سیلاب کا پانی جب بڑھنا شروع ہوا، تو پاروَتی واسودیو گھر سے نکلتے وقت صرف اپنے شوہر کی رسمی ٹوپی ساتھ لے گئیں۔ ’’ہم صرف یہ اور چِپلی [موسیقی کا ایک ساز] لائے تھے۔ چاہے جو ہو جائے، ہم اس ٹوپی کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے،‘‘ انھوں نے کہا۔ اس ٹوپی میں مور کے پر لگے ہوئے ہیں اور ان کے شوہر، گوپال واسودیو بھکتی گیت گاتے وقت اسے پہنتے ہیں۔

حالانکہ ۹ اگست کو، ۷۰ سالہ گوپال ایک اسکول کے کمرے میں، کونے میں بیٹھے تھے اور ان کے چہرے سے مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ ’’میری تین بکریاں مر چکی ہیں اور جس ایک کو ہم نے بچایا تھا، وہ بھی مر جائے گی کیوں کہ وہ بیمار ہے،‘‘ انھوں نے کہا۔ گوپال کا تعلق واسودیو ذات سے ہے، یہ بھگوان کرشن کے پیروکاروں کا فرقہ ہے، جو بھیک مانگنے کے لیے گھر گھر جا کر بھکتی گیت گاتے ہیں۔ مانسون کے مہینوں میں، وہ کولہاپور ضلع کے ہٹکننگلے تعلقہ کے اپنے گاؤں، بھینڈوڈے میں ایک زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ’’ایک مہینے تک، بھاری بارش کے سبب کھیتوں میں کوئی کام نہیں ہو پایا تھا اور اب سیلاب پھر سے آ گیا ہے،‘‘ انھوں نے اپنی آنکھوں میں آنسو کے ساتھ کہا۔

بھینڈوڈے کے کسانوں نے اس سال اپنی خریف بوائی کو جولائی تک ٹال دیا تھا کیوں کہ بارش میں دیر ہو رہی تھی – یہاں پہلی بارش عام طور پر جون کی ابتدا میں ہوتی ہے۔ لیکن جب بارش ہوئی، تو پانی کو سویابین، مونگ پھلی اور گنّے کی فصل کو ڈبونے میں صرف ایک مہینہ لگا۔

ویڈیو دیکھیں: کولہاپور میں سیلاب نے گھروں، کھیتوں اور زندگی کو تباہ کر دیا

آصف نے یہ اندازہ نہیں لگایا تھا کہ ان کا ڈرون – جسے وہ شادی کی فوٹوگرافی کے لیے استعمال کرتے ہیں – کیسے لوگوں کو بچانے میں مدد کر سکتا ہے: ’ہم کسی بھی آدمی کو مرنے نہیں دیں گے۔ ہم جانوروں کو بھی بچانے جا رہے ہیں‘

بھینڈوڈے مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع کے ۲۰۰ سے ۲۵۰ گاؤوں میں سے ایک ہے (پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق) جہاں سیلاب نے کافی تباہی مچائی، جس کی شروعات ۲ اگست کو ہوئی تھی اور ۱۱ اگست سے اس کا پانی گھٹنا شروع ہوا۔

بھینڈوڈے کے سرپنچ، کاکاسو چوہان نے بتایا کہ ۴۶۸۶ لوگوں کی آبادی (مردم شماری ۲۰۱۱) والے اس گاؤں کے ۴۵۰ کنبوں اور تقریباً ۲۵۰۰ لوگوں کو اس گاؤں اور اس کے آس پاس کے اسکول کی عمارتوں میں بنے راحت کیمپوں، اور گاؤں کے باہر سرپنچوں کے گھر میں لے جایا گیا تھا، جہاں پانی نہیں بھرا تھا۔

واسودیو، پاروَتی اور اپنی فیملی کے ساتھ ۳ اگست کو گاؤں کے سرکاری ہائی اسکول میں منتقل ہو گئے۔ چار دنوں کے بعد، جب پانی اسکول میں بھی گھُسنے لگا، تو انھیں گاؤں کے باہری علاقے میں واقع ایک پرائمری اسکول میں جانا پڑا۔ ۷۰ سالہ پاروَتی نے مجھے ۹ اگست کو بتایا، ’’ہمیں اپنے گھروں سے باہر نکلے ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ ہمیں یہاں ایک مہینہ تک رہنا پڑے گا۔ آج، چھوٹے لڑکوں میں سے ایک تیر کر باہر گیا تھا اور اس نے واپس آکر بتایا کہ ہمارا گھر گر گیا ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: کھوچی گاؤں، کولہاپور: ۹ اگست ۲۰۱۹

ایک دوسرا نوجوان، جو اپنی بلّی کو بچانے کے لیے تیر کر اپنے گھر گیا تھا، وہ ۱۹ سالہ سومناتھ پچنگے ہیں۔ ’’سڑکوں پر پانی آٹھ فٹ سے زیادہ گہرا ہے۔ یہ میرے گھر میں ساڑھے تین فٹ تک پہنچ گیا ہے۔ میری بلّی پانی سے ڈرتی ہے، اسی لیے باہر نہیں نکل رہی ہے،‘‘ انھوں نے کہا۔

’’ہم کسی بھی آدمی کو مرنے نہیں دیں گے۔ ہم سبھی جانوروں کو بھی بچانے جا رہے ہیں،‘‘ ۳۴ سالہ آصف پکاولے اور ان کے دوستوں نے کہا۔ آصف نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کا ڈرون – جسے وہ شادی کی فوٹوگرافی کے لیے استعمال کرتے ہیں – لوگوں کو بچانے میں مدد کر سکتا ہے۔ ’’ہم نے گاؤں کے کافی اندر پھنسے ایک کسان کو ڈھونڈنے میں ڈرون کا استعمال کیا،‘‘ انھوں نے بتایا۔ بھنڈوڈے گاؤں کے لوگوں نے ۶ اگست، ۲۰۱۹ کو تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور، نِلیواڈی گاؤں سے ایک کشتی کا انتظام کیا، اور اُس کسان کو بچانے میں کامیاب رہے۔

بھینڈوَڈے میں ان کے جیسی مقامی ٹیموں کی بہترین کوششوں، اور دیگر کئی گاؤوں میں قومی قدرتی آفات ردِ عمل دستہ کے جوانوں کی موجودگی کے باوجود، ان کے گاؤں میں کئی جانوروں کی موت ہو گئی۔ بھینڈوڈے میں حالانکہ کسی کی جان نہیں گئی، لیکن کولہاپور اور سانگلی ضلعوں میں سیلاب سے کم از کم ۴۰ لوگ مارے گئے، پونہ ڈویژنل کمشنر کے حوالے سے خبروں میں کہا گیا تھا۔ اور ۴ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو عبوری کیمپوں میں پہنچایا گیا۔ کتنے ایکڑ میں فصل برباد ہوئی اس کا معتبر سرکاری تخمینہ نکالا جانا باقی ہے۔

Parvati Vasudeo holding a cap
PHOTO • Sanket Jain
Gopal Vasudeo wears ceremonial headgear
PHOTO • Sanket Jain

پاروَتی واسودیو (بائیں) ۳ اگست کو جب سیلاب کا پانی بڑھنا شروع ہوا، تو اپنے گھر سے نکلتے وقت صرف اپنے شوہر گوپال واسودیو (دائیں) کی رسمی ٹوپی کو ساتھ لے گئیں

Relief camp in the local school where farmers kept their belongings
PHOTO • Sanket Jain

کسان کنبوں نے جلد بازی میں اپنے معمولی سامانوں میں سے جو کچھ بھی ہو سکتا تھا، اسے بچانے کی کوشش کی اور انھیں مقامی اسکول کے ایک راحت کیمپ میں لے آئے۔ وَرنا ندی (کرشنا کی معاون ندی) سے سیلاب کا پانی بھینڈوڈے میں بہنے لگا۔ گاؤں کا تین کمروں والا پرائمری اسکول ۲۰ کنبوں کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ بن گیا، جہاں کچھ کسان مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کچھ دوپہر کے کھانے کا انتظار کر رہے تھے، اور کچھ خاموش بیٹھے تھے، شاید ۲۰۰۵ کے سیلاب کو یاد کر رہے تھے۔ اُس سال، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے اخباری رپورٹوں میں کہا گیا تھا، کولہاپور میں ایک ماہ میں ۱۵۹ فیصد بارش ہوئی ہے – اس بار، نو دنوں میں ۴۸۰ فیصد بارش ہوئی۔ اور، ہندوستانی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف ۵ اگست سے ۱۰ اگست تک، ہٹکننگلے تعلقہ میں ۴۵۰ ملی میٹر بارش ہوئی

Woman shivers inside a blanket in transit camp as floods ravage Kolhapur.
PHOTO • Sanket Jain

۲ اگست کو، انوبائی بھونسلے، جو کہتی ہیں کہ وہ ۹۵ سال کی ہیں، کو ایک ٹیمپو سے گاؤں کے پرائمری اسکول میں لایا گیا۔ کانپتے ہوئے، انھوں نے خود کو کمبل سے ڈھک لیا ہے۔ وہ اس قدرتی آفت کا موازنہ ۱۹۵۳ کے سیلاب سے کرتی ہیں، جب دھونڈے واڈی گاؤں (ستارا ضلع کے کراڈ تعلقہ) میں ان کا گھر گر گیا تھا۔ ’یہ سیلاب پچھلے والے [۲۰۰۵ اور ۱۹۵۳] سے بھی بدتر ہے،‘ وہ دھیمی آواز میں کہتی ہیں۔ وہ خاموش ہو جاتی ہیں، کیوں کہ اسکول میں ہر کوئی یہ پتہ کرنے کے لیے نکلتا ہے کہ دوپہر کا کھانا آ گیا ہے یا نہیں۔ یہ ۹ اگست کو دوپہر ۲ بجے کا وقت ہے۔ عام لوگ اور مقامی این جی او کھانا لا رہے ہیں، لیکن کھانے کی سپلائی لگاتار نہیں کی جا سکتی ہے

The villagers try saving their animals and livestock.
PHOTO • Sanket Jain

اوپر بائیں: بھینڈوڈے کی ایک خاتونِ خانہ، اوشا پاٹل، گاؤں سے نکلتے وقت اپنی دو بلیوں اور ایک بکری کو ساتھ لائیں۔ گاؤں والوں نے جہاں تک ہو سکتا تھا، ہر ایک جانور کو بچانے کی کوشش کی، لیکن کئی جانور پانی کے ڈر سے ان کے ساتھ باہر نہیں نکلے۔ اوپر دائیں: ۱۹ سالہ سومناتھ پچنگے، پالتو لو-برڈز کے ساتھ، جنہیں وہ گھر سے نکلتے وقت اپنے ساتھ لائے تھے۔ نیچے بائیں: ’کوئی بھی گائے [جنہیں اسکول میں لایا گیا تھا] دودھ نہیں دے رہی ہے‘، گوپال اور پاورَتی کے ۴۷ سالہ بیٹے، اجیت کہتے ہیں۔ ’مویشیوں کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ سبھی بیمار ہو گئے ہیں اور یہاں کوئی ڈاکٹر بھی نہیں ہے‘۔ انھیں ڈر ہے کہ ان کی گائے جلد ہی مر سکتی ہے۔ کئی بزرگ بھی بیمار ہیں، انھیں زکام اور بخار ہے۔ بہت سارے جانور پھنسے ہوئے ہیں۔ کسان اب اپنی جان جوکھم میں ڈال کر چار فٹ گہرے پانی میں ہوکر چارہ لا رہے ہیں۔ مقامی این جی او بھی راحتی کیمپوں میں چارہ پہنچا رہے ہیں۔ نیچے دائیں: سیلاب کا پانی مویشیوں کے باڑے میں گھُس گیا، جس کے بعد کھوچی گاؤں (بھینڈوڈے سے تقریباً ڈھائی کلومیٹر دور) کے کسانوں نے جانوروں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا

Water from the Warna river sweeps through Archana Ingale’s 2.5 acre field.
PHOTO • Sanket Jain

ورنا ندی کا پانی ارچنا اِنگلے کے ڈھائی ایکڑ کھیت میں گھُس گیا۔ ان کا اندازہ ہے کہ چھ کوئنٹل سویابین اور ایک کوئنٹل مونگ پھلی کا نقصان ہوا ہے۔ اپنا گھر چھوڑ کر اسی گاؤں میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر جانے کے چار دن  بعد، ۹ اگست کو وہ پانی کی سطح کی جانچ کرنے کے لیے واپس آئیں اور ٹوٹی ہوئی اینٹ کے ٹکڑوں سے چلنے کا راستہ بنایا

Man stands next to the debris of his flood-ravaged house.
PHOTO • Sanket Jain

۳۴ سالہ ناگیش بانڈوَڈے کہتے ہیں، ’دو دن پہلے، میرے گھر کی پچھلی دیوار صبح تقریباً ۱۰ بجے گر گئی تھی‘

Young men playing a game on their smartphones in the primary school in Bhendavade.
PHOTO • Sanket Jain
Flooded school premises
PHOTO • Sanket Jain

بائیں: بھینڈوڈے کے پرائمری اسکول میں اپنے اسمارٹ فون پر گیم کھیل رہے نوجوانوں کا ایک گروپ۔ دائیں: بھینڈوڈے کے کچھ کنبوں کو ہائی اسکول میں منتقل کیا گیا تھا، لیکن چار دنوں بعد انھیں یہ جگہ بھی چھوڑنی پڑی جب ۶ اگست کو اسکول کے احاطہ میں پانی گھُس گیا

Water accumulated in lane
PHOTO • Sanket Jain
Farmer wades through flooded lane
PHOTO • Sanket Jain

کھوچی گاؤں میں ایک گلی میں جمع پانی اور پانے گھر کو جاتا ایک کسان

Flooded tomato fields
PHOTO • Sanket Jain
Tomatoes from submerged fields overflow into village
PHOTO • Sanket Jain

آس پاس کے ڈوبے ہوئے کھیتوں سے ٹماٹر گاؤوں میں تیرنے لگے؛ چنڈولی باندھ کے اضافی پانی کے سبب ورنا ندی سے پانی باہر آنے لگا

A school turned transit camp for floods
PHOTO • Sanket Jain
Vessels to store rainwater
PHOTO • Sanket Jain

بائیں: کئی کنبوں کو کھوچی کے مراٹھی ہائی اسکول میں منقل کیا گیا تھا۔ دائیں: سیلاب کی وجہ سے پینے کے پانی کی کمی ہونے لگی، اور کھوچی میں لوگوں نے بارش کے صاف پانی کو جمع کرنے کے لیے گھر کے باہر برتن رکھے۔ ’یہاں ہر جگہ پانی ہی پانی ہے، لیکن اسے پینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا،‘ ہٹکننگلے پنچایت کمیٹی کے رکن اور کھوچی کے باشندہ، وسنت گورو کہتے ہیں۔ ’۲۰۰۵ کے سیلاب میں، ۲۰۰ کنبے متاثر ہوئے تھے [کھوچی کی آبادی ۵۸۳۲ ہے]، لیکن اس بار تقریباً ۴۵۰ کنبے متاثر ہوئے ہیں۔ ۲۰۰۵ میں ہم نے ۹۰۰ لوگوں کو بچایا تھا اور ہمیں اپنے گھر لوٹنے میں دو ہفتے لگے تھے‘

Submerged sugarcane fields.
PHOTO • Sanket Jain

۲۷ جون کو، ۴۱ سالہ ڈھانا جی واگرے نے کھوچی میں اپنی ۲۷ گُنٹھا زمین (۰ء۶۷۵ ایکڑ) پر گنّا لگایا تھا۔ ’میں نے کل ۱۴ ہزار روپے خرچ کیے‘، وہ کہتے ہیں۔ ڈھانا جی کی گنّے کی فصل کو اب نہیں دیکھا جا سکتا – یہ پانی میں ڈوب چکی ہے – اور ان کا اندازہ ہے کہ ۵۴ ٹن کا نقصان ہوا ہے۔ ’پانی گھٹنے کے بعد، مجھے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کھیت میں کتنی مٹی بچی ہے۔ پھر میں اسے مسطح کروں گا‘۔ وہ فکرمند ہیں کہ انھیں کھیت کو بحال کرنے کے لیے کم از کم ۱۰ ہزار روپے خرچ کرنے ہوں گے۔ گنّا لگانے والے کئی کسانوں نے زرعی لون لیا تھا۔ وہ اب اس بات کو لے کر فکرمند ہیں کہ وہ قرض کیسے چکائیں گے کیوں کہ ان کے کھیت پانی میں ڈوب چکے ہیں اور پوری فصل برباد ہو گئی ہے

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sanket Jain

سنکیت جین، مہاراشٹر کے کولہا پور میں مقیم ایک آزاد دیہی صحافی اور پاری والنٹیئر ہیں۔

Other stories by Sanket Jain