’’میں آپ کو کیا بتاؤں؟ میری پیٹھ ٹوٹ چکی ہے اور ہڈی پسلی باہر کو نکل آئی ہے،‘‘ بیبا بائی لوئرے کہتی ہیں۔ ’’میرا پیٹ دھنس گیا ہے، پچھلے ۲-۳ سالوں میں پیٹ اور پیٹھ ایک دوسرے سے چپک گئے ہیں۔ اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔‘‘

ہم مُلشی بلاک کے ہڈشی گاؤں میں ان کے گھر سے ملحق باورچی خانہ میں بیٹھے ہیں، جو ٹن کی چادروں سے بنا ہے اور جہاں پر ہلکی روشنی ہے۔ تقریباً ۵۵ سال کی بیبا بائی، مٹی کے چولہے پر ایک پتیلے میں بچے ہوئے چاول کو گرم کر رہی ہیں۔ وہ مجھے بیٹھنے کے لیے لکڑی کا ایک تختہ دیتی ہیں اور اپنے کام میں لگ جاتی ہیں۔ جب وہ برتن دھونے کے لیے اٹھتی ہیں، تو ان کی کمر اتنی جھکی ہوئی ہے کہ ان کی ٹھُڈّی ان کے گھٹنوں کو چھو سکتی ہے۔ اور جب وہ بیٹھتی ہیں، تو گھٹنے ان کے کانوں کو چھونے لگتے ہیں۔

گزشتہ ۲۵ برسوں میں آسٹیوپوروسِز (ہڈیوں کی کثافت میں کمی) اور چار سرجری نے بیبا بائی کی یہ حالت کر دی ہے۔ سب سے پہلے ان کی نس بندی ہوئی، پھر ہرنیا کی سرجری، اس کے بعد ہسٹیریکٹومی (بچہ دانی کو نکالنا)، اور پھر آپریشن کرکے ان کی آنتوں، پیٹ کی چربی اور پٹھوں کے حصے کو باہر نکالا گیا۔

’’۱۲ یا ۱۳ سال کی عمر میں [حیض شروع ہوتے ہی] میری شادی ہو گئی تھی۔ پہلے پانچ سال تک میں حاملہ نہیں ہو پائی،‘‘ بیبا بائی بتاتی ہیں، جنہیں اسکول جانے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا۔ ان کے شوہر مہی پتی لوئرے عرف ’اپّا‘ ان سے ۲۰ سال بڑے اور ضلع پریشد اسکول کے ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں، جن کی پوسٹنگ پونہ ضلع کے ملشی بلاک کے مختلف گاؤوں میں رہی۔ لوئرے فیملی اپنے کھیت پر چاول، چنا، پھلیاں اور چھیمی اگاتی ہے۔ ان کے پاس ایک جوڑی بیل، ایک بھینس اور ایک گائے اور اس کا بچھڑا ہے، اور دودھ سے انہیں اضافی آمدنی ہو جاتی ہے۔ مہی پتی کو پنشن بھی ملتی ہے۔

’’میرے سبھی بچے گھر پر پیدا ہوئے،‘‘ بیبا بائی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں۔ ان کا پہلا بچہ، ایک لڑکا، جب پیدا ہوا تھا، تو وہ صرف ۱۷ سال کی تھیں۔ ’’میں بیل گاڑی سے اپنے مائکے [پہاڑی کے دوسری طرف کے گاؤں میں] جا رہی تھی کیوں کہ اس وقت ہمارے گاؤں میں کوئی پکّی سڑک نہیں تھی اور نہ ہی کوئی گاڑی چلتی تھی۔ راستے میں ہی پانی پھوٹ گیا اور مجھے دردِ زہ ہونے لگا۔ تھوڑی دیر میں میرے پہلے بچے کی پیدائش ہوئی، اسی بیل گاڑی میں!‘‘ بیبا بائی یاد کرتی ہیں۔ بعد میں انہیں فرج شگافی میں ٹانکے لگوانے کی ضرورت پڑی – انہیں یاد نہیں ہے کہ ٹانکہ کہاں لگوایا گیا تھا۔

'My back is broken and my rib cage is protruding. My abdomen is sunken, my stomach and back have come together...'
PHOTO • Medha Kale

’میری پیٹھ ٹوٹ چکی ہے اور ہڈی پسلی باہر کو نکل آئی ہے۔ میرا پیٹ دھنس گیا ہے، اور پیٹ اور پیٹھ ایک دوسرے سے چپک گئے ہیں...‘

بیبا بائی کو یاد ہے کہ ان کے دوسرے حمل کے دوران ہڈشی سے صرف دو کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک بڑے گاؤں، کول وَن کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ان کا ہیمو گلوبن کم ہے اور جنین معمول سے کم بڑھا ہے۔ انہیں یہ بھی یاد ہے کہ گاؤں کی ایک نرس نے ان کو ۱۲ انجیکشن اور آئرن کی گولیاں دی تھیں۔ حمل کی میعاد پوری ہونے پر، بیبا بائی نے ایک لڑکی کو جنم دیا۔ ’’بچی کبھی روئی نہیں اور نہ ہی کوئی آواز نکالی۔ وہ پالنے میں لیٹی، چھت کو گھورتی رہتی تھی۔ جلد ہی، ہمیں احساس ہو گیا کہ وہ نارمل نہیں ہے،‘‘ بیبا بائی بتاتی ہیں۔ اس لڑکی کا نام سویتا ہے، جو اب ۳۶ سال کی ہو چکی ہے۔ پونہ کے سسون اسپتال نے بتایا کہ وہ ’’ذہنی طور پر معذور‘‘ ہے۔ حالانکہ سویتا باہری لوگوں سے بہت کم بات کرتی ہیں، لیکن کھیتی میں ہاتھ بٹاتی ہیں اور گھر کے زیادہ تر کام کرتی ہیں۔

بیبا بائی نے دو اور بچوں کو جنم دیا، دونوں لڑکے۔ سب سے چھوٹا، ان کا چوتھا بچہ، کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ ’’اگر میں اسے دودھ پلاتی، تو یہ اس کی ناک سے باہر نکلنے لگتا۔ ڈاکٹروں نے [کول وَن کے ایک پرائیویٹ کلینک میں] ہمیں ایک ایسی سرجری کے بارے میں بتایا، جس کا خرچ تقریباً ۲۰ ہزار روپے آتا۔ لیکن اس وقت، ہم ایک مشترکہ فیملی میں رہتے تھے۔ میرے سسر اور جیٹھ نے [سرجری کی ضرورت پر] زیادہ دھیان نہیں دیا، اور میرا بچہ ایک مہینہ میں ہی مر گیا،‘‘ بیبا بائی غمزدہ ہوتے ہوئے کہتی ہیں۔

ان کا بڑا بیٹا اب فیملی کے کھیت میں کام کرتا ہے، اور چھوٹا بیٹا، یعنی ان کا تیسرا بچہ، پونہ میں ایلیویٹر ٹیکنیشین کے طور پر کام کرتا ہے۔

اپنے چوتھے بچے کی موت کے بعد، بیبا بائی نے ہڈشی سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور، پونہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں نس بندی کروا لی۔ تب ان کی عمر ۳۰ سال کے آس پاس تھی۔ ان کے جیٹھ نے سارا خرچ برداشت کیا، جس کی تفصیل انہیں یاد نہیں ہے۔ نس بندی کرانے کے کچھ سال بعد، ان کے پیٹ میں لگاتار درد رہنے لگا اور بائیں طرف کا حصہ پھول گیا – حالانکہ بیبا بائی کہتی ہیں کہ یہ صرف ’گیس‘ تھا، لیکن ڈاکٹروں نے اسے ہرنیا کا مرض بتایا۔ یہ اتنا خراب ہو گیا تھا کہ بچہ دانی کو دبانے لگا تھا۔ ہرنیا کا آپریشن پونہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کرایا گیا۔ ان کے بھتیجے نے سارا خرچ برداشت کیا؛ وہ نہیں جانتیں کہ اس پرکتنے پیسے خرچ ہوئے تھے۔

Bibabai resumed strenuous farm labour soon after a hysterectomy, with no belt to support her abdominal muscles
PHOTO • Medha Kale

بیبا بائی نے بچہ دانی نکلوانے کے بعد کھیتی کا محنت بھرا کام دوبارہ شروع کر دیا، وہ بھی پیٹ کے پٹھوں کو سہارا دینے والے بیلٹ کے بغیر

پھر، تقریباً ۴۰ سال کی عمر میں بیبا بائی کو حیض کے دوران کافی خون آنے لگا۔ ’’خون اتنا زیادہ آتا تھا کہ کھیت میں کام کرتے وقت، خون کے تھکّے زمین پر گرنے لگتے۔ میں انہیں بس مٹی سے ڈھانپ دیتی،‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔ پورے دو سال تک اسے برداشت کرنے کے بعد، بیبا بائی ایک بار پھر کول وَن کے ایک پرائیویٹ کلینک کے ڈاکٹر کے پاس دکھانے گئیں۔ اس نے انہیں بتایا کہ ان کی بچہ دانی خراب ہو گئی ہے (’پشوی ناسلیے‘)، جسے فوراً نکالنا پڑے گا۔

اس لیے، جب وہ تقریباً ۴۰ سال کی تھیں، تو پونہ کے ایک مشہور پرائیویٹ اسپتال میں سرجری کے ذریعے بیبا بائی کی بچہ دانی نکال دی گئی۔ انہوں نے ایک ہفتہ جنرل وارڈ میں گزارا تھا۔ ’’ڈاکٹروں نے سرجری کے بعد [پیٹ کے پٹھوں کو سہارا دینے کے لیے] بیلٹ لگانے کو کہا تھا، لیکن میری فیملی کبھی اسے لائی ہی نہیں،‘‘ بیبا بائی کہتی ہیں؛ شاید انہیں بیلٹ کی اہمیت کا احساس نہیں تھا۔ وہ پوری طرح آرام بھی نہیں کر پائیں، اور جلد ہی کھیتوں پر دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا۔

حالانکہ اس سرجری کے بعد ۱ سے ۶ مہینے تک کوئی بھی سخت کام نہیں کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن زرعی کام کرنے والی عورتوں کو ’’اتنی لمبی مدت تک آرام کرنے کی سہولت نہیں ملتی‘‘ اور وہ عام طور پر جلد ہی کام پر لوٹ جاتی ہیں، جیسا کہ اپریل ۲۰۱۵ میں انٹرنیشنل ریسرچ جنرل آف سوشل سائنسز میں شائع، نیلنگی سردیش پانڈے کے ذریعے حیض بند ہونے سے پہلے دیہی خواتین کی بچہ دانی کو نکالے جانے کے بارے میں ایک تحقیقی مضمون میں کہا گیا ہے۔

بہت بعد میں، بیبا بائی کا ایک بیٹا ان کے لیے دو بیلٹ لے آیا۔ لیکن وہ اب ان کا استعمال نہیں کر سکتیں۔ ’’آپ دیکھ سکتی ہیں کہ میرے پیٹ کا نچلا حصہ بچا نہیں ہے، اور یہ بیلٹ فٹ نہیں ہوتی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ بچہ دانی نکالنے جانے کے تقریباً دو سال بعد، پونہ کے ایک دیگر پرائیویٹ اسپتال میں بیبا بائی کی ایک اور سرجری ہوئی تھی (انہیں تاریخ اور سال جیسی تفصیلات یاد نہیں ہیں)۔ ’’اس بار، آنتوں کو بھی [جزوی طور پر] نکال دیا گیا تھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ اپنی نو گز کی ساڑی سے گانٹھ کو کھولتے ہوئے، وہ مجھے اپنا کھوکھلا پیٹ دکھاتی ہیں۔ نہ گوشت ہے، نہ پٹھے۔ صرف جھریوں والی جلد ہے۔

پیٹ کی اس سرجری کے بارے میں بیبا بائی کو زیادہ کچھ یاد نہیں ہے۔ لیکن سردیش پانڈے کا تحقیقی مضمون بتاتا ہے کہ بچہ دانی کے آپریشن کے بعد پیشاب کی نلی اور آنتوں میں اکثر زخم ہو جاتا ہے۔ پونہ اور ستارا ضلع کے دیہی علاقوں میں حیض ختم ہونے سے پہلے بچہ دانی نکلوانے والی جن ۴۴ عورتوں کا انٹرویو لیا گیا، ان میں سے تقریباً آدھی عورتوں نے آپریشن کے فوراً بعد پیشاب کرنے میں پریشانی اور پیٹ میں سخت درد کی شکایت کی تھی۔ اور کئی عورتوں نے کہا کہ انہیں سرجری کے بعد طویل عرصے تک طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اور سرجری سے پہلے انہیں پیٹ میں جو درد ہوتا تھا اس سے کوئی راحت نہیں ملی۔

Despite her health problems, Bibabai Loyare works hard at home (left) and on the farm, with her intellactually disabled daughter Savita's (right) help
PHOTO • Medha Kale
Despite her health problems, Bibabai Loyare works hard at home (left) and on the farm, with her intellactually disabled daughter Savita's (right) help
PHOTO • Medha Kale

اپنی خراب صحت کے باوجود، بیبا بائی لوئرے اپنی ذہنی طور سے معذور بیٹی سویتا (دائیں) کی مدد سے، اپنے گھر پر (بائیں) اور کھیت میں سخت محنت کرتی ہیں

ان تمام درد کے ساتھ، بیبا بائی کو پچھلے ۲-۳ سالوں میں اوسٹیوپوروسز کا سنگین مسئلہ ہو گیا ہے۔ بچہ دانی نکالنے کے بعد حیض جلدی بند ہو جاتا ہے، اوسٹیوپوروسز کے سبب اکثر ہارمون سے متعلق عدم توازن ہو جاتا ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے بیبا بائی کے لیے اب اپنی پیٹھ کو سیدھا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ان کے مرض کو ’اوسٹیوپوروٹک کمپریشن فریکچر کے ساتھ سنگین کائی فوسس‘ بتایا گیا ہے، اور ان کا علاج وہاں سے تقریباً ۴۵ کلومیٹر دور، پمپری چنچوڑ صنعتی شہر کے چکھلی میں واقع ایک پرائیویٹ اسپتال میں چل رہا ہے۔

وہ مجھے پلاسٹک کا ایک تھیلا پکڑاتی ہیں، جس میں ان کی رپورٹ ہے۔ زندگی بھر درد اور بیماری رہی، لیکن اس فائل میں صرف تین کاغذ ہیں، ایک ایکسرے رپورٹ اور دوا کی دکان سے کچھ رسیدیں۔ پھر وہ احتیاط سے ایک پلاسٹک کا ڈبہ کھولتی ہیں اور اس میں سے مجھے کیپسول کا ایک پتا دکھاتی ہیں، جس سے انہیں درد اور بے چینی میں آرام ملتا ہے۔ یہ اسٹیرائڈ سے پاک سوزش کو دور کرنے والی دوائیں ہیں جسے وہ تب لیتی ہیں، جب انہیں ٹوٹے ہوئے چاول سے بھری بوری کی صفائی جیسا کوئی سخت کام کرنا ہوتا ہے۔

’’شدید جسمانی محنت اور ان پہاڑی علاقوں میں گزر بسر کے لیے روزانہ کی مشقت، اور اس کے ساتھ کم غذائیت کا عورتوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے،‘‘ ڈاکٹر ویدیہی ناگرکر بتاتی ہیں، جو گزشتہ ۲۸ برسوں سے ہڈشی سے تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور، پوڈ گاؤں میں اپنا کلینک چلا رہی ہیں۔ ’’ہمارے اسپتال میں، میں تولیدی بیماریوں کے علاج کے لیے آنے والی عورتوں کی تعداد میں کچھ اضافہ دیکھ رہی ہوں، لیکن پرانی بیماریوں جیسے کہ آئرن کی کمی سے اینیمیا، جوڑوں کا درد اور اسٹیوپوروسز کا ابھی بھی علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔‘‘

’’اور ہڈی کی صحت، جو زرعی کاموں کے لیے ضروری ہے، اسے پوری طرح سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے، خاص کر بزرگوں میں،‘‘ ان کے شوہر ڈاکٹر سچن ناگرکر کہتے ہیں۔

The rural hospital in Paud village is 15 kilometres from Hadashi, where public health infrastructure is scarce
PHOTO • Medha Kale

پوڈ کا دیہی اسپتال ہڈشی سے ۱۵ کلومیٹر دور ہے، جہاں صحت عامہ کا ڈھانچہ خستہ حال ہے

بیبا بائی جانتی ہیں کہ انہیں اتنی تکلیف کیوں برداشت کرنی پڑی: ’’ان دنوں [۲۰ سال پہلے]، پورا دن، صبح سے رات تک، ہم باہر کام کر رہے ہوتے تھے۔ سخت محنت والا کام۔ [اپنے گھر سے تقریباً تین کلومیٹر دور] ایک پہاڑی کے اوپر اپنے کھیتوں میں گوبر ڈالنے کے لیے سات سے آٹھ چکر لگانا، کوئیں سے پانی بھرنا یا کھانا بنانے کے لیے لکڑی لانا...

بیبا بائی اب بھی کھیتی کے کاموں میں اپنے سب سے بڑے بیٹے اور بہو کی مدد کرتی ہیں۔ ’’کسان فیملی کو آرام کرنے کا موقع کبھی نہیں ملتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اور عورتوں کو تو بالکل بھی نہیں، چاہے وہ حاملہ ہوں یا بیمار ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

۹۳۶ لوگوں کی آبادی والے ہڈشی گاؤں میں صحت عامہ کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ سب سے نزدیکی ذیلی طبی مرکز کول وَن میں ہے، اور قریب ترین پرائمری ہیلتھ سنٹر ۱۴ کلومیٹر دور کُلے گاؤں میں ہے۔ شاید اسی وجہ سے بیبا بائی نے اتنی دہائیوں تک پرائیویٹ ڈاکٹروں اور پرائیویٹ اسپتالوں سے طبی خدمات حاصل کیں – حالانکہ کس ڈاکٹر کو دکھانا ہے اور کس اسپتال میں جانا ہے، اس کا فیصلہ ہمیشہ ان کی مشترکہ فیملی کے مرد ہی کرتے تھے۔

دیہی مہاراشٹر کے بہت سے لوگوں کے عقیدہ کے برعکس، بیبا بائی کو ہمیشہ سے بھگتوں (روایتی حکیموں) یا دیو رشیوں پر بہت کم بھروسہ رہا ہے، اور وہ اپنے گاؤں کے دیو رشی کے پاس صرف ایک بار گئی ہیں۔ ’’اس نے مجھے ایک بڑی گول پلیٹ میں بیٹھا دیا اور میرے سر پر پانی ڈالنے لگا جیسے کہ میں کوئی بچی ہوں۔ مجھے اس سے نفرت ہونے لگی۔ بس وہی ایک بار میں گئی تھی،‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔ جدید طبی نظام میں ان کا اعتماد ایک استثنیٰ ہے، جو شاید ان کے شوہر کے تعلیم یافتہ اور اسکول کا ٹیچر ہونے کی وجہ سے ہے۔

اب اپّا کی دوا کا وقت ہو چکا ہے، اور وہ بیبا بائی کو پکارتے ہیں۔ تقریباً ۱۶ سال پہلے، جب ان کے ریٹائر ہونے میں دو سال بچے تھے، تو اب ۷۴ سال کے ہو چکے اپّا کو فالج کا دورہ پڑا، جس کی وجہ سے انہوں نے بستر پکڑ لیا تھا۔ وہ خود سے نہ تو کچھ بول پاتے ہیں، نہ ہی کھا سکتے ہیں اور نہ ہی چل پھر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنے بستر سے گھسٹتے ہوئے دروازے تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب میں پہلی بار ان کے گھر گئی تھی، تو وہ ناراض ہو گئے تھے کیوں کہ بیبا بائی مجھ سے باتیں کرتی رہیں جس کی وجہ سے انہیں دوا دینے میں دیر ہو گئی تھی۔

بیبا بائی انہیں دن میں چار بار کھانا کھلاتی ہیں، اور ان کے جسم میں سوڈیم کی کمی کو دور کرنے کے لیے انہیں ان کی دوائیں اور نمک کا پانی دیتی ہیں۔ یہ کام وہ گزشتہ ۱۶ سال سے، وقت پر اور پیار سے، اور خود اپنی بیماری کی پرواہ کیے بغیر کر رہی ہیں۔ وہ بڑی مشکل سے کھیت اور گھر کے کام کرتی ہیں۔ دہائیوں سے کام کرتے رہنے اور درد اور بیماری کے بعد بھی، جیسا کہ وہ کہتی ہیں، کسان فیملی کی عورت کبھی آرام نہیں کر سکتی۔

کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Medha Kale

میدھا کالے پونہ میں مقیم ہیں اور عورتوں اور صحت کے شعبے میں کام کر چکی ہیں۔ وہ پاری (PARI) کے لیے ترجمہ بھی کرتی ہیں۔

Other stories by Medha Kale