ویڈیو دیکھیں: ’’میں نے عورتوں کو ۹۰ فیصد وقت کام کرتے دیکھا۔ وہ سخت محنت والے کام کر رہی تھیں، جس کے لیے آپ کی پیٹھ مضبوط ہونی چاہیے،‘‘ پی سائی ناتھ کہتے ہیں

اینٹ، کوئلہ اور پتھر

وہ صرف ننگے پیر ہی نہیں ہیں، بلکہ ان کے سر پر گرم اینٹیں بھی ہیں۔ ایک قطار میں چلتی یہ اڑیسہ کی مہاجر عورتیں ہیں، جو یہاں آندھرا پردیش کی ایک اینٹ بھٹی میں کام کر رہی ہیں۔ باہر کا درجہ حرارت ناقابل برداشت ۴۹ ڈگری سیلسیس ہے۔ بھٹّی کے آس پاس، جہاں عورتیں زیادہ تر کام کرتی ہیں، اس سے کہیں زیادہ گرمی ہے۔

دن بھر کام کرنے کے بعد ہر ایک عورت کو ۱۰ یا ۱۲ روپے مزدوری ملتی ہے، جو مردوں کی دن بھر کی حقیر ۱۵ سے ۲۰ روپے کی مزدوری سے بھی کم ہے۔ ٹھیکہ دار ’ایڈوانس‘ رقم دینے کے بعد اس قسم کے مہاجرین کی پوری فیملی کو یہاں لے کر آ جاتے ہیں۔ یہ قرض مہاجرین کو ٹھیکہ داروں سے باندھ دیتے ہیں اور اس طرح وہ اکثر ان کے بندھوا مزدور بن جاتے ہیں۔ یہاں آنے والے ۹۰ فیصد لوگ بے زمین یا غریب کسان ہیں۔

کم از کم مزدوری کے قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کرنے کے باوجود، ان میں سے کوئی بھی مزدور کہیں فریاد نہیں کر سکتا۔ مہاجر مزدوروں کے لیے بنائے گئے پرانے قوانین انھیں تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، یہ قوانین آندھرا پردیش کے لیبر ڈپارٹمنٹ کو اڑیہ مزدوروں کی مدد کرنے پر مجبور نہیں کرتے۔ اور اڑیسہ کے لیبر حکام کو آندھرا میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس بندھوا مزدوری کی وجہ سے، اینٹ بھٹیّوں میں کام کرنے والی بہت سی عورتیں اور جوان لڑکیاں جنسی استحصال کا بھی شکار ہوتی ہیں۔

یہ اکیلی عورت مٹی اور کیچڑ والے جس راستے سے ہو کر جا رہی ہے، وہ کچرے کا میدان ہونے کے ساتھ ساتھ گوڈّا، جھارکھنڈ کی کھلی کوئلہ کان بھی ہے۔ اس علاقے کی بہت سی دیگر عورتوں کی طرح، یہ بھی اس کچرے میں سے فاضل کوئلہ چُنتی ہے، جسے کچھ پیسہ کمانے کے لیے گھریلو ایندھن کے طور پر بیچا جا سکتا ہے۔ اگر ان جیسے لوگوں نے اسے نہیں چُنا، تو یہ کوئلہ بغیر استعمال کے کچرے میں اسی طرح پڑا رہے گا۔ ایسا کرکے وہ ملک کے لیے توانائی بچانے کا کام کر رہی ہیں – لیکن قانون کی نظر میں یہ جرم ہے۔

کھپڑیل بناتی یہ خاتون چھتیس گڑھ کے سرگوجا میں رہتی ہیں۔ ان کی فیملی نے اپنی چھت اس لیے گنوا دی، کیوں کہ وہ اپنا قرض نہیں چکا سکے تھے۔ ان کے پاس صرف ان کی چھت کی کھپڑیل ہی تھیں، جنہیں بیچ کر وہ کچھ پیسے جمع کرتے اور قرض کی قسط چکا سکتے تھے۔ تو انھوں نے ایسا ہی کیا۔ اور اب یہ نئے کھپڑیل بنا رہی ہیں، تاکہ چھت سے پرانی کھپڑیلوں کو ہٹاکر انھیں لگا سکیں۔

تمل ناڈو کے پُڈوکوٹئی کی پتھر توڑنے والی یہ عورت انوکھی ہے۔ سال ۱۹۹۱ میں، وہاں کی تقریباً ۴ ہزار نہایت غریب عورتیں پتھر کی اُن کانوں پر قبضہ کرنے پہنچ گئیں، جہاں وہ پہلے کبھی بندھوا مزدوروں کے طور پر کام کیا کرتی تھیں۔ اُس وقت کی مقامی انتظامیہ کے ذریعہ کڑے قدم اٹھانے سے یہ ممکن ہوا۔ نئی خواندہ عورتوں کے ذریعہ منظم کارروائی نے اسے حقیقت کا جامہ پہنایا۔ اور پتھر کی کانوں کی ان عورتوں کی گھریلو زندگیوں میں اچانک بہتری آ گئی۔ سرکار نے بھی ان محنتی نئی ’مالکنوں‘سے بڑی مالیت کمائی۔ لیکن یہاں کے ٹھیکہ داروں کو یہ پسند نہیں آیا اور انھوں نے اس پر بڑا دھاوا بول دیا۔ یہ وہی ٹھیکہ دار ہیں، جو اس علاقہ میں غیر قانونی طریقے سے پتھر نکالا کرتے تھے۔ کافی نقصان ہو چکا ہے۔ پھر بھی، بہت سی عورتیں اب بھی بہتر زندگی کے لیے اپنا جدوجہد جاری رکھے ہوئی ہیں۔

PHOTO • P. Sainath

غروب آفتاب کی مخالف سمت میں ایک قطار میں چلتی یہ عورتیں گوڈّا کی کھلی کوئلہ کانوں سے ملحق کچرے کے میدان کو چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ انھوں نے دن بھر میں جتنا ہو سکتا تھا، اُتنا فاضل کوئلہ چُنا ہے، اور اس سے پہلے کہ مانسون کے بھرے بادل انھیں کیچڑ اور گیلی مٹی میں پھنسا دیں، وہ اس جگہ کو چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ کانوں اور کھدانوں میں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد کی سرکاری گنتی بے معنی ہے۔ ایسا اس لیے ہے، کیوں کہ وہ غیر قانونی کانوں اور ان کے ارد گرد خطرناک کام کرنے والی خواتین مزدوروں کو شمار ہی نہیں کرتے۔ جیسے کہ یہ عورتیں، جو کچرے کے میدان سے باہر نکل رہی ہیں۔ وہ خوش قسمت ہوں گی، اگر انھوں نے دن کے خاتمہ پر ۱۰ روپے (۲۰ سینٹ) کمائے ہوں گے۔

ساتھ ہی، انھیں کانوں میں کیے جانے والے دھماکہ، زہریلی گیسوں، چٹانوں کی غبار اور ہوا سے پیدا ہونے والے دیگر مضر ذرات کی وجہ سے بڑے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ، ۱۲۰ ٹن کے ڈمپر ٹرک کانوں کے کنارے آتے ہیں اور کھودی جا چکی کانوں کے ’اضافی بوجھ‘ یا اوپری مٹی کو یہاں پھینک کر چلے جاتے ہیں۔ اور کچھ غریب عورتیں اس مٹّی سے فاضل کوئلہ کو چُننے کے لیے دوڑ لگا رہی ہیں، انھیں اس سے زخم لگنے کی بھی پرواہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath