کورونا وائرس پر اپنی پہلی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیں تالی، تھالی اور گھنٹی بجاکر بدروحوں کو دور بھگانے کے لیے کہا تھا۔

پھر اپنی دوسری تقریر سے انہوں نے ہم سبھی کو ڈرا دیا تھا۔

انہوں نے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا کہ آنے والے ہفتوں میں عوام، خاص کر غریب لوگ کھانا اور دیگر ضروری اشیاء تک کیسے پہنچیں گے، جس کی وجہ سے اتنی افراتفری پھیلی، گویا ایسا ہونے ہی والا تھا۔ متوسط طبقہ کے لوگ بڑی تعداد میں دکانوں اور بازاروں میں پہنچنے لگے – ایسا کرنا غریبوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان مہاجرین کے لیے بھی نہیں، جو شہر چھوڑ کر گاؤوں کی طرف جا رہے ہیں۔ چھوٹے مال فروشوں، گھروں میں کام کرنے والوں، زرعی مزدوروں کے لیے بھی نہیں۔ اُن کسانوں کے لیے بھی نہیں جو ربیع کی فصل کاٹنے کے لائق نہیں ہیں – یا جنہوں نے کاٹ تو لیا ہے لیکن آگے کی کارروائی کو لیکر پھنس گئے ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں پس ماندہ ہندوستانیوں کے لیے بھی نہیں۔

وزیر خزانہ کا پیکیج – جس کا اعلان انہوں نے کل، یعنی ۲۶ مارچ کو کیا تھا – اس میں بھی معمولی راحت کی بات کی گئی ہے: پبلک ڈسٹربیوشن سسٹم (عوامی تقسیم کا نظام)، یعنی پی ڈی ایس کے تحت جو ۵ کلو اناج پہلے سے دیا جا رہا ہے، اس میں اضافہ کرتے ہوئے ہر ایک شخص کو ۵ کلو گیہوں یا چاول اگلے تین مہینے تک مفت دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو – یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ کیا پہلے سے ملنے والا یا اب ملنے والا اضافی ۵ کلو اناج مفت ہوگا یا اس کے لیے پیسے دینے ہوں گے۔ اگر اس کے لیے پیسہ دینا پڑا، تو یہ کام نہیں کرے گا۔ اس ’پیکیج‘ کے زیادہ تر عناصر پہلے سے موجود اسکیموں کے لیے مختص رقم ہیں۔ منریگا کی مزدوری میں ۲۰ روپے کا اضافہ ویسے بھی زیر التوا تھا – اور اس میں اضافی دنوں کا کوئی ذکر نہیں ہے؟ اور اگر وہ ایک ہی بار میں زمین پر اترتے ہیں، جب کہ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کام کس قسم کا ہوگا، تو سماجی دوری (سوشل ڈسٹینسنگ) بنائے رکھنے کے پیمانہ کو وہ کیسے پورا کریں گے؟ اتنے بڑے پیمانے پر کام مہیا کرانے میں جتنے دن لگیں گے، اتنے ہفتوں تک لوگ کیا کریں گے؟ کیا ان کی صحت اس لائق ہوگی؟ ہمیں منریگا کے ہر مزدور اور کسان کو تب تک مزدوری دیتے رہنا چاہیے جب تک یہ بحران برقرار ہے، کوئی کام دستیاب ہو یا نہ ہو۔

پردھان منتری کسان سمّان ندھی (پی ایم-کسان) کے تحت ۲۰۰۰ روپے کا فائدہ پہلے سے ہی تھا اور بقایا تھا – اس میں نیا کیا ہے؟ سہ ماہی کے آخری مہینے میں ادائیگی کرنے کی بجائے، اسے آگے بڑھاکر پہلے مہینے میں کر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس وبا اور لاک ڈاؤن (تالا بندی) کے جواب میں جو ۱ء۷ لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے، اس میں کہیں پر بھی اس کی ذیلی تفصیلات موجود نہیں ہیں – اس کے نئے اجزاء کیا ہیں؟ اس رقم کا کون سا حصہ پرانی یا موجودہ اسکیموں کا ہے، جنہیں آپس میں جوڑ کر یہ نمبر تیار کیا گیا ہے؟ وہ ناگہانی ترکیبوں کی شکل میں شاید ہی مفید ہیں۔ اس کے علاوہ، پنشنروں، بیواؤں اور معذوروں کو ۱۰۰۰ روپے کی رقم اگلے تین مہینوں تک دو قسطوں میں یک مشت ملے گی؟ اور جن دھن یوجنا کے کھاتہ والی ۲۰ کروڑ عورتوں میں سے ہر ایک کو ۵۰۰ روپے اگلے تین مہینے تک ملیں گے؟ یہ ٹوکن سے بھی بدتر ہے، یہ فحش ہے۔

سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے لیے قرض کی حد بڑھا دینے سے وہ صورتحال کیسے بدل جائے گی، جہاں موجودہ قرض کے پیسے حاصل کرنا پہاڑ کھودنے جیسا ہے؟ اور یہ ’پیکیج‘ دور دراز کے علاقوں میں پھنسے ان بے شمار مہاجر کامگاروں کی کتنی مدد کرے گا، جو اپنے گھر اور گاؤں لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ دعویٰ کہ اس سے مہاجرین کی مدد ہوگی، غیر تصدیق شدہ ہے۔ اگر ناگہانی علاجوں کے سنجیدہ سیٹ کو تیار کرنے میں ناکامی خطرناک ہے، تو وہیں پیکیج کا اعلان کرنے والوں کا رویہ خوف پیدا کرنے والا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں زمین پر پیدا ہو رہی صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔

PHOTO • Labani Jangi

اس مضمون کے ساتھ دونوں تصویریں، دہلی اور نوئیڈا سے اترپردیش اور دیگر مقامات کے اپنے گاؤوں لوٹ رہے مہاجر مزدوروں کی ایک فنکار کی آنکھوں سے عکاسی ہے۔ فنکار، لبانی جانگی، خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں، جو کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز میں مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں

ہم جس قسم کے لاک ڈاؤن میں ہیں – محروموں کے لیے بغیر کسی سنجیدہ سماجی تعاون یا منصوبہ کے ساتھ – اس کے سبب اُلٹی مہاجرت شروع ہو سکتی ہے، بلکہ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ اس کی وسعت اور شدت کو ٹھیک کر پانا ناممکن ہے۔ لیکن متعدد ریاستوں کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے گاؤں کی طرف لوٹ رہے ہیں کیوں کہ وہ جن شہروں اور قصبوں میں کام کرتے ہیں، وہاں تالا بندی ہے۔

ان میں سے اب کئی واحد دستیاب ٹرانسپورٹ کا استعمال کر رہے ہیں – یعنی ان کے خود کے دو پیر۔ کچھ لوگ سائیکل چلاکر گھر جا رہے ہیں۔ کچھ تو بیچ راستے میں ہی پھنس گئے جب ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹر گاڑیوں نے کام کرنا بند کر دیا۔ یہ خوفناک ہے، ایک قسم کی خطرناک صورتحال جس میں تیزی آنے پر یہ قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

تصور کیجئے ایسی بڑی جماعتوں کا جو پیدل گھر کی طرف رواں دواں ہیں، گجرات کے شہروں سے راجستھان کے گاؤوں تک؛ حیدرآباد سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے دور دراز کے گاؤوں تک؛ دہلی سے اترپردیش، یہاں تک کہ بہار تک؛ ممبئی سے پتہ نہیں کتنی منزلوں تک۔ اگر انہیں کوئی مدد نہیں ملتی ہے، تو کھانا اور پانی تک ان کی تیزی سے کم ہوتی رسائی سے تباہی مچ سکتی ہے۔ وہ ڈائریا (شدید دست)، ہیضہ وغیرہ جیسی کافی پرانی بیماریوں کی چپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، اس بڑھتے اقتصادی بحران کے سبب جس قسم کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اس سے کام کاجی اور نوجوانوں کی آبادی کے درمیان بڑی تعداد میں موت کا امکان ہے۔ جیسا کہ پیپلز ہیلتھ موومنٹ کے عالمی کوآرڈنیٹر، پروفیسر ٹی سندر رمن نے پاری کو بتایا، ’’صحت خدمات ایسی ہیں کہ اس اقتصادی بحران کی وجہ سے، ہم کورونا وائرس کے علاوہ دیگر بیماریوں سے ہونے والی اموات سے تباہ ہو سکتے ہیں۔‘‘

جن لوگوں کی عمر ۶۰ سال یا اس سے زیادہ ہے، ایسی آبادی کے ۸ فیصد لوگوں کو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ دیگر بیماریوں کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ بہت سی لازمی صحت خدمات تک رسائی کو محدود اور کم کر دینے سے کام کرنے والے لوگوں اور نوجوان آبادی کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر سندر رمن، نیشنل ہیلتھ سسٹمز رِسورسز سینٹر کے سابق ایگزیکٹو ڈائرکٹر، زور دے کر کہتے ہیں کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ’’اُلٹی سمت میں مہاجرت کا مسئلہ اور معاش کے نقصان کی شناخت اور ان پر کارروائی کی جائے۔ ایسا نہیں کرنے پر، جن بیماریوں سے کسی زمانے میں بڑے پیمانے پر غریب ہندوستانیوں کی موت ہو جایا کرتی تھی، اب کورونا وائرس کے سبب ایسے لوگوں کی اس سے زیادہ موت ہو سکتی ہے۔‘‘ خاص طور سے اگر اُلٹی سمت میں مہاجرت میں اضافہ ہوتا ہے – تو شہروں کے بھوکے مزدوروں کو معمولی مزدوری بھی نہیں مل پائے گی۔

PHOTO • Rahul M.

تھکے ہوئے مہاجر مزدور جو ہر ہفتے آندھرا پردیش کے اننت پور اور کیرالہ کے کوچی کے درمیان آتے جاتے رہتے ہیں

کئی مہاجر اپنے کام کی جگہوں پر رہتے ہیں۔ اب جب کہ وہ ساری جگہیں بند کر دی گئی ہیں، اور انہیں وہاں سے چلے جانے کو کہہ دیا گیا ہے – وہ کہاں جائیں گے؟ ان میں سے سبھی اتنی لمبی دوری پیدل طے نہیں کر سکتے۔ ان کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے – آپ اُن تک کھانا کیسے پہنچائیں گے؟

اقتصادی بحران پہلے سے ہی رفتار پکڑ رہا ہے۔

ایک اور بات جو سامنے آ رہی ہے، وہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ذریعے مہاجر مزدوروں، گھریلو ملازمین، جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں اور دیگر غریبوں کو قصوروار ٹھہرانا ہے کیوں کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ اصلی مسئلہ یہی لوگ ہیں۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ کووِڈ- ۱۹ کو لانے والے وہ لوگ ہیں، جو ہوائی جہازوں سے سفر کرتے ہیں – یعنی ہم جیسے لوگ، جو اس سے پہلے ایس اے آر ایس بھی لا چکے ہیں۔ اس حقیقت کو قبول کرنے کی بجائے، ایسا لگتا ہے کہ ہم ان ناپسندیدہ عناصر کو ہٹاکر شہروں کو مقدس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرا سوچیں: اگر ہوائی جہاز سے سفر کرنے والوں میں سے کسی نے گھر لوٹ رہے مہاجرین میں سے کسی کو انفیکٹیڈ کر دیا ہو – تو ان کے گاؤوں پہنچنے کے بعد اس کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے؟

کچھ مہاجر مزدور، جو اپنی ریاست میں یا پڑوسی ریاستوں میں کام کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اپنے گاؤوں واپس لوٹتے رہے ہیں۔ روایتی طریقہ یہ تھا کہ اپنا کھانا حاصل کرنے کے لیے راستوں کے کنارے واقع چائے کی دکانوں اور ڈھابوں پر کام کیا جائے – رات میں وہی سو لیا جائے۔ اب، ان میں سے زیادہ تر بند ہو چکے ہیں – تو کیا ہوتا ہے؟

کسی طرح سے، خوشحال اور متوسط طبقہ کے لوگ پر اعتماد ہیں کہ اگر ہم گھر پر رہیں گے اور سماجی دوری بنائے رکھیں گے، تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کہ، کم از کم، ہم وائرس سے دور رہیں گے۔ اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ اقتصادی بحران کا ہمارے اوپر کس قسم کا اثر پڑے گا۔ کئی لوگوں کے لیے، ’سماجی دوری‘ کے الگ معنی نکل کر آتے ہیں۔ ہم نے اس کی سب سے طاقتور شکل کی ایجاد تقریباً دو ہزار سال قبل کی تھی – ذات۔ طبقہ اور ذات کے اسباب ہماری طرح کے لاک ڈاؤن کے ردِ عمل میں پوشیدہ نظر آتے ہیں۔

ایک قوم کے طور پر ہمارے لیے یہ معنی نہیں رکھتا ہے کہ تپ دق (ٹی بی) سے ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ ہندوستانیوں کی موت ہو جاتی ہے۔ یا یہ کہ ڈائریا (شدید دست) سے سالانہ ایک لاکھ بچوں کی جان چلی جاتی ہے۔ وہ ہم نہیں ہیں۔ دہشت تب پھیلتی ہے، جب خوبصورت لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ انہیں کچھ ملک بیماریوں سے نجات نہیں مل پائے گی۔ ایس اے آر ایس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ ویسا ہی ۱۹۹۴ میں، سورت میں پلیگ (طاعون) کے ساتھ ہوا تھا۔ دونوں ہی خطرناک بیماریاں تھیں، جس نے ہندوستان میں بہت کم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا، حالانکہ وہ اس سے کہیں زیادہ تباہی پھیلا سکتی تھیں۔ لیکن انہوں نے بہت زیادہ توجہ مرکوز کی۔ جیسا کہ میں نے سورت میں اس وقت لکھا تھا: ’’طاعون کے جراثیم کافی بدنام ہیں کہ وہ طبقات کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے...اور اس سے بھی زیادہ خراب بات یہ ہے کہ وہ طیارہ پر سوار ہو سکتے ہیں اور کلب والے طبقہ کے ساتھ نیویارک تک جا سکتے ہیں۔‘‘

PHOTO • Jyoti Shinoli

ماہل گاؤں، چیمبور، ممبئی میں صفائی ملازمین شاید زہریلے کچرے کے درمیان کم از کم تحفظ کے ساتھ کام کرتے ہیں

ہمیں فوراً کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم صرف ایک وائرس سے نہیں لڑ رہے ہیں – وبائی مرض بھی ایک ’پیکیج‘ ہے۔ جس میں سے اقتصادی بحران خود ساختہ یا خود کار حصہ ہو سکتا ہے – جو ہمیں آفت سے تباہی کی طرف لے جا رہا ہے

یہ خیال کہ ہم صرف ایک وائرس سے لڑ رہے ہیں، اور اس میں کامیابی مل جانے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا – خطرناک ہے۔ یقینی طور پر، ہمیں کووِڈ- ۱۹ سے لڑنے کی سخت ضرورت ہے – یہ سال ۱۹۱۸ اور غلط نام والے ’اسپینی بخار‘ کے بعد سے اب تک کی سب سے خراب مہاماری ہو سکتی ہے۔ (اس کی وجہ سے سال ۱۹۱۸-۲۱ کے درمیان ہندوستان میں ۱۶-۲۱ ملین لوگوں کی موت ہوئی۔ درحقیقت، ۱۹۲۱ کی مردم شماری واحد ایسی مردم شماری ہے جس نے دیہی آبادی میں اتنی بڑی کمی درج کی ہے)۔

لیکن بڑے کینوَس کو درکنار کرتے ہوئے صرف کووِڈ- ۱۹ پر توجہ مرکوز کرنا ویسا ہی ہے جیسے سبھی نلوں سے پانی چلاکر پونچھے سے فرش کو خشک کرنے کی کوشش کرنا۔ ہمیں ایسے نظریہ کی ضرورت ہے، جو صحت عامہ کے نظام، حقوق اور اہلیتوں کو مضبوط کرنے والے خیالات کو فروغ دیں۔

طبی شعبہ کے چند عظیم دماغوں نے ۱۹۷۸ میں، الما آتا اعلامیہ تیار کیا – اُن دنوں میں جب ڈبلیو ایچ او پر مغربی حکومت کے ذریعے حمایت یافتہ کارپوریٹ مفادات کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ یہی وہ اعلامیہ تھا جس نے ’۲۰۰۰ تک سبھی کے لیے صحت‘ جملہ کو مشہور کیا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا کے سبھی لوگ ’’عالمی وسائل کے مکمل اور بہتر استعمال کے توسط سے‘‘ کچھ نہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں...‘‘

اور ۸۰ کی دہائی سے، صحت کے سماجی اور اقتصادی تعین کردوں کو سمجھنے کے خیال میں اضافہ ہو رہا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، اور خیال فروغ پا رہا تھا۔ کافی تیزی سے: نیو لبرل ازم۔

۸۰ کی دہائی کے آخر اور ۹۰ کی دہائی سے، صحت، تعلیم، روزگار کا خیال – کیوں کہ حقوق انسانی کو دنیا بھر میں روندا جا رہا تھا۔

۱۹۹۰ کی دہائی کے وسط میں وبائی امراض کی عالم کاری ہوئی۔ لیکن اس خطرناک چنوتی کو پورا کرنے کے لیے مجموعی نظامِ صحت تیار کرنے کی بجائے، کئی ملکوں نے اپنے طبی شعبوں کا پرائیویٹائزیشن کیا۔ ہندوستان میں، ہمیشہ پرائیویٹ شعبوں کا غلبہ تھا۔ ہم دنیا میں صحت پر سب سے کم خرچ کرنے والے ممالک میں سے ایک ہیں – (جی ڈی پی کے حصہ کے طور پر) صرف ۱ء۲ فیصد۔ ۱۹۹۰ کی دہائی سے، صحت عامہ کا نظام، جو کبھی بھی بہت مضبوط نہیں تھا، جان بوجھ کر کیے گئے پالیسی سے متحرک ترکیبوں سے اور کمزور ہوتا چلا گیا۔ موجودہ حکومت ضلع سطح کے اسپتالوں کے لیے بھی نجی انتظامیہ والی تحویل کو دعوت دے رہی ہے۔

آج پورے ہندوستان میں صحت سے متعلق خرچ شاید دیہی خاندانوں کے قرض کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا عنصر ہے۔ جون ۲۰۱۸ میں، پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا نے صحت سے متعلق متعدد اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے نتیجہ نکالا کہ اکیلے سال ۲۰۱۱-۱۲ میں ۵۵ ملین لوگ غریبی میں دھکیل دیے گئے تھے، کیوں کہ انہیں اپنی خود کی صحت کے لیے پیسوں کا انتظام کرنا پڑا تھا – یہ بھی کہا گیا کہ ان میں سے ۳۸ ملین اکیلے دواؤں پر خرچ کرنے کے سبب خط افلاس سے نیچے آ گئے تھے۔

ہندوستان بھر میں کسانوں کی خود کشی کی چپیٹ میں آنے والے کئی ہزار کنبوں میں سے ایک سب سے عام بات ہے: صحت پر خرچ ہونے والے بہت زیادہ پیسے، جس کا انتظام اکثر ساہوکار سے قرض لے کر کیا جاتا ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar

کسی دوسری جگہ پر موجود اپنے معاصرین کی طرح، چنئی کے ٹھیکہ پر رکھے گئے صفائی ملازمین بہت ہی کم یا کسی سنجیدہ تحفظ کے بنا کام کرتے ہیں

ہمارے پاس سب سے بڑی آبادی ہے، جس کے پاس کووِڈ- ۱۹ جیسے بحران سے نمٹنے کے لیے سب سے کم وسائل ہیں۔ اور یہ ہے المیہ: آنے والے برسوں میں کووِڈ دیگر شکلوں میں ہوں گے۔ ۹۰ کی دہائی کے آخر سے ہم نے ایس اے آر ایس اور ایم ای آر ایس (دونوں ہی کورونا وائرس سے) اور عالمی سطح پر پھیلنے والی دیگر بیماریوں کو دیکھا ہے۔ ہندوستان میں ۱۹۹۴ میں، ہم نے سورت میں طاعون دیکھا۔ یہ سبھی اس بات کے اشارے تھے کہ آئندہ کیا آنے والا ہے، اُس طرح کی دنیا سے جس کی ہم نے تعمیر کی اور اس میں داخل ہوئے۔

جیسا کہ حال ہی میں گلوبل وائروم پروجیکٹ کے پروفیسر ڈینس کیرول نے کہا: ’’ ہم اُن حیاتیاتی علاقوں کے کافی اندر گھُس گئے ہیں جہاں ہم پہلے کبھی نہیں گئے تھے....‘‘  ان علاقوں میں تیل اور معدنیات کی کھدائی کی سرگرمیوں کی قیمت چُکانی پڑی ہے، جہاں پہلے انسانوں کی آبادی کم ہوا کرتی تھی، وہ کہتے ہیں۔ نازک حیاتیاتی نظاموں میں ہماری دراندازی نے نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی، بلکہ ممکنہ ہیلتھ ایمرجنسیوں کو بھی جنم دیا ہے کیوں کہ جنگلی جانوروں کے ساتھ انسانوں کا رابطہ اُن وائرس کے انفیکشن کے پھیلنے کے امکان کو بڑھاتا ہے، جن کے بارے میں ہم بہت کم یا کچھ بھی نہیں جانتے۔

تو ہاں، ہم اور بھی دیکھنے جا رہے ہیں۔

جہاں تک کووِڈ- ۱۹ کی بات ہے، تو یہ دو طریقوں سے ختم ہو سکتا ہے۔

یا تو یہ وائرس (ہماری بھلائی کے لیے) اپنی شکل بدل لے اور کچھ ہفتوں میں ہی مر جائے۔

یا: وہ خود اپنی بھلائی کے لیے شکل بدل لے، پھر تباہی مچانا شروع کر دے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

ہم کیا کر سکتے ہیں؟ میں درج ذیل مشورے دیتا ہوں – ان لوگوں سے بالکل الگ ہٹ کر، یا انہی کے ساتھ اور ان کے مشوروں کے مماثل، جو ہندوستان میں بہترین دماغ رکھنے والے کچھ کارکنوں اور دانشوروں کی طرف سے پہلے ہی پیش کیے جا چکے ہیں۔ (ایسے خیالات بھی ہیں جو قرض، پرائیویٹائزیشن اور مالیاتی بازار کی ناکامی کے ایک وسیع عالمی تناظر میں قدم اٹھائے جانے کی بات کرتے ہیں)۔ اور پیروی کے لائق تسلیم کرتے ہوئے، حکومتِ کیرالہ نے چند اقدامات کا اعلان کیا۔

·      سب سے پہلی چیز جو کرنے کی ضرورت ہے: ہماری ۶۰ ملین ٹن ’سرپلس‘ غذائی اجناس کے ذخیرہ کی فوری تقسیم کی تیاری۔ اور اس بحران سے تباہ ہو چکے لاکھوں مہاجر مزدوروں اور دیگر غریبوں تک فوراً پہنچنا۔ سر دست بند سبھی مشترکہ مقامات (اسکول، کالج، کمیونٹی ہال اور عمارتوں) کو بیچ میں پھنسے مہاجرین اور بے گھروں کے لیے پناہ گاہ ہونے کا اعلان کر دیں۔

·      دوسرا – جو کہ یکساں طور پر اہم ہے – سبھی کسانوں کو خریف کے موسم میں غذائی فصلیں اُگانے دیں۔ اگر موجودہ صورتحال بنی رہتی ہے، تو غذا کی ایک خطرناک صورت پیدا ہو جائے گی۔ اس موسم کی نقدی فصلیں کاٹنے کے بعد وہ انہیں فروخت نہیں کر پائیں گے۔ اوپر سے آئندہ بھی نقدی فصلیں اُگانا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا نہیں لگتا کہ آنے والے کئی مہینوں میں کورونا وائرس کا ٹیکہ/علاج ڈھونڈ لیا جائے گا۔ اس درمیان غذاؤں کا ذخیرہ کم ہونے لگے گا۔

·      حکومتوں کو کسانوں کی پیداوار اٹھانے اور خریدنے میں تیزی لانی چاہیے اور اس میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ بہت سے کسان ریبع کی فصل کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں – اس لیے کہ ملک بھر میں سماجی دوری اور تالا بندی نافذ ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فصلیں کاٹ لی ہیں، وہ انہیں نہ تو کہیں لے جا سکتے اور نہ ہی فروخت کر سکتے ہیں۔ خریف کے موسم میں غذائی فصلوں کی پیداوار کے لیے، کسانوں کو اِن پُٹ، امدادی خدمات اور سپلائی میں مددگار حیاتی نظام کی ضرورت ہوگی۔

·      حکومت کو ملک بھر کی پرائیویٹ طبی سہولیات کا نیشنلائزیشن کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسپتالوں کو صرف اپنے اندر ’کورونا کارنر‘ بنانے کی صلاح دے دینے سے ہی کام نہیں چلے گا۔ اسپین نے پچھلے ہفتہ اپنے سبھی اسپتالوں اور طبی خدمات فراہم کنندگان کو نیشنلائز کر دیا تھا، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ منافع بخش نظام سے اس بحران کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

·      صفائی ملازمین کو سرکاروں / میونسپلٹیوں کے کل وقتی ملازمین کی شکل میں فوراً تقرری دی جانی چاہیے، ان کی موجودہ تنخواہوں میں ۵۰۰۰ روپے ماہانہ کا اضافہ کیا جانا چاہیے، اور تمام طبی سہولیات دی جانی چاہئیں جن کو دینے سے ہمیشہ منع کیا جاتا رہا ہے۔ اور حفاظتی ملبوسات کی سپلائی ہونی چاہیے، جو انہیں کبھی نہیں دی گئیں۔ ہم نے غیر محفوظ صفائی ملازمین کے لاکھوں لوگوں کو تباہ کرتے ہوئے تین دہائی پہلے ہی گزار دیے، انہیں پبلک سروِس سے باہر کر دیا، ان کی نوکریاں پرائیویٹ اداروں کو آؤٹ سورس کر دیں – جنہوں نے انہیں دوبارہ انہی مزدوروں کو ٹھیکہ پر، کم تنخواہ اور بغیر کسی فائدہ کے نوکری پر رکھا۔

·      غریبوں کو تین مہینے کے لیے مفت راشن کا اعلان کریں اور انہیں پہنچائیں۔

·      آشا، آنگن واڑی اور مڈ ڈے میل کامگاروں کو – جو پہلے سے ہی اس لڑائی کے محاذ پر ہیں – سرکاری ملازم کے طور پر مستقل کریں۔ ہندوستان کے بچوں کی صحت اور زندگی انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ انہیں بھی کل وقتی ملازم بنایا جانا چاہیے، مناسب تنخواہ اور تحفظاتی ملبوسات دیے جانے چاہئیں۔

·      موجودہ بحران کے ختم ہونے تک کسانوں اور مزدوروں کو روزانہ منریگا کی مزدوری دیں۔ اس مدت میں شہر کے یومیہ مزدوروں کو ۶۰۰۰ روپے ماہانہ دیا جائے۔

ہمیں ان اقدامات پر فوراً عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکار کا ’پیکیج‘ بے دردی اور لاعلمی کا آمیزہ ہے۔ ہم صرف ایک وائرس سے نہیں لڑ رہے ہیں – وبائی مرض بھی ایک ’پیکیج‘ ہے۔ جس میں سے اقتصادی بحران خود ساختہ اور خود کار حصہ ہو سکتا ہے – جو ہمیں آفت سے تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

اگر وائرس کا اثر اگلے دو ہفتوں تک برقرار رہتا ہے، تو کسانوں سے خریف کے موسم میں غذائی فصلیں اُگانے کی اپیل کرنا سب سے اہم کام ہو جائے گا۔

ساتھ ہی، کیا ہم دور کھڑے ہوکر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کووِڈ- ۱۹ غیر معمولی طور پر تاریخ کا ایک پیشن گوئی کرنے والا لمحہ ہے؟ ایک ایسا مقام جہاں سے ہم یہ طے کریں کہ ہمیں کس طرف جانا ہے۔ ایک ایسا لمحہ جس میں ہم غیر برابری اور صحت سے متعلق انصاف پر بحث کو شروع کریں اور اسے آگے تک لے جائیں۔

اس مضمون کا پہلا ایڈیشن ۲۶ مارچ، ۲۰۲۰ کو دی وائر پر شائع ہوا تھا۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath