صاف آسمان اور کھلی ہوئی دھوپ میں ایک دن، ۳۹ سالہ سنیتا رانی تقریباً ۳۰ خواتین کے ایک گروپ سے بات کر رہی ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل کر غیر معینہ ہڑتال پر بیٹھنے کے لیے آمادہ کر رہی ہیں۔ ’’کام پکّا، نوکری کچی،‘‘ سنیتا آواز لگاتی ہیں۔ ’’نہیں چلے گی، نہیں چلے گی،‘‘ باقی عورتیں ان کے پیچھے آواز لگاتی ہیں۔

سونی پت شہر میں، دہلی-ہریانہ شاہراہ سے ملحق سول اسپتال کے باہر گھاس کے ایک میدان میں سرخ کپڑوں میں – ہریانہ میں یہی کپڑا ان کی وردی ہے – یہ عورتیں ایک دری پر بیٹھی ہیں اور سنیتا کو سن رہی ہیں، جو انہیں ان مصیبوں کی فہرست سنا رہی ہیں جسے وہ سبھی اچھی طرح سے جانتی ہیں۔

یہ تمام خواتین آشا کارکن ہیں، یعنی منظور شدہ سماجی صحت کارکن، جو قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کی پیدل سپاہی ہیں اور ہندوستان کی دیہی آبادی کو ملک کے صحت عامّہ کے نظام سے جوڑنے والی ایک اہم کڑی ہے۔ ملک بھر میں ۱۰ لاکھ سے زیادہ آشا کارکن ہیں، اور وہ اکثر صحت سے متعلق کسی بھی ضرورت اور ناگہانی حالات میں دستیاب پہلی طبی خدمات مہیا کرنے والی کارکن ہیں۔

انہیں ۱۲ بنیادی اور ۶۰ سے زیادہ ذیلی کام کرنے پڑتے ہیں، جس میں غذائیت، صفائی اور میعادی امراض کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے لے کر تپ دق کے مریضوں کے علاج کی نگرانی اور صحت سے متعلق اشاریوں کا ریکارڈ رکھنا شامل ہے۔

وہ یہ سبھی اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کاموں کو انجام دیتی ہیں۔ لیکن، سنیتا کہتی ہیں، ’’ان سب کے پیچھے وہ چیز چھوٹ جاتی ہے، جس کے لیے ہم واقعی میں تربیت یافتہ ہیں – یعنی زچہ اور بچہ کی صحت کے اعداد و شمار میں بہتری لانا۔‘‘ سنیتا سونی پت ضلع کے ناتھوپور گاؤں میں کام کرتی ہیں، اور گاؤں کی ان تین آشا کارکنوں میں سے ایک ہیں جن کے اوپر ۲۹۵۳ لوگوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری ہے۔

ASHA workers from Sonipat district on an indefinite strike in March; they demanded job security, better pay and a lighter workload
PHOTO • Pallavi Prasad

سونی پت ضلع کی آشا کارکن مارچ میں غیر معینہ ہڑتال پر؛ انہوں نے نوکری کی سلامتی، بہتر تنخواہ اور کام کے ہلکے بوجھ کا مطالبہ کیا

زچگی سے قبل اور زچگی کے بعد کی نگہداشت کرنے کے علاوہ، آشا عوامی صحت کارکن ہیں، جو حکومت کی فیملی پلاننگ کی پالیسیوں، مانع حمل اور دو حمل کے درمیان فرق کی اہمیت کے بارے میں بیداری مہم بھی چلاتی ہیں۔ سال ۲۰۰۶ میں جب آشا پروگرام کا آغاز ہوا تھا، تبھی سے انہوں نے نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کو کم کرنے میں مرکزی رول نبھایا ہے اور اسے ۲۰۰۶ میں فی ۱۰۰۰ زندہ پیدائشوں پر ۵۷ اموات سے گھٹاکر ۲۰۱۷ میں ۳۳ اموات کر دیا تھا۔ سال ۲۰۰۵-۰۶ سے ۲۰۱۵-۱۶ کے درمیان، زچگی سے قبل کی نگہداشت کے لیے گھروں کے چار یا اس سے زیادہ دورے ۳۷ فیصد سے بڑھ کر ۵۱ فیصد ہو گئے، اور ادارہ جاتی زچگی ۳۹ فیصد سے بڑھ کر ۷۹ فیصد ہو گئی تھی۔

’’ہم نے جو اچھا کام کیا ہے اور جو کچھ کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ ہمیں لگاتار سروے فارم بھی بھرنے ہوتے ہیں،‘‘ سنیتا آگے کہتی ہیں۔

’’ہمیں روزانہ ایک نئی رپورٹ جمع کرنی ہوتی ہے،‘‘ جکھولی گاؤں کی ایک آشا کارکن، ۴۲ سالہ نیتو (بدلا ہوا نام) کہتی ہیں۔ ’’ایک دن اے این ایم [معاون نرس دائی، جسے آشا کارکن رپورٹ کرتی ہیں] ہمیں ان سبھی خواتین کا سروے کرنے کے لیے کہتی ہے جنہیں زچگی سے قبل نگہداشت کی ضرورت ہے، اگلے دن ہم ادارہ جاتی زچگی کی تعداد کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہیں، اس کے اگلے دن ہمیں [کینسر، ذیابیطس اور امراض قلب پر کنٹرول کے قومی پروگرام کے حصہ کے طور پر] ہر کسی کے بلڈ پریشر کا ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد والے دن ہمیں الیکشن کمیشن کے لیے بوتھ سطح کے افسر کا سروے کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔‘‘

نیتو کا اندازہ ہے کہ ۲۰۰۶ میں جب وہ مامور ہوئی تھیں، تب سے انہوں نے اس کام میں کم از کم ۷۰۰ ہفتے لگائے ہیں، اور چھٹی صرف بیماری کی حالت میں یا تہواروں پر ہی ملی ہے۔ ان کے چہرے سے تکان صاف جھلک رہی ہے، حالانکہ ۸۲۵۹ لوگوں کی آبادی والے ان کے گاؤں میں نو آشا کارکن ہیں۔ وہ ہڑتال کی جگہ پر ایک گھنٹے بعد پہنچی تھیں، اینیمیا بیداری مہم ختم کرنے کے بعد۔ دروازے دروازے جاکر کرنے والے کاموں کی ایک طویل فہرست ہے جس کے لیے آشا کارکنوں کو کسی بھی وقت کہا جا سکتا ہے، جیسے کہ گاؤں میں کل کتنے گھر پختہ بنے ہوئے ہیں ان کا شمار کرنا، کسی برادری کے پاس موجود گایوں اور بھینسوں کی گنتی کرنا وغیرہ۔

’’۲۰۱۷ میں میرے آشا کارکن بننے کے صرف تین برسوں کے اندر میرا کام تین گنا بڑھ گیا ہے – اور ان میں سے تقریباً سبھی کام کاغذ پر کرنے ہوتے ہیں،‘‘ ۳۹ سالہ آشا کارکن، چھوی کشیپ کا کہنا ہے، جو سول اسپتال سے ۸ کلومیٹر دور اپنے گاؤں، بہل گڑھ سے اس ہڑتال میں شریک ہونے آئی ہیں۔ ’’جب حکومت کے ذریعے ہم پر تھوپا گیا ہر نیا سروے پورا ہو جاتا ہے، تبھی ہم اپنا اصلی کام شروع کرتے ہیں۔‘‘

'We don’t even have time to sit on a hartal,' says Sunita Rani; at meetings, she notes down (right) the problems faced by co-workers
PHOTO • Pallavi Prasad
'We don’t even have time to sit on a hartal,' says Sunita Rani; at meetings, she notes down (right) the problems faced by co-workers
PHOTO • Pallavi Prasad

’ہمارے پاس تو ہڑتال پر بیٹھنے کا وقت بھی نہیں ہے،‘ سنیتا رانی کہتی ہیں؛ میٹنگوں میں، وہ ساتھی کارکنوں کو درپیش مسائل (نیچے) کو نوٹ کرتی ہیں

شادی کے ۱۵ سال بعد تک، چھوی اپنے گھر سے اکیلے کبھی باہر نہیں نکلی تھیں، اسپتال کے لیے بھی نہیں۔ ۲۰۱۶ میں جب آشا سے وابستہ ایک عورت ان کے گاؤں آئی اور آشا کارکنوں کے ذریعے انجام دیے جانے والے کاموں پر ایک ورکشاپ منعقد کی، تو چھوی نے بھی اپنا نام درج کروانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان ورکشاپوں کے بعد، اس سے ملحق عملہ ۱۸ سے ۴۵ سال کی ایسی تین شادہ شدہ عورتوں کے ناموں کی فہرست بناتا ہے جنہوں نے کم از کم ۸ویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ہو اور جو صحت عامہ کی رضاکاروں کے طور پر کام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔

چھوی کی اس میں دلچسپی تھی اور وہ اہل بھی تھیں، لیکن ان کے شوہر نے کہا کہ نہیں۔ وہ بہل گڑھ میں اندرا کالونی کے ایک پرائیویٹ اسپتال کی نرسنگ اسٹاف ٹیم میں ہیں، اور ہفتہ میں دو دن رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں۔ ’’ہمارے دو بیٹے ہیں۔ میرے شوہر اس بات کو لے کر فکرمند تھے کہ اگر ہم دونوں ہی کام کے لیے باہر چلے جائیں گے، تو ان کی نگہداشت کون کرے گا،‘‘ چھوی بتاتی ہیں۔ کچھ مہینے بعد، جب پیسے کی تنگی ہونے لگی، تو انہوں نے اپنی بیوی کو نوکری کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے اگلی تقرری مہم کے دوران درخواست دی اور گاؤں کی گرام سبھا کے ذریعے جلد ہی ان کی تصدیق بہل گڑھ کے ۴۱۹۶ باشندوں کے لیے پانچ آشا کارکنوں میں سے ایک کے طور پر کر دی گئی۔

’’ایک جوڑے کے طور پر، ہمارا ایک ہی اصول ہے۔ اگر وہ رات کی ڈیوٹی پر ہیں، اور مجھے فون آتا ہے کہ کسی عورت کو دردِ زہ ہو رہا ہے اور اسے اسپتال لے جانے کی ضرورت ہے، تو میں بچوں کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔ میں یا تو ایمبولینس کو کال کرتی ہوں یا کسی دوسری آشا کارکن کو یہ کام کرنے کے لیے کہتی ہوں،‘‘ چھوی بتاتی ہیں۔

حاملہ خواتین کو زچگی کے لیے اسپتال پہنچانا ان مختلف کاموں میں سے ایک ہے، جو آشا کارکنوں کو ہر ہفتے کرنا پڑتا ہے۔ ’’پچھلے ہفتے، مجھے مدت پوری کر چکی ایک خاتون کا فون آیا کہ اسے دردِ زہ ہو رہا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ میں اسے اسپتال لے جاؤں۔ لیکن میں نہیں جا سکتی تھی،‘‘ سونی پت کی رائے تحصیل کے باڑھ خالصہ گاؤں کی ایک آشا کارکن، شیتل (بدلا ہوا نام) بتاتی ہیں۔ ’’اسی ہفتے، مجھے آیوشمان کیمپ چلانے کے لیے کہا گیا،‘‘ ۳۲ سالہ شیتل، آیوشما بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ کیمپ میں سرکار کی صحت اسکیم کے لیے اہل اپنے گاؤں کی سبھی خواتین کے فارم اور ریکارڈ کے ساتھ اٹکی ہوئی، وہ جس اے این ایم کو رپورٹ کرتی ہیں اس کی طرف سے انہیں ہدایت ملی تھی کہ انہیں باقی سارے کام کو پیچھے چھوڑ آیوشمان یوجنا کے کام کو ترجیح دینی ہے۔

’’میں نے [حاملہ] خاتون کے ساتھ تبھی سے اعتماد قائم کرنے کے لیے سخت محنت کی تھی، جب وہ دو سال پہلے شادی کرکے گاؤں آئی تھی۔ میں ہر موقع پر اس کے ساتھ ہوا کرتی تھی – اس کی ساس کو منانے، کہ وہ مجھے فیملی پلاننگ کے بارے میں اسے سمجھانے کی اجازت دے، سے لے کر اسے اور اس کے شوہر کو یہ سمجھانے تک کہ وہ بچے پیدا کرنے کے لیے دو سال تک انتظار کریں، اور پھر اس کے حاملہ ہونے کی پوری مدت کے دوران تک۔ مجھے اس کے پاس ہونا چاہیے تھا،‘‘ شیتل کہتی ہیں۔

اس کے بجائے، انہوں نے فون پر آدھے گھنٹے تک اس فکرمند فیملی کو دلاسہ دینے کی کوشش کی، جو ان کے بغیر ڈاکٹر کے پاس جانے کو تیار نہیں تھی۔ آخر میں، وہ اس ایمبولینس میں گئے، جس کا انتظام انہوں نے کر دیا تھا۔ ’’ہم جو اعتماد بحال کرتے ہیں، اس میں رخنہ پڑ جاتا ہے،‘‘ سنیتا رانی کہتی ہیں۔

'In just three years, since I became an ASHA in 2017, my work has increased three-fold', says Chhavi Kashyap
PHOTO • Pallavi Prasad

’۲۰۱۷ میں میرے آشا کارکن بننے کے صرف تین سالوں کے اندر میرا کام تین گنا بڑھ گیا ہے’، چھوی کشیپ کہتی ہیں

آشا کارکن جب آخرکار اپنا کام کرنے کے لیے میدان میں اترتی ہیں، تو اکثر ان کا ایک ہاتھ بندھا ہوتا ہے۔ ڈرگ کٹ عام طور پر دستیاب نہیں ہوتے، نہ ہی دوسری لازم چیزیں جیسے کہ حاملہ خواتین کے لیے پیراسیٹامول ٹیبلیٹ، آئرن اور کیلشیم کی گولیاں، اورَل ریہائڈریشن سالٹ (او آر ایس)، کنڈوم، کھانے والی مانع حمل گولیاں اور پریگنینسی کٹ۔ ’’ہمیں کچھ بھی نہیں دیا جاتا، سر درد کی دوا بھی نہیں۔ ہم ہر ایک گھر کی ضروریات کا ایک نوٹ بناتے ہیں، جیسے کہ مانع حمل کے لیے کون کیا طریقہ اپنا رہا ہے، اور پھر اے این ایم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے ان کا انتظام کرے،‘‘ سنیتا کہتی ہیں۔ آن لائن دستیاب سرکاری ریکارڈ بتاتے ہیں – سونی پت ضلع میں ۱۰۴۵ آشا کارکنوں کے لیے صرف ۴۸۵ ڈرگ کٹ جاری کیے گئے تھے۔

آشا کارکن، اپنی برادری کی ارکان کے پاس اکثر خالی ہاتھ جاتی ہیں۔ ’’کبھی کبھی وہ ہمیں صرف آئرن کی گولیاں دے دیتے ہیں، کیلشیم کی نہیں، جب کہ حاملہ عورتوں کو یہ دونوں گولیاں ایک ساتھ کھانی چاہئیں۔ کبھی کبھی وہ ہمیں فی حاملہ عورت کے حساب سے صرف ۱۰ گولیاں دیتے ہیں، جو ۱۰ دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ عورتیں جب ہمارے پاس آتی ہیں، تو انہیں دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا،‘‘ چھوی بتاتی ہیں۔

کبھی کبھی تو انہیں خراب معیار والی چیزیں دے دی جاتی ہیں۔ ’’مہینوں تک کوئی سپلائی نہ ہونے کے بعد ہمیں مالا-این (ہارمون سے متعلق ایک مانع حمل گولی) سے بھرے باکس، ان کی ختم ہونے کی تاریخ سے ماہ قبل اس ہدایت کے ساتھ ملتے ہیں کہ انہیں جتنا جلدی ممکن ہو تقسیم کر دینا ہے،‘‘ سنیتا کہتی ہیں۔ مالا-این کا استعمال کرنے والی خواتین کا ردِ عمل، جسے آشا کارکنوں کے ذریعے کڑی محنت سے ریکارڈ کیا جاتا ہے، پر شاید ہی کبھی دھیان دیا جاتا ہے۔

ہڑتال کے دن دوپہر تک، احتجاجی مظاہرہ کے لیے ۵۰ آشا کارکن جمع ہو چکی ہیں۔ اسپتال کے شعبہ بیرونی مریض کے بغل کی ایک دکان سے چائے منگوائی گئی ہے۔ جب کوئی پوچھتا ہے کہ اس کے پیسے کون دینے جا رہا ہے، تو نیتو مذاق میں کہتی ہیں کہ وہ نہیں دے رہی ہیں کیوں کہ ان کے چھ مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ این آر ایچ ایم کی ۲۰۰۵ کی پالیسی کے مطابق آشا کارکن ’رضاکار‘ ہیں، اور ان کی ادائیگی ان کے ذریعے پورے کیے جانے والے کاموں کی تعداد پر مبنی ہے۔ آشا کارکنوں کو سونپے جانے والے مختلف کاموں میں سے صرف پانچ کو ’باقاعدہ اور لگاتار‘ کے طور پر درج بند کیا گیا ہے۔ ان کاموں کے لیے، مرکزی حکومت نے اکتوبر ۲۰۱۸ میں ۲۰۰۰ روپے کی کل ماہانہ رقم دینے پر اتفاق کیا تھا -  لیکن اس کی بھی ادائیگی وقت پر نہیں کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، آشا کارکنوں کو ہر ایک کام کے پورا ہونے پر ادائیگی کی جاتی ہے۔ وہ چھ سے نو مہینے تک کے لیے دوا مزاحم تپ دق مریضوں کو دوا دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ ۵۰۰۰ روپے، یا او آر ایس کا ایک پیکیٹ بانٹنے کے لیے صرف ۱ روپیہ پا سکتی ہیں۔ فیملی پلاننگ سے متعلق معاملوں میں پیسے تبھی ملتے ہیں جب عورتوں کی نس بندی کروائی جائے، انہیں دو بچوں کے درمیان فرق قائم کرنے کے لیے طریقے اپنانے کے لیے آمادہ کیا جائے۔ عورتوں کی نس بندی یا مردوں کی نس بندی کا انتظام کرنے پر آشا کارکن کی حوصلہ افزائی کے لیے ۲۰۰-۳۰۰ روپے ملتے ہیں، جب کہ کنڈوم، کھانے والی مانع حمل گولیوں اور ناگہانی مانع حمل گولیوں کے ہر ایک پیکیٹ کی سپلائی کے لیے انہیں صرف ۱ روپیہ ملتا ہے۔ فیملی پلاننگ کے عام مشورہ کے لیے انہیں کوئی پیسہ نہیں ملتا، حالانکہ آشا کارکنوں کے لیے یہ ایک ضروری، تھکا دینے اور وقت لینے والا کام ہے۔

Sunita Rani (centre) with other ASHA facilitators.'The government should recognise us officially as employees', she says
PHOTO • Pallavi Prasad

سنیتا رانی (درمیان میں) دیگر آشا کارکنوں کے ساتھ۔ ’سرکار کو ہمیں باقاعدہ طور پر ملازم ماننا چاہیے،‘ وہ کہتی ہیں

ملک گیر اور علاقائی سطح پر کئی ہڑتالوں کے بعد، مختلف ریاستوں نے اپنی آشا کارکنوں کو ایک مقررہ ماہانہ تنخواہ بھی دینا شروع کر دیا ہے۔ لیکن ملک میں الگ الگ جگہوں پر یہ الگ الگ ہے، کرناٹک میں جہاں انہیں ۴۰۰۰ روپے دیے جاتے ہیں، وہیں آندھرا پردیش میں ۱۰ ہزار روپے ملتے ہیں؛ ہریانہ میں جنوری ۲۰۱۸ سے، ہر ایک آشا کارکن کو ریاستی حکومت کی طرف سے تنخواہ کے طور پر ۴۰۰۰ روپے ملتے ہیں۔

’’این آر ایچ ایم کی پالیسی کے مطابق، آشا کارکنوں سے روزانہ تین سے چار گھنٹے، ہفتے میں چار سے پانچ دن کام کرنے کی امید کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں پر کسی کو بھی یہ یاد نہیں ہے کہ اس نے آخری بار چھٹی کب لی تھی۔ اور ہمیں اقتصادی مدد کیسے مل رہی ہے؟‘‘ سنیتا تیز آواز میں پوچھتی ہیں، اس طرح سے مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے۔ کئی عورتیں بولنا شروع کرتی ہیں۔ کئی خواتین کو ریاستی حکومت کے ذریعے ستمبر ۲۰۱۹ سے ہےی ان کی ماہانہ تنخواہ نہیں ملی ہے۔ حالانکہ، زیادہ تر کو تو یہ بھی یاد نہیں ہے کہ ان کا کتنا بقایا ہے۔ ’’پیسہ الگ الگ وقت میں، دو الگ الگ ذرائع – ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت – سے تھوڑی تھوڑی مقدار میں آتا ہے۔ اس لیے یہ یاد نہیں رہتا کہ کون سی ادائیگی کب سے بقایا ہے،‘‘ نیتو کہتی ہیں۔ بقایا تنخواہ کی دیری سے اور معمولی ادائیگی کے انفرادی نقصان بھی ہیں۔ کئی عورتوں کو گھر پر طعنے سننے پڑتے ہیں کہ کام تو وقت بے وقت اور دیر تک کرنا پڑتا ہے، لیکن پیسے اس حساب سے نہیں مل رہے ہیں؛ تو کچھ نے فیملی کے دباؤ میں آکر اس پروگرام کو ہی چھوڑ دیا ہے۔

اس کے علاوہ، آشا کارکنوں کو خود اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے روزانہ صرف سفر کرنے پر ۱۰۰-۲۵۰ روپے خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں، چاہے وہ اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے مختلف ذیلی مراکز کا دورہ کرنا ہو یا پھر مریضوں کو لیکر اسپتال جانا۔ ’’ہم جب فیملی پلاننگ سے متعلق میٹنگوں کے لیے گاؤوں میں جاتے ہیں، تو گرمی اور تیز دھوپ ہوتی ہے اور عورتیں عام طور پر ہم سے امید کرتی ہیں کہ ہم ان کے لیے کچھ ٹھنڈا پینے اور کھانے کا انتظام کریں گے۔ اس لیے، ہم آپس میں پیسے جمع کرتے ہیں اور ہلکے ناشتے پر ۴۰۰-۵۰۰ روپے خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے، تو عورتیں نہیں آئیں گی،‘‘ شیتل کہتی ہیں۔

ہڑتال پر بیٹھے ہوئے دو ڈھائی گھنٹے ہو چکے ہیں، اور ان کے مطالبات واضح ہیں: آشا کارکنوں اور ان کے کنبوں کے لیے ایک ایسا ہیلتھ کارڈ بنایا جائے، جس سے وہ سرکاری فہرست میں شامل پرائیویٹ اسپتالوں سے تمام سہولیات حاصل کر سکیں؛ یقینی بنایا جائے کہ وہ پنشن کے لیے اہل ہیں؛ انہیں چھوٹے چھوٹے کالم والے دو صفحات کے کاغذ دینے کے بجائے اپنے کاموں کے لیے الگ الگ پروفارما مہیا کرایا جائے؛ اور ذیلی مراکز میں ایک الماری دی جائے تاکہ وہ کنڈوم اور سینٹری نیپکن اپنے گھر پر اسٹور کرنے کے لیے مجبور نہ ہوں۔ ہولی سے تین دن پہلے، نیتو کے بیٹے نے ان سے اپنی الماری میں رکھے غباروں کے بارے میں پوچھا تھا، جو کہ ان کے ذریعے جمع کرکے رکھے گئے کنڈوم تھے۔

اور سب سے بڑی بات، آشا کارکنوں کا ماننا ہے کہ ان کے کام کو عزت اور منظوری ملنی چاہیے۔

Many ASHAs have lost track of how much they are owed. Anita (second from left), from Kakroi village, is still waiting for her dues
PHOTO • Pallavi Prasad

کئی آشا کارکنوں کو تو یہ بھی یاد نہیں ہے کہ ان کا کتنا بقایا ہے۔ ککروئی گاؤں کی انیتا (بائیں سے دوسری)، اب بھی اپنی بقایا رقم کا انتظار کر رہی ہیں

’’ضلع کے کئی اسپتالوں کے ڈلیوری روم میں، آپ کو ایک نشان دکھائی دے گا، جس میں لکھا ہوگا ’آشا کے لیے داخلہ ممنوع‘،‘‘ چھوی بتاتی ہیں۔ ’’ہم عورتوں کو زچگی کرانے کے لیے آدھی رات کو ان کے ساتھ جاتے ہیں، اور وہ ہم سے رکنے کے لیے کہتی ہیں کیوں کہ وہ پوری طرح سے مطمئن نہیں ہوتیں اور وہ ہم پر بھروسہ کرتی ہیں۔ لیکن ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسپتال کے ملازم کہتے ہیں، ’چلو اب نکلو یہاں سے‘۔ ملازم ہم سے ایسا برتاؤ کرتے ہیں جیسے ہم ان سے کم تر ہوں،‘‘ وہ آگے کہتی ہیں۔ کئی آشا کارکن اس جوڑے یا فیملی کے ساتھ رات بھر رکتی ہیں، حالانکہ کئی ابتدائی اور عوامی طبی مراکز پر انتظار کرنے والا کوئی کمرہ تک نہیں ہوتا۔

احتجاجی مظاہرہ کی جگہ پر دوپہر کے تقریباً ۳ بج چکے ہیں، اور عورتیں اب بے چین ہونے لگی ہیں۔ انہیں کام پر واپس جانا ہوگا۔ سنیتا اسے ختم کرنے کے لیے دوڑتی ہیں: ’’سرکار کو ہمیں باقاعدہ ملازم ماننا چاہیے، رضاکار نہیں۔ اسے ہمارے اوپر سے سروے کا بوجھ ہٹانا چاہیے، تاکہ ہم اپنا کام کر سکیں۔ ہمارا جو کچھ بھی بقایا ہے، اسے اس کی ادائیگی کرنی چاہیے۔‘‘

اب، کئی آشا کارکن یہاں سے اپنے سامان سمیٹنے لگی ہیں۔ ’’کام پکّا، نوکری کچّی،‘‘ سنیتا آخری بار آواز لگاتی ہیں۔ ’’نہیں چلے گی، نہیں چلے گی،‘‘ وہ پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ تیز آواز میں واپس سنتی ہیں۔ ’’ہمارے پاس تو اپنے حقوق کے لیے ہڑتال پر بیٹھنے تک کا وقت نہیں ہے، ہمیں ہڑتال کے لیے کیمپوں اور اپنے سروے کے بیچ میں سے وقت نکالنا پڑتا ہے!‘‘ شیتل اپنے دوپٹہ سے سر کو ڈھانپتے ہوئے ایک ہنسی کے ساتھ کہتی ہیں، اور اپنے روزانہ کے گھر کے دوروں کے لیے پھر سے تیار ہیں۔

کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گرہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Pallavi Prasad

پلّوی پرساد ممبئی میں مقیم ایک آزاد صحافی، ینگ انڈیا فیلو اور لیڈی شری رام کالج سے گریجویٹ ہیں۔ وہ صنف، ثقافت اور صحت پر لکھتی ہیں۔

Other stories by Pallavi Prasad

انوبھا بھونسلے ۲۰۱۵ کی پاری فیلو، ایک آزاد صحافی، آئی سی ایف جے نائٹ فیلو، اور ‘Mother, Where’s My Country?’ کی مصنفہ ہیں، یہ کتاب بحران زدہ منی پور کی تاریخ اور مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات کے قانون (ایفسپا) کے اثرات کے بارے میں ہے۔

Other stories by Anubha Bhonsle