اینٹیں، کوئلہ اور پتھر


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel1/edited_n013_28.jpg


وہ صرف ننگے پیر نہیں ہیں، بلکہ ان کے سروں پر گرم اینٹیں ہیں۔ وہ جو ریمپ پر چلتی ہوئی دکھائی دے رہے ہیں، وہ اڑیسہ سے ہجرت کرکے یہاں آئی ہیں اور آندھرا پردیش کے ایک بھٹے میں کام کر رہی ہیں۔ باہر کا درجہ حرارت ناقابل برداشت ۴۹ ڈگری سیلسیس (۱۲۰ فارین ہائٹ) ہے۔ بھٹّے کے آس پاس گرمی اور بھی زیادہ ہے، جہاں پر عورتیں اکثر کام کرتی ہیں۔

دن بھر کام کرنے کے بعد ایک عورتوں کو ۱۰ یا ۱۲ روپے (۲۵۔۲۰ سینٹ) مزدوری ملتی ہے۔ یہ اس سے کہیں کم ہے، جو مردوں کو روز کی ۱۵ سے ۲۰ روپے (۴۰۔۳۰ سینٹ) کی مزدوری ملتی ہے۔ ٹھیکہ دار ’ایڈوانس‘ رقم دینے کے سسٹم کے تحت اس قسم کے مہاجرین کی پوری فیملی کو یہاں لے کر آ جاتے ہیں۔ اس قرض کی وجہ سے مہاجرین ٹھیکہ داروں کے ساتھ بندھ جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر انھیں بندھوا مزدور کے طور پر کام کرنا پڑتا ہے۔ یہاں آنے والے ۹۰ فیصد تک لوگوں کے پاس اپنی زمین یا تو بالکل بھی نہیں ہے یا اگر ہے بھی، تو بہت تھوڑی۔

کم از کم مزدوری کے قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کرنے کے باوجود، ان میں سے کوئی بھی مزدور کہیں فریاد نہیں کر سکتا۔ مہاجر مزدوروں کے لیے بنایا گیا پرانا قانون ان کی حفاظت نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر، یہ قوانین آندھرا پردیش کے لیبر ڈپارٹمنٹ کو اڑیسہ کے اِن لوگوں کی مدد کرنے پر مجبور نہیں کرتے۔ اور اڑیسہ کی لیبر اتھارٹیز کو آندھرا میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ بندھوا مزدوری کی وجہ سے اینٹ بھٹّوں میں کام کرنے والی بہت سی عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کا جنسی استحصال بھی ہوتا رہتا ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel1/edited_g04_15.jpg


یہ اکیلی عورت، جو کیچڑ اور دلدل ہوتے ہوئے آگے کو جا رہی ہے، وہ دراصل گوڈّا، جھارکھنڈ کی کھلی کوئلہ کانوں کے فضلات ہیں۔ اس علاقے کی بہت سی دیگر عورتوں کی طرح، یہ بھی بیکار سمجھ کر پھینکے گئے کوئلوں کو چُن کر لے جا رہی ہے، جنہیں گھر میں جلانے کے ایندھن کے طور پر بیچ کر کچھ پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ اگر اس عورت جیسے لوگ ان کوئلوں کو نہ اٹھائیں، تو یہ یونہی کھلے میں بیکار پڑے رہیں گے۔ اس کا کام ملک کی توانائی کو بچا رہا ہے ۔۔ لیکن قانوناً ایسا کرنا جرم ہے۔

کھپڑیل بنانے والے چھتیس گڑھ کے سرگوجا میں رہتے ہیں۔ اس عورت کی فیملی کو اپنی چھت اس لیے گنوانی پڑی، کیوں کہ وہ اپنا قرض نہیں چکا پائی تھی۔ ان کی چھت پر لگی کھپڑیل وہ واحد چیز تھی، جسے بیچ کر یہ لوگ کچھ پیسہ جمع کر سکتے تھے اور پھر اپنے قرض کی قسط چکا سکتے تھے۔ انھوں نے یہی کیا۔ اور اب یہ عورت نیا کھپڑیل بنا رہی ہے، تاکہ پرانے کو بدل کر چھت پر انھیں لگا سکے۔


/static/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/thumbs/Panel1/edited_pk05-2_29a.jpg


تمل ناڈو کے پُڈوکوٹائی کی یہ پتھر توڑنے والی عورت بالکل انوکھی ہے۔ سال ۱۹۹۱ میں، وہاں کی تقریباً ۴ ہزار عورتوں، جو نہایت غریب تھیں، پتھر کی اُن کانوں پر قبضہ کرنے کے لیے آ گئیں، جہاں پہلے وہ بندھوا مزدور کے طور پر کام کیا کرتی تھیں۔ اُس وقت کی مقامی انتظامیہ کے ذریعہ کی گئی پہل سے یہ ممکن ہوسکا تھا۔ نئی نئی خواندہ عورتوں کے ذریعہ منظم طور پر اٹھائے گئے قدم نے اسے حقیقت کا جامہ پہنایا۔ اور پتھر کی کانوں کی ان عورتوں کی گھریلو زندگیوں میں اچانک بہتری آ گئی۔ ان محنتی نئی ’مالکنوں‘ کی وجہ سے سرکار کو بھی بڑی مالیت کی کمائی ہوئی۔ لیکن ٹھیکہ داروں کو یہ پسند نہیں آیا اور انھوں نے اس پر بڑا دھاوا بول دیا۔ یہ وہی ٹھیکہ دار ہیں، جو اس علاقہ میں غیر قانونی طریقے سے پتھر نکالا کرتے تھے۔ کافی نقصان ہو چکا ہے۔ پھر بھی، بہت سی عورتیں بہتر زندگی کی تلاش میں اب بھی جدوجہد کر رہی ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel1/edited_lzw_g04_16.jpg


سورج کے غروب ہونے کی مخالفت سمت میں ایک قطار سے چلی آ رہیں یہ عورتیں گوڈّا کی کھلی ہوئی کوئلہ کانوں کے ڈَمپ سے آ رہی ہیں۔ انھوں نے بیکار کوئلہ اتنی مقدار میں چُن لیا ہے، جتنا وہ دن بھر کام کرکے کر سکتی تھیں اور اب وہ تیزی سے اپنے گھروں کی طرف جا رہی ہیں، کیوں کہ مانسون کی بارش ہونے ہی والی ہے، جو اس پورے علاقہ کو کیچڑ اور دلدل میں تبدیل کر دے گی۔ کانوں اور کھدانوں میں کام کرنے والی عورتوں کا سرکاری اعداد و شمار بے معنی ہے، کیوں کہ وہ غیر قانونی کانوں اور ان کے ارد گرد خطرناک کام کرنے والی خواتین مزدوروں کو گنتے نہیں ہیں۔ جیسے یہ عورتیں جو ڈمپس سے باہر جا رہی ہیں۔ یہ خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے دن کے خاتمہ پر ۱۰ روپے (۲۰ سینٹ) کما لیے ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel1/edited_s007_14.jpg


ساتھ ہی ساتھ، ان عورتوں کو کانوں میں دھماکہ، زہریلی گیسوں، پتھر کے غبار اور ہوا میں پھیلنے والے دیگر مضر ذرات کی وجہ سے بڑے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ، ۱۲۰ ٹن کے ڈمپر ٹرک کانوں کے کنارے آتے ہیں اور ’حد سے زیادہ بوجھ‘ یا کھودے گئے مائننگ علاقے کی اوپری مٹی کو اتارتے ہیں۔ اور بعض غریب عورتیں، جو اِن ٹرکوں کے پیچھے اس لالچ میں بھاگتی ہیں کہ انھیں بیکار کوئلہ اس مٹی میں سے مل جائے گا، ٹنوں مٹی کے اندر دب بھی سکتی ہے۔


women headloadwomen headload

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath