پونہ کے ملشی تعلقہ میں واقع کھڈک واڈی بستی کی مکتا بائی اوبھے، نو او وی گا رہی ہیں، جو ایک بیوی کے ذریعے کام کی تلاش میں گھر سے دور گئے اپنے شوہر کے پیار اور بے قراری کے بارے میں ہے

اس سال ہمیں اچھی فصل نہیں ملی
اے عورت، میرے شوہر کام کی تلاش میں دور دیس چلے گئے ہیں

وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر، بہت دور چلے گئے ہیں
وہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے

’’ہاں، مجھے یاد ہے کہ کئی سال پہلے میں نے یہ گیت گائے تھے،‘‘ مکتا بائی اوبھے نے کہا، جب ہم نے اس سال اپریل کے آخر میں ان سے فون پر بات کی تھی۔ مکتا بائی، جو پونہ کے ملشی تعلقہ کے کھڈک واڈی میں رہتی ہیں، نے ۱۹۹۶ میں بنیادی گرائنڈ مل سانگ پروجیکٹ (جی ایس پی) ٹیم کے لیے ان او وی کو گایا تھا۔

اس کووڈ- ۱۹ وبا اور لاک ڈاؤن کے دور میں، بیس سال پہلے گائے گئے ان نو اشعار میں آج کے پورے ہندوستان کے مہاجر مزدوروں کے تجربات کی گونج ہے، جو گاؤوں میں رہ رہے اپنے گھر والوں سے دور ہیں۔ ان او وی کے غیر حاضر شوہرکی طرح، مہاجر مزدوروں نے بھی دیہی علاقوں میں واقع اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا اور کام کی تلاش میں دور افتادہ شہر چلے گئے تھے۔

۱۹۸۰ کی دہائی کے آس پاس ہندوستان کے گاؤوں میں مشین والی ملیں پہنچنے سے پہلے، عورتیں آٹا پیسنے کے لیے روز چکّی چلاتی تھیں۔ وہ باورچی خانہ اور اس کے آس پاس، دو یا تین کی جوڑی میں کام کرتیں، اور خلوت میں آرام سے گیت گاتی تھیں۔ وہاں پر وہ گھورتی آنکھوں اور سماجی پابندیوں سے دور، آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتیں۔ سادہ، مترنم او وی میں، وہ چکی کی آہنگ اور اپنے ہاتھوں کی چوڑیوں کی کھنک کے ساتھ سُر ملا کر گاتی تھیں۔

مکتا بائی نے ان او وی کو اپنی ساس سے ایک نوجوان شادہ شدہ عورت کے طور پر سیکھا تھا۔ یہ اشعار اپنے شوہر کے لیے – جو کام کے لیے گھر سے بہت دور گیا ہوا ہے – عورت کے پیار اور بے قراری کا اظہار کرتے ہیں۔ مکتا بائی نے جب ۱۹۹۶ میں انہیں گایا تھا، تب وہ تقریباً ۴۰ سال کی تھیں۔

اب ۶۴ سال کی ہو چکیں مکتا بائی کو جب ہم نے او وی میں مذکور شوہر کی موتی جیسے چمکدار آنکھوں، اور جَوَس (پٹسن) کے پھول جیسی اس کی نیلی جلد کے بارے میں بتایا، تو وہ زور سے ہنسنے لگیں۔ ’’میں نے جَوَس کے پھول کبھی نہیں دیکھے ہیں، لیکن او وی میں بیوی اپنے شوہر کی بہت تعریف کرتی ہے،‘‘ مکتا بائی نے کہا۔

Left: Muktabai and Gulabbhau Ubhe are farmers in Khadakwadi. Right: Muktabai and others in the assembly hall of the Ram temple (file photo)
PHOTO • Amol Ubhe
Left: Muktabai and Gulabbhau Ubhe are farmers in Khadakwadi. Right: Muktabai and others in the assembly hall of the Ram temple (file photo)
PHOTO • Namita Waikar

بائیں: کھڈک واڈی میں مکتا بائی اور گلاب بھاؤ اوبھے کسان ہیں۔ دائیں: رام مندر کے اسمبلی ہال میں مکتا بائی اور دیگر (فائل فوٹو)

ہم نے وبا اور لاک ڈاؤن کے بارے میں بات کی۔ ’’کورونا کی وجہ سے سب کچھ بند ہو گیا ہے۔ میرے شوہر اور میں اپنے کھیت پر تھوڑا کام کرتے ہیں، لیکن ہم دونوں اب بوڑھے ہو رہے ہیں۔ ہم تھوڑا بہت جو کچھ کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ وہ اور ان کے شوہر، گلاب بھاؤ اوبھے، جو تقریباً ۶۱ سال کے ہیں، کے پاس کولاوڈے گاؤں کی کھڈک واڈی بستی میں دو ایکڑ زمین ہے۔ ان کا بیٹا امول اپنے گاؤں سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور، اُراوڈے میں آٹو کے پرزے کی ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ مارچ میں جب لاک ڈاؤن شروع ہوا، تو وہ گھر پر تھا، لیکن ۴ مئی کو اسے کام پر واپس بلا لیا گیا تھا۔ ان کی تین بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے اور وہ پونہ ضلع کے مختلف حصوں میں رہتی ہیں۔

مکتا بائی اپنے گاؤں میں بچت – گٹ (سیلف ہیلپ گروپ) کی چیئر پرسن ہیں۔ ’’لیکن، میری طرح، گاؤں کی زیادہ تر عورتوں کے پاس اپنے کھیت اور گھر کے کام سے فرصت نہیں ہے۔ میں سبھی سے صرف پیسے جمع کرتی ہوں اور اسے بینک میں جمع کرتی ہوں۔ اس عہدہ سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہے – صرف نام میں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

تقریباً تین سال پہلے، جب پاری کی جی ایس پی ٹیم نے کولاوڈے کا دورہ کیا تھا، تو مکتا بائی نے ہمیں بتایا تھا کہ انہیں کتابیں پڑھنے کا کتنا شوق ہے۔ ’’میں نے رنجیت دیسائی کی شریمن یوگی، اور پانڈو پرتاپ ہری اور دیگر مذہبی کتابیں پڑھی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا تھا۔

ہم ان سے اور پانچ دیگر گلوکاروں سے کھڈک واڈی کے رام مندر کے بڑے اسمبلی ہال میں ملے تھے۔ ہال تین طرف سے کھلا ہوا ہے، جس سے آنے والی ہوا نے ہمیں اپریل کے اس گرم دن میں کافی راحت پہنچائی۔ باہر لگے آم کے درختوں کی پھلوں سے لدی ٹہنیاں لہرا رہی تھیں۔ عورتوں نے گرمی کی تپش اور مانسون – جس کا بے صبری سے انتظار تھا -  کے بارے میں کچھ او وی گائے۔ ہم نے پاری پر ان گیتوں کو دو قسطوں میں شائع کیا – گرمیوں کے سات گیت اور بارش کے چھ گیت۔

مجموعی طور سے، کولاوڈے کی ۲۵ عورتوں نے بنیادی جی ایس پی ٹیم کے لیے ۱۲۶۵ گیت گائے، اس ٹیم کی قیادت آنجہانی سماجی سائنس داں ہیما رائیرکر اور گائی پوئٹیوِن کر رہے تھے۔ ہم یہاں مکتا بائی اوبھے کے ذریعے گائے گئے ۵۳ گیتوں میں سے نو کو پیش کر رہے ہیں، جنہیں ۶ جنوری ۱۹۹۶ کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ویڈیو دیکھیں: ’میرے شوہر کام کی تلاش میں دور دیس چلے گئے ہیں...‘

پہلے او وی میں، بیوی اپنے گھر کے مندر میں دیوتا کی پوجا کرتی ہے اور اپنے کنکو کی لمبی زندگی کے لیے دعا کرتی ہے – اس کی پیشانی پر لگا سندور، اس کے شوہر کی علامت ہے۔ دوسرے شعر میں، وہ پمپل (مقدس گولر) کے درخت کی پوجا کرتی ہے کیوں کہ یہ بھگوان وشنو کی نمائندگی کرتا ہے، اور خوشحال شادی شدہ زندگی کی دعا مانگتی ہے۔ تیسرے شعر میں، وہ کہتی ہے کہ سکھدیو (صبح کے ستارے کا دیوتا) اس کے گھر کے اوپر صبح کے آسمان میں تعینات ہیں، جن سے اس کے جسم میں چبھنے والی ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے۔

چوتھے اور پانچویں شعر میں وہ کہتی ہے کہ اس سال فصل اچھی نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس کا شوہر کام کی تلاش میں بہت دور چلا گیا تھا۔ وہ فکرمندی کی اظہار کرتی ہے کہ اس دور دراز مقام پر اس کے شوہر کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ گیت ہمیں شوہر کے تئیں اس کے گہرے پیار، اور وہ اسے کتنا یاد کرتی ہے، اس بارے میں بتاتے ہیں۔

چھٹے، ساتویں اور آٹھویں شعر میں وہ اپنے محبوب کو یاد کرتی ہے اور اس کی خصوصیات کا ذکر کرتی ہے۔ اس کی آنکھیں موتی کی طرح چمکتی ہیں، اس کی جلد جَوَس کے پھولوں کی طرح نیلی ہے۔ (ان پھولوں کا استعمال اکثر او وی میں بھگوان کرشن کی جلد کے رنگ کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔) وہ گاتی ہے کہ اس کے شوہر کے دانت دھلے ہوئے چاول جیسے سفید ہیں۔ اس کے بغیر، وہ بے قرار اور کھوئی ہوئی ہے۔ اور اس کا پسندیدہ بھونا ہوا ہرا چنا، سبھی سوکھ رہے ہیں۔

آخری او وی میں، وہ اس سے واپس لوٹ آنے کی گزارش کرتی ہے: ’’تم کب آؤگے، اے میری زندگی کے اجالے؟ تم کب آؤگے، اے میرے دیوتاؤں کے دیوتا؟‘‘ گلوکارہ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کے لیے اس کا شوہر اس بھگوان سے بڑھ کر ہے، جس کی وہ پوجا کرتی ہے۔

یہ نو او وی سنیں:

सुवासीन पुजते मी घरच्या देवाला
आयुष्य मागते मी माझ्या कुंकवाला

सुवासीन पुजीते मी पिंप ळाचा पार
विष्णुनारायण देवा सुखाचा संसार

झुंजुमुंजु झाल सुखदेव वाड्या आला
पहाटचा वारा कसा झोंबत अंगाला

अवंदाच साल नाही आल पीकपाणी
दुरदेसी गेला बाई माझा घरधनी

दुरदेसी गेला मला एकली टाकून
तिथ जीव लावायला नाही त्याला कोण 

राया डोळ्यामंदी तुझ्या मोतीयाच पाणी
राया तुझा रंग जवसाच्या फुलावाणी

राया तुझ दात जस धुतल तांदुळ
तुझ्या बिगर रे मला भरल व्याकूळ

तुला आवडीते हुळा भाजून ठेवीला
काय सांगू बाई सारा वाळून चालला

कवासिक याल माझ्या कुडीतल्या जीवा
कवासिक याल माझ्या देवाच्या बी देवा

suvāsīna pujatē mī gharacyā dēvālā
āyuṣya māgatē mī mājhyā kuṅkavālā

suvāsīna pujītē mī pimpaḷācā pāra
viṣṇunārāyaṇa dēvā sukhācā sansāra

jhuñjumuñju jhāla sukhadēva vāḍyā ālā
pahāṭacā vārā kasā jhōmbata aṅgālā

avandāca sāla nāhī āla pīkapāṇī
duradēsī gēlā bāī mājhā gharadhanī

duradēsī gēlā malā ēkalī ṭākūna
titha jīva lāvāyalā nāhī tyālā kōṇa

rāyā ḍōḷyāmandī tujhyā mōtīyāca pāṇī
rāyā tujhā raṅga javasācyā phulāvāṇī  

rāyā tujha dāta jasa dhutala tānduḷa
tujhyā bigara rē malā bharala vyākūḷa

tulā āvaḍīto huḷā bhājūna ṭhēvīlā
kāya sāṅgū bāī sārā vāḷūna cālalā

kavāsika yāla mājhyā kuḍītalyā jīvā
kavāsika yāla mājhyā dēvācyā bī dēvā

میں ایک سواسین [شادی شدہ عورت] ہوں، اور گھر میں بھگوان کی پوجا کرتی ہوں
میں اپنے کُنکو [شوہر] کی لمبی زندگی کے لیے دعا کرتی ہوں

میں ایک سواسین ہوں پمپل [مقدس گولر] کے درخت کی پوجا کرنے والی
بھگوان وشنو نارائن، مجھے ایک خوشحال شادی شدہ زندگی دیں

صبح کا وقت ہے، سکھدیو [صبح کے ستارے کا دیوتا] گھر کے اوپر آ چکے ہیں
صبح سویرے کی ٹھنڈی ہوا کیسے جسم میں چبھ رہی ہے

اس سال ہمیں اچھی فصل نہیں ملی
اے عورت، میرے شوہر دور دیس چلے گئے ہیں [کام کی تلاش میں]

وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر بہت دور چلے گئے ہیں
وہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے

پیارے شوہر، آپ کی آنکھیں موتی کی طرح چمکتی ہیں
پیارے شوہر، آپ کی جلد میں جَوَس کے پھولوں کارنگ ہے

پیارے شوہر، آپ کے دانت دھلے ہوئے چاول کی طرح ہیں
میں بے قرار ہوں اور آپ کے بنا کچھ بھی نہیں

میں نے آپ کے لیے ہرے چنے بھونے، کیوں کہ یہ آپ کو پسند ہیں
میں تمہیں کیا بتاؤں، اے عورت، یہ سب سوکھ رہے ہیں

تم کب آؤگے، اے میری زندگی کے اجالے؟
تم کب آؤگے، اے میرے دیوتاؤں کے دیوتا؟

PHOTO • Samyukta Shastri

فنکارہ/گلوکارہ: مکتا بائی اوبھے

گاؤں: کولاوڈے

بستی: کھڈک واڈی

تعلقہ: ملشی

ضلع: پونہ

ذات: مراٹھا

پیشہ: کسان

تاریخ: یہ گیت اور ان سے متعلق چند تفصیلات ۶ جنوری ۱۹۹۶ کو ریکارڈ کی گئی تھیں۔ تصویریں ۳۰ اپریل ۲۰۱۷ اور ۸ مئی ۲۰۲۰ کو لی گئی تھیں۔

پوسٹر: سنچیتا ماجی

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

PARI GSP Team

پاری چکّی کے گانوں کا پروجیکٹ ٹیم

Other stories by PARI GSP Team

نمیتا وائکر ایک مصنفہ، مترجم اور پاری کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ ان کا ناول، دی لانگ مارچ، ۲۰۱۸ میں شائع ہو چکا ہے۔

Other stories by Namita Waikar