01-008-PS- Kalliasseri-In Search of Sumukan.jpg سوموکان کے ورثاء اب بھی آزی کوڈ میں رہتے ہیں


کلیا سیری نے صحیح معنوں میں لڑنا کبھی بند نہیں کیا۔ ۱۹۴۷ کے بعد بھی نہیں۔ کیرلہ کے شمالی مالابار میں واقع اس گاؤں نے کئی محاذوں پر لڑائی لڑی ہے۔ جدوجہد آزادی کے وقت، اس نے انگریزوں کو چنوتی دی۔ اس علاقے میں کسانوں کی تحریک جب شباب پر تھی، تو اس نے ’جنمیوں‘ (زمینداروں) سے لوہا لیا۔ لیفٹسٹوں کے ذریعہ چھیڑی گئی لڑائی میں، اس نے ذات پات کا مقابلہ کیا۔

’’ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آزادی کی لڑائی ۱۹۴۷ میں ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی؟‘‘ کے پی آر ریارپّن سوال کرتے ہیں، جو اُن تمام لڑائیوں کے دوران ایک اہم آدمی تھے۔ ’’زمینی اصلاح کی لڑائی اب بھی جاری تھی۔‘‘ ریا رپّن ۸۶ سال کے ہو چکے ہیں، لیکن انھیں آگے ایسی اور لڑائیاں نظر آ رہی ہیں۔ اور وہ ان سب میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کال پر انھوں نے ۸۳ سال کی عمر میں کسارگوڑ سے تھیرووننتھا پورم تک ۵۰۰ کلومیٹر پیدل مارچ کیا تھا۔

وہ دو واقعات جس نے کلیاسیری میں تبدیلی کی لہر پیدا کی، وہ اب بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔ پہلا واقعہ ۱۹۲۰ کی دہائی کے شروع میں منگلور میں گاندھی کی آمد تھی۔ انھیں سننے کے لیے اسکولی بچوں سمیت بہت سارے لوگ وہاں پہنچے تھے۔ ’’تب ہم سبھی کانگریس کے ساتھ تھے،‘‘ ریارپّن کہتے ہیں۔

دوسرا واقعہ ’’ایک چھوٹے سے دلت بچہ، سوموکان کی پٹائی کا تھا، جو ہمارے بورڈ اسکول میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ اونچی ذات کے لوگوں نے اس کی اور اس کے بھائی کی پٹائی کردی کہ انھوں نے اسکول میں آنے کی ہمت کیسے کی۔‘‘

ذات پات سے متعلق زیادہ تر مظالم وسائل پر قبضہ کو لے کر ہوتے ہیں۔ خاص طور سے زمین پر قبضہ کو لے کر۔ مالابار کے چِرَکّل تعلقہ میں واقع کلیاسیری جنمی دہشت کا گڑھ تھا۔ سال ۱۹۲۸ میں، یہاں کی ۷۲ فیصد زمینوں پر اونچی ذات کے نائروں کا قبضہ تھا۔ یہاں تھیوں اور دیگر پس ماندہ برادریوں کی آبادی کل ملا کر ۶۰ فیصد تھی، لیکن ان کے قبضے میں صرف ۵۵ء۶ فیصد ہی زمینیں تھیں۔ اس کے باوجود، زمینی اصلاح کی تحریک، جو ۱۹۶۰ کی دہائی تک چلی، کامیاب ہو کر رہی۔

آج، تھیوں اور دیگر پس ماندہ ذاتوں اور دلتوں کا ۶۰ فیصد زمینوں پر قبضہ ہے۔

’’ہم پہلے غلاموں کی طرح تھے،‘‘ ۶۳ سالہ کُنہامبو کہتے ہیں۔ ان کے والد ایک تھیا کسان تھے۔ ’’ہمیں شرٹ پہننے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے ہم کندھے کے نیچے صرف ایک تولیہ لپیٹے رہتے تھے۔ ہمیں جوتے چپّل پہننے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ اور صرف آدھی دھوتی، جیسا کہ نہانے کا ایک چھوٹا تولیہ ہوتا ہے، وہی لپیٹنے کی ہمیں اجازت تھی۔‘‘ کچھ جگہوں پر نچلی ذات کی عورتوں کو بلاؤز تک پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ ’’ہم بعض سڑکوں پر چل پھر نہیں سکتے تھے۔ ذات پات میں اپنے درجے کے حساب سے ہمیں اونچی ذات کے لوگوں سے ایک طے شدہ فاصلہ بناکر رکھنا پڑتا تھا۔‘‘

نچلی ذاتوں کو اسکولوں سے باہر رکھنا اس کا صرف ایک حصہ تھا۔ اس کا مقصد انھیں وسائل سے دور رکھنا تھا۔ اسی لیے انھیں کسی قسم کی عزت بھی نہیں دی جاتی تھی۔ غریبوں کے خلاف جنمی دہشت عام بات تھی۔

سوموکان کی پٹائی ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔

’’مالابار کے سبھی لیڈر یہاں آئے،‘‘ ریارپّن بتاتے ہیں۔ ’’کانگریس کے عظیم لیڈر، کیلپّن نے تو یہاں قیام بھی کیا۔ سبھی لوگوں نے ذات پات کے خلاف مہم چھیڑی۔ سی ایف اینڈریوز بھی یہاں آئے۔ اور انھوں نے اس مسئلہ کو برطانوی پارلیمنٹ میں بھی اٹھوایا۔ بعد میں، کلیاسیری دلتوں کی تعلیم کا مرکز بن گیا۔‘‘ لوگ عوامی بھوج (کھانے) منعقد کرنے لگے، جہاں مختلف ذاتوں کے لوگ ایک ساتھ مل کر کھانا کھایا کرتے تھے۔

لیکن بڑی لڑائیوں سے پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اجانور یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے، وہاں ایک اسکول کو ۱۹۳۰ اور ۴۰ کی دہائیوں میں تین بار اجاڑ دیا گیا۔ سب سے پہلے جنمی کے ذریعہ۔ اس کے بعد پولس نے اجاڑا۔ اس کے بعد پھر جنمی نے۔ یہ اسکول اپنے یہاں دلت طالب علموں کو داخلہ دیا کرتا تھا۔ اس پر یہ شک بھی تھا کہ ’’یہاں قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کو پناہ دی جاتی ہے‘‘۔

شک کی بنیاد گہری تھی۔ ’’اس علاقہ میں ۱۹۳۰ کی دہائی میں لیفٹسٹوں کی جڑیں ایک خاص طریقے سے مضبوط ہوتی گئیں،‘‘ ریٹائرڈ ٹیچر، اگنی شرمن نمبودری بتاتے ہیں۔ نمبودری اب پاس کے کری ویلور میں فل ٹائم سیاسی کارکن بن چکے ہیں، کہتے ہیں: ’’ہم جب بھی کسی گاؤں میں جاتے، ہمیشہ ایک نائٹ (رات میں چلنے والا) اسکول شروع کرتے، ریڈنگ روم بناتے اور کسانوں کی ایک یونین قائم کرتے۔ شمالی مالابار میں لیفٹ اسی طرح پھیلا۔‘‘ اور، ریارپّن اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’وہ بھی اس لیے کہ کلیاسیری میں بھی اسی طرح شروعات ہوئی تھی اور کامیابی بھی ملی۔‘‘

۱۹۳۰ کی دہائی کے وسط میں، لیفٹسٹوں نے شمالی مالابار میں کانگریس پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ۱۹۳۹ تک، ریارپّن اور ان کے دوست یہاں سے کمیونسٹ پارٹی کے ممبر کے طور پر ابھرے۔ اس جگہ، جہاں تعلیم سے انکار ایک ہتھیار تھا، اس زمانے کی ٹیچروں کی یونین نے ایک بڑا سیاسی رول ادا کیا۔

’’اسی لیے آپ کو یہاں ہر جگہ نائٹ اسکول، ریڈنگ روم اور کسانوں کی یونین دیکھنے کو ملتی تھی،‘‘ پی یشودا بتاتی ہیں۔ ’’ہم لوگ بھی ٹیچرس ہی تھے۔‘‘ وہ ۸۱ سال کی ہو چکی ہیں، لیکن ۶۰ سال پہلے جب وہ یونین کی لیڈر بنی تھیں، اس وقت کی چنگاری اور جذبہ آج بھی ان کے اندر موجود ہے۔ پندرہ سال کی عمر میں وہ اپنے تعلقہ میں پہلی اور واحد خاتون ٹیچر تھیں اور مالابار کی سب سے کم عمر ٹیچر بھی۔ اس سے پہلے، وہ اپنے اسکول کی پہلی طالبہ تھیں۔

’’میری سیاسی تعلیم اس وقت شروع ہوئی، جب ہمارے اسکول میں ہم سب کے سامنے میرے اسکول کے دو بہترین طالب علموں کی بری طرح پٹائی کی گئی۔‘‘ ان کا جرم کیا تھا؟ ’’ ’مہاتما گاندھی کے جے‘ کہنا۔ دونوں کو ۳۶۔۳۶ چھڑی ماری گئی۔ قانوناً صرف ۱۲ چھڑی مارنے کی اجازت تھی۔ چنتن کُٹّی اور پدمنابیہ ویریئر کو لگاتار تین دنوں تک ۱۲۔۱۲ چھڑیاں ماری گئیں۔ میں نے ایک بار یہ بھی دیکھا کہ ایک فیملی کو پورے سازو سامان کے ساتھ اس کے گھر سے نکالا جا رہا ہے۔ ان کی تکلیف ہمیشہ میرے ساتھ رہی۔‘‘

’یشودا ٹیچر‘ کے نام سے اس علاقے میں مشہور، وہ بتاتی ہیں، ’’پچھلے ۵۰ برسوں میں یہاں کافی تبدیلی آئی ہے۔ آزادی نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔‘‘

ایک ایسا گاؤں جہاں تعلیم ایک نادر چیز تھی، کلیا سیری نے اس میدان میں کافی ترقی کی ہے۔ یہاں پر مرد و خواتین، دونوں کی شرحِ خواندگی ۱۰۰ فیصد کے آس پاس ہے۔ ہر بچہ اسکول جاتا ہے۔

’’اکیس ہزار لوگوں پر مشتمل اس پنچایت میں ۱۶ لائبریریاں ہیں،‘‘ کرشنن پلّئی ریڈنگ روم کے لائبریرین فخر کے ساتھ بتاتے ہیں۔ سبھی ۱۶ لائبریریاں و ریڈنگ روم شام کے وقت بھری رہتی ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر کتابیں ملایم زبان میں ہیں۔ لیکن، کچھ کتابیں انگریزی میں بھی ہیں، جیسے ہان سوئن، چارلس ڈکنس، ٹولسٹائے، لینن، مارلوف۔  اس قسم کے مختلف ذائقے الگ الگ انداز میں نظر آتے ہیں۔ یہ ہندوستان کا وہ گاؤں ہے، جہاں آپ کو گھروں پر ’شانگری لا‘ نام لکھا ہوا ملے گا۔

کلیاسیری میں آپ کو آٹھویں کلاس تک پڑھائی کرنے کے بعد اسکول چھوڑ دینے والا بچہ یہ بحث کرتے ہوئے مل جائے گا کہ مغربی ایشیا میں عرفات سے غلطی کہاں ہوئی۔ یہاں کا ہر آدمی تمام موضوعات پر اپنی ایک الگ رائے رکھتا ہے اور کوئی بھی یہ بتانے سے نہیں ہچکچاتا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔

’’جدوجہد آزادی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ، زمینی اصلاح کی منظم تحریک نے یہاں ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا،‘‘ ریا رپّن بتاتے ہیں۔ تھیا کسان کے کُنہامبو، جو خود بھی اس سے مستفیض ہوئے، حامی بھرتے ہیں۔ ’’اس نے سب کچھ بدل دیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’زمینی اصلاح نے یہاں ذات پات کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔ اس نے ہمیں ایک نیا مقام عطا کیا۔ پہلے، ہم جنمیوں کے رحم و کرم پر کوئی پلاٹ حاصل کر پاتے تھے۔ کسانوں کو زمین دلانے کی تحریک نے اسے بدل کر رکھ دیا۔ اب ہم خود کو زمین مالکوں کے برابر سمجھنے لگے۔‘‘ اس نے ڈرامائی طور پر کھانا، تعلیم اور صحت تک غریبوں کی پہنچ کو بھی بہتر کر دیا۔

’’ہم نے زمین سے متعلق اصلاح کی لڑائی ۱۹۴۷ سے ۵۷ تک اور اس کے بعد بھی لڑی۔ اور ہم نے دیکھا کہ کانگریس بڑی ذاتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ جنمیوں کے ساتھ۔‘‘ اسی لیے، کلیاسیری وہ جگہ بن گئی ’’جہاں ۸۵ فیصد سے زیادہ لوگ لیفٹ کے ساتھ ہیں۔‘‘

’’پچھلے ۵۰۔۶۰ برسوں میں کافی تبدیلیاں ہوئی ہیں،‘‘ پنّیان جانکی، سوموکان کی بیوہ بتاتی ہیں۔ ’’خود مجھے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے میں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آزادی کے سالوں نے کافی کچھ بدل دیا ہے۔‘‘

سوموکان کی موت ۱۶ سال پہلے ہو چکی ہے۔ ان کی فیملی اب بھی آزی کوڈ کے پاس رہتی ہے۔ سوموکان کی بیٹی یہاں کے ٹیلی فون ایکسچینج میں سپروائزر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کے داماد، کُنہی رمن، کالی کٹ کے ایک ڈاکخانہ سے سینئر سپرنٹنڈنٹ کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اب سماج میں کسی قسم کا بھید بھاؤ نہیں ہے، کم از کم یہاں پر۔ ہماری فیملی میں دو ایم بی بی ایس، دو ایل ایل بی اور ایک بی ایس سی ہے۔۔۔۔۔‘‘


02-007-PS- Kalliasseri-In Search of Sumukan.jpg

کے پی آر ریارپّن (سب سے دائیں) سوموکان کے کچھ پوتے پوتیوں کے ساتھ۔ فیملی میں ’’دو ایم بی بی ایس، دو ایل ایل بی اور ایک بی ایس سی‘‘ ہے


یہ سوموکان کے پوتے ہیں، جو اسکول نہیں جا سکے۔

 

یہ اسٹوری سب سے پہلے ٹائمز آف انڈیا کے ۲۸ اگست، ۱۹۹۷ کے شمارہ میں شائع ہوئی۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath