’’کیا آپ کے گاؤں میں بارش ہو رہی ہے؟‘‘ یہ کارا بھائی آل تھے، جو شمالی گجرات کے بناس کانٹھا ضلع سے فون پر بات کر رہے تھے۔ ’’یہاں پر بارش نہیں ہو رہی ہے۔‘‘ یہ گفتگو اس سال جولائی کے آخری ہفتہ میں ہو رہی تھی۔ ’’اگر بارش ہوتی ہے، تو ہم گھر جائیں گے،‘‘ انھوں نے آدھی امید کے ساتھ اپنا فیصلہ سنایا۔

وہ اس قدر فکرمند تھے کہ انھیں اس بات سے کوئی فرق پڑتا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ ۹۰۰ کلومیٹر دور، پونہ شہر کے ایک ایسے شخص سے بات کر رہے ہیں جو کسان نہیں ہے۔ کارا بھائی کی بارش پر پوری توجہ مانسون کی مرکزیت سے پیدا ہوتی ہے جس سے وہ اور ان کی فیملی زندہ رہنے کے لیے ہر سال مقابلہ کرتے رہتے ہیں۔

اپنے بیٹے، بہو، دو پوتے اور ایک بھائی اور اس کی فیملی کے ساتھ اپنی سالانہ ہجرت کے لیے، ۷۵ سالہ اس چرواہے کو اپنا گاؤں چھوڑے ۱۲ مہینے گزر چکے تھے۔ چودہ رکنی یہ گروپ اپنی ۳۰۰ سے زیادہ بھیڑوں، تین اونٹوں اور رات میں ان کے قافلہ کی نگرانی کرنے والا کُتّا – وِچِیو – کے ساتھ روانہ ہوا تھا۔ اور ان ۱۲ مہینوں میں انھوں نے اپنے جانوروں کے ساتھ کچھ، سریندر نگر، پاٹن اور بناس کانٹھا ضلعوں میں ۸۰۰ کلومیٹر سے زیادہ کی دوری طے کی تھی۔

گجرات کے تین خطوں سے ہوکر گزرنے والا ۸۰۰ کلومیٹر کا راستہ، جسے کارا بھائی آل کی فیملی ہر سال طے کرتا ہے۔ ماخذ: گوگل میپس

کارا بھائی کی بیوی، ڈوسی بائی، اور اسکول جانے والے ان کے سب سے چھوٹے پوتے پوتیاں کچھ، گجرات کے راپر تعلقہ کے جاٹاواڈہ گاؤں میں اپنے گھر پر ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس قبیلہ کا تعلق رباری برادری (اُس ضلع میں او بی سی کے طور پر فہرست بند) سے ہے۔ یہ لوگ اپنی بھیڑ بکریوں کے لیے چراگاہوں کی تلاش میں ہر سال ۸-۱۰ مہینے کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ خانہ بدوش چرواہے کا عام سال میں، دیوالی (اکتوبر-نومبر) کے فوراً بعد نکل جاتے ہیں اور جیسے ہی اگلا مانسون شروع ہونے والا ہوتا ہے، اپنے گھر لوٹ آتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بارش کے موسم کو چھوڑ کر، سال بھر چلتے رہتے ہیں۔ واپس لوٹنے کے بعد بھی، فیملی کے کچھ رکن اپنے گھروں کے باہر ہی رہتے ہیں اور بھیڑوں کو جاٹاواڈہ کے باہری علاقے میں چرانے لے جاتے ہیں۔ یہ مویشی گاؤں کے اندر نہیں رہ سکتے، انھیں کھلی جگہ اور چرنے کے لیے میدان کی ضرورت ہوتی ہے۔

’’مجھے لگا کہ گاؤں کے پٹیلوں نے ہمیں یہاں سے بھگانے کے لیے آپ کو بھیجا ہے۔‘‘ کارا بھائی کے یہی الفاظ تھے جب مارچ کے شروع میں ہم انھیں ڈھونڈتے ہوئے سریندر نگر ضلع کے گوانا گاؤں کے ایک خشک کھیت میں ان سے ملے۔ یہ جگہ احمد آباد شہر سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر دور ہے۔

ان کے شک کی وجہ تھی۔ وقت جب مشکل ہو جاتا ہے، جیسا کہ طویل مدتی خشک سالی کے دوران، تو زمینوں کے مالک ان چرواہوں اور ان کے مویشیوں کے جھنڈ کو اپنے علاقے سے بھگا دیتے ہیں – وہ اپنے خود کے مویشیوں کے لیے گھاس اور فصلوں کے ٹھونٹھ کو بچانا چاہتے ہیں۔

’’اس بار کا دُشکال [قحط] بہت ہی برا ہے،‘‘ کارا بھائی نے ہمیں بتایا تھا۔ ’’یہی وجہ ہے کہ ہم پچھلے سال آکھاڑ (جون-جولائی] کے مہینے میں راپر سے نکل گئے، کیوں کہ وہاں بارش نہیں ہوئی تھی۔‘‘ ان کے آبائی ضلع میں خشک سالی کی صورتحال نے انھیں وقت سے پہلے ہی اپنی سالانہ ہجرت پر روانہ ہونے کے لیے مجبور کر دیا تھا۔

’’جب تک مانسون شروع نہ ہو جائے، ہم اپنی بھیڑوں کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں۔ اگر بارش نہیں ہوئی، تو ہم گھر نہیں جاتے ہیں! مال دھاری کی یہی زندگی ہے،‘‘ انھوں نے ہمیں بتایا۔ ’مال دھاری‘ گجراتی کے دو الفاظ – مال (مویشی) اور دھاری (محافظ) – سے مل کر بنا ہے۔

’’گجرات کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں ۲۰۱۸-۱۹ کی خشک سالی اتنی خطرناک رہی کہ مویشی پروری کرنے والے جو لوگ تقریباً ۲۵ سال پہلے اپنے گاؤں میں بیٹھ گئے تھے، وہ بھی چراگاہوں، چارے اور ذریعہ معاش کی تلاش میں دوبارہ ہجرت کرنے لگے،‘‘ نیتا پانڈیا کہتی ہیں۔ وہ ایک غیر منافع بخش مال دھاری دیہی مہم گروپ (Maldhari Rural Action Group, MARAG)، احمد آباد کی بانی ہیں، جو ۱۹۹۴ سے ان چرواہوں کے درمیان سرگرم ہیں۔

PHOTO • Namita Waikar
PHOTO • Namita Waikar

آل فیملی کی ۳۰۰ بھیڑیں ایک بنجر زمین میں پھیلی ہوئی ہیں، جو کبھی زیرہ کا کھیت ہوا کرتا تھا، اور کارا بھائی (دائیں) اپنے گاؤں جاٹاواڈہ میں ایک دوست سے فون پر بات کرکے دریافت کر رہے ہیں کہ گھر پر سب کچھ ٹھیک ہے نا

اس مال دھاری فیملی کی رہائش گاہ، کچھ میں ۲۰۱۸ میں بارش صرف ۱۳۱ ملی میٹر ہوئی تھی، جب کہ کچھ کا ’عام‘ سالانہ اوسط ۳۵۶ ملی میٹر ہے۔ لیکن یہ کوئی من پسند سال نہیں تھا۔ اس ضلع میں مانسون ایک دہائی سے زیادہ وقت سے بے ترتیب رہا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۴ میں ضلع میں بارش گھٹ کر ۲۹۱ ملی میٹر تک پہنچ گئی، ۲۰۱۶ میں ۲۹۴ ملی میٹر ہوئی، لیکن ۲۰۱۷ میں بڑھ کر ۴۹۳ ملی میٹر ہو گئی۔ چار دہائی پہلے – ۱۹۷۴-۷۸ – اسی قسم کی پانچ سالہ مدت ایک تباہ کن سال (۱۹۷۴ میں ۸۸ ملی میٹر) اور چار سلسلہ وار برسوں کو دکھاتی ہے، جس میں بارش ’عام‘ اوسط سے اوپر رہی۔

ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک آن ڈیمس، ریورس اینڈ پیوپل (South Asia Network on Dams, Rivers and People) کے ہمانشو ٹھکّر ۲۰۱۸ کی رپورٹ بعنوان ’برسوں کی غلط ترجیحات میں پوشیدہ گجرات کا آبی بحران‘ میں لکھتے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں میں، ریاست کی سلسہ وار حکومتوں نے نرمدا باندھ کے کام کو کچھ، سوراشٹر اور شمالی گجرات کے خشک زدہ علاقوں کی لائف لائن کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ حالانکہ، زمینی سطح پر ان علاقوں کو سب سے کم ترجیح دی جاتی ہے۔ انھیں شہری علاقوں، صنعتوں اور وسطی گجرات کے کسانوں کی ضروریات پوری ہو جانے کے بعد ہی صرف بچا ہوا پانی ملتا ہے۔

’’نرمدا کے پانی کا استعمال ان علاقوں کے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے کیا جانا چاہیے،‘‘ ٹھکّر نے ہمیں فون پر بتایا۔ ’’کوئیں میں پانی کے دوبارہ بھرنے اور چھوٹے باندھ کے لیے ماضی میں اپنائے گئے پروگراموں کو پھر سے شروع کیا جانا چاہیے۔‘‘

مال دھاری اپنے مویشیوں کو کھلانے کے لیے عوامی چراگاہ اور گاؤں کے گھاس کے میدانوں پر منحصر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کے پاس زمین نہیں ہے اور جن کے پاس ہے، وہ بارش پر منحصر فصلیں اُگاتے ہیں جیسے کہ باجرا، جس سے انھیں کھانا اور ان کے مویشیوں کو چارہ ملتا ہے۔

’’ہم دو دن پہلے یہاں آئے تھے اور آج واپس جا رہے ہیں۔ یہاں [ہمارے لیے] بہت زیادہ کچھ نہیں ہے،‘‘ کارا بھائی نے زیرہ کے ایک خالی پڑے کھیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، مارچ میں کہا تھا۔ یہ خشک اور بہت گرم بھی تھا۔ ۱۹۶۰ میں، جب کارا بھائی نوعمر تھے، تو سریندر نگر ضلع میں سال کے تقریباً ۲۲۵ دنوں میں درجہ حرارت ۳۲ ڈگری سیلسیس کے پار چلا جاتا تھا۔ آج ایسے دنوں کی تعداد ۲۷۴ یا اس سے زیادہ ہوگی، یعنی ۵۹ برسوں میں کم از کم ۴۹ گرم دنوں کا اضافہ – نیویارک ٹائمز کے ذریعے اس سال جولائی میں آن لائن شائع، ماحولیات اور گلوبل وارمنگ پر ایک انٹریکٹو آلہ سے نکالے گئے اعداد و شمار سے یہی پتہ چلتا ہے۔

سریندر نگر، جہاں ہم ان چرواہوں سے ملے، وہاں کے ۶۳ فیصد سے زیادہ کام کاجی لوگ زرعی کام کرتے ہیں۔ پورے گجرات میں یہ تعداد ۴۹ء۶۱ فیصد ہے۔ یہاں اُگائی جانے والی عام فصلیں ہیں کپاس، زیرہ، گیہوں، باجرا، دائیں، مونگ پھلی اور ارنڈی۔ کٹائی کے بعد ان کی فصل کا ٹھونٹھ بھیڑوں کے لیے اچھا چارہ ہوتا ہے۔

سال ۲۰۱۲ میں کی گئی جانوروں کی گنتی کے مطابق، گجرات کے ۳۳ ضلعوں میں کل ۱۷ لاکھ بھیڑوں کی آبادی میں سے اکیلے کچھ میں ۵ لاکھ ۷۰ ہزار یا اس سے زیادہ بھیڑیں ہیں۔ ضلع کے واگڑ ذیلی خطہ میں، جہاں سے کارا بھائی آتے ہیں، ان کے جیسے تقریباً ۲۰۰ رباری کنبے ہیں جو ہر سال کل ۳۰ ہزار بھیڑوں کے ساتھ اُس ۸۰۰ کلومیٹر کی دوری کو طے کرتے ہیں، یہ کہنا ہے کہ اس گروپ کے ساتھ کام کر رہے غیر منافع بخش MARAG کا۔ وہ اپنے گھروں سے ہمیشہ ۲۰۰ کلومیٹر کے دائرے میں چلتے ہیں۔

روایتی طور پر، مویشیوں کے یہ جھُنڈ اپنے گوبر اور پیشاب سے کھیتوں میں فصل کٹائی کے بعد کھاد فراہم کرتے تھے۔ بدلے میں، کسان اِن چرواہوں کو باجرا، چینی اور چائے دیا کرتے تھے۔ لیکن ماحولیات کی طرح ہی، باہمی طور پر مفید صدیوں پرانا یہ رشتہ اب سنگین تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔

’’آپ کے گاؤں میں کٹائی ہو چکی ہے؟‘‘ کارا بھائی پاٹن ضلع کے گووند بھروَڈ سے پوچھتے ہیں۔ ’’کیا ہم اُن کھیتوں میں رُک سکتے ہیں؟‘‘

’’آپ کے گاؤں میں کٹائی ہو چکی ہے؟‘‘ کارا بھائی نے گووِند بھروَڈ سے پوچھا، جو ہمارے ساتھ موجود تھے۔ ’’کیا ہم اُن کھیتوں میں رُک سکتے ہیں؟‘‘

’’وہ دو دنوں کے بعد فصل کاٹیں گے،‘‘ گووِند کہتے ہیں، جو MARAG ٹیم کے رکن اور پاٹن ضلع کے سامی تعلقہ کے دھنورا گاؤں کے ایک کسان اور مویشی پرور ہیں۔ ’’اس بار، مال دھاری لوگ کھیتوں سے گزر تو سکتے ہیں، لیکن ٹھہر نہیں سکتے۔ یہ ہماری پنچایت کا فیصلہ ہے، کیوں کہ یہاں پانی اور چارے کی بھاری کمی ہے۔‘‘

یہی وہ جگہ ہے جہاں سے کارا بھائی اور ان کی فیملی آگے چل پڑی – پاٹن کی طرف۔ گھر لوٹنے سے پہلے، وہ تین اہم علاقوں: کچھ، سوراشٹر، اور شمالی گجرات کا چکر لگا چکے ہوں گے۔

بدلتے موسم اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے درمیان، ایک چیز جو ہمیشہ مستحکم رہتی ہے، وہ ہے ان کی مہمان نوازی – راستے میں بنائے گئے ان کے عارضی گھروں میں بھی۔ کارا بھائی کی بہو، ہیرا بین آل نے فیملی کے لیے باجرے کی روٹیوں کا ڈھیر لگایا تھا اور سبھی کے لیے گرم چائے بنائی تھی۔ آپ نے کہاں تک پڑھائی کی ہے؟ ’’میں خود کبھی اسکول نہیں گئی،‘‘ انھوں نے جواب دیا اور برتن دھونے میں مصروف ہو گئیں۔ جتنی بار وہ کھڑی ہوئیں، فیملی کے بزرگوں کی موجودگی کے سبب انھوں نے اپنی کالی چُنری سے گھونگھٹ کر لیا، اور کام کرنے کے لیے زمین پر بیٹھتے ہی اپنے چہرے سے چُنری (دوپٹّہ) ہٹا لیا۔

فیملی کی بھیڑیں مارواڑ نسل کی ہیں، جن کا آبائی علاقہ گجرات اور راجستھان ہے۔ ایک سال میں، وہ تقریباً ۲۵ سے ۳۰ مینڈھے بیچتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو تقریباً ۲-۳ ہزار روپے میں۔ بھیڑ کا دودھ ان کے لیے آمدنی کا ایک اور ذریعہ ہے، حالانکہ اس جھنڈ سے آمدنی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ کارا بھائی کہتے ہیں کہ ۲۵-۳۰ بھیڑیں انھیں روزانہ تقریباً ۹-۱۰ لیٹر دودھ دیتی ہیں۔ مقامی چھوٹی ڈیریوں سے فی لیٹر کے تقریباً ۳۰ روپے ملتے ہیں۔ فروخت ہونے سے بچ گئے دودھ سے یہ فیملی چھاچھ بنا لیتی ہے اور اس سے نکلنے والے مکھن سے گھی۔

’’گھی پیٹ ما چھے! [گھی پیٹ میں ہے!]‘‘ کارا بھائی مزے سے کہتے ہیں۔ ’’اس گرمی میں چلنے سے پیر جل جاتے ہیں، اس لیے اسے کھانے سے مدد ملتی ہے۔‘‘

اون بیچنے کے بارے میں کیا؟ ’’دو سال پہلے تک، لوگ ہر ایک جانور کا اون ۲ روپے میں خریدتے تھے۔ اب کوئی بھی اسے خریدنا نہیں چاہتا۔ اون ہمارے لیے سونے جیسا ہے، لیکن ہمیں اسے پھینکنا پڑتا ہے،‘‘ کارا بھائی نے اُداسی سے کہا۔ ان کے لیے اور لاکھوں دیگر چرواہوں، بے زمینوں، چھوٹے اور معمولی کسانوں کے لیے، بھیڑ (اور بکریاں) ان کی دولت اور ان کے معاش کا مرکز ہیں۔

PHOTO • Namita Waikar

۱۳ سالہ پربھو والا آل اگلے سفر کے لیے اونٹ کو تیار کر رہے ہیں، جب کہ ان کے والد والا بھائی (دائیں) بھیڑ کو گھیرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس درمیان پربھو والا کی ماں، ہیرا بین (نیچے بائیں) چائے پینے کے لیے وقفہ لیتی ہے، جب کہ کارا بھائی (بالکل دائیں) مردوں کو آگے چلنے کے لیے تیار کرتے ہیں

ہندوستان میں ۲۰۰۷ اور ۲۰۱۲ کی مویشیوں کی گنتی کے درمیان کے پانچ برسوں میں بھیڑوں کی تعداد میں ۶ ملین سے زیادہ کی کمی آئی – ۷۱ء۶ ملین سے گھٹ کر ۶۵ ملین پر پہنچ گئی۔ یہ ۹ فیصد کی گراوٹ ہے۔ گجرات میں بھی تیزی سے گراوٹ آئی ہے، جہاں تقریباً ۳ لاکھ کی کمی ہونے کے بعد اب یہ تعداد صرف ۱ء۷ ملین رہ گئی ہے۔

کچھّ میں بھی کمی دیکھنے کو ملی، لیکن یہاں پر اس جانور نے نسبتاً بہتر مظاہرہ کیا ہے، جو کہ شاید مال دھاریوں کے ذریعے بہتر دیکھ بھال کا نتیجہ ہے۔ یہاں پر ۲۰۰۷ کے مقابلے ۲۰۱۲ میں تقریباً ۴۲۰۰ کم بھیڑیں تھیں۔

مویشیوں کی ۲۰۱۷ کی گنتی کے اعداد و شمار چھ مہینے تک باہر نہیں آئیں گے، لیکن کارا بھائی کا کہنا ہے کہ وہ گراوٹ کی فطرت کو دیکھ رہے ہیں اور بھیڑوں کی تعداد میں کمی کے کئی ملے جلے اسباب بتاتے ہیں۔ ’’جب میں ۳۰ سال کا تھا، تو آج سے کہیں زیادہ گھاس اور پیڑ پودے ہوا کرتے تھے، بھیڑوں کو چرانے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اب جنگل اور درخت کاٹے جا رہے ہیں، اور گھاس کے میدان سکڑ رہے ہیں، چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ گرمی بھی بہت زیادہ ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، اور بے ترتیب موسم اور ماحولیاتی تبدیلی کے لیے انسانی سرگرمیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

’’خشک سالی کے دنوں میں جیسے ہمیں پریشانی ہوتی ہے، ویسے ہی بھیڑیں بھی پریشانی جھیلتی ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’گھاس کے میدانوں کے سکڑنے کا مطلب ہے کہ انھیں گھاس اور چارے کی تلاش میں اور بھی زیادہ چلنا اور بھٹکنا ہوگا۔ بھیڑوں کی تعداد بھی شاید کم ہو رہی ہے، کیوں کہ کچھ کمانے کے لیے لوگ زیادہ جانوروں کو بیچ رہے ہوں گے۔‘‘

اپنے جھنڈ کے لیے گھاس کے میدان اور چراگاہوں کے سکڑنے کے بارے میں ان کی بات صحیح ہے۔ سینٹر فار ڈیولپمنٹ الٹرنیٹوز، احمد آباد کی پروفیسر اندرا ہیروے کے مطابق، گجرات میں تقریباً ۴ء۵ فیصد زمین چراگاہ یا گھاس کی زمین ہے۔ لیکن سرکاری ڈیٹا، جیسا کہ وہ بتاتی ہیں، ان زمینوں پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضے کو وجہ نہیں مانتا۔ اس لیے اصل تصویر چھپی رہتی ہے۔ مارچ ۲۰۱۸ میں، سرکار نے اس سے متعلق سوالوں کے جواب میں ریاستی اسمبلی کے اندر یہ قبول کیا تھا کہ ۳۳ ضلعوں میں ۴۷۲۵ ہیکٹیئر گوچر (چراگاہ) کی زمین پر قبضہ ہوا ہے۔ حالانکہ کچھ ممبرانِ اسمبلی نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ڈیٹا بہت ہی کم کرکے پیش کیا گیا ہے۔

خود سرکار نے مانا تھا کہ ۲۰۱۸ میں، ریاست کے اندر ۲۷۵۴ گاؤوں ایسے تھے جہاں چراگاہ کی زمین بالکل بھی نہیں تھی۔

گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے صنعتوں کو سونپی گئی زمین میں بھی اضافہ ہوا ہے – اس میں سے کچھ زمین ریاست کے ذریعے تحویل میں لی گئی۔ اس نے ۱۹۹۰ اور ۲۰۰۱ کے درمیان، اکیلے ایس ای زیڈ کے لیے صنعتوں کو ۴۶۲۰ ہیکٹیئر زمین سونپ دی گئی۔ ایسی زمین ۲۰۰۱-۲۰۱۱ کی مدت کے آخر تک بڑھ کر ۲۱۳۰۸ ہیکٹیئر ہو گئی تھی۔

PHOTO • Namita Waikar
PHOTO • Namita Waikar

کارا بھائی، جاٹاواڈہ جانے والی سڑک پر اور (دائیں) اُس گاؤں میں آل فیملی کے گھر کے باہر اپنی بیوی، ڈوسی بائی آل اور پڑوسی، رتنا بھائی دھاگل کے ساتھ

واپس سریندر نگر میں، مارچ میں، دن کا درجہ حرارت جیسے ہی بڑھا، کارا بھائی نے مردوں سے اپیل کی، ’’دوپہر ہونے کو ہے، آ جاؤ، چلنا شروع کرتے ہیں!‘‘ مردوں نے آگے چلنا شروع کیا اور بھیڑیں ان کے پیچھے آنے لگیں۔ ساتویں کلاس تک اسکول جا چکا کارا بھائی کے گروپ کا واحد رکن، ان کا ۱۳ سالہ پوتا، پربھو والا، کھیت کے کنارے لگی جھاڑیوں کو پیٹتا ہے اور وہاں گھوم رہی بھیڑوں کو ہانک کر جھنڈ میں لے آتا ہے۔

تین عورتوں نے رسی کی چارپائی، اسٹیل کے دودھ کے ڈبے اور دیگر سامان باندھے۔ پربھو والا نے دور کے ایک درخت سے بندھے اونٹ کو کھولا اور اُس جگہ لے آیا جہاں اس کی ماں، ہیرا بین نے اپنے سفر کا گھر اور باورچہ خانہ اکٹھا کر لیا تھا، تاکہ یہ سارا سامان اونٹ کی پیٹھ پر لادا جا سکے۔

پانچ مہینے بعد، اگست کے وسط میں، ہم کارا بھائی سے دوبارہ راپر تعلقہ میں سڑک پر ملے اور جاٹاواڈہ گاؤں میں واقع ان کے گھر گئے۔ ’’۱۰ سال پہلے تک میں بھی فیملی کے ساتھ سفر کرتی تھی،‘‘ ان کی بیوی، ۷۰ سالہ ڈوسی بائی آل نے ہمیں بتایا اور سبھی کے لیے چائے بنائی۔ ’’بھیڑ اور بچے ہماری دولت ہیں۔ ان کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کی جانی چاہیے، یہی میں چاہتی ہوں۔‘‘

ان کے ایک پڑوسی، بھیا جی مکوان شکایت کرنے لگے کہ سوکھا اب اکثر و بیشتر پڑنے لگا ہے۔ ’’اگر پانی نہیں ہے، تو ہم گھر نہیں لوٹ سکتے۔ گزشتہ چھ برسوں میں، میں صرف دو بار گھر آیا۔‘‘

ایک اور پڑوسی، رتنا بھائی دھاگل نے دوسرے چیلنجز کے بارے میں بتایا، ’’میں دو سال کے سوکھے کے بعد گھر لوٹا اور پایا کہ سرکار نے ہماری گوچر زمین کو چاروں طرف سے گھیر دیا تھا۔ ہم دن بھر گھومتے ہیں لیکن ہمارے مال کو مکمل گھاس نہیں مل پاتی ہے۔ ہم کیا کریں؟ انھیں چرانے لے جائیں یا قید کر دیں؟ مویشی پروری واحد کام ہے جو ہم جانتے ہیں اور اسی پر زندگی بسر کرتے ہیں۔‘‘

’’خشک سالی کے سبب کافی تکلیف برادشت کرنی پڑتی ہے،‘‘ کارا بھائی کہتے ہیں، جو بے ترتیب موسم اور ماحولیاتی تبدیلی میں اضافہ سے تھک چکے ہیں۔ ’’کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور جانوروں، یا پرندوں کے لیے بھی پانی نہیں ہے۔‘‘

اگست میں ہوئی بارش نے انھیں تھوڑی راحت دی۔ توسیع شدہ آل خاندان کے پاس مشترکہ طور پر تقریباً آٹھ ایکڑ بارش پر منحصر زمین ہے، جس پر انھوں نے باجرا بویا ہے۔

مویشیوں کے چرنے اور چرواہوں کی ہجرت کے عمل کو کئی اسباب کے مجموعہ نے متاثر کیا ہے – جیسے کہ ریاست میں ناکام یا ناکافی مانسون، مسلسل خشک سالی، سکڑتے گھاس کے میدان، تیزی سے صنعت کاری اور شہری کاری، جنگلات کی کٹائی اور چارہ اور پانی کی دستیابی میں کمی۔ مال دھاریوں کی زندگی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ان میں سے کئی اسباب موسم اور ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ بالآخر، ان گروہوں کی آمد و رفت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے، اور وہ اس شیڈول کو بدل رہے ہیں جس پر انھوں نے صدیوں تک عمل کیا ہے۔

’’ہماری تمام پریشانیوں کے بارے میں لکھنا،‘‘ کارا بھائی وداع ہوتے وقت کہتے ہیں، ’’اور ہم دیکھیں گے کہ کیا اس سے کوئی تبدیلی آتی ہے۔ اگر نہیں، تو بھگوان تو ہے ہی۔‘‘

مضمون نگار اس اسٹوری کو رپورٹ کرنے میں احمد آباد اور بھُج کے مال دھاری دیہی مہم گروپ (MARAG) کی ٹیم کا ان کی مدد اور زمینی تعاون فراہم کرنے کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

نمیتا وائیکر ایک قلم کار، مترجم اور پاری کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ وہ ایک کیمسٹری ڈاٹابیسز فرم کی پارٹنر ہیں، اور ایک بایو کیمسٹ اور سوفٹ ویئر پروجیکٹ منیجر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔

Other stories by Namita Waikar