ابدسا تعلقہ کے موہاڈی گاؤں سے دور، سمندر کے ایک جزیرہ سے تقریباً ۴۰ اونٹ تیر کر واپس لوٹے تھے۔ وہ اسماعیل جاٹ کے تھے، جو فقیرانی جاٹ برادری کے ایک گڈریہ ہیں۔

مجھے یہ دیکھ کر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ – اونٹ تیر سکتے ہیں؟ لیکن یہ خوبصورت کھرائی اونٹ تھے – جو مارچ-اپریل سے وسط جولائی تک کی شدید گرمیوں کے دوران، ۳-۴ دن کچھ کے ساحل سے دور کے جزیروں پر رہتے ہیں اور سمندری پیڑ پودوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ وہ پانی پینے کے لیے تین کلومیٹر (ایک طرف کا راستہ) چل کر ساحلی گاؤوں آتے ہیں اور پھر جزیروں پر لوٹ جاتے ہیں۔

گجرات کے مالدھاری یا اونٹ چرانے والے ان اونٹوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ عام طور پر دو مرد مالدھاری مل کر ایک ٹیم بناتے ہیں – یا تو دونوں ساتھ تیرتے ہیں یا ان میں سے ایک روٹی اور پانی لے جانے کے لیے چھوٹی کشتی کا استعمال کرتا ہے اور گاؤں واپس آتا ہے۔ دیگر چرواہے اونٹ کے ساتھ جزیرے پر ٹھہرتے ہیں، جہاں وہ اونٹ کے دودھ کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، جو کہ اس برادری کی غذا کا ایک اہم حصہ ہے۔

بارش شروع ہوتے ہی، مالدھاری اپنے اونٹوں کو جزیروں پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ستمبر کے وسط میں وہ انھیں وہاں سے واپس لاتے ہیں اور اس کے بعد بارش پر مبنی گھاس کے میدان اور ساحلی علاقوں میں چرانے لے جاتے ہیں۔ (دیکھیں چراگاہوں کی لامتناہی تلاش)

میں نے تیرنے والے اونٹوں کو پہلی بار ۲۰۱۵ میں دیکھا تھا؛ میں موہاڈی کے ایک مالدھاری کی کشتی میں اونٹوں کے ساتھ گیا تھا، لیکن بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کی اجازت کے بغیر جزیرہ تک نہیں جا سکا تھا۔ یہ علاقہ پاکستان سے ملحق سرحد کے قریب ہے اور سمندر میں آنے جانے والوں پر بی ایس ایف چوکیوں کی کڑی نظر رہتی ہے۔ دریں اثنا، یہ اونٹ پانی میں افق کے اوپر غائب ہونے لگے۔

بعد میں، اسماعیل نے مجھے بتایا کہ گجراتی میں ’کھرائی‘ کا مطلب ’نمکین‘ ہوتا ہے۔ یہ اونٹ خاص نسل کے ہیں جو ایکوٹون ژون یا نباتاتی علاقوں – یہاں، ساحلی پیڑ پودے اور گھاس کے میدانوں – کے ساتھ پوری طرح ڈھل چکے ہیں۔ ان کی غذا میں مختلف قسم کے پودے، جھاڑیاں اور گھاس پھوس شامل ہیں۔ لیکن اگر وہ طویل عرصے تک انھیں نہ کھائیں، تو یہ طاقتور جانور بیمار ہو جاتے ہیں اور مر بھی سکتے ہیں۔

کچھ میں، دو چرواہا برادری کھرائی اونٹ رکھتے ہیں – رباری اور فقیرانی جاٹ۔ ساما برادری کے لوگ بھی اونٹ رکھتے ہیں، لیکن وہ کھرائی نہیں ہوتے۔ کچھ اونٹ اُچیرک مالدھاری سنگٹھن کے مطابق، گجرات میں تقریباً ۵۰۰۰ کھرائی اونٹ ہیں۔

ان میں سے تقریباً ۲۰۰۰ کھرائی اونٹ کچھ ضلع میں رہتے ہیں، جہاں کئی جزیرے ہیں اور بڑے علاقوں میں ہریالی پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن کسی زمانے میں سبزہ زار جنگل اب تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں، جس سے بڑے صنعت کاروں، یا صنعتوں کے لیے وہاں نمک بنانے کا راستہ صاف ہو رہا ہے۔ سرکار نے بڑے چراگاہوں کو محفوظ علاقہ کے نام پر بند کر دیا ہے، یا وہاں حملہ آور گانڈو باور (پروسوپِس جُلی فورا) نسل کے پودے اُگ آئے ہیں۔

جولائی ۲۰۱۸ میں ضلع کی راجدھانی، بھُج سے تقریباً ۸۵ کلومیٹر دور، بھچاؤ تعلقہ کے سفر کے دوران، شاہراہ سے کچھ کلومیٹر اندر، میں نے نمک والے علاقوں کی لامتناہی توسیع دیکھی، جو اس سے کہیں بڑے تھے جو میں نے اپنے گزشتہ دوروں میں دیکھے تھے۔ تب میں تعلقہ کے المیارا علاقے میں، مٹی سے گھرے ایک چھوٹے سے ٹاپو (جزیرہ) پر مبارک جاٹ اور ان کی فیملی سے ملا۔ ان کے بیش قیمتی ۳۰ کھرائی اونٹوں کے لیے سبز چراگاہ تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ ہم آگے کہاں جائیں گے،‘‘ انھوں نے کہا۔ ’’یہاں کچھ بھی ہرا نہیں بچا ہے۔ ہم زندہ رہنے کے لیے اکثر جگہ بدلتے رہتے ہیں، لیکن کب تک؟ نمک کے علاقے ہر جگہ ہیں۔‘‘

اس سال کی شروعات میں، کچھ اونٹ اچیرک مالدھاری سنگٹھن نے دین دیال پورٹ ٹرسٹ کے ذریعے پٹے پر دیے گئے نمک کے بڑے علاقوں کے خلاف نیشنل گرین ٹربیونل (این جی ٹی) سے اپیل کی۔ مارچ ۲۰۱۸ میں، این جی ٹی نے کانڈلا اور سورج باڑی کے درمیان پٹہ کی زمین پر نمک بنانے کی سرگرمی کو روکنے کے لیے ایک عبوری حکم جاری کیا۔ اور گجرات ریاست آلودگی کنٹرول بورڈ، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ، گجرات کوسٹل ژون مینجمنٹ اتھارٹی (جی سی زیڈ ایم اے)، اور دیگر انتظامیہ کے ذریعے معائنہ کی ہدایت دی گئی۔ معائنہ رپورٹ اپریل میں پیش کی گئی تھی۔ معاملے کی کارروائی ابھی جاری ہے۔

اس کے بعد، جولائی کے سفر کے دوران میں نے کچھ دن لکھپت تعلقہ میں گزارے، جو بھچاؤ سے تقریباً ۲۱۰ کلومیٹر دور ہے اور جہاں کئی فقیرانی جاٹ کنبے رہتے ہیں۔ لیکن اس برادری کے کئی لوگ اب خانہ بدوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا ان کے کھرائی اونٹوں کے لیے چراگاہ کی کمی کے سبب ہے۔ موری گاؤں کے کریم جاٹ کہتے ہیں، ’’میں اپنی روایتی زندگی کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ لیکن مجھے یہ کرنا پڑا۔ یہاں بارش کم ہوتی ہے۔ ہریالی ختم ہو رہی ہے یا محفوظ علاقے بن چکے ہیں جہاں ہم اپنے مویشیوں کو نہیں چرا سکتے۔ ہم کیا کریں؟ یہ اونٹ میرے لیے فیملی ممبران کی طرح ہیں۔ ان کی تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔‘‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

گجرات کے کچھ ضلع میں سرسبز علاقے، صدیوں سے اس علاقے کے ماحولیاتی نظام کے لیے اہم رہے، اور کھرائی اونٹوں کے لیے غذا کا ایک اہم ذریعہ ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

کھرائی اونٹ ایک انوکھی نسل ہے جو ساحلی نباتات کے موافق ہے، اور واحد اونٹ ہیں جو تیر سکتے ہیں۔ گجرات میں اب صرف ۵۰۰۰ کھرائی اونٹ بچے ہیں

PHOTO • Ramesh Bhatti

کھرائی اونٹ، چراگاہ کی تلاش میں قریبی ٹاپو (جزیرہ) تک پہنچنے کے لیے، لکھپت تعلقہ میں کچھ کی خلیج سے ہوکر تیرتے ہوئے۔ وہ کھلے سمندر میں ۱۰ کلومیٹر تک تیر سکتے ہیں۔ مالدھاری برادریوں کے چرواہے ان تیراکوں اور جزیروں کے سفر کے دوران کے ساتھ ہوتے ہیں

PHOTO • Ramesh Bhatti

کھرائی اونٹ بھچاؤ تعلقہ میں جانگی خلیج کے قریب، ایک جزیرہ پر گھاس چرتے ہوئے۔ ان کے چرنے کا عمل ایک تولیدی عمل بھی ہے جو سبز جنگلات کو دوبارہ زندہ کرنے کے میں مدد کرتا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

مستحکم طور پر – اور خاموشی سے – پھیلتے ہوئے نمک کے علاقے، تعلقہ کے گھنے اور سبز جنگلات کے بڑے حصے کو کھا گئے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

جزر کے پانی کو اندر آنے سے روکنے کے لیے باندھ بنانے میں مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے – یہ اس علاقے میں اُگنے والے پیڑ پودوں اور کئی دیگر انواع کو مار دیتے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

مبارک جاٹ کا کہنا ہے کہ ان کے اونٹوں کے لیے کوئی چراگاہ نہیں بچا ہے۔ وہ بھچاؤ کے چِرئی موتی گاؤں کے پاس ایک چھوٹے سے جزیرہ پر، نمک والے علاقے میں اپنے کھرائی اونٹوں کے ساتھ رہ رہے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

چرنے کے میدان تیزی سے سکڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے خانہ بدوش فقیرانی جاٹوں کو اپنے اونٹوں کے لیے چراگاہوں کی تلاش میں اکثر اپنی جگہوں کو بدلنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

کریم جاٹ اور یعقوب جاٹ دھرانگ واندھ بستی کے پاس کھرائی اونٹ کو دوا پلا رہے ہیں – یہ لمبے عرصے سے پانی اور چارے کی کمی کی وجہ سے بیمار ہو گیا تھا

PHOTO • Ritayan Mukherjee

کریم جاٹ، لکھپت تعلقہ کے موری گاؤں کے فقیرانی جاٹوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنے اونٹوں کے لیے چراگاہ کی کمی کے سبب خانہ بدوش زندگی چھوڑ دی ہے۔ ’’مالدھاری پریشان ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’کوئی گھاس نہیں ہے، کوئی چراگاہ نہیں ہے، ہم چارہ بھی نہیں خرید سکتے۔ یہاں بارش نہیں ہوئی ہے، ہم بہت فکرمند ہیں...‘‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

۱۳ سال کے سلیمان جاٹ کہتے ہیں، ’’میں اپنے والد کی طرح ایک گڈریہ بننا چاہتا ہوں۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ بڑا ہونے پر گھاس کے میدان دستیاب ہوں گے یا نہیں‘‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بھچاؤ تعلقہ میں، جو چِرئی نانی گاؤں سے زیادہ دور نہیں ہے، مایوس ایوب امین جاٹ چراگاہ کی تلاش میں بنجر زمین سے گزر رہے ہیں

رمیش بھٹی بھُج واقع پروگرام ڈائرکٹر اور دہلی کے سنٹر فار پیسٹورلزم کے ٹیم لیڈر ہیں۔ وہ نیچرل ریسورس مینجمنٹ، چراگاہوں کے فروغ، معاش اور جنسی ایشوز پر کام کر رہے ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Ritayan Mukherjee

رِتائن مکھرجی کولکاتا میں مقیم ایک پرجوش فوٹوگرافر اور ۲۰۱۶ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک لمبے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جو تبتی پٹھار کی خانہ بدوش کمیونٹیز کی زندگی کا احاطہ کرنے پر مبنی ہے۔

Other stories by Ritayan Mukherjee