استاد رنگریز، عبدالرشید کے پاس سب سے قیمتی شے ہے ایک کتاب، جو زندگی بھر استعمال میں رہنے کے سبب اب بوسیدہ ہو چکی ہے۔ یہ ’رنگوں کے کوڈز کی ایک ماسٹر بک‘ ہے – ایک ایسی حوالہ جاتی رہنما کتاب، جسے انہوں نے ۱۹۴۰ کی دہائی سے ہی ایک ایک صفحہ کرکے جمع کیا، جب انہوں نے روایتی کشمیری رنگائی کے کام کی شروعات کی تھی۔

ان کا ورکشاپ، عبدالرشید اینڈ سنز، پرانے سری نگری کی پرامن گلیوں میں واقع ہے۔ ۸۰ سال سے زیادہ عمر کے عبدالرشید، اپنے ہاتھوں میں کتاب لیے ایک کونے میں جھک کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہاں کا ایک دلچسپ المیہ ہے – بنا پلاسٹر والی ان اُداس دیواروں کے اندر دلکش رنگ بنائے جا چکے ہیں۔

صبح میں تقریباً ساڑھے ۱۰ بجے رنگائی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ریشم کے دھاگے کے صرف دو بنڈلوں کو رنگنے میں پورا دن لگ جاتا ہے۔ اس کی ابتدا دھاگے کی دھلائی سے ہوتی ہے، کیوں کہ، جیسا کہ رشید کہتے ہیں، ’’رنگائی تبھی اصلی ہوگی جب دھاگہ اصلی ہوگا۔ حقیقی خوبصورتی بھرنے کے لیے سب سے پہلے اس کی تمام گندگیوں کو صاف کرنا ضروری ہے۔‘‘

دھلائی کا کام پورا ہو جانے کے بعد، رشید کے سب سے بڑے بیٹے، تقریباً ۴۲ سالہ نوشاد – ان کا واحد بیٹا جو اس پیشہ میں ہے؛ ایک بیٹا قالین کے کاروبار میں ہے – ایک پرانا نظر آنے والے تانبہ کے برتن میں، گرم پانی میں گہرا پیلا رنگ ملاتے ہیں۔ تانبہ رنگ کو مستحکم بنانے میں مدد کرتا ہے۔ مقامی بازار سے خریدے گئے اس رنگ کو پورے احتیاط اور صفائی سے تھوڑا تھوڑا کرکے چھڑکا جاتا ہے، تاکہ پانی میں رنگ یکساں طور پر مل جائے۔ اس کے بعد دھاگے کو مٹی لکڑیوں سے لپیٹ دیا جاتا ہے، پھر رنگ والے پانی میں ڈبوکر دھیرے دھیرے چاروں طرف گھمایا جاتا ہے۔ اس عمل میں گھنٹوں لگتے ہیں کیوں کہ دھاگے کے ذریعے رنگ کو پوری طرح جذب کیا جانا ضروری ہے۔

رنگائی پوری ہو جانے کے بعد، نوشاد ایک دھاگہ نکال کر اسے آگے پر خشک کرتے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے کیا رنگ یکساں طور پر پکڑ چکا ہے۔ تصدیق کے لیے وہ اسے اپنے والد کو دکھاتے ہیں۔ والد اور بیٹے کے مطمئن ہو جانے کے بعد یہ عمل ختم ہو جاتا ہے۔ اگر وہ مطمئن نہیں ہیں، تو پانی میں تھوڑا اور رنگ یا بلیچ ملا کر دھاگے کو اس میں مزید کچھ وقت کے لیے رکھا جاتا ہے۔ عبدالرشید کا ماننا ہے کہ ہر دھاگے سے عظیم کام لیا جا سکتا ہے۔

آج صبح، ایسا لگتا ہے کہ رنگ پوری طرح چڑھ چکا ہے، لیکن سب سے اہم کام کرنا ابھی بھی باقی ہے۔ اور مناسب طور پر، اس کام کو رشید ہی کرتے ہیں۔ وہ ایک ’تیار ہو چکا‘ یا رنگا ہوا دھاگہ لیتے ہیں، اسے اپنی عزیز حوالہ جاتی رہنما کتاب کے ایک تازہ صفحہ پر چپکاتے ہیں، اور اپنے ہلتے ہوئے ہاتھوں سے تمام تفصیلات لکھتے ہیں۔

یہ دھیرے دھیرے مر رہی کشمیری رنگائی کا ہنر ہے، جس کی مشق ٹھنڈے موسم بہار، جما دینے والی سردیوں اور آرامدہ گرمیوں میں کی جاتی ہے۔ جب مانگ زیادہ ہوتی ہے – گاہک عام طور پر قالین اور شال کے بُنکر ہوتے ہیں، جو اس ورکشاپ میں اپنے دھاگوں کے بنڈل لے کر آتے ہیں – تو رنگائی کرنے والے دن میں ۱۲ گھنٹے کام کرتے ہیں، اور ۲۰-۲۵ ہزار روپے کے آس پاس ماہانہ کماتے ہیں۔ لیکن گرمیوں میں جب مانگ کم ہوتی ہے، تو وہ صرف ۱۰ گھنٹے ہی کام کرتے ہیں۔

حالانکہ، ایک چیز جو یہاں کبھی نہیں بدلتی، وہ رشید، نوشاد اور ان کے معاون مشتاق کی وابستگی ہے جو وہ اپنے کام کے تئیں دکھاتے ہیں۔ کبھی کبھی، مشتعل نعروں سے اس گلی کو صدمہ پہنچتا ہے، یا کرفیو لگنے سے کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن عبدالرشید اینڈ سنز اس بدامنی کو اپنے کام میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتے۔

اس بدلتے وقت میں ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بڑی مقدار میں رنگے ہوئے دھاگے کے تیار مال سے ہے، جو شال اور قالین بنانے والے بہت سے لوگوں کو مرغوب تو کرتی ہے، لیکن اس میں تیز رفتاری کے نام پر معاہدہ سے سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ رشید بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے رنگائی شروع کی تھی، تو یہ فن اپنے عروج پر تھا اور بے شمار کشمیری خاندان اس کام سے اپنے معاش کا انتظام کر سکتے تھے۔ لیکن آج، متعدد دستکاری کی طرح یہ بھی اپنے آخری موڑ پر ہے۔

’’بازار میں آسانی سے دستیاب چینی مصنوعات نے ان گھریلو صنعتوں کو برباد کر دیا ہے،‘‘ نوشاد کہتے ہیں۔ ’’میں اس پیشہ کو آگے بڑھانے والی آخری نسل ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے اس کام میں آئیں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ وادی سے باہر نکلیں، ڈگری حاصل کریں اور سفید پوشوں کی نوکری پائیں۔ یہ پیشہ میرے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔ اب اس میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘‘

رشید اور ان کا بیٹا اتنی محنت سے کیوں کام کرتے ہیں جب گاہک شال یا قالین خریدتے وقت رنگریزوں کے بارے میں سوچتے تک نہیں؟ عبدالرشید سے جب میں نے یہ سوال کیا، تو وہ مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنے لگے۔ وہ کھڑکی سے باہر کم ہوتی دھوپ کو دیکھتے ہیں اور جذباتی ہوکر مجھ سے کہتے ہیں کہ کوئی بھی سورج کی روشنی پر غور نہیں کرتا، لیکن ہر کوئی اس سے گرمی حاصل کرتا ہے۔ دن ڈھل رہا ہے، اور شاید اس سورج کا طلوع اب اس فیملی کے پیشہ پر دوبارہ نہیں ہوگا۔

PHOTO • Jayati Saha

عبدالرشید اینڈ سنز کو ۱۹۴۲ میں پرانے سری نگر کی ایک گلی میں قائم کیا گیا تھا۔

PHOTO • Jayati Saha

استاد رنگریز عبدالرشید، ۸۰ سال سے زیادہ کی عمر میں دھیرے دھیرے کام کرتے ہیں، اپنی ’رنگوں کے کوڈز کی ماسٹر بُک‘ ہمیں دکھاتے ہیں، جسے انہوں نے سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بڑی محنت سے جمع کیا ہے۔

PHOTO • Jayati Saha

’ماسٹر بُک‘ رنگائی کے بارے میں معلومات کا ایک خزانہ ہے، جس میں رنگوں، ان کے عناصر اور انہیں بنانے کے طریقوں کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔ اس کتاب میں رنگے ہوئے دھاگوں کی لڑیاں بھی نمونے کے طور پر چپکائی گئی ہیں۔

PHOTO • Jayati Saha

ان کے معاون مشتاق، رنگائی شروع ہونے سے پہلے دھاگے کو دھونے کے لیے تانبہ کے ایک بڑے برتن کو تازہ پانی سے بھرتے ہیں، اور یہ یقینی بناتے ہیں کہ دھاگہ ٹھیک سے ڈُبو اور بھگو دیا گیا ہے۔

PHOTO • Jayati Saha

تھوڑی دیر بعد رشید کے بیٹے نوشاد، برتن سے دھلا ہوا دھاگہ نکالتے ہیں، جب کہ دوسرے کو پانی سے بھرنے کے بعد آگ پر گرم کیا جاتا ہے۔

PHOTO • Jayati Saha

نوشاد ’رنگوں کے کوڈز کی ماسٹر بُک‘ میں اپنے والد کے ذریعے تحریر کی گئی معلومات کی بنیاد پر رنگ کے پاؤڈر کو تولتے ہیں۔

PHOTO • Jayati Saha

اس کے بعد خشک، رنگ کے پاؤڈر کو گرم پانی میں ملایا جاتا ہے۔

PHOTO • Jayati Saha

آگ پر یہ دھاگہ اس آمیزش میں ڈوب جاتا ہے اور دھیرے دھیرے رنگ پکڑنے لگتا ہے

PHOTO • Jayati Saha

کچھ وقت کے بعد – ۲۰ منٹ سے لے کر ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت تک، جو کہ اس بات پر منحصر ہے کہ صحیح رنگ چڑھنے میں کتنا وقت لگے گا – دھاگہ جب ٹھنڈا ہو جاتا ہے، تو نوشاد یہ یقینی بنانے کے لیے کہ رنگ یکساں طور پر چڑھ چکا ہے، ہر ایک دھاگے کی جانچ کرتے ہیں۔

PHOTO • Jayati Saha

نوشاد اور ان کے معاون دھاگے کو نکالتے ہیں اور اضافی پانی کو باہر پھینک دیتے ہیں۔

PHOTO • Jayati Saha

آخر میں، نوشاد دھاگے کی کچھ لڑیوں کو آگ کے سامنے خشک کرتے ہیں، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ان پر صحیح رنگ چڑھ چکا ہے۔ اگر رنگ ہلکا ہے، تو وہ عام طور پر دھاگے کو پانی میں دوبارہ ڈالتے ہیں اور اس میں رنگ کا تھوڑا اور پاؤڈر اور بلیچ ملاتے ہیں۔ یہ سارا کام ہاتھ سے کیا جاتا ہے اور طویل تجربات سے حاصل اندازوں پر منبی ہے۔ یہ تب تک دوہرایا جاتا ہے، جب تک کہ باپ بیٹا دونوں ہی مطمئن نہیں ہو جاتے۔

یہ فوٹو اسٹوری پہلی بار دسمبر ۲۰۱۶ میں ‘Classic Imaging’ میگزین میں شائع ہوئی تھی۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jayati Saha

جیتی ساہا کولکاتا کی ایک فوٹوگرافر ہیں، جن کا فوکس ہے دستاویزکاری اور سفر کے دوران فوٹوگرافی۔

Other stories by Jayati Saha