جوقم فرنانڈیز کا موبائل لگاتار بجتا رہتا ہے، جب وہ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے گھر پر ہوتے ہیں۔ وہ کام کی جگہ اپنا فون ساتھ لے کر نہیں جاتے، اور صارفین کو پتہ چلا ہے کہ ان تک پہنچنے کا سب سے صحیح وقت یہی ہوتا ہے۔ شمالی گوا کے پرّہ گاؤں کے ۵۳ سالہ اس شخص کی کافی مانگ ہے، جو ناریل کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔

اس ریاست میں ۲۵ ہزار ہیکٹیئر زمین پر ناریل کی کھیتی ہوتی ہے، لیکن اس کےد رخت سے ناریل توڑنے والوں کی کافی کمی ہے۔ اس کی وجہ سے فرنانڈیز جیسے پرانے لوگ ہفتہ بھر اس کام میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ روزانہ اپنے گھر سے ۱۲ کلومیٹر دور واقع ناریل کے باغ میں صبح اور دوپہر کو سائیکل سے جاتے ہیں، اور ایک دن میں تقریباً ۵۰ درختوں پر چڑھتے ہیں۔ ان کے کام کرنے کے دنوں کی تعداد ہر ماہ بدلتی رہتی ہے۔ مانسون کے موسم میں (جون سے ستمبر تک) وہ درختوں پر تبھی چڑھتے ہیں، جب سورج کی تپش نے شاخ کو پوری طرح خشک کردیا ہو۔ سال کے بقیہ دن، فرنانڈیز ہر روز درختوں پر چڑھتے ہیں، جیسا کہ گوا کے سبھی ناریل کاٹنے والے کرتے ہیں۔ وہ ایک درخت پر چڑھنے کا ۵۰ روپیہ لیتے ہیں؛ جس سے روزانہ کی آمدنی ۲،۵۰۰ روپے تک ہو سکتی ہے۔

فرنانڈیز چڑھنے سے پہلے ہر درخت کا گہرائی سے معائنہ کرتے ہیں۔ ناریل کے پھول کو ناریل کا پھل بننے میں تقریباً چھ مہینے لگتے ہیں۔ عام رائے یہی ہوتی ہے کہ وہ اسی درخت پر چڑھیں، جس کے کم از کم پانچ ناریل کاٹنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں، اس سے ایک بھی کم کا مطلب ہے مالی خسارہ۔


1-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

جوقم فرنانڈیز مانسون کے موسم سے فائدہ اٹھاتے ہیں جب انھیں ناریل کے دو چار درختوں پر ہی چڑھنا پڑتا ہے


گرمیوں میں، ناریل جلدی خشک ہو جاتے ہیں۔ گرمی فرنانڈیز کی توانائی کو بھی جلدی ختم کر دیتی ہے۔ ناریل کے باغات میں وہ ایک مہینہ میں ایک ہی بار جاتے ہیں اور ایک دن میں وہ جتنے درخت چڑھ سکتے ہیں، ان کی تعداد گھٹ کر ۳۰ ہو جاتی ہے۔

گوا کی حکومت نے ۲۰۱۳ میں، نوجوان مردوں کو ناریل توڑنے کی ٹریننگ دینے کے لیے ایک ششماہی پروگرام شروع کیا۔ ریاستی حکومت نے اس کے لیے کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیا، اور کسان اس قسم کی خدمات حاصل کرنے کے لیے حکومت سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ناریل توڑنے والے اس قسم کے ۲۰ لوگوں کو سرکار نے ۱۵ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا اور ساتھ ہی انھیں دیگر سہولیات دینے کے علاوہ ان کا بیمہ کرایا اور صحت سے متعلق سہولیات فراہم کیں۔ سرکاری اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ناریل توڑنے والوں کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ وہ اتنی تعداد میں تربیت یافتہ مردوں کا انتظام نہیں کر پا رہے ہیں۔


2-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

ناریل کی موٹی رسیوں کا ایک گُچھّا اس کے درخت پر چڑھنے کا واحد ذریعہ ہے


یہ چنوتیوں بھرا وقت ہے۔ ناریل توڑنے والوں کی شدید کمی کے باعث، کسان ناریل کی کھیتی کرنے سے لگاتار پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ریاستی حکومت اس سے نمٹنے کے لیے میکینکل طریقے سے ناریل کی کٹائی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ اسٹیل کی پائپوں سے بنا ایک آلہ ہے، جو ناریل کے درخت پر چڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس میں حفاظت کے لیے ایک رسی بھی ہوتی ہے، جو چڑھنے والے کی کمر اور درخت کی شاخ سے جڑی ہوتی ہے۔ لیکن، پرانے لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جتنی دیر میں یہ مشین ایک درخت پر چڑھنے میں مدد کرتی ہے، اتنی دیر میں وہ چار درختوں پر چڑھ سکتے ہیں۔


3-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

کلہاڑی ناریل کاٹنے والوں کا سب سے بڑا اوزار ہوتا ہے۔ فرنانڈیز نے اس کے لیے لکڑی کا ایک دستہ بنایا ہے


گوا میں، ناریل توڑنے کا ہنر روایتی طور پر باپ سے بیٹے تک منتقل ہوتا آیا ہے۔ دسویں کلاس کے بعد، فرنانڈیز کے بیٹے نے ایک ٹیکنیکل کورس کیا اور سروسز انڈسٹری میں کام کیا۔ وہ کویت جاکر کام کرنا چاہتا تھا، جہاں پر اس کے چچا مقیم ہیں، اور اپنی فیملی کے روایتی پیشہ میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کئی برسوں تک اسی جدوجہد میں لگے رہنے کے بعد جب اسے کامیابی نہیں ملی، تو اس نے آخرکار ناریل توڑنے کے مشکل لیکن نفع بخش کام کو کرنا شروع کر دیا۔ لیکن گوا میں ناریل توڑنے والے کو سماج میں نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور اس سے کوئی اپنی بیٹی کی شادی بھی نہیں کرنا چاہتا۔ آخرکار اس نے ایک پانی والے جہاز میں کریو ممبر کے طور پر نوکری جوائن کر لی۔

شمالی گوا کے ساحلی کالنگوٹ گاؤں کے ڈیوڈ پریرا کی کہانی بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔ پانچ سال قبل ۵۵ سال کے پریرا ایک ناریل کے درخت سے نیچے گر گئے تھے، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی، اس لیے اب وہ ایک دن میں صرف ۲۰ درختوں پر ہی چڑھائی کرتے ہیں۔


4-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

ڈیوڈ پریرا ۳۰ فٹ کے درخت پر چڑھتے وقت کہاڑی کو اپنے ہاتھ میں ہی پکڑ کر لے جانا پسند کرتے ہیں


وہ اپنی خدمات دینے کے بدلے اجرت کے طور پر ناریل لینا ہی پسند کرتے ہیں۔ ان کی بیوی ان نارلیوں کو گھر سے ۹ کلومیٹر دور ماپوسا کے ہفتہ وار بازار میں لے جاکر بیچتی ہیں۔ سائز اور موسمی مانگ کے حساب سے ناریل ۷ روپے سے لے کر ۱۱ روپے تک میں بیچے جاتے ہیں۔ پریرا کا لڑکا پانی کی جہاز پر دوسرے ملک میں کام کرتا ہے۔ ’’میرا بیٹا کہتا ہے کہ اب مجھے اس کام کو کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہ اب وہ خود نوکری کر رہا ہے۔ لیکن اگر میں کام چھوڑ کر گھر پر بیٹھ جاؤں تو میرا جسم سخت ہو جائے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

حالانکہ وہ اب بھی ناریل کے درختوں پر چڑھتے ہیں، لیکن انھیں اس بات کا افسوس ہے کہ ان کے والد میں بچپن میں انھیں جو ہنر سکھایا تھا، وہ انھیں اب یاد نہیں رہا۔ ’’مجھے اب یاد نہیں رہا کہ ناریل کے درختوں پر چڑھنے کے لیے رسیوں میں گانٹھ کیسے باندھی جاتی ہے۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ناریل کے درختوں سے تاڑی کیسے نکالی جاتی ہے، تو یہ بہت اچھا ہوتا کیوں کہ کالنگوٹ میں اب تاڑی نکالنے والا کوئی نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔


6-Cropped-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

کلہاڑی پکے ہوئے ناریل کے گچھوں پر لگتی ہے


7-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

اگر پورا گچھا پکا نہ ہو، تو اسے توڑنے والا پکے ہوئے ناریل کو توڑنے کے لیے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے


پانڈو گنڈو نائک ناریل کے باغات میں اکثر پریرا کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ کرناٹک کے بیلگام ضلع کے رہنے والے، نائک گزشتہ ۲۰ برسوں سے درختوں پر چڑھ رہے ہیں۔ وہ پہلی بار جب گوا آئے تھے، تو وہ روزانہ کے مزدور کے طور پر کام کرتے تھے، گھاس کاٹتے تھے اور درختوں کی شاخوں کی چھنٹائی کیا کرتے تھے۔ پھر انھوں نے ناریل توڑنے کے کام کو کرنے کے بارے میں سوچا اور اسے ہنر کو مقامی لوگوں کو دیکھ کر سیکھا۔ نائک نے بیلگام کے پانچ دیگر لوگوں کو بھی اس پیشہ میں داخل ہونے میں مدد کی، لیکن اب مہاجر کامگار بھی ناریل توڑنا نہیں چاہتے۔ ’’وہ ہوٹلوں میں کام کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ اِس کام میں کافی محنت لگتی ہے اور ساتھ ہی یہ خطرناک بھی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔


8-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

گوا میں ایک درخت پر ہر سال اوسطاً ۸۰ سے ۱۰۰ ناریل تک آتے ہیں


9-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

عورتیں ناریل اکٹھا کرتی ہیں اور پھر انھیں کلکشن پوائنٹ تک لے جاتی ہیں


10-SF-Goa Coconut Pluckers.jpg

اب زیادہ توڑنے والے نقد میں اجرت لینا چاہتے ہیں؛ پہلے انھیں اجرت کے طور پر ناریل ہی دیے جاتے تھے


فرنانڈیز کسانوں کی طرف سے ناریل بھی بیچتے ہیں۔ وہ گھر پر اس پھل کو صاف کرتے ہیں اور ان عورتوں کو بیچ دیتے ہیں جو ماپوسا میں ہر جمعہ کے دن اسے تھوک میں بیچتی ہیں۔ اس کی گھاس کو جلانے کے لیے بھی بیچا جاتا ہے۔ تاہم، اب اسے خریدنے والے بہت ہی قلیل تعداد میں بچ گئے ہیں۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ گھروں، اسکولوں، مقامی بیکری اور گاؤوں کے دیگر باورچی خانوں نے گیس سے جلنے والے اسٹوو کا استعمال شروع کر دیا۔ لیکن فرنانڈیز کے پاس اب بھی کچھ گاہک اور چھوٹی صنعتیں ہیں، جو ناریل کی گھاس کو جلانے میں استعمال کرتی ہیں۔

ان کے گھر کے باہر ناریل کی گھاس کا ایک انبار لگا ہوا ہے، جو پلاسٹک کی موٹی چادر سے اچھی طرح ڈھکا ہوا، تاکہ وہ بارش میں بھیگ نہ جائے۔ یہ سال خاص طور سے بیچنے کے لحاظ سے برا تھا؛ یہ ہر طرح سے نقصان والا موسم تھا۔

مانسون کے موسم میں فرنانڈیز درختوں پر زیادہ نہیں چڑھتے، کیوں کہ کائی جم جانے کی وجہ سے پیر پھسلتا ہے۔ اس کی جگہ وہ آس پاس کے تالابوں اور ندی نالوں میں مچھلی پکڑنے کا کام کرتے ہیں۔ ’’میں پیدائشی طور پر اس کام کو جانتا ہوں،‘‘ وہ جھجھکتے ہوئے کہتے ہیں۔


سونیا فلنٹو ممبئی میں مقیم میڈیا پروفیشنل ہیں، جو پروڈکشن اور ہدایت کاری کا کام کرتی ہیں۔ انھیں ماحولیاتی موضوعات میں کافی دلچسپی ہے۔


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Sonia Filinto is a Mumbai-based media professional.

Other stories by Sonia Filinto