اَلاگیری سامی کے دانت نہیں رہے، وہ مسکراتے ہیں اور چلتے کرگھے کی موسیقی کے درمیان بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم ۵۰۰ سال پہلے یہاں آئے تھے اور اپنے ہنر کو فروغ دینے کے لیے ندی کنارے آباد ہو گئے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ ہم صرف مچھلی کی وجہ سے یہاں آئے تھے۔‘‘

کوتھم پلّی گاؤں میں جس جھونپڑی کے نیچے ۸۵ سالہ سامی کام کر رہے ہیں، وہاں ۱۲ کرگھوں کو ۳-۳ کی قطار میں لگایا گیا ہے۔ جھونپڑی کے آس پاس ملاپورم اور کوئمبٹور کی میلوں میں کاتے گئے دھاگوں کے کئی لمبے لمبے گٹھر خشک ہونے کے لیے لٹکے ہوئے ہیں اور سیال کلف کے پیالوں میں سنہرے کساوو (زری) کے گولوں کو بھگو کر رکھا گیا ہے، تاکہ وہ سخت بنے رہیں۔ سونے کے بارڈر والی ہلکی سفید دھوتی، ہاتھی اور مور کے پیچیدہ پیٹرن میں بُنی ہوئی ساڑیاں اور دیگر ملبوسات کی گٹھریاں صارفین کے پاس پہنچنے کا انتظار کر رہی ہیں۔

یہ جھونپڑی اور بغل کی ہتھ کرگھا کی دکان بھی سامی کی فیملی کی ہے۔ ان کا تعلق جُلاہوں کی دیوانگ چیٹیار برادری (دیوانگ برہمن نامی دیگر پس ماندہ طبقہ میں شامل) سے ہے، اور وہ ۱۹۶۲ میں بھاگھیرتھی امّا سے شادی کرنے کے بعد، تمل ناڈو کے کوتھم پلّی آئے تھے۔ بعض تذکروں کے مطابق، ۵۰۰ سال پہلے کوچّی کے راجا کی درخواست پر شاہی خاندان کے لیے کپڑے بُننے کے لیے یہ برادری کرناٹک سے کیرالہ آئی تھی۔ وہ مارتھ پوژا ندی کے مشرقی جانب اور گایتری پوژا ندی (اسے پونّانی بھی کہا جاتا ہے) کے مغرب میں واقع زمین پر بس گئے تھے۔

85 year-old Alagir Sami works on a manual weaving machine
PHOTO • Remya Padmadas

الاگیری سامی: ’وہ کہتے ہیں کہ ہم ۵۰۰ سال قبل یہاں آئے تھے اور اپنے ہنر کو فروغ دینے کے لیے ندی کنارے آباد ہو گئے تھے‘

اپنے ہنر اور مہارت سے ان بُنکروں نے کیرالہ کے روایتی ملبوسات – مُنڈو (دھوتی)، سیتّو ساڑی (سونے کی زری کے بارڈر والی)، اور سیتّو مُنڈو (دو الگ الگ حصوں والی ساڑی) – کو ایک نئی زندگی دی۔ کوچین سے تقریباً ۱۳۰ کلومیٹر دور، تریشور ضلع کے تلپّلّی تعلقہ کی تھیرووَلامالا پنچایت کے جس کوتھم پلّی گاؤں سے وہ آئے تھے، وقت کے ساتھ وہ کیرالہ میں ہتھ کرگھا ساڑیوں اور دھوتیوں کی پیداوار کے اہم مراکز میں سے ایک بن گیا ہے۔

اور کوتھم پلّی ساڑیوں، دھوتیوں اور سیتّو مُنڈو کو جی آئی (جغرافیائی نشان) مل گیا ہے۔ جی آئی نشان کسی برادری کے روایتی علم کی حفاظت کے لیے حکومت کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ متعلقہ پیداوار یا ہنر ایک مخصوص مقام سے ہے یا اس کا معیار اور شہرت ایک خاص مقام سے آنے کی وجہ سے ہے۔

گاؤں کے کل ۲۴۰۰ لوگوں (۲۰۱۱ کی مردم شماری) میں سے ۱۴۰ لوگ کوتھم پلّی ہتھ کرگھا صنعتی کوآپریٹو سوسائٹی سے جڑے ہیں، جو عارضی طور پر سرکاری ملکیت والی ایک اکائی ہے، یہ خام مال کی سپلائی کرتی ہے اور تیار مال کے لیے مزدوری ادا کرتی ہے۔ دوسرے بُنکر گاؤں کے استاد بُنکروں کے لیے کام کرتے ہیں، جو ریاست کے الگ الگ حصوں کی دکانوں سے مال کے آرڈر لیتے ہیں اور پھر ان بُنکروں کو پیس تیار کرنے کے لیے دے دیتے ہیں۔ کچھ بُنکر صارفین سے سیدھے آرڈر لیتے ہیں اور تیار لباس انھیں پہنچاتے ہیں۔ گاؤں میں زیادہ تر بُنکروں کے گھروں میں ۱ یا ۲ کرگھے ہیں، جب کہ ۲ یا ۳ خاندانوں کے پاس کئی کرگھوں والی جھونپڑیاں الگ سے ہیں۔

ان سبھی معاملوں میں، آمدنی معمولی ہے۔ ’’یہاں کام کرنے والے زیادہ تر لوگ ۷۰ سال سے زیادہ کے ہیں،‘‘ الاگیری کے ۲۴ سالہ پوتے، سرجیت شروَنن بتاتے ہیں۔ ’’بغیر ڈیزائن والی ایک عام مُنڈو (تقریباً چار میٹر لمبی) کو پورا کرنے میں وہ پورا ایک دن لیتے ہیں۔ آپ کی آمدنی کام کرنے کی رفتار اور اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ایک دن میں کتنا کام کر سکتے ہیں۔‘‘

Tools used for weaving
PHOTO • Remya Padmadas
Mani K. who has been in this profession for over 30 years, works on the handloom
PHOTO • Remya Padmadas

ساڑی کے دھاگے ریل میں لپیٹے گئے ہیں (بائیں)، تاکہ کوتھم پلّی میں منی کے. کے گھر میں بُنائی ہو سکے، جہاں وہ ہتھ کرگھے پر کام کرتے ہیں (دائیں)

کوتھم پلّی کا بُنکر فی مُنڈو ۲۰۰-۴۰۰ روپے کماتا ہے۔ ایک عام ساڑی کے ۵۰۰ روپے اور ڈیزائن والی ساڑی کے ۷۵۰ روپے سے ۲۰۰۰ روپے تک ملتے ہیں۔ پیچیدہ کام والی ساڑی کے ۴۰۰۰ روپے بھی مل سکتے ہیں، لیکن ایک بزرگ بُنکر کو اسے پورا کرنے میں کئی دنوں تک روزانہ ۹-۱۰ گھنٹے کام کرنا پڑے گا۔ ’’پچھلے ہفتہ ایک [نسبتاً] جوان بُنکر مدد کرنے آیا تھا۔ اس نے دو دنوں میں ایک ڈیزائنر ساڑی بُنی، چار ہزار روپے کمائے اور چلا گیا،‘‘ سرجیت بتاتے ہیں۔ ’’میرے دادا کو اسی ساڑی کو بُننے میں آٹھ دن لگے۔‘‘

تیس سے زیادہ برسوں سے اس پیشہ سے منسلک منی کے کہتے ہیں کہ بُنائی روایتی طور پر ایک خاندانی پیشہ تھا، اور بُنائی سے پہلے بھی بہت کام ہوتا تھا۔ ’’جب ہم بچے تھے، تو دادا دادی سے لے کر بچوں تک، پورا خاندان بُنائی کے عمل کا ایک حصہ ہو جایا کرتا تھا۔‘‘

پاوو یا کلف لگا ہوا سوتی دھاگہ کتائی مِلوں سے گٹھریوں میں آتا تھا۔ خاندان کے بڑے لوگ دھاگوں کو الگ اور سیدھا کرتے تھے اور انھیں ریل میں لپیٹ دیتے تھے، تاکہ اسے کرگھے میں لگایا جا سکے۔ چونکہ یہ دھاگے تقریباً ۴۴ میٹر لمبے ہوتے تھے، اس لیے کم از کم سات لوگوں کی ضرورت پڑتی تھی، جو سڑک پر کھڑے ہو کر انھیں سیدھا کرتے اور پھر گول گول لپیٹ دیتے تھے۔ اس درمیان، خاندان کی عورتیں اور بچے سوت کاتنے میں مدد کرتے تھے اور چرخے کے استعمال سے کساوو کے چھوٹے چھوٹے رول بناتے تھے۔ اس کام میں پورا ایک دن لگتا تھا۔

اب یہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ چھوٹی خاندانی اکائیاں، بچے جو اس پیشہ میں رہنا نہیں چاہتے، اور ماہر بُنکروں کی کمی نے بزرگ  بُنکروں کو اس بات کے لیے مجبور کیا ہے کہ وہ شروع میں کرگھا چلانے کے لیے ضروری مزدوروں کو تمل ناڈو سے بلا کر کام پر رکھیں۔ ’’ہم لوگوں کو کرگھے پر کام کرنے کے لیے بلاتے ہیں، وہ صبح میں آتے ہیں اور شام ۵ بجے تک چلے جاتے ہیں،‘‘ منی بتاتے ہیں۔ ’’ایک بُنکر کو ۴۰۰۰ روپے کی ساڑی کے صرف ۳۰۰۰ روپے ہی ملتے ہیں۔ باقی پیسہ محنت کی لاگت میں چلا جاتا ہے۔ ان سب کے بعد ہم کتنا کماتے ہیں؟‘‘ اس لیے ان کی فیملی کو مجبوراً ۱۹۹۰ کی دہائی میں ۴ کرگھے چلانے سے آج صرف ۲ کرگھا چلانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

Stacks of punched cards to be used in the jacquard machine, kept in a corner. Shot inside Mani's house.
PHOTO • Remya Padmadas
The charkha in Mani's home used to spin the kasavu (zari) into smaller rolls
PHOTO • Remya Padmadas
The charkha in Mani's house used to spin the kasavu into smaller rolls
PHOTO • Remya Padmadas

منی کے. کے گھر میں: جیکرڈ مشین کے پنچ کارڈ کا انبار (بائیں) اور کساوو کے چھوٹے رول میں لپیٹنے کے لیے چرخہ (درمیان میں اور دائیں)

منی بتاتے ہیں کہ کوتھم پلّی میں کئی نوجوان گریجویٹ ہیں اور بُنائی میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ ان کا بیٹا میکینکل انجینئر ہے، جو تریشور میں ایک کنسٹرکشن کمپنی میں کام کرتا ہے۔ ’’اگر آپ مہینے میں [بُنائی سے] صرف ۶۰۰۰ روپے کماتے ہیں، تو اس پیسے سے آپ کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں۔ ’’اسی لیے اس کام میں نوجوان نہیں ہیں، وہ باہر نوکری کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

سرجیت بھی ایک انجینئر ہیں؛ انھوں نے بُنائی نہیں سیکھی اور فیملی کی کپڑے کی دکان چلاتے ہیں۔ ان کے والد کوتھم پلّی ہتھ کرگھا صنعتی کوآپریٹو سوسائٹی کے سکریٹری ہیں، اور ان کی ماں کوتھم پلّی میں اپنے گھر سے بُنائی کرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’نوجوانوں کی اس صنعت میں کام کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دوسرے شعبوں میں آپ آزادی سے کام کر سکتے ہیں اور کما سکتے ہیں۔ لیکن بُنائی میں آپ کو شروع سے ہی ایک ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر گراہک کسی خاص رنگ کی مانگ کرتا ہے، تو آپ کو دھاگے کو رنگنا ہوگا، جس کے لیے دوسروں کی مدد چاہیے۔ اگر دھاگے کا رول بُنائی کے بیچ میں ہی ختم ہو جائے، تو آپ کو دھاگے کو رنگنا ہوگا، جس کے لیے دوسروں کی مدد چاہیے۔ اگر دھاگے کا رول بُنائی کے درمیان میں ہی ختم ہو جائے، تو آپ کو ہر ایک دھاگے کو نئے رول سے جوڑنا ہوگا۔ اس کام کو کرنے میں پورا دن لگ جاتا ہے اور اسے آپ اکیلے نہیں کر سکتے۔ پنچ کارڈ کو بھی کسی اور کے ذریعے آپ کا ڈیزائن دیکھ کر تیار کرنا پڑتا ہے۔ اگر جیکرڈ میں کوئی خرابی ہے تو اسے ایک ٹیکنیشین ہی صحیح کر سکتا ہے۔ آپ ان میں سے کوئی بھی کام اکیلے نہیں کر سکتے۔ سب کچھ ٹیم ورک ہے، اور دوسروں پر اتنا انحصار مشکل ہوتا ہے۔‘‘

جیہ منی اس سے متفق ہیں، وہ اپنے شوہر کے ساتھ گھر میں دو کرگھے چلاتی ہیں۔ ’’بُنائی میں بہت سے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہمارے پڑوسی ہمیں پاوو کو سیدھا کرنے اور لپیٹنے میں مدد کرتے ہیں، ہم بھی اس کام میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ اس قسم کے تعاون کے بغیر ہم کام کر ہی نہیں سکتے۔‘‘ جیہ اور ان کے شوہر ہتھ کرگھا سوسائٹی سے جڑے ہیں اور مل کر ۱۸ ہزار روپے سے ۲۵ ہزار روپے مہینہ کماتے ہیں۔

حالانکہ، جیہ گاؤں کی اُن چند خواتین میں سے ایک ہیں جو آج بھی بُنائی کرتی ہیں۔ ’’زیادہ تر خواتین ان دنوں کپڑے کی دکانوں میں کام کرتی ہیں کیوں کہ کام آسان ہے اور وہ اسے اکیلے کر سکتی ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میرے بچے اس ہنر میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ میری بیٹی بُنائی جانتی ہے، لیکن اگر وہ بُنائی کرنے لگے تو گھر کے دوسرے کام نہیں کر پائے گی۔ میرے بیٹے کی تو بالکل بھی دلچسپی نہیں ہے، وہ ایک دکان میں کام کرتا ہے۔ اور اسے کون قصوروار ٹھہرائے؟ یہ منافع کا کام نہیں ہے۔‘‘

Jaya Mani works on a loom in her home. In the dying light of the setting sun, the threads on her loom glow faintly.
PHOTO • Remya Padmadas
The roller of a handloom in Kuthampully, over which 4,000 to 4,500 threads of yarn are strung.
PHOTO • Remya Padmadas

بائیں: جیہ منی گاؤں کی ان چند خواتین میں سے ایک ہیں جو آج بھی بُنائی کرتی ہیں۔ دائیں: ہتھ کرگھا کا ایک رولر، جس پر ۴۰۰۰ سے ۴۵۰۰ دھاگے چڑھے ہیں

کوتھم پلّی میں ہاتھ کی بُنائی میں کمی کا ایک اور سبب تکنیکی طور سے بہتر پاور لوموں کا لگاتار بڑھنا بھی ہے، جو پیچیدہ ڈیزائن کی ساڑیاں سستے میں اور تیزی سے بُن سکتے ہیں۔ ہتھ کرگھا سوسائٹی کے ملازم کہتے ہیں کہ کوتھم پلّی کی دکانوں میں ۸۰ فیصد ساڑیاں تمل ناڈو کے پاورلوم کی بنی ہوئی ہیں۔

’’مشین پر ایک دن میں تقریباً ۵ سے ۶ ساڑیاں بُنی جا سکتی ہیں، اور اگر آپ اسے رات میں بھی چلاتے ہیں تو ۱۰ ساڑیاں۔ ایک آدمی ایک ساتھ چار پاورلوم چلا سکتا ہے۔ پورا عمل کمپیوٹرائزڈ ہے،‘‘ سرجیت بتاتے ہیں۔ ’’ہتھ کرگھے پر ایک بار میں صرف ایک آدمی ایک ساڑی بُن سکتا ہے۔ لاگت میں بھی بہت بڑا فرق پڑتا ہے – ہتھ کرگھے سے جس ساڑی کو بنانے میں ۲۰۰۰ روپے کی لاگت آتی ہے، پاورلوم سے وہی ساڑی ۴۰۰ روپے میں بن کر تیار ہو جاتی ہے۔

تو لوگ آخر ہتھ کرگھے کی ساڑی اور مُنڈو کیوں خریدتے ہیں؟ ’’معیار کی وجہ سے،‘‘ وہ جواب دیتے ہیں۔ ’’ہتھ کرگھے کی ساڑی اتنی ملائم ہوتی ہے کہ جب آپ اسے پہنتے ہیں تو وزن کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ مشین سے بنی ہوئی ساڑی میں استعمال کساوو ہاتھ کی بُنائی والی ساڑی سے الگ ہوتا ہے۔ معیار میں بھی بہت فرق پڑتا ہے۔ اور ہتھ کرگھے کی ساڑی زیادہ دنوں تک چلتی ہے۔‘‘

The entrance to a shed in Kuthampully, where weaving takes place.
PHOTO • Remya Padmadas
Settu sarees in a handloom shop in Kuthampully
PHOTO • Remya Padmadas

دائیں: گاؤں میں بُنائی والی ایک جھونپڑی کا داخلی دروازہ۔ بائیں: کوتھم پلّی میں ہتھ کرگھے کی ایک دکان میں فروخت کے لیے تیار سیتّو ساڑیاں

حالانکہ ہتھ کرگھے سے بنی ساڑیوں کی مانگ، یہاں کے بُنکروں کو گزر بسر میں مدد کرتی ہے، لیکن اگست ۲۰۱۸ میں کیرالہ میں آئے زبردست سیلاب نے اس صنعت کی کمر توڑ دی۔ کوتھم پلّی ہتھ کرگھا صنعتی کوآپریٹو سوسائٹی کی ایک ایڈمنسٹریٹو ملازم، ایشوریہ ایس بتاتی ہیں کہ تاجروں کو اُدھار بیچا گیا ۱ کروڑ روپے سے زیادہ کا مال سیلاب کے بعد واپس آ گیا تھا، کیوں کہ دکانداروں کو گراہک ہی نہیں مل رہے تھے۔ اتنا سارا مال نہ فروخت ہونے پر سوسائٹی کو اپنے ۱۴۰ بُنکروں کی اجرت ادا کرنے کے لیے مجبوراً قرض لینا پڑا۔ اگست میں کیرالہ کا سب سے مقبول تہوار اونم بھی منایا جاتا ہے، جب روایتی ملبوسات کی فروخت اعلیٰ سطح پر ہوتی ہے۔ سوسائٹی نے بعد میں ساڑیوں کو رعایتی قیمتوں پر بیچا، اور ایشوریہ بتاتی ہیں کہ بہت سارا مال ابھی بھی فروخت ہونے کے لیے پڑا ہے۔

ویسے، کوتھم پلّی میں سیلاب کا اثر کم از کم تھا۔ ’’سیلاب نے ہمیں زیادہ متاثر نہیں کیا،‘‘ الاگیری سامی بتاتے ہیں۔ ’’ہمارے قصبہ کے دونوں طرف دو ندیاں ہیں، سیلاب نے صرف ایک طرف تھوڑا نقصان کیا، لیکن کوئی شدید نقصان نہیں ہوا۔‘‘

کیرالہ کے باقی حصوں میں، سیلاب کے بعد ہتھ کرگھا سوسائٹی نے فیصلہ لیا کہ دہائیوں تک بُنی گئیں ریاست کی شاندار ہلکی سفید اور سنہری ساڑیاں نہیں بُنی جائیں گی، جو کیرالہ میں عموماً تہوار کے وقت فروخت ہوتی ہیں، اور ان کی جگہ پر اب رنگین ساڑیاں بُنی جائیں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ رنگین ساڑیوں کی سال بھر مانگ رہے گی۔ گاؤں کے کئی بُنکروں نے اس کی مخالفت کی۔ ’’یہاں زیادہ تر بُنکر بہت بوڑھے اور ان کی آنکھوں کی روشنی کم ہے۔ رنگین ساڑیوں کو بُننے میں زیادہ کام، وقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے،‘‘ ایشوریہ بتاتی ہیں۔ ’’لیکن اگر صنعت کو بچانا ہے تو ہمیں یہ تبدیلی کرنی ہی پڑے گی۔ صرف وقت بتائے گا کہ آگے اس کا کیا ہوگا۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Remya Padmadas

ریمیا پدما داس بنگلورو اور کیرالہ میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔ اس سے پہلے وہ روئٹر کے ساتھ ایک تجارتی نامہ نگار کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ وہ دنیا کی سیر کریں اور کہانیاں سنائیں۔

Other stories by Remya Padmadas