01-DSCN3202-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

دشہرہ کے دن طلبہ


آج دشہرہ ہے۔ طلبہ پوجا اور دعائیہ گانے کے لیے اسکول کے مین ہال میں جمع ہیں۔

کٹئی کٹو گروکولم، تمل ناڈو کے کانچی پورم ضلع کا ایک رہائشی تھیٹر اسکول ہے۔ یہاں طلبہ کو کٹئی کٹو کی ٹریننگ دی جاتی ہے، جو کہ اس ریاست میں رائج تھیٹر کی ایک دیہی شکل ہے، ساتھ ہی یہاں ۱۲ویں کلاس تک باقاعدہ اسکولی تعلیم کا نظام بھی ہے۔ اسکول کے زیادہ تر بچے محروم اور اقتصادی طور پر پس ماندہ گھروں کے ہیں۔

یہ اسکول روزانہ صبح ساڑھے ۷ بجے سے شام کے ۵ بجے تک چلتا ہے اور کلاسوں میں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ کٹئی کٹو کی ٹریننگ اور موسیقی کے سبق بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ پنجارا سنٹنکل گاؤں کا یہ اسکول چنئی سے ۸۵ کلومیٹر دور ہے اور کانچی پورم شہر سے آٹورکشہ سے یہاں تک پہنچنے میں ۳۵ منٹ لگتے ہیں۔ اسکول سبزہ سازوں سے گھرا ہوا ہے۔

صبح کے اوقات میں طلبہ کی کلاسز لگتی ہیں، جب کہ دوپہر کے بعد عام طور پر دوسرے اسکولوں کی طرح ہی ٹیم کی شکل میں کھیل کود ہوتے ہیں۔ 


02-DSCN3861-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

ہفتہ کی صبح کھو کھو کا کھیل


اس اسکول کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر طلبہ کو کٹئی کٹو آرٹسٹ بننے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انھیں گانا گانے، موسیقی کے ساز بجانے، رقص، اداکاری اور اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انھیں میک اَپ کرنا، ڈراما کے مختلف کرداروں کے چہرے پر پینٹ کرنا بھی سکھایا جاتا ہے، جو کہ عام طور پر رامائن اور مہابھارت جیسی داستانوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ 


03-DSCN3185-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

پی ششی کمار موکاوینئی بجاتے ہوئے


روایتی طور پر کٹئی کٹو میں اب تک صرف مرد اداکار حصہ لیتے رہے ہیں، لیکن اس اسکول میں لڑکیوں کو بھی اس فن کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں باہم مل کر مختلف کرداروں کے رول ادا کرتے ہیں۔

عورتوں کی ایک جماعت اسکول میں اس آرٹ سے متعلق منعقدہ ایک ورکشاپ میں شرکت کر رہی ہیں، وہ دیکھ رہی ہیں کہ کیسے ٹیچرس اور بچے آپس میں مل کر مہابھارت کے حصہ کی ادا کاری کر رہے ہیں۔ نویں کلاس میں پڑھنے والی شیو رنجنی وِکرنا کا رول کر رہی ہے، جو کہ کورووں میں سب سے چھوٹے ہیں اور واحد ایسے شخص ہیں جنہوں نے دروپدی کے دفاع میں اپنے بھائیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

ایک مرد کا کردار کرتے ہوئے وہ کیسا محسوس کرتی ہے؟ ’’مجھے ڈر لگ رہا تھا،‘‘ وہ بتاتی ہے، ’’کیوں کہ سامعین کے سامنے میری یہ پہلی اداکاری ہے۔‘‘ 


04-DSCN3731-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

کے شیو رنجنی، وکرنا کے رول میں، جو کورووں میں سب سے چھوٹے اور دروپدی کے دفاع میں بولنے والے واحد شخص تھے


پی راج گوپال، پرنسپل ٹیچر اور اسکول کے بانی، دشہرہ کے دن پوجا اور دعائیہ گانوں کے بعد چھوٹی سی تقریر کرتے ہیں۔ طلبہ پوری توجہ سے ان کی بات کو سن رہے ہیں۔


05-DSCN3081-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

ایک طالب علم دشہرہ کے دن ٹیچر کی بات کو غور سے سنتے ہوئے


دوپہر کے مزیدار کھانے کے بعد اب طلبہ کے لیے مہابھارت سے ماخوذ دروپدی کوراوَنچی ایکٹ کرنے کا وقت ہے اور اس کے لیے پہلا کام ہے اداکاروں کے چہروں کو پینٹ کرنا۔ طلبہ کے درمیان سے ہی میک اَپ آرٹسٹ اداکاروں کو تیار کر رہے ہیں۔ بارہ سے چودہ سال کی عمر کے ان بچوں کی لگن دیکھنے لائق ہے، کیوں کہ میک اَپ کا یہ کام ایک گھنٹہ تک چلتا ہے۔ سب سے پہلے وہ فاؤنڈیشن کی تہہ لگاتے ہیں، لڑکیوں کے لیے سبز اور لڑکوں کے لیے گلابی، جس کی اس اداکاری میں ضرورت ہے۔ اس کے بعد، آنکھوں، پلکوں، ہونٹوں، مونچھوں، پیشانی، گال اور جبڑوں کی رنگائی۔


06-IMG_1438-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

اداکار کے چہرے کی پینٹنگ


07-DSCN3423-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

ایس سریمتھی، بھارتھی کے چہرے کو پینٹ کر رہی ہے


کچھ نوجوان طلبہ غور سے دیکھ رہے ہیں، میک اَپ کی نزاکت اور تکنیک کو سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


08-DSCN3428-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

ایک نوجوان طالب علم چہرہ پینٹ کرنے کی بہتر تکنیک کو سیکھ رہا ہے


این کارتھی کا جب چہرہ پینٹ ہو جاتا ہے اور اس کے سر پر مُکُٹ سجا دیا جاتا ہے، تو وہ ہال سے باہر اپنا مخصوص لباس پہننے چلا جاتا ہے۔


09-DSCN3502-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

چہرے اور سر کی سجاوٹ کا کام مکمل ہوا


لباس اتنا ہی رنگین ہے جتنا کہ دُشاسن کی خوفناک اداکاری، یہ کورو بھائیوں میں نمبر دو پر تھا۔


10-DSCN3526-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

خوفناک اداکاری اور لباس


11-DSCN3584-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

این کارتھی دُشاسن کے کردار میں


12-DSCN3600-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

جِپسی عورت، کوراتی کے بھیس میں دروپدی کا کردار ادا کرتی اے بھارتھی


کٹئی کٹو گاؤوں میں رات بھر کھیلا جاتا ہے۔ کوئی بھی اداکاری کامیڈی کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ ڈرامے کی اس شکل کے ایک اہم حصہ جوکر ہیں، کیوں کہ یہ طنز و مزاح کو ہنسی کے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ وہ طنز کرتے ہیں، فقرے کستے ہیں اور اداکاری میں مزیدار رنگ بھرتے ہیں، یہ غریبوں کا ساتھ دیتے ہوئے طاقتور لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں، یہ کمزور سوشل پوزیشن سے بڑوں پر وار کرتے ہیں۔ یہ گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو ان ماورائی کہانیوں میں لاتے ہیں اور انھیں بھی اس داستان کا حصہ بناتے ہیں۔ رات بھر چلنے والی اس اداکاری میں، جوکر کہانی کے سیاہ عناصر سے لوگوں کو راحت پہنچاتے ہیں۔


13-DSCN3631-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

اے ویلن جوکر کی شکل میں، پرنسپل ٹیچر پی راج گوپال پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں


14-DSCN3615-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

کوراتی کی شکل میں دروپدی جوکر (ایم انبراسن) کے درد بھرے ہاتھوں میں دوا لگا رہی ہے


جوکر اپنی حرکتوں سے موسیقاروں کو بھی ہنسا دیتے ہیں۔


15-DSCN3693-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

ہارمونیم پر آر بالاجی اور موکاوینائی پر پی ششی کمار قہقہہ لگاتے ہوئے


ایک سُر میں گانا کٹئی کٹو کا حصہ ہے۔ گانے میں بہت سارے طلبہ شریک ہو جاتے ہیں، جب کہ دوسرے ہارمونیم، موکاوینائی اور مِردنگم بجا رہے ہیں۔


16-DSCN3589-NW-Storytelling the Kattaikkuttu way.jpg

بھارتھی اور شیو رنجنی: گانے میں بہترین تال میل

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

نمیتا وائیکر ایک قلم کار، مترجم اور پاری کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ وہ ایک کیمسٹری ڈاٹابیسز فرم کی پارٹنر ہیں، اور ایک بایو کیمسٹ اور سوفٹ ویئر پروجیکٹ منیجر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔

Other stories by Namita Waikar