کولہاپور ضلع کے تاکواڑے گاؤں کے ماروتی نرمل ایک کسان اور مالی ہیں۔ وہ آٹھ گُنٹھا (۰ء۲ ایکڑ) زمین پر گنّے کی کھیتی کرتے ہیں؛ زمین ان کے والد راجا رام کے نام پر ہے۔

ماروتی کے پڑوسی بھی گنّا کی کھیتی کرتے ہیں، اور چونکہ ان کے کھیتوں کے بیچ کوئی مینڈ نہیں ہے، ماروتی کہتے ہیں، ’’کچھ وقت کے بعد جب پڑوس کے کھیت میں لگے گنّے جھک جاتے ہیں، تو یہ اپنے پاس کی فصلوں پر سایہ کر دیتے ہیں۔ اگر میں سویابین یا مونگ پھلی کی کھیتی کرتا ہوں، تو مینڈ کے پاس میری کچھ فصلیں مناسب دھوپ نہ ملنے سے اُگ نہیں پاتی ہیں۔ میرے پاس صرف ۰ء۲ ایکڑ کھیت ہے اور میں کسی بھی فصل کو کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔‘‘

گنّے سے انہیں بہت زیادہ منافع نہیں مل پاتا، کیوں کہ کھیت کا یہ ٹکڑا بہت چھوٹا ہے۔ کھیتی کی لاگت کے طور پر وہ تقریباً ۱۰ ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔ ماروتی نے ۲۰۱۵ میں ۷۰ ہزار روپے کی لاگت سے بورویل لگوایا تھا۔ اس کے اور بارش کے پانی سے، وہ آٹھ ٹن فصل اُگا لیتے ہیں؛ وہ اسے بازار میں ۲۷۰۰ روپے سے ۳۰۰۰ روپے فی ٹن کی قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں۔ ’’اگر سب کچھ ٹھیک رہا، تو میں گنّے کی کھیتی کی ۱۸ مہینے کی مدت میں زیادہ سے زیادہ ۱۴ ہزار روپے کما سکتا ہوں،‘‘ ماروتی کہتے ہیں۔

PHOTO • Sanket Jain

’ایک غریب کسان ہمیشہ غریب بنا رہے گا‘، تاکواڑے گاؤں کے ماروتی نرمل کہتے ہیں۔ ’میری کمائی تو دیکھئے‘

اس لیے، گزشتہ ۲۰ سال سے، ماروتی ایک مالی کے طور پر دوسری نوکری بھی کرتے ہیں؛ وہ تاکواڑے سے تقریباً سات کلومیٹر دور، ایچل کرنجی قصبہ کے چار گھروں میں مالی کا کام کرکے ۶۰۰۰ روپے ماہانہ کماتے ہیں۔

ماروتی کی آمدنی حاصل کرنے کی موجودہ حالت کافی محنت سے بنی ہے۔ وہ ۱۹۸۴ سے اگلے آٹھ برسوں تک، شیون کواڑی گاؤں کی ایک کتائی مل میں ۵ روپے یومیہ پر مزدوری کیا کرتے تھے۔ پھر، کچھ برسوں تک انہوں نے زرعی مزدور کے طور پر کام کیا۔ سال ۱۹۹۷ سے ۲۰۰۱ تک، وہ مہاراشٹر ریاست بجلی بورڈ کے مالی تھے، جہاں ان کی یومیہ مزدوری ۲۰ روپے تھے۔ ’’رقم کم تھی اور میں نے رہائشی علاقوں میں مالی کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں مجھے ۱۵۰ روپے یومیہ ملتے تھے۔ مجھے اس رقم سے خوشی محسوس ہوئی۔ اب میں ایک دن میں ۳۰۰ روپے کماتا ہوں۔ لیکن آج کے وقت میں یہ کافی نہیں ہے۔‘‘

ماروتی نے ۲۰۱۲ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے ۱ء۸ لاکھ روپے کا ایجوکیشن لون لیا تھا۔ ’’ہاتھ خالی ہونے کے باوجود، میں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو پڑھایا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ان کی بیٹی نے کامرس میں گریجویشن کیا اور اب شادی شدہ ہے۔ ماروتی کے بیٹے نے کولہاپور ضلع میں میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی، اور اب کرناٹک کےے بیلگام کی ایک کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔ ماروتی کی بیوی شوبھا ایک خاتونِ خانہ ہیں۔ ’’قرض پر سود اب میرے لیے ایک اور بڑا مسائلہ ہے،‘‘ ماروتی کہتے ہیں۔ فیملی نے ابھی تک ۳۲ ہزار روپے ہی چُکائے ہیں۔

متعدد کسانوں کو کئی کام کرنے ہیں، اور ایک متبادل ہے زرعی مزدوروں کے طور پر کام کرنا۔ ماروتی نے مالی کا کام چُنا، کیوں کہ وہ کہتے ہیں، انہیں باغبانی پسند ہے۔ ’’غریب کسان ہمیشہ غریب ہی بنا رہے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میری کمائی کو ہی دیکھ لیجئے۔ لیکن کسی بھی شخص کو اپنی پوری صلاحیت بروئے کار لانے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، بھلے ہی وقت کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔‘‘

تصویریں: سنکیت جین

اس اسٹوری کا ایک ورژن پہلی بار www.bastiyonkepaigam.in  پر شائع ہوا تھا۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sanket Jain

سنکیت جین، مہاراشٹر کے کولہا پور میں مقیم ایک آزاد دیہی صحافی اور پاری والنٹیئر ہیں۔

Other stories by Sanket Jain