیں ٹھہرا رہا۔ وہ میری بیوی، لیلا اور دو بیٹیوں اور [۲۱ سالہ] بیٹے کو اپنے ساتھ لے گیا،‘‘ اپنے گھر کے سامنے کھڑے بھیکا نے بڑے دکھ سے کہا۔ بڑی بیٹی ۱۲ سال کی ہے اور چھوٹی کی عمر صرف ۸ سال ہے۔

Young girls in this hamlet are passing their days caring for their younger siblings.
PHOTO • Mamata Pared
There is no farming. There are no other work options' , say the adults
PHOTO • Mamata Pared

بائیں: اس بستی کی نوجوان لڑکیاں اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرنے میں وقت گزار رہی ہیں۔ دائیں: بالغوں کا کہنا ہے کہ ’کوئی کھیتی باڑی نہیں ہے۔ یہاں پر کوئی کام نہیں ہے‘

اور پھر میں گورکھ ولوی کی کہانی سن کر حیران رہ گئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک بار، جب اینٹ کی بھٹی کے مالک کا بیل مر گیا، تو اس نے بھٹی میں کام کرنے والے تمام مزدوروں سے کہا کہ وہ سوگ کی علامت کے طور پر اپنے سر کے بال منڈوا دیں۔ کسی میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ انکار کردے، ایسا اس کا خوف تھا۔ ولوی نے مجھے یہ بھی بتایا کہ بے موسم کی بارش سے اگر بھٹی کی اینٹیں بھیگ جاتیں، تو ان اینٹوں کو بنانے والے مزدوروں کو اس کی اجرت نہیں ملتی تھی۔ ’’ہم کڑی محنت کرکے بھی مرتے ہیں اور پیسے نہیں ملتے تب بھی مرتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ان تمام ناموافق حالات کے باوجود، گورکھ ۱۰ویں کلاس تک پڑھائی کرنے میں کامیاب رہے۔ پھر بھی، یہاں کے دیگر لوگوں کی طرح ہی انہیں بھی اینٹ کی بھٹیوں پر کام کرنا پڑتا ہے۔

انہی کی طرح، لتا دِوے اور سنیل مُکنے بھی ۱۰ویں کلاس تک تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ لیکن ہم آگے کیسے پڑھیں، یہ اُن کا سوال تھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے اور ان کے پاس جتنی بھی تعلیم ہے اس سے انہیں کوئی روزگار نہیں ملے گا۔ اس بستی میں رہنے والے زیادہ تر بچے ایک یا دو سال کے بعد اسکول جانا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے غریبی اور مہاجرت۔

ان میں سے زیادہ تر کے گھروں میں اندھیرا ہے اور تھوڑا بہت چاول کے علاوہ کھانا بھی نہیں ہے۔ ایسی حالت میں، غذائیت کی کمی تو ہوگی ہی۔ نوجوان لڑکیاں اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرنے میں وقت گزار رہی ہیں۔ شادی ہو جانے کے بعد، انہیں اپنے کنبوں کے ساتھ دوسری جگہ جانا ہی پڑتا ہے۔ وہ اس مقابلہ جاتی دنیا میں کہاں ٹِک پائیں گی جب زندہ رہنے کی ان کی جدوجہد انہیں خواب تک دیکھنے کی فرصت نہیں دیتی؟ ان کی زندگیوں میں امیدوں اور خوابوں کی شعاعوں کا آنا ابھی باقی ہے۔ لیکن، وہ کب آئیں گی؟ یہ سوال ابھی باقی ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Mamata Pared

ممتا پارید ۲۰۱۸ کی پاری انٹرن ہیں؛ وہ پونہ کے آباصاحب گروارے کالج سے جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔

Other stories by Mamata Pared