01-Bringing them to school, singing and drumming-SC-RepublicDay2016

پہلے جلوس کی قیادت ممتا نشاد نے کی


ممتا نشاد جب آٹھویں کلاس میں پہنچی، تو وہ پڑھائی کو جاری رکھنا چاہتی تھی۔ لیکن مَوَیّا اُپرہار میں کوئی ہائی اسکول نہیں تھا، اور اترپردیش کے الہ آباد ضلع کے چاکا بلاک کے اس گاؤں میں لوگ اپنی لڑکیوں کو دور ہونے کی وجہ سے اسکول نہیں بھیجتے تھے۔

ممتا نے پوروا مادھیمک ودیالیہ میں اپنے ٹیچروں سے اس بابت بات کی۔ اس نے انھیں بتایا کہ وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے۔ لہٰذا، ان سب کے ذہن میں ایک جلوس نکالنے کا خیال آیا، جس میں ڈھول بھی بجائے جائیں، اور یہ جلوس گاؤں میں گھومے اور ان گھروں کے سامنے تھوڑی دیر کے لیے رکے جن کے بچے، خاص کر لڑکیاں اسکول میں ہیں۔ یہ شعر پڑھیں گے اور گانے گائیں گے، اور ٹیچرس ان کے والدین سے عمومی طور پر درخواست کریں گے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں اور انھیں ۸ویں کلاس کے بعد اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کی اجازت دیں۔

اسکول کی پرنسپل اوشا رانی شریواستو، جنہوں نے بنیادی طور پر اس خیال کو عملی جامہ پہنایا، نے بھی اس جلوس میں شرکت کی، ساتھ ہی گرام سبھا کے ممبر، گنگا پرساد بھی اسکول کے دیگر بچوں اور ٹیچروں کے ساتھ اس جلوس میں شریک ہوئے۔ جلوس کی قیادت ممتا نے کی۔ یہ جلوس اس کے گھر کے سامنے بھی رکا۔ آہستہ آہستہ، اس کے والدین پریم چند نشاد اور رام رتی دیوی، اور اس کے بڑے بھائی تعلیم کو آگے جاری رکھنے کے اس کے اس پلان کو سپورٹ کرنے کے لیے راضی ہو گئے۔

لیکن فیس کیسے دی جائے اور اتنی دوری کیسے طے کی جائے؟ ممتا کے ٹیچروں نے اسے ضلعی سطح کے اسکالرشپ والے امتحان کے لیے تیار کیا۔ اپنے معمول کے کاموں اور اسکولنگ میں توازن قائم کرتے ہوئے، اس نے امتحان کی محنت سے تیاری کی، لہٰذا اس کا انتخاب ریاستی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے رہائشی اسکول، مہامایا راجکیہ آشرم پڈھاتی بالیکا انٹرکالج، کوریہار، الہ آباد میں ہوگیا، جو مَوَیّا اُپرہار سے تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور ہے۔ ممتا اب اپنے گاؤں کی پہلی لڑکی ہے، جو ۹ویں کلاس میں پڑھ رہی ہے۔

اب یہ جلوس مَوَیّا اُپرہار، مویا گدران، مویا کاچھر اور مویا ٹیکوری میں پابندی سے مہینہ میں ایک بار یا دو بار نکلتا ہے، ان چاروں گاؤوں کے بچے پوروا مادھیمک ودیالیہ میں پڑھتے ہیں۔ ممتا ان سبھی گاؤوں کی دیگر لڑکیوں اور طلبہ کے لیے رول ماڈل بن چکی ہے۔ ٹیچروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی حاضری میں اب اضافہ ہوا ہے اور والدین کا رویہ بھی اپنی لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے حق میں بدلا ہے۔ ممتا جب گھر آتی ہے، تو اسے ودیالیہ میں بلایا جاتا ہے اور اس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے نئے اسکول اور گاؤں سے باہر کی زندگی کے تجربہ کے بارے میں بتائے۔

وہ تبدیلی جو برسوں سے ممکن نہیں تھی، اسکول کی ایک لڑکی کی قیادت میں نکلنے والے جلوس کی وجہ سے متحرک ہوگئی۔

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Saurabh Chandra

Saurabh Chandra has an MTech in electrical engineering from IIT Roorkee. He was a visiting faculty member at the Motilal Nehru National Institute of Technology, Allahabad, and is now preparing for the Indian Civil Services examination.

Other stories by Saurabh Chandra