یہ دوپہر بعد کا وقت ہے، جب کچھ کاریں ناڈسور کاتکری واڑی کے کمیونٹی مندر کے باہر آکر رکتی ہیں۔ وشنو واگھمارے باہر جھانک کر دیکھتے ہیں کہ کون آیا ہے، اور کاتکری بولی میں کچھ کہتے ہیں۔ تقریباً ۱۵ مرد و خواتین کا ایک گروپ مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے باہر نکلتا ہے۔

’’وہ ’بڑی تعداد‘ میں مزدوں کو لینے آئے ہیں۔ وہ سبھی اب بات چیت کے لیے بیٹھیں گے۔ ہمارے زیادہ تر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ انھیں ان مقدموں [ٹھیکہ داروں] کے ذریعے بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ وہ ہمارا استحصال کرتے ہیں پھر بھی ہم ان کے لیے کام کرنے جاتے ہیں۔ میں بھٹی میں کبھی نہیں جاتا،‘‘ ۲۱ سالہ وشنو کہتے ہیں، جو آس پاس کے گاؤوں میں کبھی کبھار چھوٹا موٹا کام کرتے ہیں۔

ناڈسور کاتکری واڑی مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع میں سدھا گڑھ بلاک کی ناڈسور پنچایت کی ایک بستی ہے۔ یہاں ۳۶۰ کاتکری آدیواسیوں میں سے کئی – جو خاص طور سے کمزور جماعت کے طور پر درج فہرست برادریاں ہیں – ہر سال دیوالی کے بعد، عام طور پر نومبر کے وسط میں ہجرت کرتے ہیں۔ وہ آندھرا پردیش اور کرناٹک کی بھٹیوں میں، اور مہاراشٹر کے چپلون، امراوتی اور کچھ دیگر مقامات پر کام کرتے ہیں۔ جون کے شروع میں، وہ اپنی بستی میں لوٹ آتے ہیں۔ ان بھٹیوں میں ببول کی لکڑی سے کوئلہ بنایا جاتا ہے، جس کا استعمال ریستوراں کے باربیکیو اور تندور میں ہوتا ہے۔

مزدوروں کو لے جانے والے ٹرک تقریباً ۱۸ گھنٹے بعد مہاراشٹر کے اندر، بھٹیوں تک پہنچتے ہیں، جب کہ دیگر ریاستوں تک پہنچنے میں ۳۸ گھنٹے لگتے ہیں۔ ان مقامات پر کاتکری رہنے کے لیے گھاس پھوس، بانس اور گنّے کے چھلکے کا استعمال کرکے کھلے میدانوں میں عارضی گھر بناتے ہیں۔ وہ ان گھروں میں بجلی یا بیت الخلا کے بغیر رہتے ہیں، جہاں انھیں جنگلی جانوروں اور سانپوں کا لگاتار خطرہ بنا رہتا ہے۔

Group of People standing
PHOTO • Karishma V.

بھٹیوں میں ببول کی لکڑی سے کوئلہ بنایا جاتا ہے، جس کا استعمال ریستوراں کے باربیکیو اور تندور میں ہوتا ہے

ببول کے پیڑ عام طور پر مقامی لوگوں کی ملکیت والی زمین پر، جنگلوں میں ہیں۔ ٹھیکہ دار ان زمین مالکوں سے سودا کر لیتے ہیں کہ لکڑی کے بدلے وہ ان کے کھیتوں کو شجرکاری کے لیے صاف کر دیں گے۔ مزدور ببول کے درختوں کو کاٹتے ہیں، بھٹی لگاتے ہیں، اس میں ریت ڈالتے ہیں اور ببول کو پکاتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں کوئلہ کے ٹرکوں میں لادنا پڑتا ہے۔ زمین سے سبھی پیڑوں کی کٹائی ہو جانے کے بعد، وہ اس کی صفائی کرتے اور اسے قابل کاشت بناتے ہیں۔

’’مقدم ۲۰-۴۰ ہزار روپے اسے وقت دے دیتے ہیں،‘‘ اسی پنچایت کی تھنالے کاتکرواڑی بستی کے ۳۶ سالہ سندیپ پوار کہتے ہیں۔ رقم بھٹی کے مقام اور کاموں کی قسم، اور بات چیت پر منحصر ہے۔ ’’کام کے لیے اتنے زیادہ پیسوں کی پیشگی ادائیگی ہمارے لوگوں کو اس کی جانب متوجہ کرتی ہے۔ کبھی کبھی، اگر فیملی میں کسی کی شادی ہونی ہے، تو مقدم اس فیملی کو ۸۰ ہزار روپے تک دے سکتے ہیں۔‘‘

بھٹیوں پر، میاں بیوی کو مزدور کی ایک اکائی مانا جاتا ہے۔ فیملی کے دیگر ارکان جو ان کے ساتھ وہاں جاتے ہیں، وہ بوریوں کو ڈھونے اور دیگر کاموں میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے کام میں تیزی آتی ہے، لیکن انھیں الگ سے پیسہ نہیں دیا جاتا۔ ٹھیکہ دار ہر ایک فیملی کو کھانا اور راشن کی سپلائی کے لیے ہر ہفتے ۴۰۰ روپے دیتے ہیں – یعنی سات مہینے میں تقریباً ۱۲۰۰۰ روپے۔ اس رقم کو مزدوری کے حصے کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، جس کی بھرپائی کرنے کے لیے بھی میاں بیوی کو کام کرنا ضروری ہے۔

کام بہت ہی کٹھن ہے، صبح سات بجے سے شروع ہو کر رات کے تقریباً ۹ بجے تک چلتا ہے، اور پاس کے بازاروں سے ضروری سامان خریدنے کے لیے ہفتہ میں صرف ایک دن چھٹی ملتی ہے۔ ششی کانت واگھمارے، جو اس سال پونہ ضلع کے کھیڑ تعلقہ کی ایک بھٹی میں کام کر رہے ہیں، کہتے ہیں، ’’آج مکر سکرانتی ہے اور ہم صبح سے ہی بغیر رکے، لگاتار کام کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی ہم دیر رات تک ٹرکوں میں لکڑی یا کوئلہ لادتے ہیں۔‘‘

کام بہت ہی کٹھن ہے، صبح ۷ بجے سے شروع ہوکر رات کے تقریباً ۹ بجے تک چلتا ہے۔ ’آج مکر سنکرانتی ہے اور ہم صبح سے ہی بغیر رکے لگاتار کام کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی ہم دیر رات تک ٹرکوں میں لکڑی یا کوئلہ لادتے ہیں‘، کھیڑ تعلقہ کی ایک بھٹی میں ششی کانت واگھمارے کہتے ہیں

ٹھیکہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ پیشگی رقم کاٹنے کے بعد، موسم کے آخر میں ادائیگی کے لیے بھرے گئے بوروں کی گنتی کرتے ہیں۔ اس دن بستی کا دورہ کرنے والے مقدم، منگیش راٹھوڑ، جو یہاں سے تقریباً ۲۴۰ کلومیٹر دور احمد نگر شہر میں مقیم ہیں، کہتے ہیں، ’’کوئلے کی ایک بوری ۲۵ کلو کی ہوتی ہے اور ہم ایک مزدور [میاں بیوی] کو اسے بھرنے کے ۱۲۰ روپے فی بوری دیتے ہیں۔‘‘

امراوتی ضلع کے دریاپور تعلقہ کی بھٹیوں پر ایک دیگر ٹھیکہ دار نوناتھ چوہان کا بھی یہی کہنا ہے کہ فی بوری قیمت لاگو ہوتی ہے۔ ۲۰۱۸ میں، ناڈسور کاتکرواڑی کے ۳۶ کنبوں کے مزدور دریاپور کی بھٹیوں میں کام کرنے آئے تھے۔ ’’ہم انہیں پیشگی رقم دیتے ہیں۔ ان کے ذریعے بھرے گئے کوئلہ کی ہر بوری کے لیے، ہم ایک فیملی کو ۱۲۰ روپے دیتے ہیں۔ وہ پیشگی رقم چکانے تک ہم سے بندھے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اس موسم میں اس سے زیادہ بوری کی پیداوار کرتے ہیں، تو ہم راشن کا پیسہ کاٹنے کے بعد انھیں ہر بوری کے لیے اضافی رقم نقد میں دیتے ہیں۔‘‘

اچھے موسم میں، ایک مزدور فیملی ۱۰۰۰ بوری تک بھر سکتی ہے – یا ایک لاکھ ۲۰ ہزار روپے کا کام کر سکتی ہے۔ اوسطاً، ایک فیملی کم از کم ۵۰۰ بوریاں بھرتی ہے، جس کے انھیں ۶۰ ہزار روپے ملنے چاہئیں (پیشگی اور راشن کی رقم گھٹا کر)۔ لیکن عام طور پر قیام کے آخر میں، فیملی کو کوئی اضافہ رقم نہیں ملتی ہے۔ میں ناڈسور کاتکری واڑی اور تھنالے کاتکری واڑی میں جن ۴۰ کنبوں سے ملا، ان میں سے کسی کو بھی یہ یاد نہیں تھا کہ انھیں ایک بھی بوری کا پیسہ دیا گیا ہے۔ ان سبھی نے کہا کہ تقریباً ہمیشہ وہ فی سیزن ۵۰۰-۷۰۰ بوری کوئلے کی پیداوار کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی کو بھی بھٹی سیزن کے آخر میں کسی بھی سال کوئی اضافی پیسہ نہیں ملا۔

ببول کی بھٹیوں میں لگاتار کام کرنے والی ۳۲ سالہ سنگیتا واگھمارے کہتی ہیں، ’’ہم نے شادی کے لیے ۷۰ ہزار روپے کی پیشگی رقم لی تھی۔ اس لیے، ہمیں اس رقم اور راشن کا پیسہ چکانے کے لیے کام کرنا پڑا۔‘‘ یعنی کل ملا کر ۸۲ ہزار روپے، یا تقریباً ۷۰۰ بوریاں بھرنے کا کام۔ وہ اور ان کے شوہر نے اس سیزن میں ۱۰۰۰ بوریاں بھریں۔ میں نے ان کو شمار دکھایا اور ان سے پوچھا کہ کیا انھیں مقدم سے باقی ۳۰۰ بوریوں کے ۳۸ ہزار روپے ملے تھے۔ انھوں نے کھلکھلاتے ہوئے کہا، ’’اس نے ہمیں ایک اسٹیریو اور دو سونے کے سکّے دیے تھے۔‘‘ یعنی ۵۰۰۰ روپے کا تحفہ۔

Woman in front of television
PHOTO • Karishma V.

ٹھیکہ دار نے سنگیتا واگھمارے اور ان کے شوہر کو ۳۸ ہزار روپے کی بقایا رقم کے بدلے ایک اسٹیریو اور دو سونے کے سکّے دیے تھے

’’اگر آپ کو ۳۰ ہزار روپے کی پیشگی رقم ادا کی گئی ہے، تو آپ کو تب تک کام کرنا ہوگا جب تک کہ مقدم یہ نہ بتا دیں کہ آپ کا بقایا پورا ہو گیا ہے۔ اگر کوئی فیملی ایک موسم میں صرف ۲۰۰ بوریاں ہی بھر پاتی ہے، تو انھیں اگلے سال بغیر مزدوری کے تب تک کام کرنا ہوگا، جب تک ان کی بقایا رقم ادا نہیں ہو جاتی،‘‘ بستی کے ایک محترم بزرگ، ۷۹ سالہ باپو ہیلم کہتے ہیں۔

کوئلے کی بھٹیوں کے آس پاس رہنے کے مہینوں کے دوران، کام کا بوجھ بہت زیادہ ہوتا ہے اور کھانا ناکافی۔ کاتکری جب اپنی بستی میں واپس لوٹتے ہیں، تب تک ان کے بچے کم غذائیت کے شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔ کچھ ضلعوں میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور ۲-۶ سال کے بچوں کو ہر سال جولائی-ستمبر کے درمیان اضافی انڈے یا مونگ پھلی کی چِکّیاں دی جاتی ہیں۔

تھنالے (پنچایت کے اندر ایک غیر آدیواسی بستی) میں رائے گڑھ ضلع پریشد اسکول کے ہیڈ ماسٹر، بابو مہادِک کہتے ہیں، ’’ہمارے پاس کل ۴۰ بچے ہیں جن میں سے تقریباً ۲۰ بچے کاتکری فیملی سے ہیں۔ اکتوبر کے بعد، یہ بچے اپنے والدین کے ساتھ دوسری ریاستوں میں چلے جاتے ہیں اور جون میں لوٹتے ہیں۔ ان مہینوں کے دوران، وہ مقامی پبلک اسکولوں میں نامزد نہیں رہتے۔ جب وہ واپس لوٹتے ہیں، تو سرکار کی فیل نہ کرنے والی پالیسی کے سبب انھیں اگلی کلاس میں بھیج دیا جاتا ہے۔ نویں کلاس میں پہنچنے تک انھیں ابتدائی حروف اور باراکھڑی [بنیادی خواندگی] کے علاوہ کچھ نہیں آتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ۹ویں کلاس میں فیل ہونے کے بعد اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔

تھنالے بستی میں رہنے والے کئی غیر کاتکری کنبوں کے پاس اپنی زمین ہے، جو مانسون کے بعد انکروں اور پھلیوں کی کھیتی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تعلقہ میں اور اس کے آس پاس یومیہ مزدوری کا کام ڈھونڈتے ہیں۔ کئی کنبوں کے ممبران قصبوں اور شہروں میں کام کرتے ہیں۔

’اگر آپ کو ۳۰ ہزار روپے کی پیشگی رقم دی گئی ہے، تو آپ کو تب تک کام کرنا ہوگا، جب تک کہ مقدم یہ نہ بتا دیں کہ آپ کا بقایا پورا ہو گیا ہے۔ اگر کوئی فیملی ایک سیزن میں صرف ۲۰۰ بوریاں ہی بھر پاتی ہے، تو انھیں اگلے سال بغیر مزدوری کے تب تک کام کرنا ہوگا، جب تک ان کی بقایا رقم پوری نہیں ہو جاتی،‘ ایک محترم بزرگ، باپو ہیلم کہتے ہیں

ناڈسور میں یومیہ زرعی مزدوری مردوں کے لیے ۳۵۰ روپے اور خواتین کے لیے ۲۵۰ روپے تک جا سکتی ہے۔ ’’لیکن کھیتی یہاں موسم کے حساب سے ہوتی ہے، اور مانسون کے بعد جب دھان کی فصل پوری ہو جاتی ہے، تو گاؤں کے اندر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ہم میں سے زیادہ تر کے پاس اپنی زمین نہیں ہے۔ اسی لیے ہمارے لوگ بارش کے بعد ہجرت کرتے ہیں،‘‘ سندیپ بتاتے ہیں۔

کاتکریوں کی ہجرت کے سبب، ان کے ذریعے مختلف دستاویزوں کو حاصل کرنے کی کوششوں میں بھی دیر لگتی ہے۔ ذات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے بہت سے فارم تحصیل دفتر میں دھول چاٹ رہے ہیں کیوں کہ درخواست کرنے کے بعد گاؤوں والے ہجرت کر گئے اور تلاتھیوں کے ذریعے گھر گھر جاکر جانچ کے عمل کے دوران وہ حاضر نہیں ہو سکے۔ ضلع کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے ذریعے جاری کیا گیا ذات سرٹیفکیٹ، درج فہرست قبائل کے لیے ریاستی اسکیموں اور سبسڈی حاصل کرنے کا ایک اہم دستاویز ہے۔ کاتکری اکثر اہم گھریلو سروے کے دوران بھی غیر حاضر رہتے ہیں، جس کے سبب تقریباً ہمیشہ ہی ان کا شمار نہیں ہو پاتا ہے۔

بستی میں کام کے متبادل کم ہیں، لیکن کیا اس رقم کے لیے سات مہینے کے لیے دور جانا ٹھیک ہے، جس کا شمار اس مدت میں پوری فیملی کے لیے کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت معمولی ہے؟ ’’بحران کے وقت اور پیسہ کی فوری ضرورت ہونے پر، مزدوروں کو بھٹی کے ٹھیکہ داروں سے پیشگی رقم کے طور پر اتنا پیسہ مل جاتا ہے جتنے کی انھیں ضرورت ہے۔ منریگا میں ہو سکتا ہے کہ ہر دن اس سے زیادہ پیسہ ملے [۲۰۱ روپے]، لیکن مزدوری کام کے چھ مہینے بعد کھاتوں میں جمع ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کو ۲۰۱۵ سے ابھی تک ان کی بقایا مزدوری نہیں دی گئی ہے!‘‘ وشنو کہتے ہیں، جو حال ہی میں منریگا کی ایک بلک سطح کی آڈٹ ٹیم میں شامل تھے۔

۲۰۰۶ کے فاریسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) کو اگر علاقہ میں ٹھیک سے نافذ کیا جاتا ہے، تو اس سے مدد ملے گی۔ ناڈسور کے تقریباً ۵۱۰۰ ہیکٹیئر کے کل جغرافیائی علاقے میں سے ۳۵۰۰ ہیکٹیئر جنگلاتی زمین ہے۔ لیکن یہاں کے زیادہ کاتکریوں کے پاس اپنی زمین نہیں ہے، جس پر وہ کھیتی کر سکیں۔ ایف آر اے انھیں ذاتی یا مشترکہ حق دے سکتا ہے، جس سے وہ کھیتی کے ساتھ ساتھ چھوٹی جنگلاتی پیداوار بھی جمع کر سکیں گے۔ ’’ہم میں سے کئی لوگ جنگلوں میں تب تک کھیتی کرتے رہے جب تک کہ جنگلاتی اہلکاروں نے ہمیں وہاں سے بھگا نہیں دیا،‘‘ سندیپ کہتے ہیں۔ ’’اب، ہم میں سے مٹھی بھر لوگوں نے کوشش کرکے جنگلاتی زمین کے کچھ حصوں کی ملکیت حاصل کر لی ہے، جس سے ہمیں ہجرت نہیں کرنی پڑے گی۔‘‘

Man walking
PHOTO • Karishma V.
Man sitting
PHOTO • Karishma V.

بھٹیوں سے بچنے کے لیے، سندیپ پوار (بائیں) نے گاؤں میں ایک مشترکہ بھٹی شروع کرنے کے لیے ریاست کی ایک اسکیم میں رجسٹریشن کرایا، اور وشنو واگھمارے (دائیں) آس پاس کے گاؤوں میں چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں

سندیپ نے ۲۰۰۹ میں ایک سیزن کے لیے کوئلے کی ایک بھٹی میں کام کیا تھا، پھر انھوں نے ان حالات میں رہنے کے لیے گاؤں کبھی نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے پاس متبادل تھا، کیوں کہ ان کے والد ہری پوار کو ایف آر اے کے توسط سے ۳۳ گُنٹھا (یہاں ۴۰ گُنٹھا ایک ایکڑ کے برابر ہوتا ہے) مختص کیے گئے تھے۔ ان کی فیملی جنگل کے اور اندر ایک بڑے کھیت پر چاول، نچنی، سبزیوں اور پھولوں کی کھیتی بھی کرتی ہے – لیکن زمین کا مالکانہ حق ان کے پاس نہیں ہے۔

لیکن تھنالے کاتکرواڑی بستی میں رہنے والے کل ۶۵ کنبوں میں سے صرف تین کو ’ذاتی جنگلاتی حق‘ کے تحت ایف آر اے کی زمین ملی ہے۔ بہت سے لوگ دستاویزوں کی کمی یا قانونی التزامات کے بارے میں جانکاری نہ ہونے کے سبب بھی اس کا استعمال نہیں کر سکے۔

رائے گڑھ ضلع کے پین تعلقہ میں انٹیگریٹیڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفس میں بھی آدیواسیوں کے لیے فنڈ اور اسکیمیں ہیں، خاص طور سے کاتکریوں جیسے پی وی ٹیز کے لیے۔ ان میں سے ایک ہے، اینٹ بھٹہ لگانے کے لیے ۱۰ لوگوں کے گروپ کو ۱۰۰ فیصد سبسڈی پر تین قسطوں میں ۳ لاکھ روپے۔ ’’بھٹیوں میں کام کرنے کے لیے باہر جانے کی بجائے، ہماری پاس اپنی ویٹ [اینٹ] بھٹی ہے،‘‘ سندیپ کہتے ہیں۔ وہ اور نو دیگر کا ایک گروپ بھٹی چلاتا ہے اور منافع کو شیئر کرتا ہے – مارچ سے اکتوبر تک، آٹھ مہینے کے کام کے لیے فی فیملی کل تقریباً ۲۰ ہزار روپے۔ اس مدت کے دوران، جون سے اکتوبر تک، کچھ لوگوں کو خریف کے موسم میں زرعی کام بھی مل جاتا ہے۔

لیکن بہت سے کاتکریوں کو بھٹی اسکیم کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ سندیپ کی کامیابی کے بعد، ۲۰۱۸ میں، ناڈسور کاتکری واڑی سے دو اور درخواست اور اسی تعلقہ کی ایک دیگر کاتکری بستی سے ایک درخواست بھیجی گئی ہے۔

سیاحتی صنعت بھی کچھ کام فراہم کرتی ہے۔ سدھاگڑھ تحصیل کا پالی شہر اشٹ ونائک درجے کے آٹھ گن پتیوں میں سے ایک کے لیے مشہور ہے، اور تاریخی قلعے اور غاروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ ناڈسور دونوں کے لیے داخلی دروازہ ہے۔ ’’ہم ہجرت نہیں کرتے، کیوں کہ ہم فارم ہاؤس مالکوں کے ذریعے ملازمت پر رکھے گئے ہیں۔ مزدوری کم ہے [مردوں کے لیے روزانہ ۲۰۰ روپے اور خواتین کے لیے ۱۵۰ روپے]، لیکن کم از کم ہم پاس میں تو رہتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ہمیں کچھ پیشگی رقم بھی مل جاتی ہے،‘‘ ناڈسور پنچایت کے بہیرم پاڑہ آدیواسی واڑی کے ۵۱ سالہ بھیوا پوار کہتے ہیں۔

ہجرت کے مہینوں کے دوران جب پاس کی بستیوں کے کاتکری بڑی تعداد میں باہر چلے جاتے ہیں، تو اس بستی کے سبھی ۱۲ کنبے وہیں ٹھہرتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے، ’’اگر ہمارے بس میں ہوتا، تو ہم اپنا گاؤں کبھی نہیں چھوڑتے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Karishma V.

کرشما وی. اپریل ۲۰۱۷ سے رائے گڑھ ضلع میں وزیر اعلیٰ کے دیہی ترقی فیلو کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کی دلچسپی کے شعبے ہیں آدیواسیوں کی ترقی اور خواتین کی خود مختاری۔

Other stories by Karishma V.