اس کو لے کر کوئی غلط فہمی نہیں تھی۔ وہاں پر ایک ہاتھی تھا۔ ایک آدمی اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا تھا۔ ہم لوگ جب سرگوجا ۔ پلامو سرحد پر ایک ویران علاقے میں چل رہے تھے، تب ہم نے پہلی بار اس آدمی اور جانور کو دیکھا۔ کم از کم ہم نے یہی سوچا کہ اسے دیکھا ہے۔ ہم تینوں نے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ کر اس کی تصدیق کی۔ تاہم، ہم میں سے کسی کو اس بات کی جلدی نہیں تھی کہ ہم قریب جاکر اسے چیک کریں۔

اس کی وجہ سے دَلیپ کمار ناراض ہوگئے، جو مجھ سے ملنے کے لیے چندوا سے یہاں آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا رویہ نامعقول تھا۔ ’’اگر ہم نے یہی نظارہ پٹنہ یا رانچی یا کسی شہری علاقے میں دیکھا ہوتا، تو ہمیں کبھی برا نہیں لگتا۔ یہ جنگل ہے۔ یہ ہاتھیوں کا علاقہ ہے۔ اور ہم بیوقوفی کر رہے ہیں۔‘‘

اور شاید اسی لیے ہم بیوقوفی کر رہے تھے۔ یہ جنگل تھا۔ ظاہر ہے، دَلیپ کی بات بالکل صحیح تھی۔ لیکن جب کام کے ساتھ دلیل پر عمل کرنے کی بات آئی تو خود انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے اندر جوش کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ، تھوڑی دیر کے لیے ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ہم نے کسی آدمی کو اوپر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔

لیکن، تب تک اُس آدمی نے ہمیں دیکھ لیا تھا۔ اس نے خوشی سے ہماری طرف ہاتھ ہلایا اور اپنی بڑی گاڑی کو ہماری سمت میں موڑ دیا۔ اس کا نام پاربتی تھا اور وہ اتنی ہی شریف تھی جس سے آپ کہیں بھی مل سکتے ہیں۔ خود اس کا نام پربھو* تھا، جو اسے زیب دے رہا تھا۔ وہ اس ہاتھی کو کسی ایسی جگہ کے مندر میں لے کر جا رہا تھا جس کے بارے میں ہم نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ انھوں نے علاقہ کے تمام مندروں کا چکر لگایا، اس نے بتایا۔ وہاں پر وہ کچھ پیسے کما سکتے تھے۔ اگر کوئی تہوار ہو، تو اور بھی پیسے کمائے جا سکتے تھے۔ اس کے علاوہ، راستے میں جتنے بھی گاؤوں ہیں، وہاں کے لوگوں نے بھی کھانے اور پیسے دیے۔

پربھو نے بتایا کہ وہ مدھیہ پردیش کے سرگوجا میں رہتے ہیں۔ لیکن وہ اور پاربتی پلامو کی سرحد کے دونوں جانب آتے جاتے رہتے ہیں۔ اکیلا سرگوجا ضلع دہلی، گوا اور ناگالینڈ کو آپس میں ایک ساتھ ملا دیا جائے، تو اس سے بھی بڑا ہے۔ پلامو بہار** میں آتا ہے۔ دونوں کا شمار ملک کے سب سے غریب ضلعوں میں ہوتا ہے۔ یعنی، دونوں جگہوں پر غریبوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن وسائل کے معاملے میں، دونوں ہی بہت زیادہ امیر ہیں۔


Elephant man and the belly of the beast_article_P. Sainath_map


پاربتی شاید ممتاز نسل سے ہے۔ سرگوجا کے ہاتھی لڑائی میں اپنے اہم رول کی وجہ سے تاریخ میں مشہور تھے۔ جیسا کہ ضلع کے گزٹ میں درج ہے: ’’قرونِ وسطیٰ میں لڑائیوں کے دوران، ہاتھی طاقت کا سب سے اہم ذریعہ تھے۔ اسی لیے، چھتیس گڑھ کی سرگوجا ریاست ان اہم مراکز میں سے ایک تھی، جہاں سے لڑائی کے دوران ہاتھی منگوائے جاتے تھے۔ سرگوجا کے حکمرانوں کا مالوہ کے سلطانوں سے رشتہ اسی بنیاد پر طے کیا جاتا تھا: کہ انھوں نے مالوہ کو بھروسہ دلایا تھا کہ وہ ہاتھیوں کی مسلسل سپلائی کرتے رہیں گے۔‘‘

مالوہ، درحقیقت، سرگوجا پر اپنی بالادستی حاصل کرنے کا اسے ہی سب سے بڑی وجہ مانتا تھا۔ حالانکہ، انھیں دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ پربھو اور پاربتی کے آباء و اجداد اتنے غضبناک اور لڑائی جیسے رہے ہوں گے۔ پربھو فرمانبرداری کی روح لگ رہے ہیں۔ اور پاربتی ویسی ہی جنگجو نظر آ رہی ہے، جیسے خرگوش۔ (اگر آپ بہت، بہت بڑے، پرامن خرگوش کے بارے میں تصور کر سکیں۔)

آس پاس کے خانہ بدوش نظریے

دَلیپ، میں، اور ہم نے امبیکاپور*** میں جس پرانی جیپ کو کرایے پر لیا تھا، اس کا ڈرائیور اس گاؤں کی تلاش کر رہے تھے، جسے ہم کبھی نہیں ڈھونڈ پائے۔ ہم نے جیپ کو چھوٹی بیرہور کالونی کے پاس پارک کر دیا تھا۔ بیرہور اسی ایسٹرو۔ایشیاٹک لسانی گروپ کے نہایت قدیم قبائل ہیں، جیسے ہو، سنتال یا مُنڈا۔ چھوٹا ناگپور بیلٹ کے یہ خانہ بدوش لوگ عام طور سے پلامو، رانچی، لوہر دَگا، ہزاری باغ اور سنگھ بھوم میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ یہ قبیلہ ختم ہونے کے دہانے پر ہے، ان میں سے صرف تقریباً ۲۰۰۰ ہی آج باقی بچے ہیں، شاید اس سے بھی کم۔

بیرہوروں کے اس قبیلہ نے ہمیں ایک مزیدار گاؤں کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ ’پاس‘ میں ہی ہے۔ ہم اب سیکھنے کی راہ پر تھے، سڑک سے کئی میل آگے، کہ ’پاس‘ سے متعلق کسی خانہ بدوش کے نظریہ کو قبول کرنا مہلک ہوتا ہے۔ ہم نے جیپ کو بیرہوروں کی نگرانی میں چھوڑ دی تھی، جو ہمیں پریشان کر رہی تھی، اور ہم آگے پیدل ہی چل پڑے تھے۔

ڈرائیور ہمارے ساتھ آنا چاہتا تھا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ بیرہور جس طرح دیکھ رہے تھے، اس سے اسے ڈر لگ رہا تھا۔ اب پاربتی جس طرح دکھائی دے رہی تھی، اس سے اسے ڈر لگ رہا تھا۔ دَلیپ نے مختصر اور جامع تبصرہ کیا تھا کہ انھوں نے ڈرائیور کی شکل و صورت کے بارے میں کیسا سوچا تھا، لیکن وہ آدمی ہمارے ساتھ اسی انداز میں گیا۔

پربھو نے ہمیں ہاتھی پر بیٹھنے کی پیشکش کی۔ ہم نے اسے قبول کر لیا۔ میں اس وقت ٹرانسپورٹ کی مختلف شکلوں کو گننے میں لگا ہوا تھا، جو میں نے مہینوں پہلے وسط ۱۹۹۳ میں اپنے پروجیکٹ پر روانہ ہونے کے بعد سے اب تک اختیار کیا تھا۔ اس میں دیشی ناؤ اور لکڑی کے تختہ کی کشتی سے لے کر ٹرینوں کی چھتوں تک پر کیا گیا سفر شامل تھا۔ ہاتھی کی سواری اس فہرست میں شامل نہیں تھی۔ راستے کی کچھ دوری طے کرنے کے بعد، ہم پربھو سے بات کرنے کے لیے نیچے بیٹھ گئے۔ گاؤں کی تلاش کو ہم بھول چکے تھے۔ یہاں پر واقعی میں کچھ مزیدار تھا۔ اور ’پاس‘۔ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ پاربتی کو کیسے کھانا کھلاتے ہیں اور کیسے اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

ماہر انٹرویو لینے والے کی اپنی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے، ہم نے ڈیڑھ گھنٹے لگائے لیکن کچھ بھی خاص سیکھنے کو نہیں ملا۔ پربھو خوشگوار لیکن چالاک تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ہاتھی اچھی طرح زندگی گزارتے ہیں، اُن خیراتوں پر جو انھیں لوگوں سے اور مندر کے میلوں سے ملتے ہیں۔ ملک کے کچھ حصوں کے لیے یہ بات صحیح ہوگی۔ لیکن یہاں پر صحیح نہیں ہوسکتی تھی۔ ’’تم *%*#*  جھوٹے،‘‘ دَلیپ نے کہا۔ ’’اس چیز کو ۲۰۰ کلو گھاس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اوپر سے دوسرا چارہ۔ تمہیں کیا کرنا ہے میں بتاتا ہوں۔ تم اس ہاتھی کو پاس کے زیر کاشت کھیتوں میں چرنے کے لیے چھوڑ دو، کیوں؟‘‘

یہ شاید صحیح تھا۔ پربھو نے ایسا کرنے سے صاف منع کر دیا۔ ’’ہم اس کم بخت ہاتھی سے بھی انٹرویو لے سکتے ہیں،‘‘ دَلیپ نے کہا۔ ’’وہ زیادہ ایماندار ہوگی۔ وہ اسے چرانے کے لیے جنگل میں زیادہ اندر نہیں جاسکتا۔ وہاں پر حقیقی جنگلی ہاتھی ہیں۔ اور دوسرے جانور بھی۔ نہیں، وہ کھیتوں کو لوٹتا ہے۔ وہ اسے لے کر کھیتوں میں جاتا ہے اور اسے فصل برباد کرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ ہم اس کے کھانے اور اس پر خرچ ہونے والے پیسے پر بات کر رہے تھے اور پاربتی پربھو کے ساتھ کھیل رہی تھی، اس کی سونڈ پربھو کے سر کے اوپر گھوم رہی تھی۔ وہ اس سے پیار کرتی ہے، یہ بات صاف تھی۔ اگر اس نے کھیتوں کو لوٹا ہے، تو اس کا اسے اچھا صلہ ملا ہے۔


02_PS_Elephant Man and the belly of the beast.jpg

پہلے زمانے میں بڑے لوگ ان کی خدمات حاصل کرتے تھے، پربھو نے کہا۔ مثال کے طور پر، اچھے کپڑوں میں سجی سنوری پاربتی شادی میں بہت خوبصورت لگی۔ حالانکہ، انھوں نے آخری بار جو موقع دیا، وہ زیادہ منافع بخش نہیں تھا۔ ’’مالک نے کل پیسوں میں سے ۵۰ روپے کاٹ لیے،‘‘ پربھو نے بتایا۔ ’’پاربتی اُس دن بھوکی تھی۔ اور جب اسے کچھ نہیں ملا، تو اس نے وہاں موجود کھانے میں سے تھوڑا کھا لیا۔‘‘ اس نے اس کی سونڈ پر ہلکا سا تھپڑ مارا۔ شاید ۵۰ روپے کے نقصان کو یاد کرتے ہوئے۔ وہ پیار سے خر خر کرنے لگی۔ شاید شادی کے موقع پر موجود کھانے کو یاد کرکے۔

’’ایک بار ایک آدمی آیا اور بولا کہ جلوس نکالنے کے لیے وہ پاربتی کو کرایے پر بلانا چاہتا ہے۔ اس کا لیڈر الیکشن لڑ رہا تھا۔ لیکن یہ نہیں ہوا۔ اس نے بعد میں بتایا کہ کچھ لوگوں نے اسے پاربتی کے بارے میں کچھ غلط باتیں بتائی ہیں۔ یہ کہ وہ بھروسہ کرنے کے لائق نہیں ہے۔ لوگ ایسا کرتے ہیں،‘‘ اس نے مایوسی سے کہا۔

کیا انھیں اس وقت پریشانی نہیں ہوئی، جب گاؤوں میں داخل ہونے پر پاربتی کو دیکھ کر لوگوں نے زیادہ شور مچانا شروع کردیا۔ ایک بار، پربھو نے بتایا، ’’کتوں کے ایک بڑے جھنڈ نے پاربتی پر بھونکنا اور اسے کاٹنے کے لیے دوڑنا شروع کردیا۔ وہ خوفزدہ ہوگئی اور پیچھے بھاگنے کی کوشش کی۔ وہ ایک گھر میں چھپنے لگی، جس کی وجہ سے اس گھر کو تھوڑا نقصان پہنچا۔ تب اس گھر کا مالک بہت زیادہ ناراض ہوگیا۔‘‘

کچھ دیر کے لیے ہم خاموشی سے سوچنے لگے۔ پاربتی جس گھر میں گھسی اس کا مالک کیسا رہا ہوگا؟ اس واقعہ کے بعد گھر کیسا دکھائی دے رہا ہوگا؟ کیا گھر کا مالک بہت زیادہ غصے میں تھا یا پھر موت سے ڈر گیا تھا؟

دوسری بار، پربھو نے کہا، ’’ایک گاؤں کے باہر لوگ پاربتی پر پتھر پھینکنے لگے ۔۔۔۔‘‘

’’آہ!‘‘ دَلیپ نے فاتحانہ انداز میں کہا۔ ’’یہ تب ہوا ہوگا جب تم کھیتوں کو لوٹ رہے ہوگے۔‘‘

’’نہیں، نہیں۔ ہم تو صرف ان کے کھیتوں سے ہوکر گزر رہے تھے۔ میرے خیال سے ان آدمیوں نے شراب پی رکھی تھی۔ انھوں نے پتھر پھینکے۔ ہم دوسری سمت میں چلے گئے۔ بدقسمتی سے، اس وقت اندھیرا ہو رہا تھا۔ اور وہاں ایک دوسری بستی تھی جس میں ہم گھس گئے۔ اور پاربتی تیزی سے چل رہی تھی۔ اس لیے وہاں کے لوگ ڈرنے لگے۔ حالانکہ وہ اس وقت بالکل بھی غصے میں نہیں تھی۔ پھر بھی لوگ خواہ مخواہ ڈرنے لگے اور چیخنا شروع کر دیا۔‘‘

ہم سوچنے لگے کہ اگر ایک بڑا ہاتھی اندھیرے میں ہم پر حملہ کردے تو ہم کیا کریں گے۔ شاید ہم اس پر پتھر نہیں پھینکیں گے۔ لیکن، ڈرنے اور چیخنے ضرور لگیں گے۔

ایک ہاتھی کو کھانا کیسے کھلایا جائے

ہم اس پر جتنا غور کرتے، پربھو اور پاربتی کا مسئلہ اتنا ہی پیچیدہ لگنے لگتا۔ سرگوجا میں زیادہ تر لوگ ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھا پاتے۔ ایسے میں، ایک ہاتھی کو کیسے کھلایا جاتا ہوگا؟ یا پھر پاربتی جو کچھ کما کر لاتی ہے، اس سے پربھو کو کھانا ملتا ہے۔ ہاتھیوں کے علاوہ، سرگوجا تاریخی طور پر اپنی غربت کی وجہ سے مشہور (یا بدنام) رہا ہے۔

سلطنت، مغل، مراٹھا اور انگریز ۔ سبھی نے اس ریاست سے سب سے کم ٹیکس یا نذرانے وصول کیے۔ سلطنت اور مغل زیادہ تر یہاں سے ہاتھی ہی لے جاتے تھے۔ سال ۱۹۱۹ میں بھی انگریز، جو پڑوسی ریاستوں سے بہت زیادہ مال و زر وصول کرتے تھے، یہاں سے بہت کم پیسے لیتے تھے۔ انھوں نے سرگوجا، کوریا اور چانگ بھاکھر کی مقامی جاگیردارانہ ریاستوں سے ہر سال بالترتیب ۲۵۰۰ روپے، ۵۰۰ روپے اور ۳۸۷ روپے لیے۔


03_PS_Elephant Man and the belly of the beast V2.jpg

۱۸ویں صدی کے آخری سالوں میں مراٹھوں نے کوریا کی جاگیردارانہ ریاست کو کچل دیا، جو تب سرگوجا کی حکمرانی میں تھی۔ خود طاقتور مراٹھا بھی پورے علاقے پر قبضہ نہیں کر سکے، کیوں کہ اس علاقے کو پوری طرح کنٹرول کر پانا ان کے لیے مشکل تھا۔ بجائے اس کے، انھوں نے کوریا کے راجا سے صرف ۲۰۰۰ روپے مانگے۔ یہ جاننے کے بعد کہ وہ اتنا بھی پیسہ نہیں دے سکتے، انھوں نے پانچ سالوں کے لیے اسے کم کر ۲۰۰ روپے کر دیا اور وارننگ کے طور پر بہت سارے مویشی اپنے ساتھ لے گئے۔ جلد ہی، ضلع کے گزٹ کے مطابق، بے رحم مراٹھوں کو یہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ راجا ایک روپیہ بھی نہیں دے سکتے۔ آخرکار انھوں نے ’’پانچ چھوٹے گھوڑوں، تین بیلوں اور ایک بھینس‘‘ پر اکتفا کر لیا۔

اس کے بعد انھوں نے جو دوسرے مویشی لوٹے تھے، یہ جاننے کے بعد چھوڑ دیے اور یہاں تک کہ واپس کر دیے، یہ جان کر کہ ان میں سے زیادہ تر بیکار ہیں۔ دشمنی ختم ہو گئی اور مراٹھا واپس چلے گئے، مات کھا کر۔

تو سرگوجا میں کوئی ہاتھی کو کیسے کھلاتا ہے؟ اسے، جسے آپ جنگل کے کافی اندر لے کر نہیں جا سکتے؟ ہم کسی بھی جواب کے قریب نہیں تھے سوائے اس کے جس پر ہم پہلے پہنچے تھے۔ ایک آخری کوشش ہم نے شدت کے ساتھ کی۔ ہم نے اسے شروع کیا۔

ہم نے پربھو سے بحث کی، چاپلوسی کی اور التجا کی، اس سے صحیح جواب جاننے کی کوشش کی۔ غضب کی مٹھاس اور بندش کے ساتھ، اس نے ہمارے سوالوں کا جواب تفصیل سے دیا، جس میں کچھ نہیں بتایا۔ پاربتی اس پوری کارروائی کو شریفانہ، دلچسپی کے ساتھ حقارت سے دیکھتی رہی۔

ایک گھنٹہ بعد، وہ دونوں اپنے راستے پر چل پڑے۔ ’’اگلے مندر کی طرف،‘‘ میں نے کہا۔ ’’کسی اور کا کھیت لوٹنے،‘‘ دَلیپ نے کہا۔

جیسا بھی تھا اس نے کیا، اس نے اس ہاتھی کے لیے روزانہ ۲۰۰ کلو گھاس اور ساتھ ہی کچھ اور کھانے کا انتظام کیا۔ صرف، ہم نہیں جان پائے کہ کیسے۔

* پربھو بھگوان شیو کا دوسرا نام ہے، جن کی شریک حیات پاروَتی (یا پاربتی) ہیں۔

** بعد میں یہ جھارکھنڈ کا حصہ بن گیا۔

*** سرگوجا کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر، اب چھتیس گڑھ میں ہے۔

خاکے: پرینکا بورار

پرینکا بورار نیو میڈیا آرٹسٹ اور ریسرچر ہیں، جن کی دلچسپی اس ذریعہ کی پرمارمیٹو نوعیت میں ہے۔ وہ انٹرایکٹو میڈیا کے ساتھ کام کرتی ہیں، لیکن خاکے بنانا ان کی پہلی پسند ہے، اور اب ان کی دلچسپی کامکس میں بڑھنے لگی ہے۔


یہ اسٹوری سب سے پہلے بالکل الگ خاکوں کے ساتھ انڈیا میگزین کے ستمبر ۱۹۹۸ کے شمارہ میں شائع ہوئی، اور بعد میں پنگوئن کتاب ایلس وھیئر: اَن یوژول ٹیکس آن انڈیا میں اکتوبر ۲۰۰۰ میں شائع ہوئی، جس کی ایڈیٹنگ کائی فرائیز نے کی ہے۔


(پی سائی ناتھ)

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath