/media/uploads/Articles/Asawari Sodhi/Micro Enterprise/thrissur_august_16_and_17_314.jpg

کام کے لیے تفصیل، ذہانت، درستگی پر توجہ دینے کی ضرورت پڑتی ہے


دو چھوٹے کمروں میں ایک قسم کا انقلاب پیدا ہو رہا ہے۔ ایک بڑے سے دروازہ والی پراپرٹی سے منسلک ان دونوں کمروں میں مِل کنٹرول اسمبلی یونٹ قائم ہے، جسے کُڈمبا شری کی ۹ خواتین چلاتی ہیں۔ ان میں سے ایک کمرہ کو تین اور دوسرے کمرہ کو چھ عورتیں سنبھال رہی ہیں۔ وہ اپنے مصروف ورک اسٹیشن پر بھاری بھرکم کولڈ ٹولس (اوزار)، جمع کرنے والے حصوں اور پیمانہ بندی کے چارٹوں کے ساتھ بیٹھتی ہیں۔ یہ فونیکس ایکٹیوٹی گروپ ہے، کنٹرول اور ٹرِپ والووں کا اسمبلی یونٹ۔


/static/media/uploads/Articles/Asawari Sodhi/Micro Enterprise/thrissur_august_16_and_17_250.jpg


ہم تین خواتین والے کمرہ کے دروازہ کے باہر اپنے جوتے کھولتے ہیں۔ اس نہایت ہی چھوٹے کمرہ میں کافی کچھ کام چل رہا ہے۔ اس یونٹ کی صدر گریجا ششندرن جس وقت مجھ سے اور میری دوست سے بات کر رہی ہیں، اس وقت مِنی ایک کنٹرول والو کو نٹ اور بولٹ سے پیٹ کر الگ کر رہی ہیں۔ دوسرے ورکشاپ ٹیبل پر، اجیدا ایک تیار ٹکڑے کو آخری شکل دے رہی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ٹیبل پچاس سے زیادہ سرخ پلاسٹک ٹرے سے لدی ہوئی ہے، جن میں ہر قسم کے ٹکڑے و حصے نہایت سلیقے سے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں۔ مسٹر رجیت نامی کسی شخص کے ذریعہ ای ہفتہ کی ٹریننگ اور روزانہ کی مشق اس کمرہ کی تمام سرگرمیوں کی کہانی بیان کر رہی ہے۔ یہاں عورتیں ماہرین کی طرح کام اور بات کرتی ہیں۔ لیکن انھیں ٹھیک ٹھیک یہ نہیں معلوم ہے کہ ان کے ذریعہ یہ تیار مال کیسے اور کہاں استعمال کیے جائیں گے۔ اور یہ ویسے نہیں ہیں جیسا کہ انھیں ٹریننگ میں بتایا گیا تھا۔ گریجا ہمیں ایک کتابچہ دیتی ہیں جس میں ایک تصویر میں والو کی حتمی شکل ایک بڑین مشین کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ’’انھوں نے شاید ہمیں اس کے بارے میں اس لیے نہیں بتایا، کیوں کہ انھیں ڈر ہے کہ ہم کہیں اپنا یونٹ نہ کھول لیں،‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ اس کام میں تفصیل، ذہانت اور درستگی پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تین رکنی یونٹ صبح ۹ بجے سے شام کے ۵ بجے تک روزانہ اوسطاً دس کنٹرول والو تیار کر لیتی ہے۔ انھیں ایک پیس کے ۱۵۰ روپے ملتے ہیں۔ ان کے لیے ایک مہینہ میں ایسے ۵۰ والو تیار کرنے ضروری ہیں، جو کہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Asawari Sodhi/Micro Enterprise/thrissur_august_16_and_17_199_-_copy.jpg


فونیکس ایکٹیوٹی گروپ کڈمبا شری کی ایک نایاب شے ہے۔ یہ عام معنوں میں بھی ایک ندرت ہے۔ کڈمباشری میں دیگر چھوٹے کاروباروں یا معاش کے ذرائع کے برعکس، فونیکس اپنا کام نہ تو علاقے کے دوسرے لوگوں سے کراتا ہے اور نہ ہی انھیں کوئی خدمت مہیا کرتا ہے۔ یہاں کی عورتیں، جو ساڑی پہنتی ہیں اور یونیفارم کے طور پر بھورے رنگ کا چھوٹا کوٹ پہنتی ہیں، ان والووں کو خود ہی جوڑتی اور مکمل طور پر تیار کرتی ہیں۔ وہ صحیح کیلی بریشن چارٹ کی مدد سے اپنے کام کو آپس میں بانٹ لیتی ہیں اور ڈیوٹی بھی باری باری انجام دیتی ہیں۔ اور وہ اس کی اہمیت کو بھی سمجھتی ہیں: یعنی یہ انہی کے ذریعہ اور انہی کے بارے میں ہے۔ سب سے پہلے، بہت سی کمپنیاں اسمبلی کے کام کی پیچیدگیوں کو دیکھتے ہوئے زیادہ عمر کے لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتیں۔ دوسرے، یہ ایک حیرانی کی بات ہے کہ گروپ میں شامل کسی بھی عورت کے پاس کالج کی ڈگری نہیں ہے، جب کہ بازار میں ایسے کام کے لیے مخصوص اور ماہر افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ گریجا بتاتی ہیں کہ ان کی کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر جب ایک بار یہاں آئے تھے، تو وہ ان ہائی اسکول گریجویٹس خواتین ’’بی ٹیک ڈپلومہ اسٹوڈنٹس‘‘ کا کام کرتے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ وہ یہ کام کافی دنوں سے اور نہایت خوش اسلوبی سے کر رہی ہیں۔ بات چیت کے دوران انھوں نے مجھے کیلی بریشن چارٹ میں درج کوالٹی اشیورنس، ہِس اور کلکس جیسی کارروائیوں کے بارے میں بتایا۔ گزشتہ آٹھ مہینوں میں انھوں نے جتنے والو تیار کیے اور مارکیٹ میں بھیجے، ان میں سے صرف آٹھ ہی واپس لوٹ کر آئے، ٹھیک ہونے کے لیے۔ یہ ہے ان کا کوالٹی کنٹرول۔


/static/media/uploads/Articles/Asawari Sodhi/Micro Enterprise/thrissur_august_16_and_17_202.jpg


کمپنی کا حسن اخلاق ہی فونیکس ایکٹیوٹی گروپ کی خصوصیات کو ظاہر نہیں کرتا، بلکہ ’’بہتر کارکردگی‘‘ بھی ان کی کامیابی کا ضامن ہے، ایسا گریجا سوچتی ہیں۔ بعض تحقیق سے انھیں پتہ چلا کہ پولی ٹیکنک گریجویٹس کو اسی کام کے اتنے پیسے نہیں مل پائے، جتنے انھیں ملے تھے۔ یہی چیز فونیکس ایکٹیوٹی گروپ کو دوسرے سے الگ بناتی ہے۔ مناسب قیمت، ریگولر سپلائی اور مسلسل کام ایک ساتھ چلتے ہیں، ہمیشہ آرام سے نہیں ہوتا لیکن مول تول کی تھوڑی بہت گنجائش ضرور رہتی ہے۔ لیکن، ان سے یہ وعدہ ضرور کیا جاتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی بھی ترقی ہوگی اور یہ عورتیں با اختیار بنیں گی۔ لیکن، شروع میں انھیں ایک وعدہ تو پورا ہوتا ہوا ضرور نظر آتا ہے کہ یہاں ترقی کے بے پناہ مواقع ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Asawari Sodhi/Micro Enterprise/thrissur_august_16_and_17_231.jpg


اس کے علاوہ، فوری مسائل سے بھی کام سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھیں کافی حرکت کرنی پڑتی ہے، جو کہ اس کام کا تقاضا ہے، یہ مسئلہ اس کام کے ساتھ جڑا ہے اور انھیں اسی حساب سے کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ انڈسٹریل اسمبلنگ یونٹ کے طور پر ان کی ضروریات دوسرے چھوٹے کاروباروں کی بہ نسبت کچھ انوکھی ہیں۔ فونیکس میں میرے دورہ کے دوران یہ عورتیں دوسری جگہ تلاش کر رہی تھیں، کیوں کہ سپلائی کا تیار مال وہاں رکھنے کی مزید جگہ نہیں بچی تھی۔ مالکان بھی نفع بخش تجارت کو مزید فروغ دینے کے لیے نئے گھر کی تلاش میں ہیں۔ یہاں انھیں ماہانہ ۵۰۰۰ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، ۲۵۰۰ روپے بجلی بل پر اور ۳۰۰۰ روپیہ کا مکان کا کرایہ، جو کہ اس یونٹ کی ماہانہ آمدنی کا تقریباً دس فیصد ہے۔ پیشہ سے متعلق دوسرے مسائل بھی ہیں۔ میں نے خود اسے محسوس کیا، جس وقت جیہ لکشمی اور شیجا سجیون والو کو جوڑنے میں لگی ہوئی تھیں۔ بغیر جڑی ہوئی صورت میں اس کا وزن ۶۰ کلو ہوتا ہے، جو بن کر پوری طرح تیار ہو جانا بھی کافی بھاری ہو جاتا ہے۔ یہ وجے لکشمی کے لیے تکلیف دہ ہے، کیوں کہ کام کرتے وقت اس کے بوجھ سے ان کا پورا جسم جھک جاتا ہے، جس سے زخمی ہونے کا قوی امکان ہے، جب کہ یہاں پر کوئی انشورنس کوریج بھی نہیں ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Asawari Sodhi/Micro Enterprise/thrissur_august_16_and_17_347_-_copy.jpg


ہم سامنے کے دالان میں جمع ہو کر گروپ فوٹو کے لیے چل پڑؒتے ہیں، ہمارے دونوں طرف گروپ کا بینر اور بڑی سی گرین مشینری ہے، جو اس وقت کافی شور مچاتی ہے جب جیہ لکشمی اس میں والو لگاتی ہیں۔ وہ ہنسی مذاق کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور میں ان کے قطار میں لگنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ دریں اثنا، میں انتظار چھوڑ کر اپنے کیمرے میں دیکھتی ہوں۔ ظاہر ہے، یہ ابھی پوری طرح درست نہیں ہے۔ یہ جو کچھ بھی ہے، اسے اب تصویر کھینچنے کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔ لیکن، پھر بھی درستگی سے دور ہے۔ 


/static/media/uploads/Articles/Asawari Sodhi/Micro Enterprise/thrissur_august_16_and_17_352.jpg



ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Asawari Sodhi

مصنفہ: اساوری سودھی

Other Stories by Asawari Sodhi