uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_5_large.jpg


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_1.jpg


گوا کے بھدیل خواتین قلی ہیں، جو گوا کے جنوبی شہر مرگاؤں میں کام کرتی ہیں۔ یہ پیشہ فیملی کی عورتوں کے درمیان نسل در نسل چلا آ رہا ہے، جو ماں سے بیٹیوں یا بہوؤں کو منتقل ہوتا رہتا ہے۔ 


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_2.jpg


نوجوان نسل میں سے کسی نے بھی اس پیشہ کو نہیں اپنایا ہے۔ ’’ہماری بیٹیوں کو اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، انھوں نے تھوڑا بہت تعلیم حاصل کی ہے، اس لیے وہ دفتروں میں کام کرنا چاہتی ہیں،‘‘ مارگیا بورگیز کا کہنا ہے۔ فی الحال، مرگاؤ مارکیٹ میں درجن بھر بھدیل عورتیں اس کام کو کر رہی ہیں، جن میں سے سبھی کی عمر ۵۰ سال سے زیادہ ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ بھدیل عورتیں ماضی میں گوا کے دوسرے بازاروں میں بھی کام کیا کرتی تھیں، لیکن اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، بلکہ اس کا ذکر صرف مقامی گانوں میں ہی ملتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_3.jpg


یہ عورتیں مرگاؤ شہر کے ارد گرد بسے بوردا اور فتوردا جیسے گاؤوں سے روزانہ بس کے ذریعہ آمد و رفت کرتی ہیں۔ وہ مختلف اوقات میں بازار پہنچتی ہیں، عام طور سے صبح سویرے گھریلو کام کو نمٹانے کے بعد ۸ بجے سے ۱۰ بجے تک بازار پہنچتی ہیں۔ شام کو وہ ساڑھے چھ بجے اپنے گھر کے لیے واپس روانہ ہوتی ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_4.jpg


مرگاؤ کی بھدیل عورتیں روایتی طور پر رومن کیتھولک ہیں۔ ان کا تعلق کنبی قبیلہ سے ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گوا کے اصلی باشندے ہیں۔ ایلپائن المیڈا نے اپنا لباس خاص کنبی اسٹائل میں پہن رکھا ہے، حالانکہ یہ کپڑا اور اس کا رنگ وہ نہیں ہے جو روایتی طور پر استعمال کیا جاتا تھا، کیوں کہ اب اس قسم کے کپڑے بنتے ہی نہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_6.jpg


بھدیل عورتیں عام طور سے مرگاؤ مارکیٹ کی ایک سب سے پرانی دکان کے باہر جمع ہوتی ہیں۔ یہ عیسائیوں کے لیے لینٹ کا موسم ہے، کفایت شعاری کا وقت، جب خریداری کم کر دی جاتی ہے۔ یہ تجارت کے نقطہ نظر سے خراب موسم ہوتا ہے، لیکن ان عورتوں کے کام کا بوجھ اس سے کچھ کم ہو جاتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_7.jpg


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_8.jpg


کونکن ریلوے کی ۱۹۹۰ کے اخیر میں شروعات ہو جانے سے یہاں پڑوسی ریاستوں کے مہاجر مزدور بھی آنے لگے، جس کی وجہ سے ان عورتوں کی آمدنی متاثر ہوئی۔ سستے مزدور ملنے لگے، تیز طرار مردوں کو اس کام پر مامور کر دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ عورتیں بے روزگار ہو گئیں، آرام کرنے لگیں۔ لیکن مقامی سوداگر بھدیل عورتوں کی ایمانداری کے پوری طرح قائل ہیں۔ وہ اپنی دکانوں کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں دیکھ بھال کے لیے اور انھیں موٹی رقم بینکوں میں جمع کرنے کے لیے بھیجنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔

بھدیل عورتیں ایک دن میں ۵۰ روپے سے لے کر ۲۰۰ روپے تک کما لیتی ہیں۔ جیسا کہ ۲۰۱۵ میں معمول ہے، میڈیم سائز کے بازاری تھیلہ کو اٹھانے کی اجرت تین روپے ہے، اسٹیل کی الماری کو اٹھاکر لے جانے کی اجرت ۵۰ روپے ہے جو اسے اٹھانے میں شامل سبھی عورتوں میں برابر تقسیم کردی جاتی ہے اور ۵۰ کلو وزن کا سامان لے جانے میں ۲۰ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_9.jpg


اسٹور کے مالکوں کے ساتھ ساتھ دکانداری کرنے والے سامانوں اور بھاری بوجھ کو اٹھوانے میں بھدیلوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ایلپائن المیڈا پنساری کے سامان سے بھری ایک ٹوکری ایک مقامی سوداگر کے لیے لے کر جا رہی ہیں، جو اپنے گھر کی خریداری کے لیے ہر ہفتہ بازار کا ایک چکّر لگاتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_10.jpg


گوا میں سبھی دکانیں دوپہر میں ۱ بجے سے ساڑھے ۳ بجے تک بند رہتی ہیں، اس لیے یہ عورتیں گرے ہوئے شٹر کو اپنے دوپہر کے کھانے کی جگہ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_11.jpg


بھدیل کمیونٹی کی بلّی اپنا روز کا کھانا کھا رہی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_12.jpg


گوا کا سب سے اہم قیلولہ۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_13.jpg


ریتا کمارا کام کرنے والی بھدیل عورتوں میں سب سے عمر دراز ہیں؛ ان کی عمر تقریباً ۷۰ سال ہے۔ وہ روزانہ کا ڈوز، یعنی سستی بیڑی کو جلا رہی ہیں، بیڑی تیندو کے پتوں میں تمباکو بھر کر بنائی جاتی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_15.jpg


بعض بھدیل عورتوں کو چشمہ پہننے کی صلاح دی گئی ہے، لیکن کام کرتے وقت اسے پہننا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ ’’چشمہ میرے کام کے بیچ میں آ جاتا ہے،‘‘ پاؤلن المیڈا کہتی ہیں اور آرام سے اس چشمہ کو دن کے اخیر میں اس وقت پہن لیتی ہیں، جب انھیں گھر واپس جانے کی تیاری کرنی ہوتی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Sonia Filinto/Bhadels - the women porters of Goa/bhadel_14.jpg


سال ۲۰۱۱ میں، پرتگالی حکومت سے آزادی کے ۵۰ سال پورے ہونے کی یادگاری تقریب میں، گوا کی حکومت نے اُن بھدیل عورتوں کی خدمات کو تسلیم کیا، جو اس پیشہ سے ۲۵ سال سے جڑی ہوئی ہیں۔ انھیں اعزازیہ کے طور پر یک مشت ۲۵ ہزار روپے ملے۔ حالانکہ یہ عورتیں سینئر سٹیزن کو ملنے والی سرکاری پنشن اسکیم کے تحت پنشن کے لیے اپلائی کر سکتی ہیں، لیکن بھدیل پروقار عورتیں ہیں، جنہوں نے اب تک کسی بھی قسم کی مدد لینے سے کنارہ کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Sonia Filinto is a Mumbai-based media professional.

Other stories by Sonia Filinto