/media/uploads/Articles/Sukhada Tatke/Farms and the woman/screen_shot_2015-04-28_at_10.43.37_pm.png

مہاراشٹر کے وردھا ضلع کے کرزادی گاؤں کے ایک کونے میں واقع ایک چھوٹے سے گھر میں اُجولا پیٹکر (۴۱) اپنی نند اوشا پیٹکر (۴۵) کے ساتھ لمبی بات چیت میں مصروف ہیں کہ اس سال کون سا بیج بویا جا سکتا ہے، اگلی فصل کون سی تیار ہوگی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر کھیتی نے آج انہیں ایک دوسرے سے ملا دیا ہے، تو چند سال قبل یہ المیہ تھا۔ ان کے شوہروں نے، جو آپس میں بھائی تھے، اس لیے خودکشی کر لی تھی، کیوں کہ وہ قرض میں گلے تک ڈوبے ہوئے تھے اور اس سے باہر نکلنے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔

دونوں کے لیے یہ ایک مشکل وقت تھا۔ اپنے شوہروں کو کھونے کا المیہ تو تھا ہی، ان کو ڈھیر ساری دیگر مشکلوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اپنے بچوں کو پڑھانا اور پھر اپنے شوہروں کے قرض کو چکانا ہی ان کی ترجیح تھی، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ان سب کا انتظام کیسے کریں۔

’’میری زندگی اس وقت پوری طرح برباد ہو گئی، جب میرے شوہر نے ۲۰۰۲ میں خودکشی کر لی۔ میرے دونوں بچے چھوٹے تھے اور میں نہ صرف پیسوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی، بلکہ مجھے اپنے شوہر کے کھیت کے بارے میں بھی تفصیلات معلوم نہیں تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا، گویا مجھے بالکل نئے سرے سے زندگی کی شروعات کرنی ہوگی،‘‘ اُجولا کہتی ہیں، جن کے شوہر، پربھاکر کے اوپر موت کے وقت ۲ لاکھ روپے کا قرض تھا۔

وزارتِ دیہی ترقی کے مطابق، دیہی خواتین ہندوستان سمیت زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی کا سب سے بڑا پیداواری افرادی قوت ہوتی ہیں۔ زراعت، جس کی حصہ داری ہندوستان کی جی ڈی پی میں ۱۶ فیصد ہے، تیزی سے خواتین کی سرگرمی کا محور بنتی جا رہی ہے۔ روایتی بازار کی جانب مائل اقتصادیات سے پرے، جہاں ’پیداواری افرادی قوت‘ کی تعریف محدود ہے، دیہی ہندوستان میں تقریباً سبھی عورتوں کو ایک طرح سے ’کسان‘ سمجھا جاتا ہے، جو زرعی مزدور کے طور پر یا پھر اپنے خاندان کے کھیتوں پر بلا معاوضہ کام کرتی ہیں، اور بعض دفعہ دونوں کام کرتی ہیں۔

ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، ایم ایس سوامی ناتھن ریسرچ فاؤنڈیشن کی مہیلا کسان سشکتی کرن پریوجنا جیسی پہل زراعت میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ ادارہ سال ۲۰۰۸ میں منظر عام پر آیا، اس مقصد کے تحت کہ اُس سال زرعی بحران کی شکار عورتوں کو خود مختار بنایا جائے۔ اس نے واردھا اور یوت مال علاقے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ وِدربھ خطہ کے بحران زدہ دو سب سے بڑے ضلعے تھے۔ خیال بالکل عام سا تھا: قابل استقامت زرعی سرگرمیوں کے ذریعے ادارہ جاتی تعمیر۔

خیال یہ تھا کہ فیملی کی عورت کو بااختیار بنانے سے بچے خودبخود فیضیاب ہوں گے۔

جلد ہی، پیٹکر کی نند، دیگر عورتوں کے ساتھ، بھی اس پروجیکٹ میں شامل ہونے لگیں، جس کے تحت ۵۵ گاؤوں کی کل ۱۳۵۴ خواتین کو ۸۶ کسان گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس بات کو تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اب اس کی کامیابی دیکھنے لائق ہے۔

تقریباً ۱۰۰ خواتین کسانوں نے دائمی زرعی سرگرمی کی کسی نہ کسی شکل کو اپنا لیا ہے، جس سے ان کی فصل کی لاگت کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ تقریباً ۲۵۰ عورتوں نے کچن گارڈن بنایا ہے، جس سے انہیں اپنے کھانے کی چیزوں میں تنوع پیدا کرنے میں مدد ملی ہے اور اس طرح ان کی تغذئی حالت بہتر ہوئی ہے۔

سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر عورتوں نے زرعی سرگرمی سے متعلق فیصلہ خود ہی لینا شروع کر دیا ہے۔

مثال کے طور پر، اُجولا اب تک اپنا ایک لاکھ روپے کا قرض ادا کر چکی ہیں اور انھوں نے اپنی بیٹی کا داخلہ ایک نرسنگ کالج میں کرا دیا ہے۔ اب وہ اپنی پانچ ایکڑ آبپاشی والی زمین پر کاٹن، تُر، سویابین اور گندم اُگاتی ہیں۔ انھوں نے یہ زمین اپنے نام بھی کرا لی ہے، یہ آدمی کی خودکشی کے بعد سب سے ضروری چیز ہے۔ دریں اثنا، اوشا نے اپنی ایک لڑکی کی شادی کر دی ہے، اور دوسری بیٹی نے نرسنگ کی ٹریننگ مکمل کر لی ہے۔ ان کے دو بیٹوں نے کھیتی کا پیشہ اپنا لیا ہے۔ ’’میرے شوہر نے ایک لاکھ ۶۰ ہزار روپے کا جو قرض لیا تھا، میں نے اس میں سے زیادہ تر واپس چکا دیا ہے۔ اب اس میں سے صرف ۲۵ ہزار روپے ادا کرنے باقی ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ان کے شوہر، کاؤڈوجی، نے فروری ۲۰۰۶ میں خودکشی کر لی تھی۔

انسٹی ٹیوٹ کے پروجیکٹ کوآرڈی نیٹر، کشور جگتاپ کہتے ہیں کہ یہ تو صرف شروعات ہے اور بڑی تبدیلی دیکھنے میں ابھی لمبا وقت لگے گا۔ ’’عورتوں کے ساتھ ساتھ، ہم بچوں پر بھی فوکس کرتے ہیں، کیوں کہ وہی وارث ہوں گے۔ پچھلے سال، ہم نے بڑی مہم چلائی جس میں پتہ چلا کہ ۵۰ فیصد خواتین میں خون کی کمی ہے۔ لہٰذا، عورتوں کو خود سے فیصلہ لینے لائق بنانے کے لیے ایک صحیح طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب عورتوں میں تبدیلیاں نظر آنے لگیں گے، تو بچے بھی اس سے خود بخود فیضیاب ہوں گے۔‘‘

یوت مال ضلع کے رالے گن بلاک کے تکلی گاؤں کی اندرا میش رام کہتی ہیں کہ گزشتہ چند سالوں میں وہ زیادہ خود اعتماد بنی ہیں۔ ایک چھوٹی کسان کے طور پر وہ سال ۲۰۰۹ میں اس پروجیکٹ کا حصہ بنیں۔ ’’مجھے کھیتی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا؛ اب میں سب کچھ جانتی ہوں، کھاد سے لے کر فوڈ سیکورٹی کی اہمیت تک کو۔ میں تمام فیصلے گھر پر لیتی ہوں، نہ صرف کھیتی کے بارے میں، بلکہ بقیہ دوسری چیزوں کے بارے میں بھی۔ سوشل ورک میں بیچلر کی ڈگری کے لیے اپنے بیٹے کو بھیجنے کا فیصلہ بھی میرا ہی تھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ میش رام کو اب خطہ کی دیگر عورتوں کو ٹریننگ دینے اور آزادی کی اہمیت پر لکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔

ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے عورتوں کی کونسل بنوانے میں مدد کی ہے جو امور پر بات کرنے کے لیے ایک بار ملتی ہے۔ ’’ہماری عورتیں دوسروں کو سکھاتی ہیں‘‘ اس کا منتر ہے۔ سال میں عورتوں کے لیے ایک بار میلہ لگتا ہے، جہاں وہ جمع ہو تی ہیں اور ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کرتی ہیں۔

اس پہل کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے، سال ۲۰۱۰ میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے مہیلا کسان سشکتی کرن پریوجنا کا بجٹ ۱۰۰ کروڑ کر دیا اور اسے پورے ملک میں پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ پروگرام مرکزی وزارتِ دیہی ترقی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس نے اس پروجیکٹ کے لیے ہندوستان بھر کے اہل این جی اوز سے درخواستیں طلب کی ہیں، اور پہلی تجزیاتی میٹنگ اپریل ۲۰۱۲ کے شروع میں بلائی گئی، چار ماہ بعد جب این جی اوز نے اپنا کام شروع کر دیا تھا۔

اب، مہاراشٹر، کیرل، بہار، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں کام کرنے والے تقریباً ۱۰ این جی اوز اس پروجیکٹ کے پارٹنر ہیں، جس کا قصد چھوٹی اور پس ماندہ خواتین کسانوں کو بااختیار بنانا ہے، جن کا تعلق درج فہرست ذات و قبائل، اقلیتوں، بیواؤں، واحد خواتین وغیرہ سے ہے۔

کولہا پور کی شیواجی یونیورسٹی کے سنٹر فار ویمنس اسٹڈیز کی ڈائرکٹر، میدھا نانی واڈیکر نے کہا کہ اس قسم کے پروگرام واقعی میں بہت اہم ہیں۔ تاہم، حکومت کو لچکدار بننے اور ان کے انوکھے پن اور تناظر کی بنیاد پر ملک کے مختلف حصوں میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ’’عام طور سے، سرکاری اسکیمیں دیکھنے میں بہت اچھی لگتی ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں، ’’لیکن جب ان کے نفاذ کا معاملہ آتا ہے، تو بکواس ضابطوں کی وجہ سے انہیں نافذ کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔‘‘

نادیدہ قوت

زرعی شعبہ میں اقتصادی طور پر سرگرم ۸۰ فیصد عورتیں کو روزگار حاصل ہے؛ وہ زرعی مزدور قوت کا ۳۳ فیصد ہیں اور خود روزگار کسانوں کا ۴۸ فیصد حصہ ہیں۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق، ہندوستان میں ۱۸ فیصد کسان خاندانوں کی سربراہ خواتین ہیں۔

یہ مضمون سب سے پہلے ٹائمز آف انڈیا، دی کریسٹ ایڈیشن میں ۲۶ مئی، ۲۰۱۲ کو شائع ہوا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Sukhada Tatke

سُکھدا ٹٹکے ہوسٹن، ٹیکساس میں مقیم ایک فری لانس جرنسلٹ ہیں۔ وہ پہلے ممبئی میں ٹائمز آف انڈیا اور دی ہندو کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ ان کے مضامین ٹیکساس منتھلی، ہوسٹن کرونیکل، اور اسکرول ڈاٹ اِن وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @ASuitableGirl

Other Stories by Sukhada Tatke