کیرالہ کے پرپّا گاؤں میں، تقریباً ۱۵ آدیواسیوں کا ایک گروپ – ’گھاس‘ پر ڈھول بجاتا ہے – مولم چینڈا، بانس کے ڈھول پر۔ ان کا تعلق ماویلن آدیواسی برادری سے ہے، اور یہ روایتی فنکار ہیں جو عام طور سے کاسرگوڑ اور کنور ضلعوں میں رہتے ہیں۔

’’بہت پہلے، ہمارے اجداد نے موسیقی پیدا کرنے کے لیے ان بانس کے ڈرموں کا استعمال کیا تھا،‘‘ کے پی بھاسکرن کہتے ہیں، جن کی منڈلی یہاں ویڈیو میں دکھائی گئی ہے، سبھی کاسرگوڑ کے ویلرِیکنڈ تعلق کے پرپا سے ہیں۔ ’’آج بھی ڈھول گائے کے چمڑے سے بنائے جاتے ہیں [کیرالہ میں کہیں اور]۔ روایتی طور پر، ہم نے اپنی زندگی میں کبھی بھی گائے کے گوشت یا چمڑے کا استعمال نہیں کیا۔ اس لیے ہمارے اجداد نے تھِیَّم جیسے ہمارے رسمی فنون کی موسیقی بنانے کے لیے بانس سے ڈھول بنایا۔‘‘

کچھ دہائی پہلے تک، یہ برادری آسانی سے جنگلی پیداوار حاصل کر سکتی تھی، لیکن سرکار کے ذریعہ جنگلات میں داخلہ پر پابندی کی وجہ سے بانس کا ڈھول بنانا مہنگا ہو گیا ہے۔ ماویلن لوگ اب تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور واقع بڈیاڈکا شہر کے بازار سے بانس خریدتے ہیں۔ ایک ۲۵۰۰-۳۰۰۰ روپے میں ملتا ہے اور اس سے ۳-۴ ڈرم بنائے جا سکتے ہیں۔ ایک ڈرم کا استعمال زیادہ سے زیادہ دو پیشکش کے لیے کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ پھٹ جاتا ہے۔ ڈرم بنانے میں ۳ سے ۴ دن لگتے ہیں – یعنی اسے چھیلنے اور دھوپ میں سُکھانے میں۔ ’’بانس کا ڈرم بنانے میں بہت محنت لگتی ہے،‘‘ ڈھول بجانے والوں میں سے ایک، سنیل ویٹیوڈی کہتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں: پرپّا گاؤں کے ڈھول بجانے والے مولم چینڈا بجا رہے ہیں

پرانے زمانے میں، ماویلن (مقامی طور پر انھیں ماویلر کہا جاتا تھا) زمینداروں کے لیے زرعی زمین پر کام کرتے تھے۔ اب کچھ کنبوں کے پاس کھیتی کے لیے زمین کے چھوٹے ٹکڑے ہیں، اور ڈرم بجانے والے عام طور پر یومیہ مزدور، بڑھئی، تعمیراتی مقامات پر مزدوری یا گھر کی رنگائی کا کام کرتے ہیں۔

برادری کے تقریباً ۳۰-۳۵ ممبران ابھی بھی بانس کے ڈرم بجاتے ہیں۔ روایتی طور سے، مندر کے تہواروں اور دیگر پروگراموں میں ماویلن مرد ڈھول بجاتے اور گاتے ہیں، جب کہ عورتیں رقص کرتی ہیں۔ ڈرم بجانے والوں میں سے ایک، کے پی بھاسکرن بتاتے ہیں کہ فنی پیشکش کی دعوت سال میں صفر سے لے کر ۱۰ تک ملتی ہے۔ ایک پیشکش ۱۰ سے ۳۰ منٹ تک چلتی ہے، اور ہر ایک ڈھول بجانے والے کو ۱۵۰۰ روپے ملتے ہیں۔ وہ اپنے سفر کا خرچ خود اٹھاتے ہیں، اور عام طور پر اُس دن انھیں اپنی مزدوری کھونی پڑتی ہے۔

’’ہمیں بھلے ہی جدوجہد کرنی پڑے، لیکن ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ہماری ثقافت فیملی کے نوجوانوں تک پہنچ جائے،‘‘ بھاسکرن کہتے ہیں۔ ’’ہمارا فن اور ثقافت، ہمارے لیے خزانہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ انوکھے ہیں اور نسل در نسل چلے آ رہے ہیں۔ یہ ہماری پہچان ہے۔‘‘

In Parappa village of Kerala, a group of around 15 men drum on ‘grass’ – on the mulam chenda, a bamboo drum.
PHOTO • Gopika Ajayan
In Parappa village of Kerala, a group of around 15 men drum on ‘grass’ – on the mulam chenda, a bamboo drum.
PHOTO • Gopika Ajayan

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Gopika Ajayan

گوپیکا اَجَیَن، ایشین کالج آف جرنلزم، چنئی کی گریجویٹ اور ویڈیو صحافی ہیں، جن کی دلچسپی کا مرکز ہندوستان کی آدیواسی برادریوں کا فن و ثقافت ہے۔

Other stories by Gopika Ajayan