’’اپنے گاؤں کے باہر ایک کوئیں سے پانی لانے کے لیے میں روزانہ ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کر جاتی ہیں۔ یہ کام مجھے دن میں چار بار کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے گاؤں میں پانی نہیں ہے۔ گرمیوں میں اور بھی دقت ہوگی۔ کوئیں میں پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے...‘‘ پچھلے سال کی ہی طرح، اس ہفتہ بھی کسانوں کے ناسک سے ممبئی تک کے مارچ میں شامل، بھیما بائی دمبالے کا کہنا تھا۔

’’پچھلے سال خراب بارش کی وجہ سے میں نے اپنی دھان کی فصل کھو دی۔ اپنے پانچ ایکڑ کھیت سے مجھے ہر سال ۸-۱۰ کوئنٹل دھان مل جاتا تھا، لیکن اس بار دو کوئنٹل بھی نہیں ملا۔ ہمیں نقصان کا معاوضہ بھی نہیں مل سکتا، کیوں کہ زمین ہمارے نام پر نہیں ہے۔ یہ محکمہ جنگلات کے تحت آتی ہے،‘‘ ۶۲ سالہ بھیما بائی نے بتایا، جو ناسک ضلع کے پینٹھ تعلقہ کے نرگوڈے کرنجلی گاؤں میں رہتی ہیں۔

دھان کی فصل کے بعد بھیما بائی راگی، اُڑد اور ارہر کی کھیتی کرتی تھیں۔ اس بار یہ سب رک گیا ہے۔ اس لیے بھیما بائی نے اب روزانہ ۳۰-۴۰ کلومیٹر دور، دیولالی اور سون گیری جیسے گاؤوں جانا شروع کر دیا ہے، جہاں وہ پیاز، ٹماٹر اور انگور توڑنے کا کام کرتی ہیں۔ ’’میں ایک دن میں ۱۵۰ روپے کماتی ہوں اور ۴۰ روپے مشترکہ آٹو میں سفر کرنے پر خرچ کرتی ہوں۔ میں روزانہ کماتی ہوں، روزانہ خرچ کرتی ہوں،‘‘ وہ آہیں بھرتے ہوئے کہتی ہیں۔

Two women farmer
PHOTO • Jyoti Shinoli

خشک سالی اور آبپاشی سہولیات کی کمی نے بھیما بائی (بائیں) اور اندو بائی (دائیں) کو کھیتی چھوڑ زرعی مزدوری کرنے پر مجبور کر دیا ہے

اندو بائی پوار (۵۵) پچھلے سال کی طرح اس بار بھی کسان مارچ میں شریک ہونے آئی تھیں۔ ’’پانی کی تلاش میں ہمیں ۲-۳ کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ میں نے پچھلے سال خراب بارش کی وجہ سے اپنی راگی کی فصل کھو دی،‘‘ انھوں نے بتایا۔ ’’اب زرعی مزدوری کی کمائی کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر ہمیں پانی کے لیے یونہی بھٹکنا پڑا، تو ہم کام کیسے کریں گے اور کمائیں گے کیسے؟ کیا یہ سرکار ہماری تکلیف نہیں دیکھ سکتی؟‘‘

پینٹھ تعلقہ کے تقریباً ۲۰۰ کسان اس ہفتہ کے مارچ میں (اب ختم ہو چکا ہے) حصہ لے رہے تھے۔ بھیما بائی اور اندوبائی کی طرح، ان میں سے زیادہ تر مہادیو کولی برادری، ایک درج فہرست ذات، سے ہیں۔ ان سبھی نے اپنے گاؤوں میں خراب بارش اور پانی کی کمی کی بات کہی۔

اکتوبر میں، مہاراشٹر حکومت نے ریاست کے ۲۶ ضلعوں کے ۱۵۱ بلاکوں کو خشک زدہ قرار دیا تھا؛ ان میں سے ۱۱۲ بلاکوں میں سنگین خشک سالی ہے۔

Framers getting in truck.
PHOTO • Jyoti Shinoli

وِٹھّل چودھری، جو پچھلے سال بھی لمبے مارچ میں شامل تھے، نے کہا، ’’ایک سال پورا ہو چکا ہے۔ ہمیں کیا ملا؟ آگے بھی سوکھا جھیلنا ہے‘

بھیڈمال گاؤں کے ۶۲ سالہ سہدو جوگارے نے کہا، ’’ہمارے گاؤں کو ابھی تک خشک زدہ قرار نہیں دیا گیا ہے، حالانکہ حالت پچھلے سال سے بھی زیادہ خراب ہے۔ پانی ملنا بہت مشکل ہے۔ پانی کے لیے ہمیں کئی کلومیٹر چلنا پڑتا ہے، پھر بھی سرکار ہماری جانب دھیان نہیں دے رہی ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے کسان اپنے مویشیوں کے لیے چارہ اور پانی کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ’’جانور بات نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے حقوق کی لڑائی نہیں لڑ سکتے۔ ہمارے گاؤں کے پاس کوئی چارہ کیمپ نہیں ہے۔ گائے، بھینس، بکری سبھی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم یہ سب کہاں سے لائیں؟‘‘

تلبھٹ گاؤں کے ۷۰ سالہ وِٹھل چودھری نے بھی خشک سالی کی بات کہی: ’’کچھ نہیں بچا۔ سبھی فصلیں سوکھ چکی ہیں۔ پینے تک کے لیے پانی نہیں ہے۔‘‘ بہتر سالوں میں، وٹھل اپنے پانچ ایکڑ کھیت پر دھان، اڑد کی دال اور کُلیٹھ (چنا) اگایا کرتے تھے۔

’’میں یہاں پچھلے سال بھی آیا تھا۔ سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے مطالبات چھ مہینے میں پورے کر دیے جائیں گے،‘‘ انھوں نے کہا۔ ’’ایک سال پورا ہو چکا ہے۔ ہمیں کیا ملا؟ آگے بھی سوکھا جھیلنا ہے۔‘‘

وٹھل ۲۰ فروری کو تلبھٹ سے روانہ ہوئے تھے اور ۲۰۰ کلومیٹر دور، ممبئی تک چلنے کے لیے تیار تھے۔ ناسک کے جس میدان میں کسان رات کو رکے تھے، وہاں ان کا چشمہ گم ہو گیا۔ ’’چشمہ کے بغیر میں دن کی روشنی میں تھوڑا بہت دیکھ سکتا ہوں، لیکن اندھیرے میں ساتھ چلنے کے لیے مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن کیا سرکار بھی میری طرح نہیں دیکھ سکتی ہے؟ کیا وہ اندھے ہیں کہ ہماری جدوجہد کو نہیں دیکھ سکتے؟‘‘

پوسٹ اسکرپٹ: مارچ منعقد کرنے والی آل انڈیا کسان سبھا نے سرکاری نمائندوں کے ساتھ پانچ گھنٹے تک بات چیت کرنے کے بعد، جس میں انھیں تحریری طور پر یقین دہانی کرائی گئی کہ سرکار کسانوں کے سبھی مطالبات پورے کرے گی، ۲۱ فروری کو دیر رات احتجاجی مظاہرہ ختم کر دیا گیا۔ ’’ہم ہر مسئلہ کو متعینہ مدت کے اندر سلسلہ وار طریقے سے حل کریں گے اور ہر دو مہینے میں ایک تجزیاتی میٹنگ کریں گے،‘‘ وزیر مملکت برائے آبی وسائل، گریش مہاجن نے مجمع میں اعلان کیا۔ ’’آپ کو [کسانوں اور زرعی مزدوروں کو] ممبئی تک پیدل چل کر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی سرکار ہے جو سنتی ہے۔ اب ہم ان یقین دہانیوں کو نافذ کریں گے تاکہ آپ کو کوئی دوسرا مارچ نہ نکالنا پڑے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی ممبئی میں مقیم ایک صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی کانٹینٹ کوآر ڈی نیٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli