شیوم سنگھ چہل پہل والی دادر کی ایک گلی میں ہر روز صبح کو ایک ریڈ کارپیٹ بچھاتے ہیں۔ وہ چار بائی پانچ کے اس کارپیٹ پر پورے احتیاط سے پلاسٹک کے پانچ اسٹول رکھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک اسٹول کے نیچے دیوی لکشمی کی فریم کی ہوئی تصویر رکھتے ہیں، اور ایک اگربتی جلا دیتے ہیں۔

پیپل کے جس درخت کے نیچے انھوں نے اپنی یہ دکان لگائی، اس کی ایک شاخ پر ایک بینٹر لٹکا ہوا ہے، جس پر لکھا ہے ’شیوم مہندی آرٹسٹ‘۔ اس بینر پر اور پانچوں اسٹول پر انھوں نے جو متعدد فوٹو البم سجا رکھے ہیں، ان میں مہندی لگے ہاتھوں اور پیروں کی تصویریں ہیں۔ اس کے بعد شیوم دن کے پہلے گاہک کا انتظار کرنے لگتے ہیں جو ان تصویروں میں سے کسی ایک ڈیزائن کو پسند کرسکے – جیسے پھول کے ڈیزائن، پیزلے، پتوں کے ڈیزائن، یا بعض دفعہ وہ گاہک کے ہاتھوں دیکھ کر الگ سے کوئی ڈیزائن بناتے ہیں۔ ’’کوئی نہ کوئی ضرور آئے گا....‘‘ وہ کہتے ہیں، اپنے دن کے بارے میں پرامید ہو کر۔

مشکل سے 200 میٹر کی دوری پر، شیو نائک نے بھی راناڈے روڈ پر ایک دکان کھول رکھی ہے، جو کہ سنٹرل ممبئی کے دادر ریلوے اسٹیشن سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ وہ بھی اپنے دن کی تیاری ہاتھ سے بنائے گئے پلاسٹک کے کون میں مہندی کا پیسٹ بھر کے کر رہے ہیں۔ جس فٹ پاتھ پر ان دونوں آرٹسٹوں نے اپنی دکان لگائی ہے، وہاں چاروں طرف چہل پہل ہے۔ باہر سے یہاں آنے والے کئی دکاندار متعدد سامان بیچتے اور خدمات مہیا کراتے ہیں – مثال کے طور پر پھول بیچنے والا شعلہ پور سے ہے، زیور کی مرمت کرنے والا لکھنؤ سے ہے، جوتے بیچنے والا کولکاتا سے آیا ہے اور آئس کریم بیچنے والے کا تعلق راجستھان سے ہے۔

PHOTO • Samyukta Shastri

شیو نائک سنٹرل ممبئی کے راناڈے روڈ پر اپنی عارضی دکان پر گاہکوں کا انتظار کر رہے ہیں

شیو اور شیوم اپنی ان عارضی دکانوں پر تقریباً 10 گھنٹے بیٹھیں گے، جیسا کہ آس پاس کے دیگر مہندی والے کرتے ہیں – شیو کا اندازہ ہے کہ اس علاقہ میں ایسے مہندی والوں کی تعداد کم از کم 30 ہے، اور سارے کے سارے مرد ہیں۔ ’’مہندی لگانے میں لڑکے لڑکیوں سے زیادہ تیز ہوتے ہیں۔ (مہندی لگانے کی پریکٹس کرنے کے لیے) لڑکیوں کے پاس (بیوٹی) پارلر ہیں۔ لڑکے اس قسم کی دکان لگاتے ہیں۔ لڑکیاں فٹ پاتھ پر نہیں بیٹھ سکتیں...‘‘ شیوم کا کہنا ہے۔

پورے شہر میں مضافاتی اسٹیشنوں کے قریب بیٹھے مہندی لگانے والوں کی طرح ہی، شیو اور شیوم بھی مہاجر ہیں؛ دونوں اترپردیش کے رہنے والے ہیں۔ 19 سال کے شیوم، علی گڑھ ضلع کی گوانا تحصیل کے جاما گاؤں سے تقریباً چھ سال پہلے ممبئی آئے تھے۔ ’’میں جب گاؤں سے چلا تھا، تب میری عمر آٹھ یا نو سال کی تھی،‘‘ وہ بتاتے ہیں؛ ’’میرے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں تھا – میرے دو بڑے بھائیوں کی شادی ہو چکی تھی، جس کے بعد وہ الگ رہنے لگے تھے۔‘‘

لیکن ممبئی آنے سے پہلے، شیوم مہندی کا ڈیزائن سیکھنے کے لیے دہلی اپنے ماما کے پاس گئے۔ ’’3-2 مہینے تک، میں دن بھر گتّے (کارڈ بورڈ) پر ڈیزائن بنانے کی مشق کرتا۔ جب مجھے پوری طرح اعتماد ہوگیا، تب انھوں نے مجھے گاہک کے ہاتھوں پر ڈیزائن بنانے کی اجازت دی۔‘‘ روزی کمانے کے لیے چھوٹے ریستوراں میں کام کرنے یا ٹریکٹر اور کار چلانے کا کام کرنے کے بعد، شیوم ممبئی پہنچے۔

شیو، جو اپنی عمر کے 20 ویں سال میں ہیں، 10 سال پہلے فیروزآباد ضلع کی ٹنڈلا تحصیل سے ممبئی آئے تھے۔ مہندی لگانے کے کام میں داخل ہونا ان کے لیے فطری تھا۔ ’’پورا گاؤں یہی کام کرتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’یہاں آنے کے بعد میں نے یہ کام اپنے بھائی سے سیکھا؛ میرے بھائی نے ہمارے بہنوئی سے سیکھا تھا۔ یہ ہماری فیملی کا روایتی پیشہ ہے۔ ہر کوئی یہی کام کرتا ہے۔‘‘

شیو کے کزن، کلدیپ نائک، ممبئی میں ان کی بھی دکان ہے، کہتے ہیں، ’’جس طرح دوسرے بچے پڑھنے اسکول جاتے ہیں، اسی طرح ہمارے گاؤں کے بچے یہ سیکھتے ہیں۔ گاہک ہم سے جو بھی کہے گا ہم وہ بنا سکتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ گنانا شروع کرتے ہیں، ’’کوئی بھی اسٹائل – عربک، بامبے اسٹائل، مارواڑی، انڈو-عربک، انڈو-ویسٹرن، دبئی... کچھ بھی۔‘‘

مہندی لگانے کا کام کرنے ممبئی جانا فائدے کا سودا رہا ہے۔ ’’پیسہ کہاں تھا پہلے؟‘‘ شیوم سوال کرتے ہیں۔ ’’ہم جب باہر نکلے اور کمانا شروع کیا تب ہم نے پیسہ دیکھا۔ گاؤں میں، ہاتھ سے مزدوری کرکے آپ ایک دن میں صرف 300-200 روپے ہی کما سکتے ہیں۔ دہلی میں، میں نے ڈرائیور کے طور پر 9000-7000 روپے کماتا تھا۔ اب میں ایک مہینہ میں 30 سے 50 ہزار روپے تک کما لیتا ہوں۔‘‘

PHOTO • Samyukta Shastri

شیوم سنگھ (دائیں) کی دکان پر پلاسٹک کے اسٹول پر مہندی ڈیزائن کی تصویریں رکھی ہوئی ہیں، اور اس کے نیچے دیوی لکشمی کی تصویر ہے

شیوم زیادہ تر پیسہ شادیوں میں مہندی لگا کر کماتے ہیں۔ ’’یہاں (گلیوں میں) ہم روزانہ 2000-800 روپے بنا لیتے ہیں – ہمارے پاس ایک دن میں 5 سے 10 گاہک آتے ہیں۔ اگر پانچ آئے (تو کم از کم بنے) 1500-1000 روپے۔ اگر لوگ ہمیں (مہندی کے لیے) گھر بلاتے ہیں، تو عام طور سے ہم کم از کم 1000 روپے لیتے ہیں۔‘‘

جے پور کے رہنے والے ان کے ماما، منوج، جن کی اپنی مہندی کی دکان دادر ایسٹ میں ہے، اور جو شیوم سے ملنے آئے ہیں، کہتے ہیں، ’’ہر گاہک ایک ہاتھ کا 500 روپے دیتا ہے۔ ریٹ شروع ہوتا ہے 100 روپے سے۔ لیکن کوئی بھی اسے نہیں چنتا۔ ہر کوئی 300 یا 400 کی مہندی لگانا چاہتا ہے۔ دلہن کے لیے مہندی لگانے کی شروعات 5000 روپے سے ہوتی ہے۔‘‘

لیکن صرف پیسہ کی وجہ سے مہندی لگانے والے اس پیشہ میں نہیں آتے۔ شیوم کا کہنا ہے کہ انھیں آزادی پسند ہے، وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ منوج کہتے ہیں کہ انھیں اپنی مرضی سے کہیں بھی گھومنے کی جو آزادی ملی ہوئی ہے، اس سے وہ خوش ہیں۔ وہ اپنی دکان پر کبھی کبھار ہی بیٹھتے ہیں، زیادہ تر اپنے دوستوں سے ملنے کے لیے ادھر ادھر جاتے رہتے ہیں۔ ’’میں پچھلے چار پانچ سالوں سے ممبئی میں ہوں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’اس سے پہلے تمل ناڈو میں میری دکان تھی۔ ہم گھومتے رہتے ہیں – تمل ناڈو، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش – میں پورے ملک میں گھوم چکا ہوں۔ جہاں چاہے جاؤ، جب چاہے جاؤ۔ آج میرا ساحل پر جانے کا من کر رہا ہے، اس لیے میں وہاں جاؤں گا...‘‘

شیوم اور منوج، دونوں نے ہی اپنے یہاں ہیلپر رکھے ہوئے ہیں۔ ’’وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے گاؤں کے دوسرے لوگ اس کام سے پیسہ کما رہے ہیں، اس لیے وہ بھی یہاں آنے لگے ہیں،‘‘ شیوم کا کہنا ہے۔ منوج اپنی دکان اسسٹنٹ کے حوالے کر دیتے ہیں اور تبھی مداخلت کرتے ہیں جب گاہکوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے یا گھروں سے آرڈر آنے لگیں۔

اس آزادی کی وجہ سے شیوم، اپنے گھر جاما گاؤں بھی اکثر جاتے رہتے ہیں، جہاں پر وہ اپنی فیملی کے 20 بیگھہ (تقریباً چار ایکڑ) کھیت کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اپنی دکان پر رکھے لڑکوں کو وہ ماہانہ 7000-5000 روپے دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی آمدنی کا کچھ حصہ ہر ماہ پروٹیکشن فیس کے طور پر یہاں کے طاقتور لوگوں کو جاتا ہے۔ کچھ پیسہ کرایے میں چلا جاتا ہے – شیوم شمال مشرقی ممبئی کے گھاٹ کوپر علاقے میں منوج اور چند دیگر لوگوں کے ساتھ جوائنٹ کوارٹر میں رہتے ہیں۔

ان تمام اخراجات کے بعد کمائی کا جو حصہ باقی بچتا ہے، اسے شیوم اپنے گھر بھیج دیتے ہیں۔ ’’یہاں پر (ممبئی میں) پیسے کا کیا کام؟ آخرکار، ہم تو اپنے گھر کے لیے ہی یہ سب کر رہے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ شیو اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’یہ پیسہ کس لیے کما رہے ہیں ... یہاں کے لیے یا گھر کے لیے؟‘‘

PHOTO • Samyukta Shastri

شیوم پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں: ’کوئی نہ کوئی ضرور آئے گا ...‘ وہ کہتے ہیں، اپنے دن کے بارے میں پر امید ہو کر

جاما گاؤں میں شیوم کے گھر پر، ان کی ماں اور 15 سالہ بہن انجو انہی کے اوپر منحصر ہیں۔ انجو نے 10ویں کلاس پاس کر لیا ہے اور اب گھر میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ شیوم سے جب یہ پوچھا گیا کہ شادی میں اس کی بہن کو مہندی کون لگائے گا، تو وہ ایک بھائی کا پیار دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہی لگائیں گے۔ ’’یا شاید میرا بھائی لگائے گا۔ اور کون؟‘‘ لیکن منوج کی سوچ اس سے الگ ہے: ’’ جب میں اپنے گھر پر (جے پور میں) ہوتا ہوں، تو مجھے مہندی لگانا پسند نہیں ہے۔ لیکن، بعض دفعہ جب کوئی اس کے لیے ضد کرتا ہے، تو مجھے کرنا پڑتا ہے۔‘‘

دریں اثنا، شیو کی دکان پر ایک گاہک آکر رکی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ شیو اس کی بھتیجی کی شادی سے پہلے اس کے گھر پر مہندی لگانے کی رسم میں آئے۔ ’’آپ مجھے ممبئی میں مہندی لگانے کے لیے کہیں بھی بلا سکتے ہیں۔ اگر اس کام کے لیے ممبئی سے باہر جانا پڑا تو اس کا الگ سے چارج لگے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہم ہر جگہ جاتے ہیں۔‘‘

تصویریں: سمیُکتا شاستری

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Samyukta Shastri

سَمیُکتا شاستری پیپلز آرکائیو آف رورول انڈیا کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔ ان کے پاس سمبایوسِس سنٹر فار میڈیا اینڈ کمیونی کیشن، پُنے سے میڈیا اسٹڈیز کی بیچلر ڈگری، اور ایس این ڈی ٹی ویمنس یونیورسٹی، ممبئی سے انگریزی ادب میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔

Other stories by Samyukta Shastri