’’اوہ، وہ یہاں صرف ہمارے ’مہمان خانہ‘ کے بارے میں تفتیش کرنے آئی ہے،‘‘ رانی وہاں اپنی ’روم میٹ‘، لاوَنیَا سے کہتی ہے۔ دونوں ہمارے دورہ کے مقصد کو جان کر راحت محسوس کرتی ہیں۔

مدورئی ضلع کے ٹی کلّو پٹّی بلاک کے کوولاپورم گاؤں میں تب ہلچل مچ گئی، جب ہم نے پہلی بار مہمان خانہ کے بارے میں اور وہاں جنوری کے شروع میں جانے کے لیے پوچھ گچھ کی تھی۔ مردوں نے، دبی ہوئی آواز میں بولتے ہوئے، ہمیں کچھ دوری پر ڈیوڑھی کے اوپر بیٹھی دو خواتین  - دونوں نوجوان مائیں – کی طرف اشارہ کرکے جانے کو کہا۔

’’وہ دوسری طرف ہے، چلو چلتے ہیں،‘‘ عورتیں کہتی ہیں اور ہمیں تقریباً آدھا کلومیٹر دور، گاؤں کے ایک کونے میں لے جاتی ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے، تو ویرانے میں بنے ہوئے دو کمرے، مبینہ ’مہمان خانہ‘ سنسان محسوس ہوتا ہے۔ حیران کن طریقے سے، دو چھوٹے ڈھانچوں کے درمیان موجود نیم کے ایک درخت کی شاخوں پر بوریاں ٹنگی ہوئی ہیں۔

مہمان خانہ میں ’مہمان‘ حیض والی عورتیں ہیں۔ حالانکہ، وہ یہاں کسی دعوت نامہ کی وجہ سے یا اپنی خواہش سے نہیں آئی ہیں۔ بلکہ انہیں، مدورئی شہر سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور واقع ۳۰۰۰ باشندوں کے اس گاؤں میں سختی سے نافذ معاشرتی پیمانوں کے سبب، یہاں وقت گزارنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔ مہمان خانہ میں جن دو عورتوں سے ہمارا سامنا ہوتا ہے، یعنی رانی اور لاونیا (یہ ان کے اصلی نام نہیں ہیں)، انہیں یہاں پانچ دنوں تک قیام کرنا ہوگا۔ حالانکہ، بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیوں کو یہاں پورے ایک مہینے تک محدود رکھا جاتا ہے، جیسا کہ زچگی کے بعد عورتوں کو ان کے نومولود بچوں کے ساتھ۔

’’ہم اپنی بوریاں کمرے میں اپنے ساتھ رکھتے ہیں،‘‘ رانی کہتی ہیں۔ بوریوں میں علیحدہ کیے ہوئے برتن ہوتے ہیں، جن کا استعمال عورتوں کو حیض کے دوران کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کوئی کھانا نہیں پکایا جاتا۔ گھر کا کھانا، جنہیں اکثر پڑوسیوں کے ذریعے پکایا جاتا ہے، عورتوں کو اِن برتنوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ جسمانی رابطہ سے بچنے کے لیے، انہیں بوریوں میں نیم کے درخت پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ ہر ایک ’مہمان‘ کے لیے برتنوں کے الگ الگ سیٹ ہیں – بھلے ہی وہ ایک ہی فیملی سے ہوں۔ لیکن صرف دو ہی کمرے ہیں، جسے انہیں شیئر کرنا پڑتا ہے۔

Left: Sacks containing vessels for the menstruating women are hung from the branches of a neem tree that stands between the two isolated rooms in Koovalapuram village. Food for the women is left in these sacks to avoid physical contact. Right: The smaller of the two rooms that are shared by the ‘polluted’ women
PHOTO • Kavitha Muralidharan
Left: Sacks containing vessels for the menstruating women are hung from the branches of a neem tree that stands between the two isolated rooms in Koovalapuram village. Food for the women is left in these sacks to avoid physical contact. Right: The smaller of the two rooms that are shared by the ‘polluted’ women
PHOTO • Kavitha Muralidharan

بائیں: حیض والی عورتوں کے لیے برتن رکھی بوریوں کو، کوولاپورم گاؤں میں دو علیحدہ کمروں کے درمیان موجود نیم کے درخت کی شاخوں پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ جسمانی رابطہ سے بچنے کے لیے، ان بوریوں میں عورتوں کے لیے کھانا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دائیں: ’آلودہ‘ عورتوں کے ذریعے شیئر کیے جانے والے دو کمروں میں سے چھوٹا کمرہ

کوولاپورم میں، رانی اور لاونیا کی حالت والی عورتوں کے پاس حیض کے دوران اِن کمروں میں رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک کمرے کی تعمیر تقریباً دو دہائی قبل، گاؤں والوں کے ذریعے جمع کی گئی رقم سے ہوئی تھی۔ دونوں عورتیں ۲۳ سال کی ہیں اور شادی شدہ ہیں۔ لاونیا کے دو بچے ہیں اور رانی کے پاس ایک؛ دونوں کے شوہر زرعی مزدور ہیں۔

’’ابھی تو صرف ہم ہی دونوں ہیں، لیکن کبھی کبھی یہاں آٹھ یا نو عورتیں ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بھیڑ ہو جاتی ہے،‘‘ لاونیا بتاتی ہیں۔ چونکہ ایسا اکثر ہوتا ہے، اس لیے گاؤں کے بزرگوں نے دوسرے کمرے کا وعدہ کیا اور نوجوانوں کی ایک فلاحی تنظیم نے پیسے اکٹھا کیے اور اکتوبر ۲۰۱۹ میں اس کی تعمیر کی۔

حالانکہ اُن میں سے ابھی صرف دو ہی ہیں، تاہم رانی اور لاونیا نے نئے کمرے پر قبضہ کر رکھا ہے، کیوں کہ یہ بڑا، ہوادار اور روشن ہے۔ المیہ تو دیکھئے، سخت رواج کے چلتے یہ جو جگہ متعین کی گئی ہے اس میں ایک لیپ ٹاپ بھی ہے، جسے ریاستی حکومت نے لاونیا کو تب دیا تھا، جب وہ اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔ ’’ہم یہاں بیٹھ کر، وقت کیسے گزاریں؟ ہم اپنے لیپ ٹاپ پر گانے سنتے ہیں یا فلمیں دیکھتے ہیں۔ گھر جاتے وقت، میں اسے واپس لے جاؤں گی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

’مہمان خانہ‘ مُٹّوتھورئی لفظ کا شائستہ استعمال ہے، جس کا مطلب ہے ’آلودہ‘ عورتوں کے لیے متعینہ مقام۔ ’’ہم اپنے بچوں کے سامنے اسے مہمان خانہ کہتے ہیں، تاکہ وہ یہ سمجھ پائیں کہ آخر یہ ہے کیا،‘‘ رانی بتاتی ہیں۔ ’’مُٹّوتھورئی میں ہونا شرم کی بات ہے  - خاص کر جب مندر کا کوئی تہوار ہو یا عوامی پروگرام، اور گاؤں کے باہر کے ہمارے رشتہ داروں کو اس رواج کا علم نہیں ہے۔‘‘ کوولاپورم مدورئی ضلع کے ان پانچ گاؤوں میں سے ایک ہے، جہاں حیض آنے پر عورتوں کو علیحدہ رہنا پڑتا ہے۔ اس رواج پر عمل کرنے والے دیگر گاؤں ہیں پڈوپٹّی، گووندنلّور، سپتور الگاپوری اور چینّیہ پورم۔

علیحدگی سے دھبّہ لگ سکتا ہے۔ اگر نوجوان، غیر شادی شدہ عورتیں متعینہ وقت پر مہمان خانہ میں موجود نہیں ہیں، تو گاؤں میں ان کا مذاق اڑایا جانے لگتا ہے۔ ’’وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میرے حیض کا دور کیسے کام کرتا ہے، لیکن اگر میں ۳۰ دن میں مُٹّوتھورئی نہیں گئی، تو لوگ کہتے ہیں کہ مجھے اسکول نہیں بھیجا جانا چاہیے،‘‘ ۱۴ سالہ ۹ویں کلاس کی طالبہ، بھانو (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے) کا کہنا ہے۔

خاکہ: پرینکا بورار

’’مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی،‘‘ پڈوچیری میں مقیم فیمنسٹ مصنفہ سالئی سیلوم کہتی ہیں، جو حیض سے متعلق ممنوعہ باتوں کو تیز آواز میں اٹھاتی ہیں۔ ’’دنیا عورتوں کو لگاتار نیچا کرنے، ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا برتاؤ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ثقافت کے نام پر اس قسم کی پابندی اس کے بنیادی حقوق کو خارج کرنے کا صرف ایک بہانہ ہے۔ جیسا کہ فیمنسٹ گلوریا اسٹینم نے اپنے تاریخی مضمون [’If Men Could Menstruate‘] میں پوچھا ہے، اگر مردوں کو حیض آ رہا ہوتا، تو کیا چیزیں بالکل الگ نہیں ہوتیں؟‘‘

میں کوولاپورم اور سپتور الگاپوری میں جن خواتین سے بھی ملی، سبھی نے سیلوم کی بات سے اتفاق کیا – کہ ثقافت تفریق کو چھپاتی ہے۔ رانی اور لاونیا، دونوں کو ۱۲ویں کلاس کے بعد اپنی تعلیم روکنے کے لیے مجبور کیا گیا اور ان کی فوراً شادی کر دی گئی۔ ’’زچگی کے دوران مجھے پریشانیاں ہوئیں اور سیزیرئن سے گزرنا پڑا۔ زچگی کے بعد مجھے بے قاعدگی سے حیض آتا تھا، لیکن مُٹّوتھورئی جانے میں اگر دیر ہوئی، تو لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا میں دوبارہ حاملہ ہو چکی ہوں۔ وہ میری پریشانی کو بالکل بھی نہیں سمجھتے،‘‘ رانی کہتی ہیں۔

رانی، لاونیا اور کوولاپورم کی دیگر عورتوں کو معلوم نہیں ہے کہ یہ رواج کب شروع ہوا۔ لیکن، لاونیا کہتی ہیں، ’’ہماری ماؤں، دادیوں اور پردادیوں کو بھی اسی طرح سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔ ہم ان سے الگ نہیں ہیں۔‘‘

چنئی میں مقیم طبیب اور دراوڑی مفکر، ڈاکٹر ایژیلن ناگناتھن اس رواج کے بارے میں ایک عجیب، لیکن شاید مدلّل وضاحت پیش کرتے ہیں: ’’اس کی شروعات تب ہوئی، جب ہم شکاری ہوا کرتے تھے،‘‘ ان کا ماننا ہے۔

’’تمل لفظ ویٹُکّو تھورم [گھر سے دور – علیحدہ رکھی گئی حیض والی عورتوں کے لیے ایک پابندی] بنیادی طور سے کاٹُکّو تھورم [جنگل سے دور] تھا۔ عورتیں محفوظ مقامات پر چلی جاتی تھیں، کیوں کہ ایسا مانا جاتا تھا کہ خون کی مہک [حیض، زچگی یا بلوغت کے سبب] جنگلی جانور ان کا شکار کر سکتے ہیں۔ بعد میں اس رواج کا استعمال عورتوں پر ظلم ڈھانے کے لیے کیا جانے لگا۔‘‘

کوولاپورم کے لوک گیت اتنے مدلّل نہیں ہیں۔ یہاں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک وعدہ ہے، جو ایک سِدھّر (پاک آدمی) کے احترام میں کیا گیا ہے، جسے پورا کرنا اس گاؤں اور ارد گرد کے چار دیگر گاؤوں کے لیے ضروری ہے۔ ’’سدّھر ہمارے درمیان رہتے اور چلتے پھرتے تھے، وہ ایک دیوتا تھے اور طاقتور تھے،‘‘ کوولاپورم میں سدّھر کے لیے مخصوص مندر – تھنگاموڈی سامی – کے چیف ایگزیکٹو، ۶۰ سالہ ایم موتھو کہتے ہیں۔ ’’ہمارا ماننا ہے کہ ہمارا گاؤں اور پڈوپٹّی، گووند نلور، سپتور الگاپوری اور چینّیہ پورم سِدھّر کی بیویاں تھیں۔ وعدہ خلافی کی کوئی بھی کوشش ان گاؤوں کے لیے تباہ کن ہوگی۔‘‘

Left: C. Rasu, a resident of Koovalapuram, believes that the muttuthurai practice does not discriminate against women. Right: Rasu's 90-year-old sister Muthuroli says, 'Today's girls are better off, and still they complain. But we must follow the system'
PHOTO • Kavitha Muralidharan
Left: C. Rasu, a resident of Koovalapuram, believes that the muttuthurai practice does not discriminate against women. Right: Rasu's 90-year-old sister Muthuroli says, 'Today's girls are better off, and still they complain. But we must follow the system'
PHOTO • Kavitha Muralidharan

بائیں: کوولاپورم کے ایک ساکن، سی راسو کا ماننا ہے کہ مُٹّو تھورئی کا رواج عورتوں کے خلاف تفریق نہیں کرتا ہے۔ دائیں: راسو کی ۹۰ سالہ بہن موتھورولی کہتی ہیں، ’آج کی لڑکیاں بہتر حالت میں ہیں، پھر بھی وہ شکایت کر رہی ہیں۔ لیکن ہمیں نظام کو ماننا چاہیے‘

لیکن ۷۰ سالہ سی راسو، جنہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت کوولاپورم میں گزارا ہے، کسی بھی تفریق سے انکار کرتے ہیں۔ ’’یہ رواج سب سے زیادہ طاقتور کے تئیں احترام کے لیے ہے۔ عورتوں کو تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں – ان کے سروں کے اوپر چھت، پنکھا اور کافی کھلی جگہ ہے۔‘‘

ان کی تقریباً ۹۰ سالہ بہن، موتھورولی اپنے وقت میں ’مزہ‘ نہیں لے سکی تھیں۔ ’’ہمارے سروں کے اوپر صرف چھپّر ہوا کرتا تھا۔ بجلی بھی نہیں تھی۔ آج کی لڑکیاں بہتر حالت میں ہیں، پھر بھی وہ شکایت کر رہی ہیں۔ لیکن ہمیں اس نظام کو ماننا چاہیے،‘‘ وہ مضبوطی سے کہتی ہیں۔ ’’ورنہ، ہم مٹی میں مل جائیں گے۔‘‘

گاؤں کی زیادہ تر عورتوں نے اس مفروضہ کو اپنی زندگیوں میں اتار لیا ہے۔ ایک عورت جس نے ایک بار اپنے حیض کو چھپانے کی کوشش کی تھی، اسے خواب میں بار بار سانپ نظر آنے لگے، جس کی تعبیر اس نے یہ بتائی کہ چونکہ اس نے روایت توڑی تھی اور مٹوتھورئی نہیں گئی تھی، اس لیے یہ دیوتاؤں کے اس سے ناراض ہونے کے اشارے ہیں۔

ان تمام بات چیت میں جس حقیقت کو چھوڑ دیا گیا، وہ یہ ہے کہ مہمان خانہ کی ’سہولیات‘ میں بیت الخلا شامل نہیں ہے۔ ہم رفع حاجت کرنے یا نیپکن بدلنے کے لیے دور کھیتوں میں جاتے ہیں،‘‘ بھانو کہتی ہیں۔ گاؤں میں اسکول جانے والی لڑکیوں نے سینٹری نیپکن کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے (جسے استعمال کرنے کے بعد زمین میں گاڑ دیا جاتا ہے یا جلا دیا جاتا ہے، یا پھر گاؤں کی سرحد سے آگے پھینک دیا جاتا ہے)، جب کہ بڑی عمر کی عورتیں ابھی بھی کپڑے کا استعمال کرتی ہیں، جسے وہ دھوتی اور دوبارہ استعمال کرتی ہیں۔

مٹوتھورئی میں وہاں کی خواتین کے لیے کھلے میں پانی کا ایک نل ہے – جسے گاؤں کے باقی لوگ نہیں چھوئیں گے۔ ’’ہم اپنے ساتھ جو کپڑے اور کمبل لے کر آتے ہیں، انہیں دھوئے بغیر ہم اپنے گاؤں میں قدم نہیں رکھ سکتے،‘‘ رانی بتاتی ہیں۔

Left: The small, ramshackle muttuthurai in Saptur Alagapuri is located in an isolated spot. Rather than stay here, women prefer camping on the streets when they are menstruating. Right: The space beneath the stairs where Karpagam stays when she menstruates during her visits to the village
PHOTO • Kavitha Muralidharan
Left: The small, ramshackle muttuthurai in Saptur Alagapuri is located in an isolated spot. Rather than stay here, women prefer camping on the streets when they are menstruating. Right: The space beneath the stairs where Karpagam stays when she menstruates during her visits to the village
PHOTO • Kavitha Muralidharan

بائیں: سپتور الگاپوری کا یہ چھوٹا، پرانا مٹوتھورئی ایک علیحدہ مقام پر واقع ہے۔ حیض آنے پر عورتیں یہاں رہنے کے بجائے، سڑکوں پر خیمہ لگاکر رہنا پسند کرتی ہیں۔ دائیں: سیڑھیوں کے نیچے کی وہ جگہ جہاں کرپاگم گاؤں کے اپنے سفر کے دوران حیض آنے پر قیام کرتی ہیں

قریب واقع سپتور الگاپوری میں، جو سیدپّاٹی بلاک میں تقریباً ۶۰۰ لوگوں کا ایک گاؤں ہے، عورتوں کا ماننا ہے کہ اگر وہ اس رواج کو نہیں مانیں گی، تو ان کا حیض آنا رک جائے گا۔ بنیادی طور پر چنئی کی رہنے والی ۳۲ سالہ کرپاگم (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے)، علیحدگی کے اس رواج سے برہم ہو گئی تھیں۔ ’’لیکن میں سمجھ گئی کہ یہ ثقافت ہے، اور میں اس کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ میں اور میرے شوہر، ہم دونوں اب تریپور میں کام کرتے ہیں اور یہاں صرف چھٹیوں میں آتے ہیں۔‘‘ وہ اپنے گھر میں سیڑھیوں کے نیچے ایک چھوٹی سی جگہ کی طرف اشارہ کرکے بتاتی ہیں کہ حیض آنے پر وہ ان کی ’جگہ‘ ہوا کرتی ہے۔

سپتور الگاپوری کا مٹوتھورئی علیحدہ مقام پر بنا ایک چھوٹا، پرانا ڈھانچہ ہے، اور عورتیں حیض آنے پر اپنے گھروں کے باہر سڑکوں پر خیمہ لگاکر رہنا پسند کرتی ہیں۔ ’’جب تک کہ بارش نہ ہو رہی ہو،‘‘ ۴۱ سالہ لتا (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے) کہتی ہیں۔ تب، وہ مٹوتھورئی میں رہنے چلی جاتی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ کوولاپورم اور سپتور الگاپوری، دونوں جگہوں پر تقریباً سبھی گھروں میں بیت الخلا ہیں، جو تقریباً سات سال پہلے ریاستی اسکیموں کے تحت بنائے گئے تھے۔ گاؤں میں چھوٹی عمر والے تو ان کا استعمال کرتے ہیں، جب کہ بزرگ، عورتوں سمیت، کھیتوں میں جانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن دونوں گاؤوں کے مٹوتھورئی میں بیت الخلا نہیں ہیں۔

’’حیض آنے پر ہم بھلے ہی اُس جگہ کی طرف جا رہے ہوں، لیکن ہم عام سڑک پر نہیں چل سکتے،‘‘ مائکروبایولوجی میں گریجویشن کر رہی ۲۰ سالہ شالنی (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے) کہتی ہیں۔ ’’مٹوتھورئی تک پہنچنے کے لیے ہمیں کسی گھماؤدار، پوری طرح سے ویران راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔‘‘ شالنی مدورئی کے اپنے کالج میں دیگر طالبات کے کبھی بھی حیض پر گفتگو نہیں کرتیں، اس خوف سے کہ وہ اس ’راز سے پردہ‘ اٹھا سکتی ہیں۔ ’’یہ کوئی فخر کرنے والی بات نہیں ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

سپتور الگاپوری میں آرگینک کھیتی کرنے والے ایک کسان، ۴۳ سالہ ٹی سیلواکنی نے گاؤں والوں سے اس رواج کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’’ہم نے اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، باووجود اس کے آج، ۲۰۲۰ میں بھی ہماری عورتوں کو [حیض کے دوران] علیحدہ کر دیا جاتا ہے؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ حالانکہ اس کا سبب کیا ہے، یہ اپیل کام نہیں کرتی۔ ’’ضلع کلکٹر کو بھی یہاں کے اس اصول پر عمل کرنا پڑے گا،‘‘ لتا زور دے کر کہتی ہیں۔ ’’یہاں پر، کلینک اور اسپتالوں میں کام کر نے والی نرسیں [اور دیگر تعلیم یافتہ اور نوکری پیشہ عورتیں] بھی حیض کے دوران باہر رہتی ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ آپ کی بیوی کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیے، یہ عقیدہ کی بات ہے،‘‘ وہ سیلواکنی سے کہتی ہیں۔

خاکہ: پرینکا بورار

عورتوں کو مہمان خانہ میں پانچ دن رہنا پڑتا ہے۔ حالانکہ، بلوغت حاصل کرنے والی لڑکیوں کو یہاں پورے ایک مہینے تک محدود رکھا جاتا ہے، جیسا کہ زچگی کے بعد اپنے نومولود بچوں کے ساتھ عورتوں کو

’’آپ مدورئی اور تھینی ضلعوں کے ارد گرد ایسے کئی اور ’مہمان خانہ‘ دیکھ سکتی ہیں۔ ان کے پاس مختلف اسباب سے، عمل کرنے کے لیے الگ الگ مندر ہیں،‘‘ سالئی سیلوم کہتی ہیں۔ ’’ہم نے لوگوں سے بات کرنے کی پوری کوشش کی ہے، لیکن وہ نہیں سنتے کیوں کہ یہ عقیدہ کی بات ہے۔ اسے صرف سیاسی قوتِ ارادی سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے بجائے، اقتدار میں بیٹھے لوگ جب یہاں ووٹ مانگنے کے لیے آتے ہیں، تو وہ مہمان خانہ کو جدید ترین بنانے، یہاں مزید سہولیات مہیا کرانے کا وعدہ کرتے ہیں۔‘‘

سیلوم کو لگتا ہے کہ اس کے بجائے، اقتدار میں رہنے والے لوگ مداخلت کرکے ان مہمان خانوں کو ختم کر سکتے ہیں۔ ’’وہ کہتے ہیں کہ یہ مشکل ہے کیوں کہ یہ عقیدہ کا معاملہ ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے امتیاز کو برقرار رہنے کی اجازت کب تک دے سکتے ہیں؟ یقیناً، سرکار اگر سخت قدم اٹھاتی ہے، تو اس کا رد عمل ہوگا – لیکن اسے [ختم] کرنا ہے اور، میرا یقین مانئے، لوگ جلد ہی بھول جائیں گے۔‘‘

تمل ناڈو میں حیض اور ماہواری کو برا ماننا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ پٹوکوٹئی بلاک کے انائیکڈو گاؤں کی چودہ سالہ ایس وجیہ نے نومبر ۲۰۱۸ میں اس پابندی کے سبب اس وقت اپنی جان گنوا دی، جب گج سمندری طوفان ضلع سے ٹکرایا تھا۔ حیض والی اس لڑکی، جس کی پہلی ماہواری چل رہی تھی، کو گھر کے پاس ایک پھوس کی جھونپڑی میں تنہا رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ (گھر میں اس کی فیملی کے باقی لوگ زندہ بچ گئے)۔

’’یہ پابندی تمل ناڈو میں زیادہ تر جگہوں پر موجود ہے، صرف شدت میں فرق ہے،‘‘ دستاویزی فلم ساز گیتا ایلنگووَن کہتی ہیں، جن کے ذریعے ۲۰۱۲ میں بنائی گئی دستاویزی فلم، مادھوی دائی (حیض) ماہواری سے وابستہ پابندیوں پر مبنی ہے۔ چند شہری علاقوں میں علیحدگی کی شکلیں کچھ حد تک شائستہ ہو سکتی ہیں، لیکن عام ہیں۔ ’’میں نے ایک نوکرشاہ کی بیوی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو ان تین دنوں کے دوران باورچی خانہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور یہ اس کے ’آرام‘ کا وقت تھا۔ آپ اسے مختلف الفاظ کا لبادہ پہنا سکتے ہیں، لیکن آخرکار یہ تفریق ہی ہے۔‘‘

ایلگنگووَن کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام مذاہب اور سماجی و اقتصادی پس منظر میں ماہواری کو برا ماننا عام ہے، صرف الگ الگ طریقوں سے۔ ’’اپنی دستاویزی فلم کے لیے، میں نے ایک ایسی عورت سے بات کی، جو امریکہ کے ایک شہر میں منتقل ہو گئی تھیں، پھر بھی حیض کے دوران علیحدہ رہتی تھیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ ان کا ذاتی انتخاب ہے۔ اعلیٰ طبقہ، اعلیٰ ذات کی عورتوں کے لیے جو ذاتی انتخاب ہے، وہی ان بے آواز عورتوں کے لیے سماجی دباؤ بن جاتا ہے، جو انتہائی سخت پدرانہ معاشرہ میں کوئی طاقت نہیں دکھا پاتی ہیں۔‘‘

Left: M. Muthu, the chief executive of the temple in Koovalapuram dedicated to a holy man revered in village folklore. Right: T Selvakani (far left) with his friends. They campaign against the 'iscriminatory 'guesthouse' practice but with little success
PHOTO • Kavitha Muralidharan
Left: M. Muthu, the chief executive of the temple in Koovalapuram dedicated to a holy man revered in village folklore. Right: T Selvakani (far left) with his friends. They campaign against the 'iscriminatory 'guesthouse' practice but with little success
PHOTO • Kavitha Muralidharan

بائیں: کوولاپورم میں گاؤں کے لوک گیتوں میں قابل احترام ایک پاک آدمی کو وقف مندر کے چیف ایگزیکٹو، ایم موتھو۔ دائیں: ٹی سیلواکنی (دور بائیں) اپنے دوستوں کے ساتھ۔ وہ تھوڑی کامیابی کے ساتھ تفریق کرنے والے ’مہمان خانہ‘ کے رواج کے خلاف مہم چلا رہے ہیں

’’ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تقدس کی یہ ثقافت درحقیقت ’اونچی‘ ذات کی ہے،‘‘ ایلنگووَن اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں۔ پھر بھی یہ پورے معاشرہ کو متاثر کرتی ہے – کوولاپورم کا معاشرہ کافی حد تک دلت ہے۔ فلم ساز بتاتی ہیں کہ ’’دستاویزی فلم کے لیے ٹارگیٹ ناظرین مرد تھے؛ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس ایشو کو سمجھیں۔ پالیسی ساز تقریباً ہمیشہ ہی مرد ہوتے ہیں۔ ہم جب تک اس کے بارے میں بات نہیں کرتے، اس پر جب تک گھر سے بات چیت شروع نہیں ہوتی، تب تک مجھے کوئی امید نہیں دکھائی دیتی۔‘‘

اس کے علاوہ، ’’پانی کی مناسب سہولیات کے بغیر عورتوں کو علیحدہ کرنے سے صحت کو لیکر بہت سارے خطرے ہو سکتے ہیں،‘‘ چنئی میں مقیم گائیکانولوجسٹ، ڈاکٹر شاردا شکتی راجن کہتی ہیں۔ ’’لمبے وقت تک بھیگا ہوا پیڈ رکھنا اور صاف پانی کی سہولت نہ ہونے سے پیشاب اور حمل کی نلیوں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔ یہ انفیکشن عورتوں میں مستقبل میں حاملہ ہونے کی صلاحیت کو بگاڑ سکتے ہیں اور طویل مدتی امراض کا سبب بن سکتے ہیں، جیسے کہ پیڑو میں پماننٹ درد۔ کم صفائی (پرانے کپڑے کا دوبارہ استعمال) اور اس کے نتیجہ میں ہونے والا انفیکشن سروائیکل کینسر کے پنپنے کا اہم ذریعہ ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

انٹرنیشل جرنل آف کمیونٹی میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ  میں شائع ہو چکی ۲۰۱۸ کی رپورٹ کہتی ہے کہ سروائیکل کینسر عورتوں کو متاثر کرنے والا دوسرا سب سے عام کینسر ہے، خاص کر تمل ناڈو کے دیہی علاقوں میں۔

واپس کوولاپورم میں، بھانو کی دیگر ترجیحات ہیں۔ ’’آپ اس رواج کو بدل نہیں سکتی ہیں، چاہے جتنی زبردست کوشش کر لیں،‘‘ وہ مجھے مدلل طریقے سے سمجھاتی ہیں۔ ’’لیکن اگر آپ ہمارے لیے کچھ کر سکتی ہیں، تو براہ کرم مٹوتھورئی میں ہمارے لیے بیت الخلا کا انتظام کرا دیں۔ یہ ہماری زندگی کو آسان بنا دے گا۔‘‘

کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گرہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Kavitha Muralidharan

کویتا مرلی دھرن چنئی میں مقیم ایک آزادی صحافی اور ترجمہ نگار ہیں۔ وہ پہلے ’انڈیا ٹوڈے‘ (تمل) کی ایڈیٹر تھیں اور اس سے پہلے ’دی ہندو‘ (تمل) کے رپورٹنگ سیکشن کی قیادت کرتی تھیں۔ وہ پاری کی رضاکار (PARI volunteer) ہیں۔

Other stories by Kavitha Muralidharan